منگل، 30 اگست، 2016

کائنات کے پانچ مرحلے - حصّہ دوم


مرحلہ سوم: انحطاطی دور
تیسرے مرحلے میں 15 اور 39 کے درمیان) کائنات میں موجود ستاروں کی توانائی بالآخر ختم ہو جائے گی۔ ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے جلنے کا ازلی لگنے والا عمل رک جائے گا اور اپنے پیچھے مردہ نیوکلیائی مادّے کے ٹکڑے بونے ستاروں، نیوٹران ستاروں اور بلیک ہول  کی شکل میں چھوڑ دیں گے۔ آسمان میں موجود ستارے دمکنا بند کر دیں گے اور کائنات بتدریج تاریکی میں ڈوبتی جائے گی۔

مرحلہ سوم میں  درجہ حرارت ڈرامائی طور پر گر جائے گا کیونکہ ستارے اپنا نیوکلیائی انجن کھو دیں گے۔ بفرض محال کہ زمین اس وقت تک باقی بچی رہ بھی گئی تو  اس کی سطح پر جو کچھ بھی ہوگا وہ برف کی چادر میں بدل چکا ہوگا اور ذہین مخلوق کو مجبور کر دے گا کہ وہ نئے گھر کی تلاش کرے۔

اگرچہ دیوہیکل ستارے کچھ دسیوں لاکھ برس تک زندہ رہتے ہیں جبکہ ہائیڈروجن جلانے والے ستارے جیسا کہ ہمارا سورج ہے کچھ ارب ہا برس تک زندہ رہ سکتا ہے، چھوٹے سرخ ستارے حقیقت میں کھرب ہا برس تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کا مدار کسی بونے ستارے میں بدلنے کے نظریئے کی  وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ زمین سے سب سے قریبی ستارہ پروکسیما قنطورس  ہے جو ایک سرخ بونا ستارہ ہے  جس کا فاصلہ زمین سے صرف 4.3 برس کا ہے۔ ہمارا قریبی پڑوسی سورج کی کمیت کا صرف 15 فیصد ہے اور سورج سے چار سو گنا کم مدھم ہے، لہٰذا اس کے گرد چکر لگاتے ہوئے کسی بھی سیارے کو اس کے انتہائی نزدیک ہونا ہوگا تاکہ اس کی مدھم شمسی توانائی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ زمین کو سورج کے گرد اپنے موجودہ مدار کی نسبت 20 گنا زیادہ قریب چکر لگانا ہوگا تاکہ اتنی ہی سورج کی روشنی کو حاصل کر سکے۔ تاہم ایک مرتبہ کوئی سیارہ کسی سرخ بونے ستارے کے گرد آگیا تو سیارے کے پاس اتنی توانائی ہوگی کہ وہ کھرب ہا برس تک اس پر گزارا کر سکتا ہے۔

آخر میں وہ ستارے جو اپنا نیوکلیائی ایندھن جلانا جاری رکھیں گے وہ سرخ بونے ہوں گے ۔ بہرصورت وقت کے ساتھ یہ بھی تاریک ہو جائیں گے۔ ایک ہزار کھرب برسوں میں باقی ماندہ سرخ بونے بھی ختم ہو جائیں گے۔

مرحلہ چہارم: بلیک ہول کا دور
 چوتھے مرحلے میں (40 سے 100 کے درمیان) توانائی کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی بچے گا وہ ہے  تبخیر ہوتے بلیک ہولز کی توانائی۔ جیسا کہ جیکب بیکنس ٹین  اور اسٹیفن ہاکنگ نے دکھایا کہ بلیک ہولز اصل میں تاریک نہیں ہیں؛ وہ اصل میں قلیل مقدار میں توانائی کا اخراج کرتے ہیں جس کو تبخیر کہتے ہیں۔ (عملی طور پر یہ بلیک ہول کی تبخیر اس قدر چھوٹی ہوتی ہے کہ تجرباتی طور پر اس کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم لمبے عرصے کے پیمانے پر تبخیر بلیک ہول کے حتمی مقدر کا فیصلہ کرے گی۔)

بلیک ہولز کے تبخیر ہونے کے مختلف حیاتی ادوار ہو سکتے ہیں۔ ایک چھوٹا بلیک ہول جس کا حجم ایک پروٹون کے جتنا ہو شاید 10 ارب واٹ توانائی کا اخراج  نظام شمسی کی عمر  تک کرتا رہے۔ سورج کے وزن کے جتنا بلیک ہول 1066 برس تک تبخیر کا عمل جاری رکھ سکتا ہے۔ ایک بلیک ہول جس کا وزن کسی کہکشانی جھرمٹ جتنا ہو وہ 10117 برس تک تبخیر کا عمل جاری رکھ سکتا ہے۔ بہرحال جب بلیک ہول اپنی زندگی کے اختتام کی جانب حرارت کا اخراج آہستہ آہستہ کرتے ہوئے بڑھے گا تو وہ اچانک پھٹ پڑے گا۔ یہ ممکن ہے کہ ذہین حیات ، جس طرح بے گھر افراد کی طرح  مرتی ہوئی آگ کے انگاروں کے پاس سکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں، اس طرح مدھم حرارت خارج کرتے ان تبخیر ہوتے بلیک ہولز کے گرد جمع ہو جائیں تاکہ ان سے کچھ حرارت کو حاصل کیا جا سکے تاوقتیکہ وہ مکمل تحلیل ہو جائیں۔


مرحلہ پنجم: تاریک دور
پانچویں مرحلے میں (101 سے آگے) ہم کائنات کے تاریک دور میں داخل ہو جائیں گے جب حرارت کے تمام منبع ختم ہو چکے ہوں گے۔ اس مرحلے پر کائنات حرارتی موت کی طرف آہستہ سے محو پرواز ہوگی کیونکہ درجہ حرارت مطلق صفر کے قریب پہنچ چکا ہوگا۔ اس مرحلے پر جوہر خود سے حرکت کرنا بند کر دیں گے۔ شاید پروٹون خود سے انحطاط پذیر ہو جائیں گے اور صرف فوٹون کا تیرتا ہوا سمندر اور مہین شوربہ کمزور تعاملی ذرّات  (نیوٹرینو، الیکٹران، اور ان کے ضد ذرّات یعنی پوزیٹرون )کو اپنے پیچھے چھوڑ دیں گے۔  کائنات شاید ایک نئی قسم کے جوہر پر مشتمل ہوگی جس کو پوسٹرونیم  کہیں گے۔ جو الیکٹران اور پوزیٹرون پر مشتمل ہوں گے جو ایک دوسرے کے گرد چکر لگا رہے ہوں گے۔

کچھ طبیعیات دان رائے دیتے ہیں کہ یہ  الیکٹران اور ضد الیکٹران کے "جوہر" شاید اس قابل ہوں کہ نئی قسم کی ذہین حیات کو اس تاریک دور میں جنم دے سکیں۔ بہرحال اس تصوّر کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مشکلات  بہت ہی مہیب ہیں۔ پوسٹر ونیم کا جوہر حجم میں عام جوہر جتنا ہی ہوگا۔ تاہم تاریک دور کا  پوسٹرونیم آج کی قابل مشاہدہ کائنات سے کروڑ ہا گنا زیادہ بڑا لگ بھگ 1012 میگا پار سیک پر پھیلا ہوگا ۔ لہٰذا اس تاریک دور میں جوہر بن سکتے ہیں تاہم ان کا حجم پوری کائنات جتنا ہوگا۔ کیونکہ کائنات تاریک دور میں زبردست فاصلے تک پھیل چکی ہوگی لہٰذا وہ آسانی کے ساتھ ان دیوہیکل  پوسٹرونیم کے جوہروں  کو سما لے گی۔ تاہم کیونکہ یہ پوسٹرونیم کے جوہر بہت بڑے ہوں گے ، لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان جوہروں پر اطلاق ہونے والی کیمیا کو عظیم الجثہ وقت کے پیمانے پر کام کرنا ہوگا جو اس سے بالکل ہی مختلف ہوگا جس کو ہم جانتے ہیں۔


جیسا کہ ماہر کونیات ٹونی روتھ مین لکھتے ہیں، " اور اس طرح بالآخر 10117 برس کے بعد کائنات  کچھ الیکٹران اور پوزیٹرون جو  بھاری بھرکم مدار میں بندھے ہوئے ہوں گے،  عام مادّے کے انحطاط کے بعد باقی بچے ہوئے نیوٹرینو اور فوٹون اور پوسٹرو نیم  اور بلیک ہولز کی تعدیم کے بعد بھٹکے ہوئے پروٹون  پر مشتمل ہوگی۔ منزل کی کتاب میں بھی ایسا ہی لکھا ہوا ہے۔"   

