Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, نومبر 19, 2016

    جوہانس گوٹنبرگ




    جوہانس گوٹنبرگ (1400ء-3 فروری 1468ء)

    دنیا کی تاریخ میں چھاپے خانے کو کم اہمیت دینا ممکن ہی نہیں ہے بڑی تعداد میں ۔ کتابوں کی چھپائی سے ان کی لاگت میں نہ صرف کمی آئی بلکہ ان کی زیادہ لوگوں تک پہنچ بھی ہوئی، جس سے علم اور خیالات کو پھیلنے میں مدد ملی۔ اس بااثر ٹیکنالوجی کا خالق ایک جرمن سنار تھا جس کا نام جوہانس گوٹنبرگ تھا۔

    جوہانس (یا جوہان) گوٹنبرگ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں انتہائی کم معلوم ہے۔ بہرحال یہ ضرور معلوم ہے کہ وہ مینز، جرمن میں لگ بھگ 1400ء میں پیدا ہوا، اور اس کا تعلق مراعات یافتہ حکمران اشرفیہ سے تھا۔ وہ پڑھنے کے لئے جامعہ گیا، جہاں ظاہر ہے کہ اس کا واسطہ کتابوں سے پڑا ہوگا، تاہم اس کی تربیت بطور سنار کے ہوئی تھی۔

    1420ء کے قریب، محصول ادا کرنے والے متوسط طبقے نے کئی خاندانوں کو مینز سے بے دخل کر دیا تھا۔ گوٹنبرگ ان میں شامل تھا اور اس نے اسٹراسبورگ کا سفر کیا، جہاں وہ کافی انوکھے مشاغل میں مصروف رہا۔ ان مشاغل یا کاموں میں سے ایک انتہائی اہم 'راز' تھا، یہ بات اس نے اپنے سرمایہ فراہم کرنے والے کو بتائی۔ اندازہ ہے کہ یہ راز چھاپے خانے کی پیش رفت کے بارے میں ہی تھا۔

    اس وقت، تقریباً تمام کتب سخت مشقت کے بعد لکھی جاتی تھیں۔ لہٰذا، کتابیں کافی نایاب اور حد درجہ مہنگی ہوتی تھیں، اور علم صرف مذہبی اور سیاسی رہنماؤں تک محدود تھا۔ چوبی کندے سے شائع شدہ چند کتب ہوتی تھیں - تاہم ہر ٹکڑا، ایک پورے صفحہ کی نمائندگی کرتا تھا، اور اس کو مکمل طور پر منقش کرنا پڑتا تھا۔ گوٹنبرگ کی اہم ایجاد 'منقولہ قسم' (موو ایبل ٹائپ) نے ہر چیز کو بدل دیا۔

    اوپر: سامنے کا حصہ سب سے قدیم چھپی ہوئی کتاب کا حصہ ہے۔ 1907ء میں ایک راہب سے چین کے غار ڈن ہوانگ میں خریدی گئی، یہ نقل بدھا کے متن ہیرا سترا کی ہے جو 5 میٹر (16 فیٹ) طویل پلندے پر لکھی گئی تھی۔ اس کی اشاعت 868ء میں چوبی کنندہ کے ذریعہ کی گئی تھی۔

    منقولہ قسم

    منقولہ قسم طباعت کا ایک نظام ہے جس میں صفحے کے متن کو ایک فریم میں قطار میں انفرادی ابھرے ہوئے حروف کو ڈال کر مرتب کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جوڑ کر حروف کاغذ پر دبائے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ کوریا اور چین میں 11 ویں صدی میں ایجاد ہوا تھا، تاہم اس نے توجہ حاصل نہیں کی، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ چینی اور کو ریائی زبانوں میں بڑی تعداد میں حروف ہوتے تھے۔

