Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ, اگست 21, 2015

    ١١۔ سریع از نور

    سریع  از نور

    یہ بات کافی قابل ادراک ہے کہ (زندگی)کہکشاں اور اس سے آگے پھیلے گی۔ لہٰذا زیست کائنات میں غیر اہم آلودہ سراغ کی طرح  ہمیشہ کے لئے نہیں رہے گی  اگرچہ ہنوز ایسا ہی  ہے۔ درحقیقت میں اس خیال کو کسی حد تک پسند کرتا ہوں۔


    -         خلا نورد رائل سر مارٹن ریس

    روشنی کی رفتار سے تیز سفر کرنا ممکن نہیں  ہے  اور  یہ بات مناسب بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے ٹوپی گر جائے گی۔

    -         ووڈی ایلن



    اسٹار وار میں جب " میلینیم فالکن" (Millennium Falcon)  سنسان سیارے "ٹیٹو یئن  " (Tatooine)   کو اڑاتا ہے، جس میں ہمارے جوان مرد لیوک اسکائی والکر اور ہین سولو موجود ہوتے ہیں،  تو جہاز کا ٹکراؤ سیارے کی گرد چکر لگانے والے جنگی خلائی جہاز  امپیریل کے اسکواڈرن  آف مینا نسنگ   کے جہاز سے ہو جاتا ہے۔ سلطنت کا جنگی جہاز سزا دینے کے لئے لیزر کا سمندر ہمارے جانبازوں کے جہاز کی طرف پھینکتا ہے جو چشم فلک میں ان کی غیر مرئی ڈھال کو توڑتا ہوا اس میں سے گزر جاتا ہے۔ میلینیم فالکن مصیبت میں آ جاتا ہے۔ لیزر کی آگ سے پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال سے بچتے ہوئے  ہین سولو چیختا ہے کہ اضافی  خلاء (Hyper Space)  میں کودنا ہی ان کے پاس بچنے کی آخری امید  ہے۔ فوراً ہی اضافی ڈرائیو (Hyper Drive)  کا انجن چالو ہو کر زندہ ہو جاتا ہے ان کے گرد موجود تمام ستارے  ان کی اسکرین پر نظر آنے والے مرکز کی طرف دوڑ پڑتے ہیں  جس کے نتیجے میں آنکھوں کو چندیا جانے والی روشنی پیدا ہوتی ہے۔ ایک سوراخ کھلتا ہے  جس کے اندر دی میلینیم فالکن غائب ہو کر اضافی  خلاء میں پہنچ کر آزادی حاصل کرتا ہے ۔

    اسٹار وارز میں دکھائی جانے والی اضافی ڈرائیو 

    یہ تو سائنسی قصّہ ہے ؟ بے شک۔ لیکن  کیا یہ  مبنی بر سائنسی  حقائق ہے ؟ شاید روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیز سفر  نے سائنسی  قصّوں  کو  اپنے سحر میں کچھ زیادہ ہی جکڑا ہوا ہے ، لیکن سچ تو یہ ہے کہ  دور حاضر میں طبیعیات دانوں نے اس امکان  پر کافی سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا ہے۔

       آئن سٹائن کے مطابق روشنی کی رفتار کائنات میں سفر کرنے کی آخری حد ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے طاقتور ترین ذرّاتی اسراع گر  جس میں جوہروں کو آپس میں ٹکرایا جاتا ہے، اس قسم کی توانائی کو پیدا کر سکتے ہیں جو صرف کسی پھٹتے ہوئے ستارے کے قلب میں ہی یا پھر بگ بینگ کے وقت پیدا ہو سکتی ہے۔ اپنی اس تمام تر قوّت کے باوجود بھی  یہ ذیلی جوہری ذرّات کو روشنی کی رفتار سے تیز نہیں پھینک سکتے۔ بظاہر طور پر روشنی کی رفتار کائنات میں سفر کرنے  کی آخری حد ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو دور دراز کی کہکشاؤں میں پہنچنے کی ہماری امید  خاک میں مل جائے گی۔

    ذرّاتی اسراع گر میں جوہروں کو ٹکڑا کر زبردست توانائی حاصل کی جاتی ہے 

    اور ہو سکتا ہے کہ ایسا نہ ہو۔۔۔۔


    ناکام آئن سٹائن  


    نامور سائنس دان آئن سٹائن 

    ١٩٠٢ء میں یہ بات کافی طور پر واضح تھی کہ نوجوان طبیعیات دان البرٹ آئن سٹائن اس منزل سے بہت دور ہے جہاں وہ  آئزک نیوٹن کے بعد ایک عظیم ماہر طبیعیات کے طور پر جانا جائے گا۔ حقیقت میں  وہ سال اس کی زندگی کا سب سے برا سال تھا۔ تازہ تازہ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اس کو ان تمام یونیورسٹیوں  میں تدریسی ملازمت  دینے سے انکار کر دیا گیا تھا جہاں اس نے ملازمت کے لئے درخواست دی تھی۔

    پروفیسر ہینری ویبر 

     (بعد میں اس پر یہ عقدہ خلا کہ  اس کے پروفیسر " ہینرچ ویبر" (Heinrich Weber) نے اس کی سفارش کے لئے انتہائی خطرناک خطوط  لکھے تھے ، ہو سکتا ہے کہ اس نے آئن سٹائن سے اپنی کلاس میں غیر حاضری کا بدلہ لیا ہو۔) مزید براں آئن سٹائن کی ماں بہت شدت کے ساتھ اس کی محبوبہ "ملیوا  میرک" (Mileva Maric)  کے خلاف تھی، جوان دنوں میں امید سے تھی  ۔ ان کی پہلی بیٹی "لیزرل" (Lieserl)  ناجائز طریقے سے پیدا ہوئی تھی۔ نوجوان البرٹ  اس معمولی ملازمت میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ یہاں تک کہ اس کی وہ کم آمدن والی پڑھانے والی نوکری بھی اس وقت ختم ہو گئی جب وہ اپنی ملازمت سے فارغ کیا گیا۔ اپنے مایوس کن خطوط میں اس نے اس بات کا بھی اظہار کیا تھا  جس میں وہ زندہ  رہنے کے لئے سیلز مین کی  نوکری کرنے کو تیار تھا۔ اس نے اپنے خاندان کو ایک خط میں یہاں تک لکھا کہ کیونکہ وہ اپنے خاندان پر ایک بوجھ ہے اور اس میں ایک اچھے اور کامیاب مستقبل کو پانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے  لہٰذا اس کا پیدا نہ ہونا ہی بہتر تھا۔ جب اس کے باپ کا انتقال ہوا تو اس کو اس بات کا انتہائی غم تھا کہ اس کا باپ یہ سوچتے ہوئے مر گیا کہ اس کا بیٹا ایک ناکام انسان ہے۔

    آئن سٹائن اپنی  محبوبہ ملیوا میرک کے ساتھ  

    اس ایک سال کے بعد آئن سٹائن کی قسمت نے پلٹا کھایا۔ ایک دوست نے اس کو  سوئس پیٹنٹ آفس میں کلرک کی جاب  دلوا دی۔ اس  انتہائی کم درجے کی نوکری پر رہتے ہوئے ہی  اس نے جدید دور کے عظیم انقلاب  کو برپا کیا۔ وہ بہت ہی تیزی سے اپنی میز پر موجود پیٹنٹوں کا تجزیہ کرکے طبیعیات کے ان مسائل میں غور و فکر کرنا شروع کرتا   جو اس کو عہد طفلی سے ہی پریشان کرتے تھے۔


    اس  کی غیر معمولی ذہانت کا راز کیا تھا ؟ شاید اس کی وجہ یہ ہو سکتی تھی  کہ وہ خالص ریاضی سوچ کے بجائے  طبیعیاتی اشکال کی صورت میں سوچتا تھا (مثال کے طور پر حرکت کرتی ہوئی ریل ، اسراعی گھڑیاں  اور کھینچی ہوئی ساخت )۔ آئن سٹائن نے ایک مرتبہ یہ بات کہی  کہ جب تک کوئی نظریہ کسی بچے کو سمجھ میں نہیں آئے اس وقت تک وہ نظریہ بیکار ہے؛  یعنی کسی بھی نظریئے کو جسمانی تصویری شکل میں بیان  کرنے ہی اس کی اصل روح ہوتی ہے ۔ بہت سارے طبیعیات دان ریاضی کی دبیز گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں اور کہیں کے نہیں رہتے۔ مگر اپنے پیش رو نیوٹن کی طرح  آئن سٹائن بھی طبیعی تصاویر  کا دیوانہ تھا  اس کے لئے ریاضی اس کے بعد آتی تھی۔ نیوٹن کے لئے طبیعی  تصویر چاند اور گرتا ہوا سیب تھی۔ کیا وہ قوّت جس نے سیب کو گرایا تھا اس  قوّت کے برابر تھی جس نے چاند کو اس کے مدار میں ٹکا کر رکھا ہوا ہے ؟جب نیوٹن نے اس کا فیصلہ کیا تو اس کا جواب ہاں میں تھا۔ اس نے کائنات کے لئے ایک ریاضیاتی ڈھانچہ بنا دیا  جس نے اچانک سے ہی فلک کے عظیم  راز – فلکی اجسام کی اپنی حرکت  کے قوانین کو  ہم پر افشاں کیا۔

    آ ئن سٹائن کے مطابق کسی نظرئیے کو جسمانی تصویری شکل میں بیان کرنا ہی اس کی اصل روح ہوتی ہے 

    آئن سٹائن اور اضافیت


    البرٹ آئن سٹائن نے اپنی مشہور زمانہ نظریہ اضافیت کو ١٩٠٥ء میں پیش کیا۔ اس نظریئے کے قلب میں موجود ایک ایسی تصویر تھی جس کو کوئی بچہ بھی سمجھ سکتا تھا۔ اس کا نظریہ اس خواب کی تعبیر تھا جو وہ ١٦ برس کی عمر سے دیکھ رہا تھا ، جب وہ ایک نتیجہ خیز سوال  پوچھتا تھا : اس وقت کیا ہوگا جب آپ ایک دوڑ میں  روشنی کی رفتار کو پیچھے چھوڑ دیں گے؟ ایک نوجوان کے طور پر وہ یہ بات جانتا تھا کہ نیوٹن کی میکانیات زمین اور فلکی اجسام کی حرکت کو بیان کرتی ہے  اور میکسویل کا نظریہ روشنی کی تشریح کرتا ہے۔ یہ  دونوں نظریئے  اس وقت طبیعیات کے دو ستون تھے۔