سوموار، 29 اگست، 2016

کائنات کے پانچ مرحلے - حصّہ اول



ڈبلیومیپ سیارچے سے حاصل ہونے والا حالیہ ڈیٹا عظیم انجماد کا اشارہ کر رہا ہے۔  کائنات کی حیات کی تاریخ کا تجزیہ کرنے کے لئے یونیورسٹی آف مشی گن کے سائنس دانوں فریڈ ایڈم اور گریگ لافلن  نے کوشش کی ہے کہ کائنات کی حیات کو پانچ مختلف  مراحل میں بانٹ دیں۔ کیونکہ ہم اصل میں فلکیاتی وقت کے پیمانے کی بات کر رہے ہیں لہٰذا ہم   لوگارتھمی وقت کا پیمانہ استعمال کریں گے۔ لہٰذا 1020 کا مطلب 20 ہوگا۔ (یہ وقت کا پیمانہ  اسراع پذیر کائنات کے اثرات کو جانے بغیر بنایا گیا تھا۔ تاہم کائنات کے مراحل عمومی طور پر یہی رہیں گے۔)

وہ سوال جو ہمارا پیچھا کرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا  ذہین نوع اپنی ذہانت کا استعمال باقی رہنے کے لئے، ان مختلف مراحل کے دوران جس میں قدرتی تباہی کے سلسلے یہاں تک کہ کائنات کی موت بھی شامل ہے،  کر سکتی ہے؟

مرحلہ اوّل : قدیمی دور
پہلے مرحلے میں (منفی 50 اور 5  یا 10-50 اور 105 کے درمیان ) کائنات ایک تیز رفتار پھیلاؤ  سے گزرتی ہوئی تیزی سے ٹھنڈی ہوئی۔ ٹھنڈے ہوتے ہوئے کافی قوّتیں جو پہلے "فوق قوّت " کی صورت میں متحد تھیں بتدریج الگ ہوتی گئیں اور ہماری شناسا چار قوّتوں میں بٹ گئیں۔ قوّت ثقل سب سے پہلے الگ ہوئی، اس کے بعد مضبوط نیوکلیائی قوّت، اور بالآخر کمزور نیوکلیائی قوّت۔ شروع میں کائنات گدلی تھی اور آسمان سفید تھا کیونکہ روشنی بنتے ہی جذب ہو گئی تھی۔ تاہم 380 ہزار  برس کے بعد کائنات اتنی ٹھنڈی ہو گئی کہ جوہر آپس میں ٹکرا کر شدید حرارت سے  الگ ہونے کے بجائے قائم رہ سکیں ۔  آسمان کالا ہو گیا۔ پس منظر کی اشعاع  اسی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔

اس دور میں، قدیمی ہائیڈروجن ہیلیئم میں گداخت ہو گئی اور یوں حالیہ دور میں استعمال ہونے والے نجمی ایندھن کی تخلیق ہوئی جو تمام کائنات  میں پھیلا ہوا ہے۔ کائنات کے ارتقا کے اس مرحلے پر ہماری معلوم حیات کا وجود ناممکن تھا۔ حرارت اس قدر شدید تھی کہ کوئی بھی ڈی این اے یا دوسرا  خود عمل انگیز منحنی سالمہ  دوسرے جوہروں کے ساتھ اٹکل پچو ہونے والے تصادموں میں پاش پاش ہو جاتے اور حیات کو ممکن بنانے والے کیمیائی عناصر کو بنا نہ پاتے۔

مرحلہ دوم: ستاروں بھرا دور
آج ہم مرحلے دوم (6 اور 14 کے درمیان یا 106 یا 1014 سیکنڈ کے درمیان رہ رہے ہیں)، جب ہائیڈروجن گیس کو دبا کر ستارے جل کر آسمان کو روشن کرنے لگے۔ اس دور میں ہم ہائیڈروجن سے لبریز ستاروں کو دیکھتے ہیں جو ارب ہا برس تک جلتے رہیں گے تاوقتیکہ اپنا ایندھن پھونک نہ ڈالیں۔ ہبل خلائی دوربین نے ستاروں کی تصاویر کو ان کے ارتقا کے تمام مراحل میں لیا ہے  جس میں طفلی ستارے گھومتی ہوئی گرد و غبار کی قرص  گھرے ہوئے ہیں  جو شاید سیاروں اور نظام ہائے شمسی کے پیش رو ہیں۔

اس مرحلے میں ڈی این اے  اور حیات کو بنانے کی صورتحال مثالی ہے۔ قابل مشاہدہ کائنات میں ستاروں کی زبردست تعداد کو دیکھتے ہوئے ماہرین فلکیات معلوم سائنس کے قوانین کی بنیاد پر دوسرے نظام ہائے سیارگان پر ذی شعور مخلوق  کے ابھرنے سے متعلق  معقول دلائل دیتے ہیں۔ تاہم کسی بھی ذی شعور حیات کی شکل کو کئی کونیاتی مسائل کو سامنا کرنا ہوگا ، کچھ تو اس کے خود ہی بنائے ہوئے ہوں گے جیسا کہ آلودگی، عالمگیر حرارت  اور نیوکلیائی ہتھیار۔ فرض کریں کہ ذہین مخلوق اپنے آپ کو تباہ نہیں کرتی تب اس کو  لازمی طور پر قدرتی تباہی کے سلسلے کا سامنا کرنا ہوگا  جس میں سے کوئی بھی اس کو تباہ کر دے گا۔

 دس ہزار ہا برس کے وقت کے پیمانے پر کوئی برفیلا دور ہو سکتا ہے ایسا جس نے شمالی امریکا کو  ایک میل گہری برف میں دفن کر دیا تھا ، یوں انسانی تہذیب کا پروان چڑھنا ناممکن ہوگا۔ دس ہزار برس سے پہلے انسانی زندگی بھیڑیوں کے غول کی طرح  خوراک کی تلاش میں چھوٹے اور الگ قبیلوں میں رہتے ہوں۔ سائنس یا علم کی کوئی جمع پونجی نہ ہو۔ کوئی لکھی ہوئی چیز نہ ہو۔ انسانیت کا بس ایک ہی مقصد ہو : زندہ رہنا۔ پھر کسی وجہ سے برفیلا دور ختم ہو گیا ہو جس کی وجہ کو ہم نہیں جانتے اور پھر انسان تیزی سے برف سے ستاروں پر کمند ڈالنے کے لئے تیار ہو گیا ہو۔ بہرحال یہ  بین ثلجین دور بھی ہمیشہ باقی رہنے کے لئے نہیں ہے۔ شاید ایک اور دس ہزار برس کے بعد ایک اور برفیلا دور پوری دنیا کو برف کی لپیٹ میں لے لے گا۔ ماہرین ارضیات کو یقین ہے کہ  زمین کے  محور کے گرد گھماؤ میں ہونے والی چھوٹی تبدیلیاں بالآخر برف کی چوٹیوں کو نیچے ارتفاع  پر بہنے کی اجازت دیتی ہیں جس سے زمین جما دینے والی برف سے ڈھک جاتی ہے۔ اس وقت ہم شاید زمین کے اندر اپنے آپ کو گرم رکھنے کے لئے چلے جائیں گے۔ کبھی زمین پوری برف سے ڈھکی ہوئی تھی۔ یہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔

ہزار ہا برس سے لے کر دس لاکھ برس کے پیمانے پر ہمیں لازمی طور پر سیارچوں اور شہابیوں کے حملوں کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ شہابیے یا سیارچے کے تصادم  نے ہی  6 کروڑ 50 لاکھ برس پہلے ڈائنوسارس کا خاتمہ کر دیا تھا۔ سائنس دانوں کو یقین ہے کہ خلائی ماورائے ارضی جسم نےمیکسیکو کے  جزیرہ نما  یوکاتان کو کھود ڈالا تھا جس سے 180 میل پر پھیلا ہوا شہابی گڑھا بنا اور اتنا گرد و غبار نکلا جس نے ماحول کو ڈھانک کر سورج کی روشنی کو اپنی اوٹ میں چھپا لیا تھا اور زمین پر اندھیرا کر دیا تھا یوں زمین پر جما دینے والے درجہ حرارت  نے نباتاتی حیات  اور اس وقت زمین پر حکمرانی کرنے والے ڈائنوسارس کو ختم کر دیا تھا۔ ایک برس کے عرصے سے بھی کم وقت میں ڈائنوسارس اور زمین پر زیادہ تر نوع ختم ہو گئیں تھیں۔

ماضی کے تصادموں کی شرح کو دیکھتے ہوئے ایک لاکھ میں سے ایک کے  اتفاقا وقوع ہونے کا امکان ہے کہ اگلے پچاس برسوں میں ایک سیارچے کا تصادم  پوری دنیا میں تباہی پھیلا سکتا ہے۔ دسیوں لاکھوں برس  میں ایسے کسی اتفاق کی شرح بڑھ کر شاید سو فیصد ہو سکتی ہے۔