    گوٹنبرگ نے منقولہ قسم کو خود مختار طور پر ایجاد کیا، اور اس کا طریقہ کار سادہ اور مؤثر تھا۔ سب سے پہلے اس نے سخت اسٹیل کے کھانچے بنائے جس میں سے ہر ایک حروف کی شکل کا ابھرا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ، اس نے حروف کے کھانچوں سے بنے نقش تانبے پر منقش کئے۔ اس کے بعد، اس نے 'منفی' تانبے کے حصوں کو ایک اپنی ایجاد کردہ دستی سانچے میں لگایا، اور اس میں پگھلی ہوئی دھات انڈیلی، تاکہ مطلوبہ درکار تعداد کے حروف بنائے جا سکیں۔ گوٹنبرگ کی دھات سیسے، قلعی اور سرمے کی ایک بھرت تھی، جس کا نقطہ پگھلاؤ کم تھا اور یہ سانچے کے اندر تیزی سے ٹھوس ہو جاتی تھی۔ آج بھی جہاں پر 'بنیادی قسم' یا 'گرم دھات' کے طبع حرفی اشاعت ہوتی ہے، اس کی بھرت کا استعمال وہاں آج بھی کیا جاتا ہے۔

    1440ء میں وہ اسٹراسبورگ میں ہی رہتا تھا، اس وقت گوٹنبرگ نے اپنے چھاپے خانے کے ایک اور اہم ترین حصے کا تجربہ کیا۔ گوٹنبرگ کا چھاپہ خانہ شراب کشید کرنے والے پیچ کی چھپائی سے حاصل کیا گیا تھا۔ روشنائی زدہ حروف چینی متن ایک چپٹے تختے کی طرف کھانچے میں رکھے جاتے، جن کو کاغذ سے ڈھانکا جاتا، اس کے بعد ایک بھاری پتھر لڑکا دیا جاتا؛ جو پیچ کو موڑتا اور کاغذ کو اس پر دباتا تھا۔ عمل کو دہرانے سے ایک کے بعد ایک، ایک جیسی نقول ملتی ہیں۔ گوٹنبرگ نے تیل سے بنی روشنائی کو بھی وضع کیا، جو اس وقت مروجہ پانی سے بنی روشنائی سے زیادہ دیر پا تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ان تمام فنیات کو ایک ساتھ ملا کر وہ کوئی اہم چیز ایجاد کرنے جا رہا تھا۔

    1448ء تک، گوٹنبرگ واپس مینز آگیا۔ اس نے ایک امیر سرمایہ کار، جوہان فسٹ (1400ء-1466ء)، سے روپے ادھار لئے، تاکہ وہاں چھاپہ خانہ کھول سکے۔ یہ جانتے ہوئے کہ کلیسا کاروبار کا اہم ذریعہ ہوگا، گوٹنبرگ نے انجیل کی اشاعت کا فیصلہ کیا۔ گوٹنبرگ کی انجیل کی طباعت کا کام 1452ء میں لاطینی قواعد کی کتب سمیت کافی دوسری کتب کی چھپائی کے بعد شروع کیا گیا۔ انجیل کی نسبتاً کم قیمت اور شاندار معیار کے ساتھ، گوٹنبرگ کی نئی ٹیکنالوجی نے کامیابی حاصل کر لی، جو بعد میں تیزی سے یورپ کے دوسرے حصوں تک پھیل گئی۔ 1500ء تک دسیوں لاکھوں کتب شائع ہو چکی تھیں۔ گوٹنبرگ نے پہلا ابلاغی انقلاب پربا کر دیا تھا۔

    اوپر: رنگین گوٹنبرگ کی ورک شاپ کا ایک منظر مصور کا تخیل (مصور نامعلوم)۔ گوٹنبرگ، داڑھی والا، پیش منظر میں دکھایا گیا ہے، جو طبع شدہ صفحے کی جانچ کر رہا ہے۔ ورک شاپ پر کسی بھی ایک وقت کم از کم 20 افراد کام کر رہے ہوتے تھے۔