    آئن سٹائن  کی غیر معمولی ذہانت نے جان لیا تھا کہ یہ دونوں ستون ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو گرنا ہوگا۔

    نیوٹن کے مطابق روشنی کی شعاع کو شکست دی جا سکتی  ہے  کیونکہ روشنی کی رفتار میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ روشنی کی شعاع کو ضرور اس وقت ساکن رہنا چاہئے جب کوئی اس سے دوڑ لگائے۔ لیکن  نوجوان آئن سٹائن نے اس بات کو جان لیا تھا کہ کسی نے بھی ایسی روشنی کی موج نہیں دیکھی ہے جو ساکن ہو  یعنی جو منجمد موج کی طرح ہو۔ لہٰذا نیوٹن کا نظریہ اس بات کو صحیح طرح سے بیان کرنے سے قاصر  تھا۔

    آخر کار بطور  طالبعلم زیورخ میں میکسویل کے نظریئے کو پڑھتے ہوئے آئن سٹائن نے اس سوال کا جواب حاصل کرلیا تھا۔ اس نے ایک ایسی چیز دریافت کر لی تھی جس  کو میکسویل بھی نہیں جانتا تھا : روشنی کی رفتار مستقل ہے  اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کتنی تیزی سے حرکت کرے۔ چاہئے آپ روشنی کی سمت میں دوڑیں یا اس کی مخالفت میں دوڑ لگائیں  وہ دونوں صورتوں میں ایک ہی سمتی رفتار سے سفر کرے گی  مگر اس کی یہ خاصیت عقل سے متصادم ہے۔ آئن سٹائن نے اپنے بچپن کے سوال کا جواب حاصل کر لیا تھا : کوئی بھی روشنی سے دوڑنے کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا  اس بات سے کچھ فرق نہیں پڑے گا کہ وہ کتنی تیزی سے حرکت کر رہا ہے۔

    مگر نیوٹن میکانیات ایک سختی سے بند نظام تھا : جیسے کسی ڈھیلی رسی کو چرخی پر چڑھایا ہوا ہو، رسی کو ذرا سے کھینچا اور وہ پوری بکھر گئی ۔ یہی حال اس نظریئے کا تھا ۔ پورا نظریہ اس وقت  بکھر جاتا ہے جب اس مفروضے کی بنیادوں میں تھوڑا سا بھی رد و  بدل کیا جاتا۔ نیوٹن کے نظریئے میں وقت تمام کائنات میں ایک جیسا یکساں تھا۔ زمین پر ایک سیکنڈ ، زہرہ یا مریخ پر گزرے ہوئے ایک سیکنڈ کے جتنا ہی تھا۔ اسی طرح سے زمین پر  لگی پیمائش کی لکڑی  پلوٹو پر لگی پیمائش کی لکڑی جتنی ہی ہوگی۔ اس بات سے قطع نظر کہ کوئی شئے کتنی  ہی تیز حرکت میں ہو اگر روشنی کی رفتار ہمیشہ ساکن رہے گی  تو ہمیں اپنی  مکان و زمان کی تفہیم میں کافی تبدیلی کرنا ہو  گی۔ روشنی کی رفتار کو ساکن رکھنے کے لئے زمان و مکان میں عمیق خلل آ جائے گا۔

    راکٹ میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے لئے گھڑیاں سست رفتار سے چلیں گی 

    آئن سٹائن کے مطابق اگر آپ کسی تیز رفتار خلائی جہاز میں بیٹھے ہیں تو راکٹ کے اندر وقت کے گزرنے کی رفتار بہ نسبت ان لوگوں کے جو زمین پر موجود ہیں کم ہوگی۔ وقت  کے مختلف گزرنے کی شرح اس بات پر منحصر ہوگی کہ آپ کتنا تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ مزید براں راکٹ کے اندر موجود خلاء بھی دب جائے گی  جس کے نتیجے رفتار کی مناسبت سے  ناپنے کی لکڑی بھی بدل جائے گی اور اس کے ساتھ ہی جہاز کی کمیت بھی بڑھ جائے گی۔ اگر ہم راکٹ کے اندر دوربین سے دیکھنے کے قابل ہوں تو  ہم یہ بات دیکھ سکیں گے کہ راکٹ کے اندر موجود  گھڑیاں آہستہ چل رہی ہیں  لوگ آہستہ  رفتار سے حرکت کر رہے ہیں  اور لوگ ہمیں چپٹے نظر آئیں گے۔

    رفتار میں اضافے کے ساتھ ہی حرکت کرتے ہوئے جسم چپٹے ہونا شروع ہوجائیں گے 

    حقیقت میں اگر راکٹ روشنی کی رفتار سے سفر کرے گا تو بظاہر ان کے لئے وقت تھم جائے گا اور راکٹ کی کمیت لامتناہی ہو جائے گی۔ (کیونکہ ان میں سے کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو ہماری عقل عامہ میں سما سکے  لہٰذا آئن سٹائن نے کہا کہ کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار کو پار نہیں کر سکتی۔ (کیونکہ کوئی بھی جسم جتنی تیز حرکت کرے گا اتنا ہی اس کی کمیت بڑھ جائے گی ، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حرکی توانائی کمیت میں بدل جائے گی۔ کمیت میں تبدیل ہوتی ہوئی توانائی کی درست مقدار بہت آسانی سے  حاصل کی جا سکتی ہے  اور اس کے بعد ہمیں وہ عہد ساز  مساوات حاصل ہوئی جو صرف چند سطروں میں آسکتی ہے  یعنی E = mc²

    جب سے آئن سٹائن نے اپنی مشہور زمانہ مساوات پیش کی ہے تب سے کروڑوں کی تعداد میں تجربات نے اس انقلابی خیال کی تصدیق کی ہے۔ مثال کے طور پر جی پی ایس نظام جو زمین پر موجود ہمارے محل وقوع کو چند فٹ کے فاصلے تک صحیح بتا سکتا ہے  . اگر اس میں اضافیت کے حساب سے وقت کو درست نہیں کیا جائے تو یہ نظام صحیح طرح سے کام نہیں کرے گا۔(کیونکہ فوج بھی جی پی ایس نظام پر انحصار کرتی ہے  لہٰذا پینٹاگون کے جنرلوں کو بھی طبیعیات کے اس حصّے کا بارے میں بتایا جاتا ہے جس کا تعلق آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت سے ہے۔)جی پی ایس میں موجود گھڑیاں  حقیقت میں زمین سے اوپر مدار میں رہتے ہوئے ایسے ہی تبدیل ہوتی ہیں جیسے کہ آئن سٹائن نے  پیش گوئی کی تھی۔

    تصویری طور پر اس خیال کی سب سے بہترین شکل کسی جوہری اسراع گر میں ملتی ہے جہاں سائنس دان ذرّات کو روشنی کی رفتار کے قریب اسراع دیتے ہیں۔ سرن میں موجود جناتی اسراع گر جس کا نام " لارج ہیڈرون کولائیڈر"  ہے جو جنیوا، سوئٹزرلینڈ  کے باہر ی حصّے میں واقع ہے، اس میں پروٹون کو دسیوں کھربوں الیکٹران وولٹ پر اسراع دیا جاتا ہے  جس کے نتیجے میں وہ روشنی کی رفتار کے قریب حرکت کرتے ہیں۔

    روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرنے سے راکٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ دوسرے لوگوں کی نبست کم عمر ہوں گے 

      راکٹ میں بیٹھے ہوئے سائنس دان کے لیے ابھی تک روشنی کی حد کوئی مسئلہ نہیں ہوگی کیونکہ راکٹ مشکل سے ہی کچھ دس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔ مگر اگلی ایک یا دو صدی میں جب راکٹ کے سائنس دان سنجیدگی کے ساتھ کھوجی دوسرے ستاروں کی طرف روانہ کریں گے  (جو زمین سے ٤ برس نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں ) تو روشنی کی حد بتدریج مسئلہ بن جائے گی۔


    آئن سٹائن کے نظریے میں سقم


    عشروں سے طبیعیات دان آئن سٹائن کے مشہور زمانہ مقولے کا توڑ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ توڑ تو ملے ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر کارآمد نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی روشنی کی چمک کو آسمان  میں ہلائے  تو نظری طور پر روشنی کی کرن کی رفتار  روشنی سے تیز ہو سکتی ہے۔ چند ہی سیکنڈوں میں روشنی کا خاکہ افق پر ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کر سکتا ہے جس کے درمیان کا  فاصلہ کئی نوری برس  تک کا ہو سکتا ہے۔ لیکن  اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ اس طرح سے کسی بھی قسم کی اطلاعات کو روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں بھیجا جا سکتا۔ روشنی کی کرن کا خاکہ روشنی کی رفتار سے بڑھ جاتا ہے مگر وہ خاکہ کسی قسم کی توانائی یا اطلاع  پر مشتمل نہیں ہوتا۔
     