(اندرونی نظام شمسی جہاں پر زمین واقع ہے، وہاں اندازاً  ایک ہزار سے پندرہ سو کے قریب سیارچے ایسے ہیں جو ایک کلومیٹر یا اس سے بڑے ہیں اور دس لاکھ کے قریب 50 میٹر یا اس سے بڑے سیارچے موجود ہیں۔ کیمبرج کی اسمتھ سونین فلکی طبیعیاتی رصدگاہ  میں کیا جانے والے مشاہدے میں پندرہ ہزار روزانہ کی شرح سے سیارچوں کا زمین سے ٹکرانا معلوم ہوا ہے۔ خوش قسمتی سے صرف بیالیس معلوم سیارچے ایسے ہیں جن کا زمین سے ٹکرانے کا محدود  امکان ہے۔ ماضی میں ان سیارچوں کے ٹکرانے سے متعلق کچھ غلط اشارے بھی ملے ہیں، سب سے مشہور سیارچہ 1997XF11 تھا جس کے بارے میں  ماہرین فلکیات نے غلطی سے تیس برس کے اندر  زمین سے ٹکرانے کا اندازہ لگا لیا تھا جس سے پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ تاہم ایک سیارچے 1950DA کا محتاط اندازہ لگانے کے بعد سائنس دانوں نے حساب لگایا کہ اس بات کا امکان اگرچہ صفر تو نہیں ہے تاہم کم ہے کہ یہ شاید زمین سے 16مارچ  2880ء  میں زمین سے ٹکڑا جائے۔ سانتا کروز میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں کی گئی کمپیوٹر  نقل نے بتایا کہ اگر یہ سیارچہ سمندروں سے ٹکرایا  تو یہ 400 فٹ بلند لہریں  پیدا کرے گا جو زیادہ تر ساحلی علاقوں کو تباہ کن سیلاب کی صورت میں نگل لے گا۔)

  ایک ارب برس کے پیمانے پر ہمیں اس بات کی فکر کرنی ہوگی کہ سورج زمین کو نگل جائے گا۔ سورج پہلے ہی اپنی عہد طفلی کے دور کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ گرم ہو گیا ہے۔ کمپیوٹر سے کی گئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تین ارب 50 کروڑ برس میں سورج آج کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ گرم ہوگا یعنی زمین بتدریج گرم ہوتی جائے گی۔ دن کے آسمان میں سورج بڑے سے بڑا ہوتا نظر آتا جائے گا تاوقتیکہ افق تا افق زیادہ تر آسمان کو ڈھانک لے ۔ کم عرصے کے درمیان  زندہ مخلوق بے بسی کی حالت میں سورج کی جلا دینے والی حرارت سے جائے پناہ تلاش کر رہی ہوں گی۔ شاید وہ مجبور ہو کر سمندر میں واپس چلی جائیں  اور یوں ارتقا کی تاریخ اس سیارے پر  پلٹ جائے ۔ بالآخر سمندر بھی ابل جائیں گے اور ہماری جانی پہچانی حیات  کا وجود قائم رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ 5 ارب برس بعد سورج کے قلب میں ہائیڈروجن ختم ہو جائے گی اور وہ سرخ دیو میں منقلب ہو جائے گا۔ کچھ سرخ ستارے تو اتنا دیوہیکل ہوتے ہیں کہ وہ  اگر ہمارے سورج کی جگہ ہوتے تو مریخ تک  ہر چیز نگل جاتے۔ تاہم ہمارا سورج ممکنہ طور پر صرف زمین کے مدار تک ہی پھیلے گا اور عطارد اور زہرہ کو نگلتا ہوا زمین کے پہاڑوں کو پگھلا دے گا۔ لہٰذا ہماری زمین کا مقدر  برف کے بجائے آگ کی موت ہوگا اور مرنے کے بعد ایک جلی ہوئی سوختہ لاش سورج کے گرد چکر لگانے کو باقی بچ جائے گی۔

کچھ طبیعیات دان کہتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ یہ واقعہ وقوع پذیر ہو اگر ہم کسی دیوہیکل خلائی کشتی میں زمین سے دوسرے سیارے کی طرف ہجرت نہ کر سکے تو  ہمیں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے زمین کو سورج کے گرد بڑے مدار میں اٹھا کر رکھ دینا چاہئے۔ " جب تک لوگ  سورج کے زیادہ روشن ہونے سے پہلے ذہین اور برق رفتار ہوں گے تو زمین زندہ رہے گی،" یہ ماہر فلکیات اور مصنف کین کراس ویل  کہتے ہیں۔

سائنس دانوں نے زمین کو اس کے سورج کے گرد دور حاضر کے مدار سے اٹھا کر کہیں اور رکھنے کے کئی طریقے پیش کئے ہیں۔ ایک سادہ طریقہ تو یہ ہے کہ احتیاط کے ساتھ سیارچوں کے سلسلے کو سیارچوں کی پٹی سے لاکر زمین کے قریب زور سے گزارا جائے۔ غلیل کا یہ اثر زمین کے مدار کو افزودہ کرکے اس کا فاصلہ سورج سے بڑھا دے گا۔ ہر مرتبہ زمین بتدریج حرکت کرے گی تاہم  سینکڑوں سیارچوں کو اس طرح سے استعمال کرنے کے لئے کافی وقت درکار ہوگا۔ "سورج کے سرخ دیو میں بدلنے سے پہلے کافی ارب برسوں کے دوران  ہماری نسل  کسی گزرتے تارے کو پھانس کر سورج کے گرد مدار میں ڈال سکتی ہے  اور پھر  اپنے شمس کے گرد مدار کو ترک کرکے خود کو  نئے ستارے کے مدار میں ڈال سکتی ہے ،" کراس ویل مزید اضافہ کرتے ہیں۔

ہمارے سورج کا مقدر زمین سے الگ ہوگا، یہ آگ کے بجائے برف میں منجمد ہو کر مرے گا۔ 70 کروڑ برس تک ہیلیئم  کو بطور سرخ دیو جلانے کے بعد بالآخر سورج اپنا زیادہ تر نیوکلیائی ایندھن پھونک چکا ہوگا اور قوّت ثقل اس کو ایک سفید بونے میں تبدیل کر چکی ہوگی جس کا حجم لگ بھگ زمین کے جتنا ہوگا۔ ہمارے سورج سپرنووا اور پھر بلیک ہول بننے کے لئے کافی چھوٹا ہے۔ جب ہمارا سورج سفید بونا بن جائے گا اور آخر میں ٹھنڈا ہو جائے گا اس کے بعد مدھم سرخ رنگ میں چمکتا رہے گا پھر بھورا ہوگا اور آخر میں کالا ہو جائے گا۔ یہ کونیاتی خلاء میں مردہ نیوکلیائی فضلے کی صورت میں گھومتا رہے گا۔ اپنے ارد گرد دیکھے جانے والے تمام جوہروں کا مستقبل بشمول ہمارے  اور ہمارے پیاروں کے اجسام کا مستقبل  ایک جلے ہوئے کالے بونے ستارے کے گرد گھومتے ہوئے ہوگا۔ کیونکہ یہ بونا ستارہ صرف سورج کی کمیت کا 0.55 ہوگا لہٰذا زمین پر جو بھی کچھ بچا ہوا ہوگا وہ آج سے مزید 70 فیصد دور مدار میں چلا جائے گا۔


اس پیمانے پر ہم دیکھتے ہیں کہ نباتات اور جمادات  کی بہار زمین پر صرف ایک ارب برس تک ہی قائم رہ سکتی ہے ( اور ہم اس سنہری دور کا نصف حصّہ طے کر چکے ہیں )۔ "اماں قدرت  نے اس طرح چیزوں کو نہیں بنایا کہ ہمیں خوش رکھے،" ماہر فلکیات ڈونلڈ براؤن لی کہتے ہیں۔ کائنات کی عمر سے موازنہ کرتے ہوئے  حیات کی بہار تو وقت میں بہت ہی مختصر عرصے کے لئے قائم ہے۔

اتوار، 28 اگست، 2016

عظیم چرمراہٹ







طبیعیات کا اطلاق کرتے ہوئے کائنات کے خاتمے کو بیان کرنے کی پہلی کوشش 1969ء میں ایک مقالہ میں سر مارٹن ریس نے بعنوان "کائنات کا ڈھنا : ایک معادیاتی تحقیق ۔" کے کی۔ اس وقت اومیگا کی قدر کچھ زیادہ صحیح معلوم نہیں تھی لہٰذا اس قدر کو دو فرض کرلیا تھا یعنی کائنات بالآخر پھیلنے سے رک جائے گی اور ایک عظیم انجماد کے بجائے عظیم چرمراہٹ میں ختم ہوگی۔

اس سے حساب لگایا کہ کائنات کا پھیلاؤ بالآخر اس وقت رک جائے گا جب کہکشائیں آج سے دگنے فاصلے پر ہوں گی اور جب قوت ثقل کائنات کے اصل پھیلاؤ پر غالب آ جائے گی۔ آسمان میں نظر آنے والی سرخ منتقلی نیلی منتقلی میں بدل جائے گی کیونکہ کہکشائیں ہماری جانب دوڑ لگانا شروع کر دیں گی۔

اس منظر نامے میں آج سے 50 ارب برس بعد قیامت سامان واقعات وقوع پذیر ہونے شروع ہوں گے جو کائنات کے حتمی موت کے ہرکارے ہوں گے۔ حتمی چرمراہٹ کے دس کروڑ برس پہلے کائنات میں موجود کہکشائیں بشمول ہماری ملکی وے کہکشاں کے ، ایک دوسرے سے ٹکرانا شروع ہو جائیں گی اور آخر میں ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں گی۔ حیرت انگیز طور پر ریس کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ انفرادی ستارے ایک دوسرے سے ٹکرانے سے پہلے ہی تحلیل ہو جائیں گے جس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی کائنات میں موجود دوسرے ستاروں کی تابکاری سکڑتی کائنات کے ساتھ توانائی حاصل کرنا شروع کرے گی؛ اس طرح سے ستارے دوسرے ستاروں کی جھلسا دینے والی نیلی منتقلی میں نہا جائیں گے۔ دوسرے پس منظر کی خرد امواج کا درجہ حرارت وسیع طور پر بڑھ جائے گا کیونکہ آسمان کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہوگا۔ ان دونوں کے اثر مل کر ایسا درجہ حرارت پیدا کریں گے جو ستاروں کی سطح کے درجہ حرارت سے بڑھ جائے گا، جس کی وجہ سے وہ حرارت کو خارج کرنے سے زیادہ تیزی سے حرارت جذب کرنا شروع کر دیں گے۔ بالفاظ دیگر ستارے غالباً الگ ہو کر ایک فوق گرم گیس کے بادل میں پھیل جائیں گے۔