    گوٹنبرگ کی بد قسمتی کہ جوہان فسٹ نے اپنا سرمایہ واپس مانگ لیا، اور گوٹنبرگ پر غبن کا الزام لگایا۔ فیصلے میں قاضی کے حکم کے مطابق گوٹنبرگ کو اپنے تمام آلات بطور ادائیگی دینے پڑے۔ اس کے بعد فسٹ ایک کامیاب ناشر بن گیا، اور گوٹنبرگ کو ایک چھوٹی سے طباعت کی دکان بیم برگ کے قریب کھولنا پڑی۔ بعد میں 1946ء میں گوٹنبرگ ایک چھوٹے سے قصبے منتقل ہو گیا، آخر کار اس کو اپنی ایجاد کی وجہ سے شناخت مل گئی اور سالانہ وظیفہ بھی ملنے لگا۔ تاہم اس کے تین برس بعد وہ نسبتاً غربت کی زندگی گزارتا ہوا وفات پا گیا۔



    گرداں چھاپہ خانہ (روٹری پرنٹنگ پریس)

    اگرچہ گوٹنبرگ کی دریافت نے تاریخ میں بہت ہی مختصر عرصے میں ڈرامائی تبدیلی رونما کردی تھی، چھپائی کرنا اب بھی مشکل طریقہ تھا۔ اس میں کئی لوگوں کی ضرورت ہوتی تھی اور ایک گھنٹہ میں صرف چند سو صفحات ہی چھاپے جا سکتے تھے۔ لوہے کے سانچے کے چھاپے خانے کی اشاعت کے بعد اور 19 ویں صدی میں بھاپ کے انجن کی قوت نے ایک گھنٹہ میں لگ بھگ ایک ہزار صفحات کی چھپائی کی شرح کردی تھی۔ اشاعت کی تاریخ میں ایک اور بڑی پیش رفت 1843ء میں ایک امریکی موجد رچرڈ مارچ ہو (1812ء-1886ء) میں گرداں چھاپے خانے کی ایجاد تھی۔

    'ہو' کی بھاپ سے چلنے والی ایجاد ایک دن میں دسیوں لاکھوں صفحات شائع کر سکتی تھی، اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ کاغذ کی پٹیاں ایک مسلسل چادر کی صورت میں ڈالی جاتی تھی۔' ہو' کا آلہ سنگی طباعت پر انحصار کرتا تھا، ایک ایسا عمل جس کو الوئے سینی فیلڈر (1771ء-1834ء) کے مصنف باوریاں نے ایجاد کیا تھا۔ سنگی طباعت میں، روشنائی کو ابھری قسم کے بجائے ایک ہموار سطح پر لگایا جاتا ہے، جو 'ہو' کے ڈھول نما چھاپے خانے کے لئے مثالی تھا۔ 


    جرمن ڈرامہ نگار الوئے سینی فیلڈر کی تصویر، سنگی طباعت کا موجد۔ اس کے اشاعت کے خاکوں کے طریقے کی صورت ایک چپٹی سطح ہوتی تھی؛ فنکار اس پر خصوصی دافع پانی روشنائی سے براہ راست خاکہ بنا سکتے تھے۔

    نیچے: ایک ٹائپ کیس جس میں آرائشی منقولہ قسم بھری ہوئی ہیں، گوٹنبرگ عجائب گھر میں موجود ہے۔ ایک ناشر ان انفرادی حروف کے ٹکڑوں کو ایک کھانچے میں ڈال سکتا ہے، تاکہ کسی بھی کتاب کے صفحہ کو چھاپہ جا سکے۔

    اوپر: گوٹنبرگ کی انجیل کا ایک انتہائی سجایا ہوا نمونہ۔ گوٹنبرگ نے اپنی انجیل کی 180 نقول طبع کیں۔ ان میں سے کچھ چمڑے پر تھیں، دوسری کاغذ پر، کچھ (دستی) سجی ہوئی تھیں، جبکہ دیگر سادہ چھوڑ دی گئیں تھیں۔ کتاب نے اس وقت سنسی مچا دی تھی جب ان کی پہلی مرتبہ 1454ء میں فرینکفرٹ میں چلنے والی تجارتی میلے میں ان کی نمائش کی گئی۔ 



    کم قیمت انجیل، اور ان کے معیار نے گوٹنبرگ کی نئی ٹیکنالوجی کی کامیابی کی ضمانت دی۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: جوہانس گوٹنبرگ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top