    بالکل اسی طرح سے اگر ہمارے پاس قینچی ہو جس کے بلیڈ آپس میں ملتے ہوئے ہوں تو وہ جڑے ہوئے حصّے سے جتنا دور ہوں گے اتنا زیادہ تیزی سے حرکت کریں گے۔ اگر ہم یہ بات فرض کریں کہ قینچی ایک نوری برس جتنی لمبی ہے  تو بلیڈوں کو بند کرنے سے اس کے آپس میں قطع کرنے والے حصّے روشنی کی رفتار سے تیز سفر کر سکتے ہیں۔ (اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ قطع کرنے والے کناروں پر کوئی اطلاع یا توانائی موجود نہیں ہے۔) اسی طرح سے جیسے کہ میں نے باب چہارم میں بیان کیا تھا کہ ای پی آر تجربہ اطلاعات کو روشنی کی رفتار سے تیز بھیجنے کے قابل بنا سکتا ہے۔(یاد دہانی کے لئے بتاتے چلیں کہ اس تجربے میں دو الیکٹران جو  ہم آہنگی کے ساتھ تھر تھرا تھے ہوئے ایک دوسرے سے دور مخالف سمت میں چلے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں الیکٹران  آپس میں مربوط ہوتے  ہیں  لہٰذا ان کے درمیان اطلاعات کو روشنی کی بھی رفتار سے تیز بھیجا جا سکتا ہے  مگر یہ اطلاعات بھی بے ترتیب ہوگی لہٰذا اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لئے ای پی آر مشینوں کو  دور دراز ستاروں کے پاس کھوجی بھیجنے کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔)
     
    ایک طبیعیات دان کے لئے سب سے اہم توڑ تو آئن سٹائن کی طرف سے ہی آیا تھا جس نے عمومی نظریہ اضافت  کو ١٩١٥ء میں تخلیق کیا تھا ، ایک ایسا نظریہ جو خصوصی نظریہ اضافیت سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔ عمومی نظریہ اضافیت کی بنیاد آئن سٹائن کے دماغ میں اس وقت سے پڑ گئی تھی جب اس نے عہد طفلی میں گول گھومنے والے جھولے  کو غور سے دیکھا تھا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا ہے کہ اجسام جب روشنی کی رفتار تک پہنچتے ہیں تو وہ سکڑ جاتے ہیں۔ جتنا تیزی سے آپ حرکت کریں گے اتنی ہی آپ سکڑ جائیں گے۔ مگر ایک گھومتی ہے قرص میں  باہری حصّہ اندرونی حصّے سے زیادہ تیزی سے حرکت کرتا ہے ۔(مرکز حقیقت میں ساکن ہی ہوتا ہے۔)اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر فٹے کو گھیرے پر لگائیں گے تو وہ سکڑ جائے گا جبکہ مرکز میں لگا ہو فٹا  لگ بھگ اتنا ہی رہے گا۔ مطلب جھولے کی سطح اب چپٹی نہیں بلکہ خمیدہ ہو جائے گی۔ لہٰذا اسراع نے مکان و زمان پر اثر ڈال کر جھولے کو خمیدہ کر دیا تھا۔

     ایک گھومتی ہے قرص میں  باہری حصّہ اندرونی حصّے سے زیادہ تیزی سے حرکت کرتا ہے

    عمومی نظریہ اضافیت میں مکان و زمان ایک ایسی ساخت  ہے جو کھینچ اور سکڑ سکتی ہے۔ کچھ مخصوص حالت میں ساخت روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سکڑ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ذرا بگ بینگ کے بارے میں سوچیں  جب کائنات ایک کائناتی  دھماکے میں تیرہ  ارب  پچھتر کروڑ سال پہلے پیدا ہوئی تھی۔ کوئی بھی اس بات کا حساب لگا سکتا ہے کہ کائنات ابتداء میں روشنی کی رفتار سے تیزی سے پھیلی۔(اس نے خصوصی نظریہ اضافیت کے کلیہ سے انحراف نہیں کیا تھا  کیونکہ وہ خالی جگہ تھی  - ستاروں کے درمیان موجود جگہ تیزی سے پھیل رہی تھی ستارے بذات خود ایک دوسرے سے دور نہیں جا رہے تھے۔ پھیلتی ہوئی خلاء کسی قسم کی اطلاعات پر مشتمل نہیں تھی۔

    اہم نقطہ یہ تھا کہ خصوصی اضافیت کا اطلاق صرف مقامی چیزوں  یعنی کہ آپ کے آس پاس کی چیزیں پر  ہوتا تھا۔ آپ کے پڑوس (جیسا کہ نظام شمسی ) میں خصوصی نظریہ اضافیت  کی بادشاہی ہے   جیسا کہ ہمارے خلائی کھوجیوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے۔ مگر عالمگیر سطح پر (مثال کے طور پر فلکیاتی  پیمانے پر  جس میں کائنات  آ جاتی ہے ) ہمیں عمومی نظریہ کی مدد لینی پڑتی ہے۔ عمومی نظریہ میں مکان و زمان  ایک ساخت بن جاتی ہے  اور یہ ساخت روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیز پھیلتی ہے۔ یہ خلاء میں سوراخ کرنے کی بھی اجازت دے دیتی ہے  جس کے ذریعہ کوئی بھی مختصر راستہ اختیار کرتے ہوئے  زمان و مکان میں سے گزر سکتا  ہے۔

    عمومی اضافیت کے تحت مکان و زمان کی ساخت روشنی کی رفتار سے بھی تیز پھیلتی ہے 

    ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی بھی عمومی نظریہ اضافیت کا سہارا لے کر روشنی کی بھی رفتار سے تیز سفر کر سکتا ہے۔ ایسے دو طریقے موجود ہیں جن کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔


    1.                        خلاء کو پھیلانا۔ اگر آپ اپنے پیچھے موجود خلاء کو پھیلا دیں اور سامنے والی خلاء میں رابطہ قائم کریں تو آپ کو ایسا دھوکہ ہوگا کہ آپ روشنی کی بھی رفتار سے تیز سفر کر رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں آپ نے بالکل بھی حرکت نہیں کی ہوگی۔ مگر کیونکہ خلاء میں بگاڑ آگیا ہوگا اس لئے آپ دور دراز ستاروں تک پلک جھپکتے ہی پہنچ جائیں گے۔
    2.                        خلاء کو توڑنا۔ ١٩٣٥ء میں آئن سٹائن نے ایک تصوّر  ثقب کرم (وارم ہول  - ثقب  سوراخ کو جبکہ کِرم، کیڑے کو کہتے ہیں ) کا دیا۔ "ایلکس" (Alex)  کے جادوئی آئینے  کا ذرا تصوّر کریں  ایک ایسا جادوئی آلہ جو آکسفورڈ کے گاؤں کو ونڈر لینڈ سے ملا دیتا تھا۔ ثقب کرم ایک ایسا آلہ ہے جو دو کائناتوں کو آپس میں ملا دیتا ہے۔ جب ہم ابتدائی اسکول میں تھے  تو ہمیں یہ بتایا جاتا تھا کہ سب سے مختصر راستہ کسی بھی دو نقاط کا ایک سیدھا راستہ ہوتا ہے۔ مگر ضروری نہیں ہے کہ یہ ہمیشہ سچ بھی ہو کیونکہ اگر ہم کاغذ کے کسی پنے کو لے کر اتنا موڑیں کہ اس کے دونوں سرے آپس میں مل جائیں  تو ہم ان دو نقاط کے درمیان راہ مختصر ایک ثقب کرم کو دیکھیں گے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے طبیعیات دان "میٹ ویزر"  (Matt Visser)  کہتے ہیں کہ " اضافیت والے اس بات کو سوچ رہے ہیں کہ وہ کیا چیز ہوگی جس کی مدد سے ایک  خمیدہ راستہ (وارم ڈرائیو )  یا ایک ثقب کرم  سائنس فکشن کی طلسماتی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں آ جائے۔"
    کیا ثقب کرم سائنسی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں آ سکے گا؟

     رائل ایسٹرو نومر  آف گریٹ برٹین کے سر مارٹن ریس  کہتے ہیں کہ " ثقب کرم ، اضافی جہتوں  اور کوانٹم کمپیوٹروں نے ایسے قیاسی خیالوں کا سمندر بہا دیا ہے جس میں ہماری پوری کائنات آخر میں رہنے کے لائق کائنات بن جائے گی۔


    الکوبئیرے  کا راستہ   (Alcubierre Drive)اور منفی توانائی


    سب سے  بہترین مثال  کھینچتی ہوئی خلاء کی الکوبئیرے کا راستہ ہے   جو کہ ایک طبیعیات دان "میگول الکوبئیرے" (Miguel Alcubierre)  نے ١٩٩٤ء  میں آئن سٹائن کے نظریہ ثقل کو استعمال کرتے ہوئے تجویز دی تھی۔ یہ اسٹار ٹریک میں نظر آنے والے دھکیل نظام سے ملتی ہے ۔ ایسے کسی بھی خلائی جہاز کو چلانے والا پائلٹ ایک بلبلے میں بیٹھا ہوتا ہے (جس کو  خمیدہ  بلبلہ کہا جاتا ہے ) اس میں رہتے ہوئے ہر چیز معمول کے مطابق دکھائی دیتی ہے  یہاں تک کہ اس وقت بھی  جب خلائی جہاز سریع از نور رفتار کو توڑتا ہے۔ اصل میں پائلٹ کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ سکون سے بیٹھا ہوا ہے۔ جبکہ خمیدہ  بلبلے کے باہر مکان و زمان میں اس وقت زبردست قسم کا بگاڑ پیدا ہوتا ہے جب خلاء خمیدہ  بلبلے کے سامنے سکڑتی ہے۔ کیونکہ وقت کی وسعت میں کوئی فرق نہیں پڑتا  لہٰذا وقت عام حالات کی طرح سے ہی خمیدہ  بلبلے کے اندر گزرتا ہے۔

    طبیعیات دانمیگول الکوبئیرے
     الکوبئیرے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اسٹار ٹریک نے شاید اس حل کی تلاش میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ "اسٹار ٹریک میں موجود لوگ خمیدہ راستے  کی باتیں کرتے رہتے ہیں ، ایک ایسا نظریہ جس میں آپ خلاء کو سکیڑ دیتے ہیں ،" اس نے کہا۔" ہمارے پاس یہ مفروضہ پہلے سے ہی موجود ہے کہ خلاء کو کس طرح سے خمیدہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں کیا جا سکتا  اور یہ نظریہ ہی عمومی نظریہ اضافیت کا ہے۔ میں نے یہ بات سوچی کہ کوئی تو ایسا طریقہ ہوگا جس میں اس خیال کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا جا سکے کہ خمیدہ راستہ  کس طرح سے کام کرتا ہے۔" شاید یہ پہلی بار ہے کہ کسی ٹیلی ویژن کے پروگرام نے آئن سٹائن کی مساوات کے ایک حل کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔   