اس قسم کی صورتحال میں ذی شعور حیات قریبی ستاروں اور کہکشاؤں سے آتی ہوئی کونیاتی حرارت کی وجہ سے لازمی طور پر ختم ہو جائے گی۔ فرار کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ جیسا کہ فری مین ڈائی سن نے لکھا " افسوس اس صورت میں یہی نتیجہ نکال سکتا ہوں کہ ہمارے پاس بھننے سے فرار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کوئی فرق نہیں پڑے گا ہم جتنا بھی زمین کی گہرائی میں جا کر اپنے آپ کو نیلی منتقلی کی پس منظر کی اشعاع سے بچانے کی کوشش کریں ، اس سے ہم اپنے بے بسی کے خاتمے کو صرف چند لاکھ برس تک ہی آگے بڑھا سکتے ہیں۔"

اگر کائنات عظیم چرمراہٹ کی طرف گامزن ہے تو اصل سوال یہ ہے کہ آیا کائنات منہدم ہو کر دوبارہ اٹھے گی جیسا کہ جھولتی ہوئی کائنات کے سلسلے میں ہوتا ہے۔ یہی چیز پال اینڈرسن کے ناول تاؤ زیرو میں لی گئی ہے۔ اگر کائنات نیوٹنی ہے تو یہ ممکن ہو سکتا ہے اگر کہکشائیں ایک دوسرے میں گھس گئیں تو شاید اطراف میں کافی حرکت ہوگی۔ اس صورت میں ستارے کسی ایک نقطہ پر مرکوز نہیں ہوں گے بلکہ شاید دبنے کی انتہا پر ایک دوسرے سے دور ہوں اور ایک دوسرے سے ٹکرائے بغیر دوبارہ سے نمودار ہو جائیں۔

کائنات بہرحال نیوٹنی نہیں ہے؛ یہ آئن سٹائن کی مساوات کی پابند ہے۔ راجر پنروز اور اسٹیفن ہاکنگ نے دکھایا کہ بہت ہی عمومی صورتحال میں ایک منہدم ہوتی ہوا کہکشاؤں کا مجموعہ لازمی طور پر دبتا ہوا وحدانیت میں بدل جائے گا۔ (اس کی وجہ یہ ہے کہ کہکشاؤں کے اطراف کی حرکت میں توانائی موجود ہوگی اور وہ قوّت ثقل سے تعامل کرے گی۔ پس آئن سٹائن کے نظریئے میں موجود ثقلی کھنچاؤ منہدم ہوتی کائنات کے سلسلے میں نیوٹنی نظریئے سے کہیں زیادہ ہے اور کائنات ایک نقطہ پر منہدم ہو جائے گی۔)

ہفتہ، 27 اگست، 2016

حیات کا مستقبل



زمین ہمارا سیاروی گھر ہے۔ ہم اس کو حیات کا پالنا کہتے ہیں۔ اس تصوّر کی جڑیں بہت گہری لیکن غلط ہیں۔ گھر ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں ہم رہتے ہیں ، بڑھتے ہیں اور اس جگہ کو چھوڑ دیتے ہیں ؛ ہم اس کی خریدو فروخت بھی کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی سیارہ حیات کے لئے گھر نہیں ہو سکتا۔ اس کے بجائے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ سیارہ اور اس پر موجود حیات دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ اس بحث کو میں اگر اس جگہ پر چھوڑ دوں گا تو قارئین مجھ پر الزام لگائیں گے کہ میں نے کوئی بہت ہی سطحی بات کی ہے بالکل ان سیاست دانوں کی طرح جو ایک بات کو مختلف پیرائے میں بیان کرکے عوام کا خون مزید ٹیکس لگا کر نچوڑتے ہیں۔ بہرصورت حیات ایک سیاروی مظہر ہے ، اگرچہ یہ ایسی کوئی عارضی چیز نہیں ہے جیسا کہ کوئی طوفان یا کوئی بے ربط چیز جیسا کہ ٹیکٹونک پلیٹ۔ اس کے باوجود ہمارے پاس فرد واحد موجود مثال یہ بتاتی ہے کہ یہ (دوسرے "حیات سے محروم" سیارے پر ) منتقل ہونے کی خاصیت کی حامل ہے۔ یا کم از کم ہم تو ایسا سمجھتے ہیں۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟جیسا کہ میں نے تمثیلی طور پر تین سیارے کے بارے میں تجویز کیا تھا۔ ہم پہلے ہی اس بات سے خبردار ہیں کہ کیمیائی عمل جس کو ہم حیات کے نام سے جانتے ہیں وہ اتنا طاقتور ہے کہ حیات کو زمین سے چاند کی طرح منتقل کر سکتا ہے۔ اس بات کی بھی کافی امید ہے کہ ہم نے جرثوموں کو اپنے خلائی جہاز میں بیٹھا کر مریخ کی سطح پر مستقل اتار دیا ہو – شاید اس سے بھی آگے چاہئے وہ ٹائٹن ہو جہاں پر ہم نے ہائے گنز بھیجا تھا یا پھر وائیجر جو اب پتا نہیں کہاں تک جا پہنچا ہے۔ لیکن اس قسم کی منتقلی خوردبینی حیات کی تخمک شاید ہمارے خلاء کو کھوجنے سے بہت پہلے ہی لمبے فاصلوں پر ہو گئی تھی۔ جب زمین پر اس کی تاریخ میں سیارچوں کی بارش ہوئی تھی تو اس میں آتا ہوا مادّہ اتنا ہی تھا جتنا خلاء میں جانے والا مادّہ تھا اور اس بات میں کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہئے کہ اس مادّے میں موجود کچھ حیات نے گرد میں پیوستہ رہ کر یا پھر سیارچوں کی صورت میں بین النجمی سفر بھی کر لیا ہوگا یہاں تک کہ وہ کسی نئے گھر یا دوسرے قابل رہائش سیارے پر پہنچ گئے ہوں ۔ اس طرح سے ہم سیارہ زمین کو گھر تصوّر کر سکتے ہیں یا پھر ایک ایسا پالنا جو روایتی طور پر حیات کو پالتا پوستا ہو۔ یہ قدیم نظریہ "عالمگیر انتشار " (Panspermia)کہلاتا ہے۔

عالمگیر انتشار جس کا مطلب ہے' ہر جگہ بیچ " ہے ایک قدیم خیال ہے جو یونانیوں میں سقراط کے دور تک جاتا ہے۔ سویڈنی کیمیا دان سونتے ارہینیس (Svante Arrhenius) نے اس خیال کو بیسویں صدی میں دوبارہ اٹھایا۔ ١٩٧٠ء کی دہائی میں اس کی موافقت میں مزید دلائل فریڈ هوئیل (Fred Hoyle)اور چندرا وکرم سنگھ (Chandra Wickramasinghe) نے دیئے، جس میں سیارچوں کو بطور تخمک پرداز(Spores) تسلیم کیا گیا تاکہ حیات کو اشعاع کی تابکاری سے بچایا جا سکے۔(ہوئیل اور وکرم سنگھ ابدی دائمی کائنات کے حامیوں میں سے تھے۔ جس میں کسی بھی تخمک نے ہماری کہکشاں میں کافی دفعہ سفر کرکے اس کو ستاروں میں اچھی طرح سے شامل کر دیا تھا۔)

اس قسم کی سوچ نے فرمی کے تناقض کو بہت ہی زیادہ قابل توجہ بنا دیا۔( ایک علاقائی مفروضہ بھی موجود ہے جو بین السیارہ حیات کی منتقلی جیسا کہ مریخ سے زمین کو بیان کرتا ہے۔ اس نظرئیے کا تصوّر کچھ اس طرح سے ہے : ایک بڑے سیارچے نے گیلے مریخ سے ٹکر کھا کر گرد کو خلاء اور کچھ سورج کے گرد خودمختار مداروں میں بھیج دیا تھا۔ ہرچند کہ ان تصادموں کی شکل کچھ ڈرامائی دھماکوں کی صورت میں تھی (جس میں چٹانیں پگھل کر فضا میں تحلیل ہو گئیں تھیں) اس کے باوجود کچھ چٹانوں کی باقیات مکمل طور پر حرارت کے اثر اور ٹوٹنے سے بچ گئی تھی۔ اگر مریخ زندہ تھا ، اور اس کی گہرائی میں چٹانوں کے اندر جرثومے زندہ تھے ، تو جرثوموں کی کئی بستیاں چٹانی پتھروں کے اندر باقی رہ گئی ہوں گی۔ 

