Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ، 25 جنوری، 2020

    آسٹریلیائی معدومیت اور انسان


    ملزم ہومو سیپیئن حاضر ہو 

    بعض اہل علم ہماری انواع کو  آسٹریلیائی معدومیت سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، اور الزام غیر یقینی آب و ہوا (ماحولیاتی تبدیلی) کو دیتے ہیں (اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ کی طرح قربانی کا بکرا ماحولیاتی تبدیلی کو بنایا جاتا ہے)۔ پھر بھی یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ہومو سیپیئن مکمل طور پر بے قصور ہیں۔ تین ثبوت ایسے ہیں جو کمزور ماحولیاتی تبدیلی کی عدم موجودگی کا ثبوت دیتے، اور ہمارے اجداد کو آسٹریلیائی عظیم حیوانیہ کی معدومیت کے لئے قصور وار بتاتے ہیں۔

    سب سے پہلے، اگرچہ یہ بات درست ہے کہ آسٹریلیا کی آب و ہوا  تقریباً 45,000  سال پہلے تبدیل ہو گئی تھی تاہم یہ  کوئی بہت قابل ذکر یا اچانک ہونے والی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ بات سمجھنا مشکل ہے کہ کس طرح سے نئے موسمی نمونے اس طرح کی عظیم پیمانے پر معدومیت کا سبب بن سکتے ہیں۔ آج یہ بات عام ہے کہ کسی بھی چیز اور ہر چیز کا نتیجہ آب و ہوا کی تبدیلی سے بیان کیا جائے، تاہم سچائی یہ ہے کہ زمین کی آب و ہوا کبھی بھی ساکت نہیں رہتی۔ یہ متواتر تبدیل ہوتی ہے۔ تاریخ میں ہونے والے ہر واقعے کے پس منظر میں کچھ ماحولیاتی تبدیلیاں تھیں۔

    خاص طور پر، ہمارے سیارے نے ٹھنڈے اور گرم متعدد ادوار کو دیکھا ہے۔ گزشتہ دس لاکھ برسوں میں ہر 100,000 برس کے بعد یہ چکر چلتا ہے۔آخری والا کچھ 75,000 تا 15,000 برس پہلے آیا ہے۔ برفانی دور کے لئے کوئی غیر معمولی طور پر تند نہیں، اس کے دو فراز تھے، پہلا لگ بھگ 70,000 برس پہلے اور دوسرا لگ بھگ 20,000 برس پہلے۔ مہیب تھیلی دار دو قاطع دنتہ آسٹریلیا میں 15لاکھ برس پہلے نمودار ہوتا ہے اور کامیابی کے ساتھ کم از کم دس برفانی ادوار جھیلتا ہے۔ اس نے لگ بھگ 70,000 پہلے برفانی دور کی پہلی انتہا کو جھیل لیا تھا۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ 45,000 برس پہلے غائب ہو گئے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ اگر مہیب تھیلی دار دو قاطع دنتہ غائب ہونے والا پہلا بڑا جانور تھا تو وہ فیوک ہو سکتا تھا۔ تاہم آسٹریلیا کے 90 فیصد عظیم حیوانیہ تھیلی دار دو قاطع دنتہ کے ساتھ ہی غائب ہو گئے۔ ثبوت واقعاتی ہے، لیکن یہ بات تصور کرنا مشکل ہے کہ سیپیئن، اتفاق سے، آسٹریلیا میں اسی درست نقطہ پر پہنچے جب تمام جانور اچانک مر گئے۔ 3
    دوسرے جب ماحولیاتی تبدیلیاں عظیم معدومیت کا سبب بنتی ہیں، تو سمندری مخلوق بھی ویسے ہی متاثر ہوتی ہے جیسا کہ خشکی پر رہنے والے۔ اس کے باوجود45,000  سال پہلے سمندری حیوانیہ کی اہم گمشدگی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو آسانی سے قصور وار قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ معدومیت کی لہر نے ارضی عظیم حیوانیہ کو آسٹریلیا سے تو مٹا دیا جبکہ قریبی سمندروں کو بخش دیا۔ 