     الکوبئیرےاضافی راستے میں مکان و زمان اس طرح سے پھیلاتا ہے جس سے مکان کی ساخت جہاز سے آگے سکڑتی ہے اور اس کے پیچھے کی خلاء پھیلتی ہے. اس طرح سے جہاز ایک موج پر سفر کرتا ہے جس میں وہ تیز رفتار اسراع  حاصل اور  وقت میں سفر کرسکتا ہے

    الکوبئیرے اس بات کی پیش بینی کرتے ہیں کہ ان کے تجویز کردہ خلائی جہاز کا سفر اسٹار وار کے ملینیم فالکن کے جیسا ہی ہوگا۔ "میرا خیال ہے کہ وہ لوگ شاید کچھ ایسا  ہی دیکھ سکیں گے۔ جہاز کے سامنے  ستارے روشنی کی لمبی لکیروں جیسے بن جائیں گے ۔جہاز میں موجود مسافر  اپنے پیچھے وہ کچھ بھی نہیں دیکھ پائیں گے ان کو صرف تاریکی ہی دکھائی دے گی  کیونکہ ستاروں کی روشنی  اتنی تیز نہیں ہوگی کہ وہ ان تک پہنچ سکے۔" وہ کہتا ہے۔

    الکوبئیرے کے راستے  کی روح وہ توانائی ہے جو اس خلائی جہاز کو سریع از نور سمتی رفتار سے  آگے کی طرف دھکیلنے کے لئے ضروری ہے۔ عام طور سے طبیعیات دان کسی بھی خلائی جہاز کو دھکیلنے کے لئے مثبت توانائی سے  شروع کرتے ہیں  جس کی وجہ سے ان کا خلائی جہاز ہمیشہ سے روشنی کی رفتار سے آہستہ چلتا ہے۔ اس  مسئلہ سے نمٹتے ہوئے سریع از نور کی رفتار کو حاصل کرنے کے لئے  ہمیں ایندھن کو بدلنا ہوگا۔ ایک سیدھا حساب کتاب تو اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ  اس کام کے لئے منفی کمیت یا منفی توانائی کی ضرورت ہوگی۔  منفی توانائی شاید کائنات میں موجود سب سے زیادہ عجیب و غریب چیز ہوگی بشرطیکہ وہ وجود رکھتی ہو۔ روایتی طور پر طبیعیات دان منفی کمیت اور منفی توانائی کو سائنس فکشن کی خرافات کہہ کر اس سے گلو خلاصی حاصل کر لیتے ہیں۔ مگر اب ہم یہ دیکھ سکتے ہیں سریع از نور کی رفتار سے سفر کرنے کے لئے یہ انتہائی لازمی ہیں  اور ممکن ہے کہ اصل میں یہ وجود بھی رکھتے ہوں۔

    سائنس دانوں  نے منفی مادّے کو قدرتی طور پر دیکھنے کی کوشش کی ہے مگر اپنی اس کوشش میں وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ (ضد مادّہ اور منفی مادّہ دونوں مکمل طور پر الگ چیزیں ہیں۔ اوّل الذکر وجود رکھتا ہے اور اس کی مثبت توانائی ہوتی ہے لیکن اس پر بار الٹا ہوتا ہے۔ جبکہ موخّرالذکر ابھی تک اپنے وجود کو ثابت نہیں کر سکا ہے۔) منفی مادّہ بہت ہی الگ چیز ہے  کیونکہ وہ  ہر چیز سے ہلکا ہوگا۔ اصل میں وہ تیرے گا۔ اگر منفی مادّہ ابتدائی  کائنات میں موجود ہوتا  تو وہ خلاء میں ضرور تیر رہا ہوتا۔ شہابیوں کے برعکس  جو سیاروں کی قوت ثقل کے زیر اثر آ کر ان  سے ٹکراتے ہیں منفی مادّے  سیاروں سے اجتناب کرتے ہیں۔ وہ ستارے اور سیارے جیسے بڑے اجسام کی طرف  کھینچنے کے بجائے ان سے دور بھاگتے ہیں۔ لہٰذا  ممکن ہے کہ منفی مادّہ وجود رکھتا ہو لیکن ہم یقینی طور پر اسے زمین کے بجائے گہری خلاء میں ہی پا سکتے ہیں۔

     منفی مادّے کو خلاء میں حاصل کرنے کے لئے آئن سٹائن کے عدسے کا استعمال کیا جاسکتا ہے  

    منفی مادّے کو گہری خلاء سے حاصل کرنے کی ایک تجویز یہ ہے کہ ایک مظاہر کا استعمال کیا جائے جس کا نام "آئن سٹائن کا عدسہ "ہے ۔نظریہ اضافیت کی رو سے  جب روشنی کسی ستارے یا کہکشاں کے گرد سے ہوتی ہے محو سفر ہوتی ہے تو اس کا راستہ قوّت ثقل کی وجہ سے خمدار ہو جاتا ہے۔ ١٩١٢ء میں (جب آئن سٹائن نے عمومی اضافیت کو "نظریئے" کے قالب  میں  مکمل طور پر نہیں ڈھالا  تھا ) اس نے اس بات کی پیشگوئی کی تھی کہ کہکشاں ایک دوربین کے عدسے کی طرح سے کام کر سکتی ہے۔ دور دراز کے جسم کی روشنی جب کسی قریبی کہکشاں کے قریب پہنچتی ہے تو وہ کہکشاں میں سے گزرتے ہوئے ایک عدسے کی طرح سے کام کرتی ہے  جس کے نتیجے میں جب روشنی زمین تک پہنچتی ہے تو وہ ایک حلقی نمونے کی شکل اختیار کر چکی ہوتی ہے۔ اب ان مظاہر کو " آئن سٹائن کے حلقے" کہا جاتا ہے۔ ١٩٧٩ء میں سب سے پہلے خلائے بسیط میں  آئن سٹائن کے عدسوں کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس کے بعد سے آئن سٹائن کے عدسے ماہرین فلکیات کے لئے ایک لازمی اوزار بن گئے ہیں۔(مثال کے طور پر پہلے یہ سوچا جاتا تھا کہ خلائے بسیط میں غیر مرئی مادّے کو تلاش کرنا ناممکن ہے۔[غیر مرئی مادّہ ایک پراسرار چیز ہے  جو نظر نہیں آتا لیکن  وزن رکھتا ہے۔ یہ کہکشاؤں کے پاس موجود ہوتا ہے اور شاید یہ کائنات میں عام نظر آنے  والے  مادّے کے مقابلے میں ١٠ گنا زیادہ موجود ہے۔] ناسا کے سائنس دانوں نے تاریک  مادّے کا نقشہ ترتیب دینے میں کامیابی حاصل کر لی ہے  کیونکہ تاریک  مادّہ روشنی کو اس وقت  خمدار کر دیتا ہے جب وہ اس میں سے گزرتی ہے  بالکل اسی طرح سے جیسے شیشہ روشنی کو موڑتا ہے۔)
       
    لہٰذا ممکن ہے کہ آئن سٹائن کے عدسوں کو منفی مادّے اور خمیدہ راستے  کو خلائے بسیط میں  ڈھونڈنے کے لئے  استعمال کیا جا سکے۔ یہ عدسے  ایک مخصوص انداز میں روشنی کو موڑیں گے  جس کو ہبل خلائی دوربین سے دیکھا جانا چاہئے۔ ابھی تک تو آئن سٹائن کے عدسے نے کسی  بھی منفی مادّے یا خمیدہ راستے  کو خلائے بسیط میں  نہیں ڈھونڈا ہے لیکن ہنوز  تلاش جاری ہے۔ اگر کبھی کسی دن ہبل خلائی دوربین نے منفی مادّے کے وجود  یا خمیدہ راستے  کو آئن سٹائن کے عدسے کی مدد سے تلاش کر لیا  تو یہ طبیعیات کی دنیا میں ایک زبردست جھٹکا ہوگا۔

    منفی توانائی کو کسیمیر اثر کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے 

    منفی توانائی منفی مادّے  سے اس لئے مختلف ہے کہ وہ حقیقت میں وجود رکھتی ہے  مگر انتہائی معمولی مقدار میں۔١٩٣٣ء میں "ہینڈرک کسیمیر"  (Hendrik Casimir)   نے کوانٹم نظریہ کا استعمال کرتے ہوئے  ایک عجیب سے پیش گوئی کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ دو غیر بار دار متوازی دھاتوں کی پلیٹ ایک دوسرے کو جادوئی انداز سے کھینچیں گی۔ عام طور سے متوازی پلیٹیں  ساکن ہوتی ہیں  کیونکہ ان میں خالص طور پر کسی بھی قسم کا بار نہیں پایا جاتا۔ مگر ان دونوں پلیٹوں کے درمیان کی خالی جگہ ، کھوکھلی نہیں بلکہ مجازی ذرّات سے بھری ہوتی ہے  جو تیزی سے آتے اور جاتے ہیں۔

    انتہائی مختصر ساعت میں الیکٹران اور ضد الیکٹران  کے جوڑے عدم سے نکل کر پھٹتے ہیں  تاکہ وہ فنا ہو کر  واپس خلاء میں غائب ہو جائیں۔ حیرت انگیز طور پر پہلے خالی خلاء کو ایک ایسی چیز سمجھا جاتا تھا   جس میں کوئی بھی چیز موجود نہیں ہوتی تھی۔ لیکن خلاء   اب ایک ایسی جگہ بن گئی ہے جہاں کوانٹم  کی حرکیات وقوع پذیر ہو رہی ہوں۔ عام طور سے ننھے مادّے اور ضد مادّے کے ٹکراؤ بقائے توانائی کے اصول سے انحراف کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ مگر اصول عدم یقین کے نظریئے کی وجہ سے  یہ ننھی خلاف ورزیاں ناقابل تصوّر طور پر کم عرصے کے لئے ہوتی ہیں  اور اوسطاً توانائی باقی رہ جاتی ہے۔
      