کروڑوں برس گزرنے کے ساتھ چھوٹی چٹانوں کے مداروں میں سیاروں کے بدلتے ہوئے ثقلی کھنچاؤ کی وجہ سے کچھ بے کلی ہوئی۔ اکثر یہ مدار ڈرامائی طور پر بدلتے ہوئے بڑے سیاروں کے مداروں کو پار کرنے لگے۔ ان میں سے کچھ کا سفر بطور شہابیے پڑوسی سیاروں کی سطح پر جا کر ختم ہو گیا۔ زمین پر کئی مریخی شہابیے موجود ہیں ؛ ان کی شناخت آسانی کے ساتھ ان میں موجود معدنیات اور چھوٹے مریخی فضائی بلبلوں سے کی جا سکتی ہے۔ یہ مفروضہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اگر مریخ پر کبھی حیات موجود تھی تو وہ سیارہ زمین پر بھی پہنچ سکتی ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس سلسلے کی مخالفت میں دوسری جانب جانے کا امکان کم ہے کیونکہ باہری نظام شمسی سے آنے والا ٹریفک سورج کی جانب آتا ہے۔ جب مدار بدلتے ہیں تو اجسام سورج کی جانب آنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

کیا ایسا کبھی ہوا تھا اس سوال کا جواب صرف مشاہدہ ہی بیان کر سکتا ہے کیونکہ اس کا نظام خود کافی قرین قیاس ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کچھ ایسے جرثومے ہیں جو اس قدر ڈھیٹ ہوتے ہیں کہ خلاء میں سفر کرتے ہوئے اونچے اور نچلے دونوں قسم کے درجہ حرارت اور اشعاع ریزی میں سے بھی زندہ بچ جاتے ہیں۔ ایک شہابیے کو مریخ سے زمین تک آنے میں لگ بھگ دس سال سے زائد کا عرصہ لگتا ہے۔ ایسے بین النجم سفر ممکن تو ہیں لیکن ایسے سفر میں درکار عرصہ بہت لمبا ہوگا۔ اگر تخمک ارب ہا برس کے سفر میں زندہ بھی باقی رہ گیا ہو (فی الوقت کوئی بھی ایسا تخمک معلوم نہیں ہے )، تو سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا ہماری کہکشاں کی تاریخ میں اس طرح کے سفر کو مکمل کرنے کے لئے کافی وقت موجود ہے۔ جیسا کہ پچھلے باب میں بیان کیا گیا ہے کہ ہماری کائنات کافی نوخیز ہے ، حیات کے لئے درکار اجزاء اس سے بھی نوخیز تر ہیں۔ جب حیات کے ارتقا اور اس کی نمو کے لئے موجود کائنات میں وقت اتنا نہیں گزر ا ، تو ہماری اتنی بڑی کہکشاں میں موجود دور دراز ستاروں کے لئے درکار تخمک کے سفر کے لئے وقت کہاں سے آیا ہوگا۔ ہرچند کہ آج حیات عالمگیر انتشار کی وجہ سے نہیں پھیلی ہے ، لیکن یقینی طور پر مستقبل میں ایسا ہو سکتا ہے۔

عالمگیر انتشار ایک لمبے عرصے پر وقوع پذیر ہونے والا مظہر ہے، لہٰذا حیات کا مستقبل کم از کم ہمارے سیارے پر تو کافی تاریک لگتا ہے ایک طرح سے ارتقاء اسی اصول پر انہی اوزاروں مثلاً ڈی این اے آراین اے کے ساتھ جاری رہے گا۔ لیکن میرے خیال میں ایسا کوئی بھی منظر نامہ سچائی سے کہیں زیادہ دور ہوگا۔ در حقیقت ہم اکیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں جی رہے ہیں ، یہ وہ صدی ہے جہاں زمین کی تاریخ نے ایک شاندار موڑ لیا ہے۔ چار ارب سال میں پہلی دفعہ نئی نوع اس عملی طریقے سے نہیں نمودار ہو رہی ہیں جس نے سیارے پر موجود حیات کی بوقلمونی کی تھی۔ اس کے بجائے ایک نوع دوسری نوع کی ترکیب سازی کر رہی ہے - حیات کی شکل منفرد ہے لیکن اس طرح سے نہیں کہ کوئی کتے کی نئی قسم پیدا ہو رہی ہے یا کوئی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بھٹے کا پودا کچھ مختلف آرائشوں سے اپنے جد امجد سے منفرد ہو گیا ہے۔ وہ اس لئے نیا ہے کہ اس کی حیاتی کیمیا منفرد ہے ، ایک حیات کی نئی قسم جس کی جگہ زمین پر موجود شجر حیات میں کہیں بھی نہیں بنتی ، ایک نئی حیات کی شکل ایک نئی حیاتی شجر کی جڑ میں بن رہی ہے۔

میں ایک نئے میدان کے آغاز کو بیان کرنے جا رہا ہوں - تالیفی حیات(Synthetic Biology)۔ زمین پر موجود تمام حیات میں ایک قابل ذکر شراکتی حیاتی کیمیا موجود ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ہم ای کولی (E۔ Coli)، پھل مکھی اور چوہوں کو اپنے نائبین کے طور پر اپنی حیاتیاتی تجربہ گاہ میں استعمال کرتے ہیں۔ خلوی نظام بھی کافی حد تک ایک جیسا ہی ہے۔ تالیفی لونیتی (Synthetic Genomics)] یا عام طور پر حیاتی انجینئرنگ کے طور پر جانے والے ]عمل کے ذریعہ سائنس دان اس وحدت کو استعمال کرتے ہوئے افعال اور اشکال میں بوقلمونی حاصل کر لیتے ہیں۔ ذرا پرانے افزائشی طریقوں کے بارے میں تصوّر کریں یا پھر حالیہ امید افزا مکمل جرثوموں کے لونیہ کی صورت گری سوچیں۔ تالیفی حیاتیات ، جس طرح سے میں اس میدان کا حوالہ یہاں پر دے رہا ہوں ، وہ تالیفی لونیت سے تصوری اور عملی دونوں اطوار پر کہیں زیادہ دور جائے گی۔ یہ صرف کسی لونیہ کی تبدیلی تک یا پھر کسی نئے لونیہ کو بنانے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ تو ایک تالیفی حیاتی نظام کو بنائے گی جو قدرتی طور پر پایا نہیں جاتا اور اس طریقہ استعمال سے یہ حیات کے عمل کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکے گی۔ یہ بنیادی حیاتیاتی کیمیا کو تبدیل کر دے گا اور اسی لئے حیات کی حاصل ہونے والی نئی شکل زمین پر موجود قدرتی شجر حیات سے تعلق نہیں رکھتی ہو گی۔

تالیفی حیاتیاتی تحقیق اپنی تعریف میں حیات سے زیادہ کیمیا سے قریب ہے، جبکہ جینیاتی انجینئرنگ کیمیا سے زیادہ حیات سے قریب ہے۔[یہی وجہ ہے کہ ٢٠٠٧ء میں پئیر لوگی لوسی(Pier Luigi Luisi) نے "کیمیائی تالیفی حیات "(Chemical Synthetic Biology) کی اصطلاح گڑھی]۔ میں اس کے ایک مرکزی حصّے کی تحقیق کا مقصد مصنوعی خلیہ اصغر کو دیکھتا ہوں جو ایک تھیلی میں ملفوف ایک مفروضی کیمیائی نظام ہو اور حیات کے اہم افعال سرانجام دے سکتا ہو ۔ اس کے یک خلیہ ہونے کی وجہ ایک تھیلی ہے ؛ یہ اصغر اس لئے ہے کہ اس کو چھوٹا کرکے صرف اس میں وہ چیزیں باقی رکھی گئی ہیں جو اپنے وجود کے خود کار دوام اور اس کے ارتقاء کے افعال کو سرانجام دے سکے ، یہ مصنوعی اس لئے ہے کہ ایسا کوئی بھی قدیمی نظام زمین پر پایا نہیں جاتا ، زمین پر سادے سے سادہ جرثومے بھی انتہائی پیچیدہ اور گنجلک خلیوں پر مشتمل ہیں اور ہر قابل تصور جگہ پر یہ پائے جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف لونیاتی انجنیئر اسی طرح کے اونچے درجے کے پیچیدہ اجسام کے ساتھ کام کرتا ہے جس میں نباتات اور جاندار دونوں شامل ہیں اور وہ ان کو تبدیل کرنے میں جتے رہتے ہیں تاکہ وہ ان طریقوں سے کام کر سکیں جو قدرت کی ودیعت کردہ صلاحیتوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہیں۔

تالیفی حیات ایک ایسی وعید لے کر آئی ہے جس میں ایک متبادل حیاتی کیمیا ممکن ہے جو خودمختار طور پر دوسرے سیاروں (یا زمین پر موجود حیات )سے الگ بنایا جا سکتا ہے۔ اس عمل کی غیر معمولی بات بجائے مادّے کی نئی اقسام یا نئی طاقتوں کو دریافت کئے جانے کے اس میں عام کیمیا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ متوقع دریافتیں قدرت کے نئے بنیادی اصولوں (یا قوانین )کو جاننے میں ہی پنہاں ہیں۔ یہ اس لئے بھی غیر معمولی ہیں کیونکہ یہ ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ہم حیات کے ماخذ سے متعلق اس طرح سوال اٹھا سکیں جو سائنس کو کسی زبردست دریافت کی جانب لے جائے : ابتدائی شرائط کا زمینی حیاتی کیمیا کی اشکال کو وحدت دینے میں کیا کردار رہا ہے ؟ کیا سیاروی ماحول کی بوقلمونی کو متبادل حیاتی کیمیا کی بوقلمونی پر نقش کیا جا سکتا ہے ؟