    تیسرے اجتماعی معدومیت اصلی آسٹریلیائی قتل عام کی رشتہ دار ہے جو آنے والے ہزار برس میں بار بار وقوع پذیر ہوئی - جب بھی لوگ دنیا کے دوسرے حصّوں میں آباد ہوئے۔ ان تمام صورتحال میں سیپیئن کا جرم ناقابل تردید ہے۔ مثال کے طور پر، نیوزی لینڈ کے عظیم حیوانیہ - جس نے یہ فرضی 'آب و ہوائی تبدیلی' کو 45,000 برس پہلے بغیر کسی نقصان کے جھیلا ہے - نے جزیروں پر پہلے انسان کے قدم رکھنے کے فوراً بعد ہی تباہ کن جھونکا برداشت کیا ہے۔ مورس، نیوزی لینڈ کی پہلی ہومو سیپیئن آباد کار جزیروں پر آج سے لگ بھگ 800 سال قبل پہنچ گئے تھے۔ چند صدیوں کے اندر ہی مقامی عظیم حیوانیہ کی اکثریت بشمول تمام پرندوں کے 60 فیصد انواع کے معدوم ہو گئی۔

    اسی طرح کی قسمت بحر اوقیانوس کے جزیرے رنگل جزیرے (200 کلومیٹر شمال میں سائبیریا کے ساحل کے ) کی بڑی آبادی پر نازل ہوئی۔ میمتھ شمالی نصف کرہ پر لاکھوں برسوں سے پھل پھول رہے تھے، تاہم جب ہومو سیپیئن پھیلے - پہلے یوریشیا پر اور اس کے بعد شمالی امریکہ پر - تو میمتھ پیچھے ہٹے۔10,000  سال پہلے کوئی ایک واحد میمتھ دنیا میں نہیں پایا جاتا تھا، بجز کچھ دور دراز آرکٹک جزائر کے، نمایاں طور پر رنگل میں۔ رنگل کے میمتھ چند مزید ہزار برسوں تک پھلے پھولے اور پھر یکایک 4,000 ہزار برس پہلے غائب ہو گئے، بالکل اسی وقت جب پہلا انسان جزیرے پر پہنچا۔

    کیا آسٹریلیائی معدومیت کوئی الگ تھلگ واقعہ ہے، ہم انسانوں کو شک کا فائدہ دے دیتے۔ لیکن تاریخی ریکارڈ میں ہومو سیپیئن ایک ماحولیاتی سلسلہ وار قاتل کی طرح نظر آتا ہے۔

    آسٹریلیا کے تمام آباد کاروں کے پاس ان کے استعمال کرنے کے لئے پتھر کے دور کی ٹیکنالوجی تھی۔ وہ کس طرح ایک ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتے تھے ؟ تین وضاحتیں موجود ہیں جو بہت اچھی طرح سے باہم مربوط ہو جاتی ہیں۔

    بڑے جانوروں - آسٹریلیائی معدوم ہونے والے بنیادی متاثرین - آہستہ آہستہ نسل بڑھاتے تھے۔ حمل طویل  تھا ، فی حمل پیدا ہونے والے بچے چند تھے، اور حاملہ ہونے کے دوران کافی طویل عرصہ درکار ہوتا تھا۔ چنانچہ اگر انسان ہر چند ماہ بعد ایک تھیلی دار دو قاطع دنتہ کو بھی مار ڈالتا، تو یہ تھیلی دار دو قاطع دنتہ کے پیدائش کے مقابلے میں موت کی شرح کافی تھی۔ چند ہزار برس کے اندر آخری اکیلا تھیلی دار دو قاطع دنتہ گزر جاتا اور اس کے ساتھ پوری نوع۔ 4

    اگلی
    یہ سب سے تازہ ترین اشاعت ہے۔
    قدیم تر اشاعت
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: آسٹریلیائی معدومیت اور انسان Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top