    کسیمیر نے معلوم کر لیا کہ مجازی ذرّات کے بادل خلاء میں ایک خالص دباؤ پیدا کریں گے۔ دو پلیٹوں کے درمیان خلاء محدود ہو جاتی ہے لہٰذا  دباؤ کم  ہوتا ہے۔ لیکن  پلیٹوں سے باہر موجود دباؤ  قید نہیں ہوتا  لہٰذا وہ کافی بلند ہوتا ہے ۔ اس لئے ایک خالص دباؤ بنتا ہے جو ان پلیٹوں کو ایک دوسرے کی طرف دھکیلتا ہے۔

    عام طور پر توانائی کی حالت صفر اس وقت ہوتی ہے جب وہ دونوں پلیٹیں ساکن ہوں اور ایک دوسرے سے دور رکھی ہوئی ہوں۔  مگر جیسے ہی پلیٹیں ایک دوسرے کے نزدیک آتی ہیں تو   ان میں سے توانائی کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پس کیونکہ ان پلیٹوں میں سے حرکی توانائی کو نکال دیا گیا ہے لہٰذا ان پلیٹوں کی توانائی صفر سے کم ہو جاتی ہے۔

    منفی توانائی کو اصل میں کسی بھی تجربہ گاہ میں سب سے پہلے ١٩٤٨ء میں ناپا گیا  جس کے حاصل کردہ  نتائج نے کسیمیر کی پیشن گوئی کو درست ثابت کیا۔ لہٰذا منفی توانائی اور کسیمیر کا اثر اب کوئی سائنس فکشن کی بات نہیں ہیں بلکہ ثابت شدہ حقیقت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسیمیر کا اثر بہت ہی چھوٹا ہے، اس توانائی کو تجربہ گاہ میں ناپنے کے لئے انتہائی نازک اور حساس  اور انتہائی اختراعی قسم کے آلات کی ضرورت ہوتی ہے  (عام طور پر کسیمیر کی توانائی  نسبتاً  دونوں پلیٹوں کے درمیان علیحدگی کے فاصلے کی قوّت کے چوتھائی حصّے  کی الٹ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ علیحدگی کا فاصلہ جتنا چھوٹا ہوگا  توانائی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ کسیمیر اثر کی درست پیمائش  ١٩٩٦ء میں لاس  الموس نیشنل لیبارٹری کے "ا سٹیون  لامو راکس" (Steven Lamoreaux)  نے کی  جس کی تجاذبی  قوّت ایک چیونٹی کے وزن کا ایک بٹا تیس ہزار حصّہ تھی۔

    الکوبئیرے نے جب سے یہ نظریہ پہلی بار پیش کیا اس وقت سے طبیعیات دانوں نے کافی عجیب و غریب خصوصیات کو دریافت کیا ہے۔ خلائی جہاز میں موجود لوگ عام طور پر باہری دنیا سے کٹ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ اپنی مرضی سے بٹن دبا کر سریع از نور کی رفتار سے سفر نہیں کر سکیں گے۔ آپ اس بلبلے میں سے کسی سے رابطہ نہیں کر سکتے۔ مکان و زمان میں پہلے سے ہی موجود راستہ ہونا چاہئے  جس طرح سے ایک ترتیب سے ریل گاڑیاں گزرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خلائی جہاز ایک عام سے جہاز کی طرح سے نہیں ہوگا جو اپنی مرضی سے رفتار اور سمت کو بدل سکے۔ خلائی جہاز اصل میں ایک ایسی گاڑی ہوگی جو پہلے سے ہی متعین دبی ہوئی خلائی موج پر سفر کر رہی ہوگی۔ یہ خلائی موج بھی پہلے سے ہی موجود کسی خمیدہ  مکان و زمان کے راستے پر گامزن ہوگی۔ الکوبئیرے پیش بینی کرتے ہوئے کہتے ہیں ،" ہمیں ایک عجیب و غریب مادّے سے چلنے والے جنریٹروں کا پورا سلسلہ اس راستہ میں چاہئے ہوگا  جو خلاء کو سازگار طریقے سے  خلائی  جہاز سے باہم مربوط کرے گا ۔"

    اصل میں اس سے بھی کہیں زیادہ عجیب و غریب قسم کے حل آئن سٹائن کی مساوات کا استعمال کرتے ہوئے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ آئن سٹائن کی مساوات کہتی ہے کہ اگر آپ کے پاس مخصوص مقدار میں مادّہ یا توانائی موجود ہے تو آپ  زمان و مکان  کے اس سکڑنے  کا حساب لگا سکتے ہیں  جو وہ توانائی اور مادّہ پیدا کرے گا۔(بعینہ ایسے جیسے جب ہم کوئی پتھر تالاب میں پھینکتے ہیں تو اس سے بننی والی لہروں کا حساب لگایا جا سکتا  ہے ۔) لیکن  آپ اس مساوات کو الٹا بھی حل کر سکتے ہیں۔ ہم مکان و زمان جیسی  عجیب و غریب چیز سے بھی شروعات کر سکتے ہیں ، جس طرح سے ایک ٹیلی ویژن سلسلے ٹوائی لائٹ زون میں دکھایا گیا ہے۔(مثال کے طور پر اس طرح کی کائناتوں میں آپ کوئی دروازہ کھول کر اپنے آپ کو چاند پر پا سکتے ہیں۔ آپ کسی درخت کے ساتھ بھاگتے ہوئے اپنے آپ کو ماضی میں لے جا سکتے ہیں  جس میں آپ کا دل آپ کے جسم کے  سیدھے حصّے کی جانب ہوگا۔) اس کے بعد آپ اس مخصوص زمان و مکان کی مادّے اور توانائی کی تقسیم کا حساب لگا سکتے ہیں۔(اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر تالاب کی سطح پر آپ کو عجیب و غریب موجوں  کا  مجموعہ دے دیا جائے تو آپ  ان پتھروں کی تقسیم کا حساب کتاب لگا سکتے ہیں جو آپ کو ان لہروں کو پیدا کرنے کے لئے درکار ہوں گی )۔ اصل میں یہ ہی وہ طریقہ تھا جس کے ذریعہ الکوبئیرے نے اس مساوات کو حاصل کیا تھا۔ اس نے شروعات مکان و زمان  سے  کی جو متواتر روشنی کی رفتار سے سفر کر رہی ہو  اور اس کے بعد اس نے الٹا حساب لگایا کہ اس  کو پیدا کرنے کے لئے  کتنی توانائی کی ضرورت ہوگی۔


    ثقب کرم اور ثقب سیاہ یا روزن سیاہ  (وارم ہول اور بلیک ہول )


    خلاء کو کھینچنے کے علاوہ، روشنی کی رفتار کی حد کو توڑنے کا  دوسرا ممکنہ طریقہ ثقب کرم کا ہے ۔ جس میں ثقب کرم  کے ذریعہ خلاء میں بگاڑ پیدا کر کے ایک ایسا راستہ بنایا جا سکتا ہے جو دو کائناتوں کو ایک دوسرے سے ملا دے۔ کہانیوں میں  سب سے پہلے ثقب کرم کا ذکر ہمیں آکسفورڈ کے ریاضی دان "چارلس ڈوڈ سن"  (Charles Dodgson)  کے ناول تھرو دی لکنگ گلاس میں ملتا ہے   جو اس نے لیوس کیرول  کے قلمی نام سے لکھی تھی۔ دیکھنے والا آئنہ ایلس کا ایک ایسا  ثقب کرم تھا جو آکسفورڈ کے گاؤں کو جادوئی دنیا ونڈر لینڈ سے ملا دیتا تھا ۔ آئینے  میں اپنا ہاتھ ڈال کر ایلس فی الفور ایک کائنات سے دوسری کائنات میں جا سکتا تھا۔ ریاضی دان ان کو  "ضربی خلائی رابطہ" کہتے ہیں۔

    ثقب کرم کا سب سے پہلا ذکر چارلس ڈوڈسن  کے ناول تھرو دی لکنگ گلاس میں ملتا ہے 
    طبیعیات میں  ثقب کرم کا تصوّر ١٩١٦ء  میں آئن سٹائن کے انقلابی نظریہ اضافیت کے  کام کو شایع ہونے کے ایک سال کے بعد آیا  ۔ طبیعیات دان "کارل شوارز چائلڈ"  (Carl Schwarzschild)  جو اس وقت کیزر کی فوج میں خدمات انجام دے رہا تھا  اس نے آئن سٹائن کی مساوات کو ایک  نقطۂ جیسے ستارے  کے لئے حل کرلیا تھا۔ ستارے سے بہت دور اس کے  ثقلی میدان ایک عام ستارے جیسی ہی ہوں گے ۔  حقیقت میں آئن سٹائن نے شوارز چائلڈ کے حل کو استعمال کرتے ہوئے ستارے کے گرد روشنی کی خمیدگی  کو ناپا تھا۔ شوارز چائلڈ کے حل نے ایک فوری اور انتہائی عمیق اثر فلکیات کی دنیا میں ڈالا۔ نسلوں تک طبیعیات دان اس ثقلی میدان کو نوکدار ستارے  کے گرد اس طرح سے ناپنے میں استعمال کرتے رہے جیسا کہ وہ ایک اصل ستارے کے گرد موجود ہو جس کا ایک محدود قطر ہو۔