یہ عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ اس کتاب میں جگہ جگہ پروائے گئے ان تمام دھاگوں کو ایک ساتھ کھینچ کر ایک ایسی ترکیب میں بنے گا جو بمشکل اب جا کر ممکن ہوا ہے۔ تجربہ گاہ میں ہونے والے کام کے براہ راست مضمرات دور دراز سیاروں پر ہونے والی فلکیاتی حیات کی تلاش پر بالعکس پڑے ہیں: ان دور دراز پائی جانے والی چیزوں نے تجربہ گاہ میں ہونے والی متبادل حیاتی کیمیا کی تلاش کو بڑھاوا دیا ہے۔ اس بات کی کھوج کرنے کے لئے کہ ہم کائنات میں اکیلے نہیں ہیں ہمیں حیات کو سمجھنا ہوگا ، اور حیات کو سمجھنے کے لئے ہمیں یہ بات جاننی ہو گئی کہ اس کی کیمیا کو کیسے بنایا جائے۔

جب ہم ان مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ارضی حیاتی کیمیا کی وحدت ہمیں اہم اور مدد گار معلومات فراہم کرتی ہے۔ تمام کیمیا کے بارے میں - اس کے کروڑوں سالمات اور ان تعاملات کے بارے میں جو ان کے درمیان مختلف ماحول میں وقوع پذیر ہوتے ہیں – بڑے پیمانے پر سوچیں۔ ریاضی کی زبان میں بات کریں تو خلاء کی کافی جہتیں ہیں جو انسانی فہم و ادراک سے بالا تر ہیں ، لیکن اگر ہم کچھ معلوم چیزوں کو چن لیں اور کئی جہتوں کو صرف دو یا تین جہتوں تک کم کر لیں، تو ہم کچھ نمونوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اکثر و بیشتر پہاڑوں اور وادیوں کے جغرافیائی نقشے جیسے دکھائی دیں گے۔ سائنس دان اکثر ایسی خلاء کو "ارضی منظر"(Landscape) کہتے ہیں۔ کیمیائی ارضی منظر خاکہ نمبر 12.1میں دکھایا گیا ہے۔
[​IMG]12.1 by Zonnee, on Flickr

12.1یہاں پر پیش کیا جانے والا کیمیا میدان ایک تمثیل ہے جو تمام سالمات کی جگہ اور ان کے کیمیائی تعاملات کو مثال کے طور پر سالماتی تعاملیت کی صورت میں پیش کر رہی ہے ۔ خالی جگہ کے ارد گرد سالماتی ترتیب (جوہروں سے پائی گئی ) کے داخلی راستے مختلف ماحول میں گھرے ہوئے ہیں ۔ ہم ان کو "ابتدائی شرائط " کہتے ہیں ۔ ایسی ابتدائی حالت جیسی کہ زمین پر شروع میں تھی اکثر قدرتی طور پر نمودار ہو سکتی ہے؛ اکثر اس کو تجربہ گاہ میں بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ میدانی منظر میں دکھائی جانے والی سب سے اونچی چوٹی کرۂ ارض کی حیات کی حیاتیاتی کرہ کو بیان کرتی ہے ؛ابتدائی ارضی صورتحال سے ایک راستہ اس طرف جاتا ہے ۔ ہمیں نہیں معلوم اگر دوسری حیاتیاتی کیمیا اپنا وجود رکھتی ہیں نہ ہی ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ ان کی جانب یا زمین کی حیاتیاتی کیمیا (یا اس کے عکسی ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ استعمال کرنے کی نسبت رجحان کا ورژن : دوسری قریبی چوٹی ) کے استعمال کی جانب ایک سے زیادہ راستے جاتے ہیں۔ 

کیمیائی ارضی منظر کی سب سے غیر معمولی خاصیت اس کی اونچی چوٹی ہے - تنگ اور اچھی طرح سے بیان کردہ - جو تمام ارضی حیات کی حیاتی کیمیا کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ چوٹی اونچی اس لئے ہے کیونکہ آج حیات بہت زیادہ پر اثر کیمیائی نظام ہے ؛ ارتقاء نے اپنا جوبن گزرتے وقت کے ساتھ حاصل کیا ہے۔ دوسری طرح اس کی تنگ بنیاد یہ بتاتی ہے کہ حیات اپنی کیمیائی پسند میں کس طرح سے چناؤ کرتی ہے۔ وسیع کیمیائی ارضی منظر میں دستیاب کروڑوں میں سے یہ چن کر صرف بیس امینو ایسڈ ، صرف الٹے ہاتھ والے ، صرف چند پروٹین ، صرف آر این اے اور ڈی این اے اور اسی طرح دیگرے کا استعمال کرتی ہے۔ کیا ارضی منظر میں دوسری اونچی چوٹیاں بھی موجود ہیں؟ اگر ہیں تو ان میں سے کون سی ایسی ہیں جو حیاتی کیمیا ("دوسری حیات")کے متبادل کے طور پر استعمال ہو سکتی ہیں؟ کیا ان میں سے کچھ کی رسائی مناسب سیاروی ماحول تک ہو سکتی ہے ؟

ہم متبادل حیاتی کیمیا کے سوال کا جواب مثبت دے سکتے ہیں کیونکہ جڑواں چوٹیاں "عکسی حیات " کے مطابق ہوتی ہیں - حیاتیاتی سالمات کا وہی چناؤ لیکن متضاد تشاکل کے ساتھ [(ایک ہاتھ کو دُوسرے ہاتھ کی نِسبَت زیادہ اِستعمال کرنے کا رجحان ) خاکہ نمبر 12.1 ملاحظہ کیجئے ]ہوگا۔ اس بات کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ عکسی حیاتیاتی کیمیا تجربہ گاہ میں یا دوسرے سیارے پر مختلف برتاؤ کرے گی۔ اس دوران جب سائنس دان اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں آیا کیوں حیاتیاتی کیمیا کے مختلف آمیزے ناکام ہو جاتے ہیں ، سیدھے اور الٹے ہاتھ کا تشاکل ہو سکتا ہے کہ صرف اتفاق کی بات ہو۔ اس لحاظ سے بالعکس حیاتیاتی کیمیا غیر اہم ہے - اصل متبادل حیاتی کیمیا ممکن ہے یا نہیں اس بارے میں یہ کوئی براہ راست بصیرت فراہم نہیں کرتا ہے۔ بہرصورت اگر اس کو تجربہ گاہ میں بنایا جا سکتا ہے تو ایسا کوئی بھی حیاتیاتی کیمیائی نظام حیات کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کے لئے ایک طاقتور وسیلہ فراہم کرے گا۔ ایک طرح سے یہ کامیاب اجتماع اور اصغر خلیے کی پرورش کرے گا جو انگنت جہانوں کے دریچے وا کر دے گا۔ عکسی فعال نظام کم از کم ابتدائی شرائط(مثلاً مختلف سیاروی ماحول ) کی اہمیت کو جانچ لے گا ۔ 

عصر حاضر کے کیمیا دانوں کے پاس استعمال کے لئے وہ تجزیاتی آلات ہیں جس سے وہ غیر مانوس داخلی کیمیائی میدان کے علاقے کے ڈھیر کی تلاش کر سکیں۔ اسی طرح سے تاریخ میں پہلی بار ، فلکیات دانوں کے پاس وہ آلات موجود ہیں جس سے وہ زمین سے کہیں مختلف بلکہ نظام شمسی میں موجود دوسرے سیاروں کے ماحول سے بھی الگ دوسرے ماورائے شمس سیاروں پر موجود ماحول کو دیکھ سکتے ہیں ۔ امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی وہ کوئی زمین کے کاربونیٹ سلیکیٹ عالمگیر چکر جیسے دوسرے ماورائے شمس سیاروں پر جو دیگر ستاروں کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں، کوئی متبادل نظام ڈھونڈ لیں گے (ملاحظہ کیجئے باب دہم ) یہاں تک کہ وہ اب تک کے نامعلوم کیمیائی میدان کو گھیرے ہوئے ان علاقوں کی نقشہ سازی کر لیں گے جہاں پر ابتدائی شرائط موجود تھیں۔ اجتماعی طور پر کام کرتے ہوئے ، کیمیا دانوں کے پاس وہ معلومات موجود ہیں جو انھیں سیاروی ماہرین فلکیات نے مہیا کی ہیں ۔ ان معلومات کے بل بوتے پر کیمیا دان بلند چوٹیوں(متبادل حیاتی کیمیا ) کے اندرون کی تلاش کر سکتے ہیں ۔ کیا کوئی بھی فوق ارضی سیارہ جہاں سلفر ((SO2 کے چکر کا غلبہ ہو ان کو ایک نئے سلفر کے حیرت انگیز حیاتی کیمیا کی دنیا میں لے جا سکتا ہے ؟ یا وہ کوئی متبادل راستہ ہماری اپنی ارضی حیاتی کیمیا کا حاصل کر سکتے ہیں ۔ جو بھی انھیں ملے گا وہ یقینی طور پر یادگار چیز ہوگی! شاید سب سے اہم چیز وہ یہ علم حاصل ہوگا کہ کس طرح سے دور دراز سیاروں پر موجود حیات کی شہادتوں کو ذہانت سے پرکھا جا سکتا ہے بجائے اس کے کہ ہم بھولے پن سے زمین کی حیاتی کرہ کی کاربنی حیات کی نقل کو تلاش کریں ۔

بنی نوع انسان کی تاریخ میں کافی اہم سنگ میل آئے ہیں۔ زیادہ تر کو ہم جانتے ہیں جبکہ کچھ کو اب بھی تلاش کرنا باقی ہے ۔ ایک بات تو یقینی ہے : تمام سنگ میل ہماری اور حیات کی تاریخ میں اہم ہیں۔ بہرصورت جس سنگ میل کی میں امید کر رہا ہوں - تالیفی حیات - اس کے خصائص مختلف ہیں اور یہ سیارہ زمین اور اس پر بسنے والی بنی نوع انسان کی خصوصی صورت سے کہیں زیادہ آگے کی چیز ہوگی ۔ کیونکہ یہ ان واقعات کی کڑی کے سلسلے میں اہم ہے جو کائنات میں عام مادّے کی تشکیل کے بعد ہونا شروع ہوئے ہیں ۔زمین پر حیات پیچیدہ کیمیا کی ایک اکلوتی مثال ہے جس کو حیاتیات کہتے ہیں ، جو امکان پذیری کا ثبوت ہے ۔ حیات کا وقوع پذیر ہونا ممکن ہے لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس کے وقوع پذیر ہونے کا امکان کتنا ہے ۔ ایک دفعہ تالیفی حیاتیات کی ضمن میں تحقیق مکمل کامیاب ہو جائے تو پھر وہ اس بات کو ثابت کر سکتی ہے کہ مادّے میں خود کو ترتیب دینے اور اکلوتی حیاتی کیمیا سے مختلف اقسام کو پیدا کرنے کی جبلّت یا تخلیقی صلاحیت موجود ہے ۔(جو بات ہم نہیں جانتے وہ اس وسعت کی افزونی ہے ۔)

آخری حصّہ تاریخ کا اہم موڑ ہوگا : ایک شجر حیات دوسرے شجروں کا بانی ہوگا (یا دوسرے شجروں کی جڑیں بنے گا )۔ یہ اہم موڑ اس لئے ہوگا کیونکہ یہ بوقلمونی کو افزوں کرنے کی ترکیب کہکشانی پیمانے پر لمبے عرصے (ارب ہا سال ) کے لئے ہو سکتی ہے اور کیونکہ یہ حیات کی نئی نسل کے وجود (حال یا مستقبل ) کی جانب اشارہ کرتی ہے ۔ ہم اپنی آسانی کی خاطر اس کو حیات کی نسل دوم کہے دیتے ہیں ۔ اس کو بیان کرنے کی خاصیت یہ ہے کہ اس شجر کی جڑیں حیاتیاتی کیمیا سے پہلے نہیں جڑی ہوئی ہیں بلکہ حیات کی نسل اوّل اس کا ماخذ ہے ۔ زمین پر حیات کی نسل اوّل ہے ، اور "نسل " کی اصطلاح بالکل ایسے ہی استعمال کی گئی ہے جیسے کہ انسانی سماج میں استعمال ہوتی ہے ۔ یہ ہم پلہ قبیلے پر دلالت کرتے ہوئے ایک مرحلے کو اپنے اجداد کے سلسلے میں بناتے ہوئے آگے بڑھاتا ہے ہرچند اس کے لئے اسی وقت پیدا ہونا ضروری نہیں ہے ۔نسل اوّل حیاتیاتی کیمیا کے مجموعہ پر مشتمل ہو سکتی ہے بشرطیکہ اس کا کوئی وجود ہو۔

ہم نہیں جانتے کہ ہماری اپنی حیاتیاتی کیمیا سے کتنی دوسری اقسام کی حیاتیاتی کیمیا (یا دوسرے حیات کے ماخذ ) بن سکتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ہم یہ بات دریافت کر لیں کہ حیاتیاتی کیمیا کا میدان محدود حیات کے ماخذ اور شاید حیاتیاتی سالمات اور حیاتیاتی کیمیا کے ایک جیسے خاندان بنانے کی اجازت دیتا ہو ۔ اگر ایسا ہوا تو افزود گی والا امکان جو تالیفی حیاتیات سے حاصل ہوگا وہ محدود سمجھا جائے گا لیکن تب بھی یہ ایک افزودہ عامل رہے گا ۔ اس بات کا مطلب ہوگا کہ کائنات کے دور دراز مستقبل میں عام مادّے کی تقسیم میں اس کا کردار بڑھے گا ۔ اس بات کے پیش نظر کہ سیارے کیسے ہو سکتے ہیں یا کیسے ہوں گے - جب کاربائیڈ سیارے زمین جیسے سیلیکٹ سیاروں کو تعداد میں پیچھے چھوڑ دیں گے اس وقت کیمیائی میدان میں حیاتیاتی کیمیا کے لئے کافی گنجائش اور وسعت ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ نسل دوم کہکشاں میں پہلے ہی سے موجود ہو ۔

میری سوچ کے مطابق تالیفی حیات کے تین سنگ میلوں میں سے ایک سنگ میل کی طرف ہمارا سفر جاری ہے ۔ وہ بظاہر ایک دوسرے سے الگ اور اتفاقی طور پر ایک ساتھ بھی وقوع پذیر ہو سکتے ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک انتہائی سرعت رفتار کی شرح سے پچھلی نصف صدی میں ہونے والی ہماری ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت کا حاصل ہو سکتی ہے ۔ دوسرے دو، کوپرنیکن انقلاب کی تکمیل اور عالمگیریت کا حیرت انگیز عمل ہو سکتے ہیں ، پورے سیارے پر موجود انسان نہ صرف ایک دوسرے سے حیاتیاتی طور پر جڑے ہوئے ہیں بلکہ عملی طور پر اور شعوری طور پر عام زندگی میں بھی وہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ہیں۔

عالمگیریت کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور یہاں اس پر بحث کرنا غیر اہم بات ہوگی ، لیکن اس کا براہ راست تعلق جو کوپرنیکن انقلاب کی تکمیل سے ہے (اول الذکر کی مدد سے بعد الذکر کو ممکن کیا جا سکتا ہے ) اس کا اثر زمین کی تمام حیاتیاتی کرہ پر مکمل طور پر مثبت نہیں پڑا ہے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ کوپرنیکن انقلاب کی تکمیل ہمیں یہ دکھا کر کہ زمین ان دوسرے سیاروں میں سے صرف ایک سیارہ ہے جو حیات کے لئے مسکن ثابت ہو سکتے ہیں، ہمیں اس بات کو سوچنے میں مددگار ثابت ہوگی کہ ہم کوئی خاص نہیں ہیں ۔کسریٰ نفسی ہمارے لئے بہتر ثابت ہوگی ۔ حیات کو بطور سیاروی مظہر دیکھنے کے جس کی بنیاد میں حیاتیاتی کیمیا خود سیارے سے گہرائی میں پیوستہ ہے ، ہمیں اس آگاہی دینے میں مدد کرے گی جس میں ہم اپنی زمین کے ساتھ ایک ایسی منفرد حیاتیاتی کیمیا کا خلاصہ ہیں جو آج سے چار ارب سال پہلے نمودار ہوئی تھی اور قطعی طور پر زمینی ہے ۔ ہم یہاں پر موجود ایک اچھی چیز کا حصّہ ہیں اور شاید اس کے بارے میں سیکھ رہے ہیں اور یہ بات ہمیں خراب کرنے کے بجائے شاید تحریک دے گی ۔

تالیفی حیات کا سورج ایک بہت ہی خوش نصیب وقت میں طلوع ہو رہا ہے : یہ ہمارے اس سوال کا جواب دے گا کہ آگے کیا ہے ؟ یہ کوپرنیکن انقلاب کی تکمیل کے بعد نمودار ہوگا ۔ یہ دنیا سے متعلق انسانی آگاہی کے سبق پر ختم ہوگا جہاں سے دنیا میں انسان کے مقام کا سبق شروع ہوگا ۔ 

اس صفحات پر میں نے بہت ہی رجائیت پسندانہ تصویر کا رخ دکھایا ہے جہاں حیات بہت ہی طاقتور ہے اور آسانی کے ساتھ کائنات میں نمودار ہو جاتی ہے جو ایسی جگہوں سے لبریز ہے جہاں یہ پروان چڑھ سکے ۔ ہم اصل میں نہیں جانتے کہ حیات آسانی کے ساتھ ظہور پذیر ہو سکتی ہے یا نہیں ۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ اس نے یہاں پر زمین پر ایسا کیا ہے ۔ صرف ایک مثال سے نتیجوں کو اخذ کرنا کافی نہیں ہوگا ۔