    طبیعیات دان کارل شوارز چائلڈ 

    لیکن اگر آپ اس نقطۂ جیسے حل کو سنجیدگی سے دیکھیں گے تو اس کے قلب میں گھات لگائے عفریت  کو بھی دیکھ پائیں گے جس نے ایک صدی سے طبیعیات دانوں کو متحیر اور گنگ کیا ہوا ہے  - یعنی کہ یہ ایک بلیک ہول ہے۔   شوارز چائلڈ  کے نقطے جیسے ستارے کی قوّت ثقل کا حل  کاٹھ کے گھوڑے جیسا تھا۔ باہر سے یہ فلکی تحفہ نظر آتا تھا  مگر اس کے اندر ہر قسم کے بھوت اور عفریت چھپے ہوئے تھے۔ لیکن اگر آپ نے ایک  تحفے کو قبول کرلیا تو دوسرا اس کے ساتھ لازمی طور پر قبول کرنا پڑے گا۔ شوارز چائلڈ  کے حل نے بتایا کہ جیسے ہی کوئی بھی اس نقطہ جیسے ستارے کے پاس پہنچے گا عجیب و غریب چیزیں وقوع پذیر ہونے لگیں گی۔ اس ستارے کے چاروں طرف ایک عجیب سا کرۂ ہوگا (جس کو “واقعاتی  افق" کہتے ہیں ) جہاں سے واپسی کا راستہ ناممکن ہے ۔ ہر چیز یہاں پر اندر آسکتی ہے باہر نہیں جا سکتی  جیسا کہ روچ موٹیل میں ہوتا تھا۔ ایک دفعہ آپ نے واقعاتی افق کو پار کرلیا پھر   آپ کبھی بھی واپس نہیں آ سکیں گے۔ (ایک دفہ آپ واقعاتی افق کے اندر پہنچ گئے تو آپ کو واقعاتی افق سے باہر نکلنے کے لئے سریع از نور رفتار حاصل کرنی پڑے گی جس کو حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔)

    واقعاتی افق کے پاس اجسام کھینچنے لگیں گے 

    واقعاتی افق کے پاس پہنچنے پر آپ کے ایٹم مد و جزر کی قوّت کی وجہ سے کھینچنے لگیں گے۔ آپ کے پیروں کو محسوس ہونے والی قوّت ثقل سر پر لگنے والی قوّت ثقل سے کہیں زیادہ ہوگی لہٰذا آپ سویوں کی طرح کھینچ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ اسی طرح سے آپ کے جسم میں موجود جوہر کھینچ کر قوّت ثقل کے زیر اثر ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔

    ایک شاہد جو آپ کو باہر سے  واقعاتی افق کی طرف جاتا ہوا دیکھ رہا ہوگا  اسے ایسا لگے کہ آپ آہستہ ہو رہے  ہیں۔ در حقیقت جیسے ہی آپ واقعاتی افق کی سرحد تک پہنچیں گے  تو ایسا لگے کہ وقت رک گیا ہے !

    مزید براں یہ کہ آپ واقعاتی افق کو پار کرنے کے بعد روشنی  کو اس بلیک ہول میں قید ہو کر ارب ہا سال سے چکر کھاتا ہوا دیکھ سکیں گے ۔  ایسا لگے گا کہ جیسے آپ کسی فلم کو آہستہ کرکے دیکھ رہے ہیں ،  جو بلیک ہول کی مکمل تاریخ کو اس کی ابتداء تک  آپ کے سامنے پیش کر رہی ہے۔     

    اور آخر میں اگر آپ بلیک ہول کے اندر ہوتے ہوئے اس میں سے نکل  بھی گئے تو آپ ایک دوسری کائنات میں سے نکلیں گے۔  یہ مظہر آئن سٹائن اور روزن برگ کا پل کہلاتا ہے  جس کو پہلے آئن سٹائن نے ١٩٥٥ء میں متعارف کروایا تھا ۔ اس  کو اب  ہم ثقب کرم کے نام سے جانتے  ہیں۔

    آئن سٹائن اور دوسرے طبیعیات دان اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ کبھی بھی کوئی بھی ستارہ قدرتی طور پر ایسے  کسی عفریت میں ارتقاء پذیر نہیں ہوگا۔ حقیقت میں ١٩٣٩ء میں آئن سٹائن نے ایک مقالہ شایع کیا جس میں اس نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ گھومتے ہوئے گرد و گیس کی کمیت کبھی بھی کثیف ہو کر بلیک ہول میں نہیں  ڈھلے گی۔ اس کو اس بات پر انتہائی یقین تھا کہ ایسی کوئی عجیب چیز  کبھی بھی قدرتی طور پر نہیں بن سکتی۔ حقیقت میں  فلکیاتی طبیعیات دان  "آرتھر ایڈنگٹن"  (Arthur Edington) نے ایک دفعہ کہا کہ "کوئی قانون قدرت ایسا ہونا چاہئے جو کسی ستارے کو اس عجیب طرح کے برتاؤ کرنے سے روک سکے۔"  دوسرے الفاظ میں  بلیک ہول آئن سٹائن کی مساوات کا جائز حل تو تھا مگر کوئی ایسا طریقہ قدرتی طور پر معلوم  نہیں تھا جس سے وہ بن سکے۔

    ان تمام باتوں کا بوریا بستر اس وقت گول ہو گیا  جب اسی سال ایک مقالہ "جے رابرٹ اوپن ہائمر" (J. Robert Oppenheimer)  اور اس کے شاگرد "ہارٹ لینڈ اسنائیڈر" (Hartland Snyder)  نے لکھا۔ اس مقالہ  میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ بلیک  ہول اصل میں قدرتی طور پر پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے فرض کیا کہ مرتا ہوا ستارہ جب اپنا نیوکلیائی ایندھن صرف کر لیتا ہے تو وہ قوّت ثقل کے تحت ڈھے جاتا ہے لہٰذا وہ اپنے ہی وزن کی وجہ سے پھٹ جاتا ہے۔ اگر قوّت ثقل نے اس ستارے کو اس کے واقعاتی افق کے اندر دبا دیا  تو سائنس میں ابھی تک کوئی بھی چیز ایسی معلوم نہیں ہے جو ستارے کو بھینچ  کر اس نقطے جیسے ستارہ بننے سے روک سکے۔ (کچھ سال بعد شاید اسی انفجار ی طریقے نے اوپن ہائمر کو اس بم بنانے کی طرف رہنمائی فراہم  کی جس نے ناگاساکی کے اوپر گر کر پھٹنا تھا  اور جو پلوٹونیم کے کرۂ کے انفجار پر انحصار کرتا تھا۔)  

    ریاضی دان روئے کر 

    دوسری اہم دریافت ١٩٦٣ء میں ہوئی جب نیو زی لینڈ کے ریاضی دان "روئے کر "  (Roy Kerr) نے شاید سب سے حقیقی بلیک ہول کی مثال کو جانچا۔ اجسام سکڑتے ہوئے تیزی سے گھومتے ہیں بالکل اسی طرح سے جب اسکیٹر اپنے بازوں کو سکیڑ لیتے ہیں تو وہ تیزی سے گھومنے لگتے ہیں۔  لہٰذا بلیک ہول کو بھی انتہائی تیز رفتار سے گھومنا ہوگا۔

    "کر" نے یہ بات معلوم کر لی تھی کہ گھومتا ہوا بلیک ہول کسی نقطہ جیسے ستارے میں منہدم نہیں ہوگا جیسا کہ شوارز چائلڈ نے فرض کیا تھا  بلکہ وہ ایک گھومتے ہوئے حلقے میں ڈھے گا۔ کوئی بھی بدقسمت جو اس حلقے  سے مس کر گیا ختم ہو جائے گا۔ اس کے باوجود کوئی اس حلقے میں گر گیا تو وہ مرے گا نہیں بلکہ اس میں سے گزر جائے گا ۔ لیکن بجائے کہ وہ اس حلقے کے دوسری طرف نکلے وہ آئن سٹائن اور روزن برگ کے پل سے گزرتا ہوا دوسری کائنات میں نکل جائے گا۔ دوسرے الفاظ میں گھومتا ہوا بلیک ہول  ایلس کے آئینے کے  کنارے جیسا ہی ہے۔

    کوئی بھی دوسری دفعہ اس گھومتے ہوئے حلقے کے پاس سے گزرے گا تو وہ کسی دوسری نئی  کائنات میں اپنے آپ کو پائے گا۔ حقیقت میں گھومتے ہوئے حلقے  میں کوئی بھی شخص جتنی دفعہ بھی  داخل ہو گا  ہر مرتبہ وہ  ایک نئی اور  مختلف  متوازی کائناتوں میں سے نکلے گا۔ بعینہ ایسے جیسے  بالا بر میں داخل ہو کر جب ہم اوپر جانے کے لئے بٹن دباتے ہیں۔ نظری طور پر لامحدود متوازی کائناتیں ہونی چاہئے  جو ایک دوسرے کے  اوپر موجود ہوں گی۔ "جادوئی حلقے سے گزریں اور آپ ایک نئی بالکل ہی مختلف کائنات میں موجود ہوں گے جہاں قطر اور کمیت منفی ہوگی !" کر نے لکھا۔

    بہرحال یہاں ایک مسئلہ موجود ہے  بلیک ہول "غیر قا طع ثقب کرم" (Nontransversable)  ہوتے ہیں  یعنی کہ واقعاتی افق میں سے گزرنا یکطرفہ سفر ہے۔ ایک دفعہ آپ واقعاتی افق  اور" کر" کے حلقے سے گزر گئے اس کے بعد واپسی کا کوئی راستہ بذریعہ حلقہ  اس واقعاتی افق سے نہیں  ملے گا۔

    طبیعیات دان کپ تھورن 

    مگر ١٩٨٨ء میں "کپ تھورن"  (Kip Thorne)  اور ان کے رفقائے کاروں نے کالٹک میں ایک  "قا طع ثقب کرم"  کی مثال کھوج لی یعنی کہ جس میں سے آپ آسانی سے  آ اور جا سکیں۔ حقیقت میں ایک حل میں تو ثقب کرم میں سفر کرنا تو ایسے ہی ہے جیسے کسی ہوائی جہاز میں سفر کرنا۔

    عام طور پر کسی بھی ثقب کرم میں قوّت ثقل اس کا گلہ دبا دیتی ہے  جس کے نتیجے میں وہ خلا نورد تباہ ہو جائے گا جو دوسری طرف جانے کا سوچ رہا ہوگا۔ یہ ہی وہ چیز ہی جس کی وجہ سے سریع از نور رفتار سے سفر ممکن نہیں۔ مگر دھکیل کی منفی قوّت یا منفی کمیت ممکنہ طور پر اس گلے کو اتنی دیر تک کھول کر رکھ سکتی ہے جس کے نتیجے میں  خلا نورد  آسانی سے راستے میں سے گزر جائے گا۔ دوسرے الفاظ میں منفی کمیت اور منفی توانائی الکوبئیرے کا راستہ  اور ثقب کرم دونوں مسئلوں کے حل کے لئے ضروری ہے۔  

    پچھلے چند برسوں کے دوران حیران کن تعداد آئن سٹائن کی مساوات کے حل کی صورت میں نکلی ہیں جو ثقب کرم کو بننے کی اجازت دیتی ہیں۔ مگر کیا ثقب کرم حقیقت میں وجود رکھتے ہیں  یا پھر وہ صرف ریاضی کی بناوٹی باتیں ہی ہیں ؟ سر دست  ثقب کرم کو کافی بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    سب سے پہلے مکان و زمان میں شدید قسم کا بگاڑ  پیدا کرنا ضروری ہے  تاکہ ثقب کرم کے ذریعہ سفر کیا جا سکے  اس کے لئے انتہائی بڑی مقدار میں مادّہ اور منفی مادّہ درکار ہوگا  جسے  کسی جسیم ستارے یا بلیک ہول جتنا ہونا چاہئے ۔ "میتھیو وائزر" (Mathew Visser)  واشنگٹن یونیورسٹی کے طبیعیات دان اندازہ لگاتے ہیں کہ ایک میٹر ثقب کرم کو کھولنے کے لئے جتنی مقدار منفی توانائی کی درکار ہوگی  وہ ایک مشتری کے حجم کے سیارے جتنی ہونی چاہئے۔ بس صرف فرق اتنا ہوگا کہ وہ توانائی منفی ہوگی۔ وہ کہتے ہیں " آپ کو "منفی ایک" مشتری جتنی کمیت کی ضرورت ہوگی جو اس کام کو سرانجام دے سکے۔ صرف ایک مشتری جتنی مثبت کمیت کے ساتھ کھیلنا پہلے ہی  مصیبت ہے  جو ہماری مستقبل میں حاصل ہونے والی صلاحیتوں سے بھی کہیں دور کی چیز ہے۔"

    کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے کپ تھورن کہتے ہیں "ایسا لگتا ہے کہ طبیعیات کے قوانین انسانی جسامت جتنی مقدار میں اجنبی  مادّے کو  ثقب کرم  میں موجود ہونے کی اجازت دیتے ہیں جو ثقب کرم کو کھول کر رکھنے  کے لئے کافی ہوگا ۔ مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ ثقب کرم کو بنانے اور ان کو کھلا رکھنے کی ٹیکنالوجی ہماری موجودہ انسانی تہذیبی  قابلیت سے کہیں زیادہ ہے۔"

    دوسرے ہم یہ بات بھی نہیں جانتے کہ یہ ثقب کرم کس قدر  متوازن ہوں گے۔ ان ثقب کرم سے نکلنے والی شعاعیں ہو سکتا ہے کہ اس میں داخل ہونے والے کسی بھی شخص کو ہلاک کر دیں۔ اور یہ بھی ممکن  ہے کہ بلیک ہول بالکل بھی پائیدار نہ ہوں  اور جیسے ہی کوئی اس میں گھسے ویسے ہی وہ بند ہو جائیں۔

    تیسرے  بلیک ہول میں گرنے والی روشنی کا جھکاؤ نیلے رنگ کی جانب ہوگا۔ یعنی جیسے جیسے وہ واقعاتی افق کے پاس پہنچتی ہے ویسے ویسے  وہ زیادہ سے زیادہ توانائی حاصل کرتی ہے ۔ حقیقت میں واقعاتی افق میں روشنی لامحدود طور پر نیلی رنگ کی طرف جھکی ہوئی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس توانائی سے نکلنے والی شعاعیں راکٹ میں موجود کسی بھی شخص  کو ہلاک کر سکتی ہیں۔

    چلیں ان مسائل کو ذرا تفصیل سے زیر بحث کریں۔ ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ اتنی  مقدار میں کمیت کو جمع کریں جس سے پیدا ہونے والی توانائی مکان و زمان کی ساخت کو توڑ سکے۔ اس کا  سب سے بہتر   حل یہ ہے کہ کسی جسم کو اس قدر دبا دیا جائے کہ وہ اس کی واقعاتی افق سے بھی چھوٹا ہو جائے۔ مثال کے طور پر  اگر ہم سورج کو لیں تو اس کو ہمیں ٢ میل تک دبا کر چھوٹا کرنا ہوگا  جس کے بعد وہ ایک بلیک ہول میں تبدیل ہو جائے گا۔ (سورج کی قوّت ثقل انتہائی کمزور ہے  لہٰذا وہ اسے قدرتی طور پر دبا کر ٢ میل جتنا چھوٹا  نہیں کر سکتی  لہٰذا قدرتی طور پر  ہمارا سورج کبھی بھی بلیک ہول نہیں بن سکے گا۔ نظری طور پر اس بات کا یہ مطلب ہوا کہ کوئی بھی چیز بشمول ہمارے ،  بلیک ہول بن سکتی ہے ، بشرطیکہ اس کو کافی دبا دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے  جسم کے تمام جوہروں کو اتنا دبا دیا جائے کہ وہ ذیلی جوہری ذرّات سے بھی چھوٹا ہو جائے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہماری موجودہ جدید سائنسی قابلیت سے کہیں زیادہ  دور کی بات ہے۔)

    ایک زیادہ عملی طریقہ لیزر شعاعوں کا پشتہ بنانے کی ہے جس کے ذریعہ شدید کرنوں کو ایک مخصوص ہدف پر مارا جائے۔ یا کوئی دیوہیکل جوہری ضارب بنایا جائے جو دو کرنوں پیدا کرے  اور پھر وہ دونوں کرنیں ایک دوسرے سے اتنی  توانائی کے ساتھ متصادم ہوں جو مکان و زمان میں ایک چھوٹا سے سوراخ کر دے۔


    پلانک کی توانائی اور ذرّاتی اسراع گر


    کوئی بھی اس بات کا آسانی سے حساب لگا سکتا ہے کہ مکان و زمان میں خلل ڈالنے کے لئے درکار توانائی کتنی ہونی چاہئے : یہ پلانک توانائی کے برابر ہونی چاہئے ، یا ١٠١٩ ارب الیکٹران وولٹ۔ حقیقت میں یہ عدد ایک ایسا عدد ہے جو ہماری سوچ سے بھی ماوراء ہے۔ یہ ایک ہزار کھرب گنا اس توانائی سے زیادہ ہے جو دنیا میں موجود سب سے بڑی طاقتور مشین پیدا کرتی ہے جس کا نام دی لارج ہیڈرون کولائیڈر ہے  ۔ یہ  جنیوا ، سوئٹزر لینڈ  کے باہر واقع ہے۔ یہ اسراع گر پروٹون کو ایک بڑی ڈونَٹ کی شکل میں اتنا جھولا دیتی ہے جس سے ان کی توانائی دسیوں کرب الیکٹران وولٹ تک جا پہنچتی ہے۔   یہ وہ توانائی ہے جو بگ بینگ کے بعد دیکھی گئی ہے۔ مگر یہ عفریتی مشین بھی اس توانائی کا عشر عشیر بھی پیدا نہیں کر سکتی جو پلانک توانائی کو پیدا کرنے کے لئے درکار ہے۔

     انٹرنیشنل لینئیر کولائیڈر 

    ایل ایچ سی کے بعد دوسرا اسراع گر انٹرنیشنل لینئیر کولائیڈر ہوگا جو ذیلی جوہری ذرّات کو دائرے میں موڑنے کے بجائے ان کو ایک سیدھے راستے میں داغے گا۔ ذرّات کو  راستے پر حرکت دیتے ہوئے اس میں توانائی کو  ڈالا جائے گا یہاں تک کہ وہ ناقابل بیان زبردست  توانائی حاصل کر لیں گے۔ اس کے بعد الیکٹران کی کرن کو ضد الیکٹران سے ٹکرایا جائے گا  جس کے نتیجے میں زبردست توانائی پیدا ہوگی۔ آئی ایل سی ٣٠ سے ٤٠ کلومیٹر لمبی ہوگی یا سٹینفرڈ لینئیر ایکسلریٹر سے ١٠ گنا زیادہ لمبی ہوگی جو اب تک کی  سب سے زیادہ بڑی لمبائی والی اسراع گر ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو آئی ایل سی اگلی دہائی تک مکمل ہو کر کام کرنا شروع کر دے گی۔

    آئی ایل سی جو توانائی پیدا کرے گی وہ  ٥ کھرب سے ١٠ کھرب الیکٹران وولٹ  تک ہوگی۔ یہ توانائی  ایل ایچ سی سے ١٤٠ کھرب گنا  کم ہے مگر یہ بات ایک طرح سے گمراہ کن ہے۔(ایل ایچ سی میں تصادم پروٹونوں کے درمیان ہوتا ہے جو کوارک سے مل کر بنتے ہیں یعنی اصل میں تصادم کوارک کا ہوتا ہے لہٰذا کوارک میں ہوئے تصادم میں ١٤٠ کھرب الیکٹران وولٹ توانائی  کم ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آئی ایل سی جو تصادم سے توانائی پیدا کرے گی وہ ایل ایچ سی سے زیادہ ہوگی۔)  کیونکہ ہمیں ابھی تک نہیں پتا کہ الیکٹران کس سے مل کر بنے ہیں  لہٰذا الیکٹران اور ضد الیکٹران  میں تصادم زیادہ آسان اور صاف ہوگا۔   

    در  حقیقت آئی ایل سی مکان و زمان کی ساخت میں سوراخ کرنے سے درکار  کہیں کم توانائی پیدا کرے گی۔ اتنی توانائی پیدا کرنے کے لئے ایک ایسے اسراع گر کی ضرورت ہوگی جو اس سے ایک ہزار کھرب گنا زیادہ طاقتور ہو۔ ہم جماعت 0 کی تہذیب  سے تعلق رکھتے ہیں  جو مردہ پودوں کو بطور توانائی (جیسا کہ تیل اور کوئلہ ) استعمال کر رہی ہے یہ ٹیکنالوجی اس سے کہیں دور کی بات ہے  جس کو ہم نے ابھی تک  حاصل کیا ہوا ہے۔ مگر یہ بات تہذیب III کے لئے ممکن ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ جماعت III کی تہذیب وہ ہے جس کے استعمال میں پوری کہکشاں کی توانائی  ہوتی ہے  اور جس کی توانائی کی ضروریات جماعت II کی تہذیب کے مقابلے میں  ١٠ ارب گنا زیادہ ہوتی ہے ۔ یاد رہے کہ جماعت II تہذیب کا انحصار ایک اکلوتے ستارے  کی توانائی پر ہوتا ہے۔ اور جماعت II کی تہذیب جماعت I کے تہذیب سے ١٠ ارب گنا زیادہ توانائی استعمال کرتی ہے  جس کی توانائی کا انحصار ایک پورے سیارے کی توانائی پر ہوتا ہے۔ کچھ ١٠٠ یا ٢٠٠ برس بعد ہماری کمزور تہذیب 0  سے چھلانگ لگا کر تہذیب I  کی جماعت کا درجہ حاصل کر لے گی۔

    خلاء میں بلبلے عدم سے وجود میں آتے ہی فنا ہوجاتے ہیں 

    تخمینا جات کو مد نظر رکھتے ہوئے پلانک توانائی حاصل کرنا ایک لمبا اور انتہائی طویل سفر ہے۔ طبیعیات دانوں کی اکثریت اس بات پر یقین  رکھتی ہے  کہ  انتہائی چھوٹے فاصلوں پر،  پلانک فاصلے کے ٣٣-١٠ سینٹی میٹر تک،  خلاء بالکل خالی یا ہموار  نہیں ہے بلکہ جھاگ کی شکل میں ہے۔ وہ جھاگ دار ننھے بلبلوں  سے بھری ہوئی ہے جو مستقل عدم سے وجود میں آرہے ہیں  اور پھر فوراً ہے خلاء میں غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ بلبلے جو عدم سے وجود میں آتے ہیں اور پھر فنا ہو جاتے ہیں یہ مجازی کائناتیں ہیں بعینہ ان مجازی الیکٹران اور ضد الیکٹران کے ذرّات کی طرح  سے جو اچانک وجود میں آتے اور فنا ہو جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ مقداری مکان و زمان ہمارے لئے مکمل طور پر غیر مرئی ہے۔ یہ بلبلے اتنے چھوٹے پیمانے پر پیدا ہوتے ہیں کہ ہم ان کو دیکھ نہیں سکتے۔ مگر کوانٹم طبیعیات اس بات کو بتلاتی ہے کہ اگر ہم کافی مقدار میں توانائی کو ایک نقطہ پراس وقت تک  مرکوز رکھیں  جب تک ہم پلانک توانائی تک نہ پہنچ جائیں  تو یہ بلبلے بڑے ہو جائیں گے۔ اس وقت ہم یہ دیکھ سکیں گے کہ زمان و مکان ان ننھے بلبلوں سے بنا ہوا ہے اور ہر بلبلہ ایک ثقب کرم ہے جو ایک ننھی کائنات  سے جڑا ہوا ہے۔

    ماضی میں یہ ننھی کائناتیں  شعوری تجسس تھیں  جو خالص ریاضی کا عجیب نتیجہ تھا۔ لیکن اب طبیعیات دان سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ ہماری کائنات بھی شروع میں ایک ایسی ہی ننھی کائنات تھی۔ 

    ایسی سوچ صرف  قیاسی ہی ہے لیکن قوانین طبیعیات اس امکان کی اجازت دیتے ہیں کہ مکان میں کسی ایک نقطہ پر کوئی بلند توانائی کو مرتکز کرکے سوراخ  کر دیا جائے یہاں تک کہ ہم مکان و زمان  کے جھاگ تک رسائی حاصل کر لیں اور ثقب کرم جو ہماری کائنات کو دوسری ننھی کائنات کے ساتھ جوڑتا ہوا نمودار ہو جائے۔

     ویک فیلڈ ٹیبل ٹاپ ایکسلریٹر کے میدان میں بہت تیزی سے ترقی ہورہی ہے 

    مکان میں سوراخ کرنے کے لئے موجودہ ٹیکنالوجی میں کسی  بڑی دریافت کا ہونا ضروری ہے مگر یہ تہذیب III کے لئے شاید ممکن ہو۔ مثال کے طور پر ویک فیلڈ ٹیبل ٹاپ ایکسلریٹر  کے میدان میں کافی پر امید پیشرفت جاری ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ جوہری ضارب اتنا چھوٹا ہوگا کہ اسے کسی میز کے اوپر رکھا جا سکتا ہے  اور اس کے باوجود یہ ارب ہا الیکٹران وولٹ کی توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ دی ویک فیلڈ ٹیبل ٹاپ ایکسلریٹر میں لیزر کو بار دار ذرّات پر مار کر کام کیا جاتا ہے جس میں ذرّات لیزر سے پیدا ہوئی روشنی کے اوپر بیٹھ کر محو سفر ہوتے ہیں۔ سٹینفرڈ لینئیر ایکسلریٹر  سینٹر ، دی ردر فورڈ ایپلٹن لیبارٹری ان انگلینڈ اور دی ایکول پولی ٹیکنیک  ان پیرس میں کیے گئے تجربات  نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ زبردست اسراع کو  چھوٹے فاصلوں پر لیزر کی کرنوں اور پلازما کے ذریعہ توانائی داخل کرکے پیدا کیا جا سکتا ہے۔  

    اس کے علاوہ بھی ایک اور زبردست دریافت ٢٠٠٧ء میں کی گئی جب سٹینفرڈ لینئیر ایکسلریٹر سینٹر، یو سی ایل اے ، اور یو ایس سی میں موجود طبیعیات دانوں اور انجینیروں نے یہ بات ثابت کی کہ ہم بڑے ذرّاتی  اسراع گروں میں توانائی کو صرف ایک میٹر میں دوگنا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے الیکٹران کی کرن کو سٹینفرڈ میں موجود  ٢ میل لمبی سرنگ میں  داغا جس کے نتیجے میں توانائی ٤٢ ارب الیکٹران وولٹ تک جا پہنچی۔ پھر یہ بلند توانائی کے حامل الیکٹران صرف٨٨ سینٹی میٹر لمبے پلازما کے خانے پر مشتمل آفٹر برنر کے ذریعہ بھیجے گئے جہاں پر الیکٹران کو مزید ٤٢ ارب الیکٹران وولٹ ملا ہے جس کے نتیجے میں اس کی توانائی دگنی ہو گئی۔(پلازما کا خانہ لیتھیم گیس سے بھرا ہوتا ہے جیسے ہی الیکٹران گیس میں سے گزرتے ہیں  تو وہ ایک پلازما کی موج کو پیدا کرتے ہیں جو ایک خط بناتی ہے۔ یہ خط پھر واپس الیکٹران کی کرن کی طرف جاتا ہے اور ان کو آگے کی طرف پھینکتا ہے  جس سے ان کو وہ اضافی توانائی حاصل ہوتی ہے۔) اس شاندار کامیابی  میں طبیعیات دانوں نے پچھلے سب سے زیادہ حاصل ہونے والی توانائی کے مقابلے میں فی  میٹر تین ہزار گنا زیادہ توانائی حاصل کی ہے جو وہ الیکٹران کی کرن کو اسراع دے کر حاصل کر سکتے تھے ۔ موجودہ ذرّاتی اسراع گروں میں ایسے آفٹر برنر وں کا اضافہ کرکے توانائی کو دوگنا بغیر کسی اضافی لاگت کے کیا جا سکتا ہے۔

    ابھی سب سے زیادہ توانائی کسی بھی ویک فیلڈ ٹیبل ٹاپ اسراع گر کا ٢٠٠ ارب الیکٹران وولٹ فی میٹر ہے۔ اس نتیجے کو لمبے فاصلوں پر حاصل کرنے کے لئے مسائل کا ایک انبار ہے جس سے نمٹنا ہوگا (جیسے کہ کرن کی پائیداری کو اس وقت برقرار رکھنا جب لیزر کی توانائی اس میں ڈالی جا رہی ہو )۔ مگر اس بات کو فرض کرتے ہوئے کہ ہم نے ٢٠٠ ارب وولٹ فی میٹر حاصل کر لیا ہے ، اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ایسا اسراع گر جو پلانک کی توانائی کو حاصل کر سکے وہ صرف ١٠ نوری برس لمبے ہونا چاہئے ۔ یہ  تہذیب III کی ٹیکنالوجی کی  پہنچ کے اندر ہی ہے۔

    ثقف کرم اور کھینچی ہوئی خلاء ہمیں روشنی کی رفتار کی حد کو توڑنے کا سب سے حقیقی راستہ دکھاتے ہیں۔ لیکن  ہم یہ نہیں جانتے کہ آیا  یہ ٹیکنالوجی پائیدار بھی ہوں گی یا نہیں۔ بات صرف  پائیدار کی نہیں ہے  ان کو کام کرنے کے لئے  زبردست  مقدار میں توانائی چاہے مثبت ہو یا منفی درکار ہوگی۔


    ممکن ہے کہ  ایک جدید تہذیب III کی جماعت پہلے سے ہی  اس قسم کی ٹیکنالوجی کی حامل ہو۔  ہمیں تو ابھی صرف  ایک ہزار برس اس بات کے لئے چاہئے کہ ہم اس طرح کی توانائی کو قابو کرنے کا سوچیں۔ کیونکہ اب بھی ان بنیادی قوانین  میں اختلاف موجود ہے جو مکان و زمان کی ساخت پر کوانٹم کی سطح پر نافذ العمل ہوتے ہیں۔ لہٰذا میں  انھیں جماعت II کی ناممکنات میں درجہ بند کروں گا۔  
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ١١۔ سریع از نور Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top