میں نے عالمگیر انتشار کی جانب بھی اشارہ کیا تھا جس میں چاہئے جان بوجھ کر یا اتفاقی طور پر ، بذریعہ پتھر ، شہابیے یا بین السیارہ کھوجیوں کے حیات کا منتشر ہونا بھی ممکن ہے ۔ یہی ایک وہ وجہ ہے جو یہ بیان کرتی ہے کہ حیات ایک عمل ہے ، ایک دفعہ یہ نمودار ہو گئی تو پھر لامحدود طور پر جاری رہ سکتی ہے ، یہ کبھی بھی اپنے ماحول کے ساتھ نجمی پیمانے پر یا بین النجم پیمانے پر میزان نہیں بنا پائے گی۔ اس بات کے ثبوتوں میں سے ایک ثبوت تو ہم ہی ہیں - ہم جانتے ہیں کہ ہم حیات کی شکل ہیں ، ہم اس قابل ہیں کہ اپنا اصلی سیارہ چھوڑ کر دوسرے جگہوں کو کھوجنے نکل سکیں ۔ اگر ہم مستقل طور پر بھی اپنا سیارہ نہ چھوڑیں ، تب بھی یہ حقیقت اپنی جگہ رہے گی کہ حیات ایک ایسا مظہر ہے جو کسی عام ستارے مثلاً سورج کے دور حیات میں رفعت حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہے۔

ایک اچھی بات بھی ہے ! اپنے سورج کو آج سے پانچ ارب سال بعد چشم تصوّر سے دیکھیں ۔ سورج ہمارا مورث ستارہ ، روشنی کا منبع ، زندہ چیزوں کو حرارت اور توانائی فراہم کرنے والا ، ہمارے سیارہ کو حیات کے لئے تبدیل کرنے والا اپنے بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہوگا اور اس کا بڑھاپے کا سفر بہت ہی تیز رفتار ہوگا اور زمین ؟ زمین کو تو جانا ہوگا ۔ زہرہ اور عطارد بھی نہیں بچیں گے - سورج کے غلاف میں ڈھکے یہ پگھل کر سرخ دیو کی بتدریج پھیلتی ہوئی گیسی کرہ کی شکل میں تحلیل ہو جائیں گے ہمارا سورج اب متقاعد(Emeritus) بن چکا ہوگا۔ سیارہ ارض اور اس کا نو ارب سال پرانا حیاتیاتی کرہ مستقل طور پر ختم ہو چکا ہوگا! خرد بینی حیات کے پاس فرار کا کوئی منصوبہ نہیں ہوگا۔

پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ پانچ ارب سال ایک ایسا عرصہ ہے جس میں ہم میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ۔ اس بات سے قطع نظر ، سورج کی موت ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ہم اچھی طرح سے پہلے ہی سے منصوبہ بنا سکتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ جبلّی طور پر بنی نوع انسان اس راستہ پر پہلے ہی گامزن ہو چکی ہو ۔زمین پر موجود حیات کی روح کو سمجھنا ہمیں کائنات میں دوسری جگہوں پر موجود حیات کے ماخذوں کو سمجھنے میں مدد دے گا ۔ اپنے اس علم کے ذریعہ ہم دوستانہ ٹھکانے تلاش کر سکیں گے ۔ اور ایک دن ہم وہاں لنگر انداز بھی ہو جائیں گے ۔ یہ انسانیت اور کرہ ارض پر موجود حیات کے لئے اپنے آپ کو آسمانی آفات اور سورج سے آزادی دلانے کا یوم آزادی کا دن ہوگا۔

ہم انسان اپنی مختصر تاریخ میں اس قسم کے کافی سفر کر چکے ہیں۔ یہاں پر صرف ایک مثال دی جا رہی ہے۔ لگ بھگ چار ہزار برس قبل جنوبی وسطی یورپ میں قبیلوں نے گھوڑوں کو پالنا شروع کیا اور گھوڑا گاڑی ایجاد کی ۔ اس کی مدد سے ان کے پورے کے پورے گاؤں ایک جگہ سے دور دراز – ہزار میل یا اس سے بھی زیادہ فاصلے پر منتقل ہو سکتے تھے ۔ کئی نسلوں کے بعد یورپی دشتوں میں قابل رہائش ماحول باقی نہیں رہا لہذا ایک دن انہوں نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور مشرق کی سمت رخت سفر باندھ لیا جہاں پر کم آبادی والی جگہوں نے ان کا استقبال کیا ۔ اگلی ایک صدی تک مزید یا شاید اس سے بھی زیادہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ کتنے عرصے تک یہ لوگ مشرق کی طرف چلتے رہے یہاں تک کہ وہ آسمان سے باتیں کرتے ہوئے وسطی ایشیاء کے پہاڑوں تک جا پہنچے ۔ مقامی قبیلوں کے ذریعہ انہوں نے زرخیز وادی کے بارے میں جانا جو پامیر اور تیان شان کی پہاڑیوں کے جنوب مشرق میں واقع تھی جہاں پہنچنا تو بڑا کٹھن تھا لیکن اس کو بغیر کسی پریشانی کے حاصل کیا جا سکتا تھا ۔ میدانی علاقے کے ان لوگوں کو اونچے پہاڑوں جس میں سے کچھ دس ہزار فٹ سے بھی بلند تھے سے گزرنے کا علم بھی تھا اور ان کے پاس فنی مہارت بھی تھی۔ یہ دوسری جانب ان لوگوں کے لئے بالکل ایسی ہی تھی جیسے وہ اس دنیا کے باہر کی جگہ ہو ۔ آج ایشیاء کے قلب میں موجود یہ خشکی سے محصور طارم طاس زیادہ تر نمکین ریتی صحرا - صحرائے تکلا مکان ہے ۔ لیکن ارضی ثبوت اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کم از کم دو ہزار برس سے پہلے طارم میں پانی اور نباتات کی کثرت تھی ۔ یورپ کے قبیلے نہ صرف زندہ بچے رہے بلکہ پھل پھول بھی گئے۔ دور حاضر میں آج ہم ان کے نفیس لباسوں ، خوبصورت دستکاریوں اور بھرپور ثقافت کی تعریف کرتے ہیں جو ہم نے حیرت انگیز مدفون کی صورت میں بے آب و گیا طارم کے صحرا میں پچھلی عشروں میں دریافت کی ہیں ۔

یہ تو صرف ایک کہانی ہے ۔کرہ ارض پر اس طرح کی نقل مکانی اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے ۔ آج سیارہ زمین کافی آباد اور عالمگیر ہو گیا ہے ۔ ہمارا سیارہ ایک خوبصورت جگہ ہے اور ہم اگلے آنے والے ہزار ہا برسوں میں یہاں پر خوشی خوشی زندگی گزر بسر کریں گے ۔ لیکن ہم یہ بات پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ ایک دن ہماری نوع کو ایک دفعہ پھر سے ویسا ہی سامنا کرنا پڑے گا جس کا سامنا طارم کے تارک وطن نے کافی برسوں پہلے کیا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے مستقبل کے رشتے داروں کے پاس وہ علم اور فنی مہارت ہوگی کہ یہ ایسے کسی سفر کو بخیر خوبی انجام دے سکیں؟

حرحرکیات کے تین قوانین



اگر تمام دنیا ایک سیج ہے جیسا کہ شیکسپیئر نے کہا تھا تب حتمی طور پر ایک ایکٹ سوم بھی ہوگا۔ ایکٹ اوّل میں ہمارے پاس بگ بینگ اور زمین پر ذی شعور حیات کا ظہور ہے۔ ایکٹ دوم میں شاید ہم ستاروں اور کہکشاؤں کی تلاش اپنا دوسرا مسکن حاصل کرنے کے لئے کریں گے۔ بالآخر ایکٹ سوم میں ہمیں کائنات کی موت ایک عظیم انجماد کی صورت میں ملے گی۔ 

بالآخر ہم دیکھتے ہیں کہ اسکرپٹ کو حرحرکیات کے قوانین کی پاسداری کرنی ہے۔ انیسویں صدی میں طبیعیات دانوں نے حر حرکیات کے تین قوانین کو بنایا جو حرارت کی طبیعیات سے متعلق تھے اس طرح سے انہوں نے کائنات کی موت کے بارے میں اندازے قائم کرنا شروع کر دیئے۔ 1854ء میں عظیم جرمن طبیعیات دان ہرمین وان ہیلم ہولٹز کو اس بات کا احساس ہوا کہ حر حرکیات کے قوانین کا اطلاق کل کائنات پر ہو سکتا ہے یعنی کہ ہمارے گرد موجود ہر چیز بشمول ستارے اور کہکشاؤں کو بالآخر ختم ہو جانا ہے۔

پہلا قانون کہتا ہے کہ مادّے اور توانائی کی کل مقدار قائم رہے گی۔ ہرچند کہ مادّہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں (آئن سٹائن کی مشہور زمانہ مساوات کے ذریعہ یعنی ای = ایم سی 2 ) تاہم مادّے اور توانائی کی کل مقدار کو بنایا یا تباہ نہیں کیا جا سکتا۔

دوسرا قانون سب سے زیادہ پراسرار اور بہت ہی عمیق اثر رکھتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ ناکارگی (تباہی یا انتشار) کی کائنات میں کل مقدار میں ہمیشہ اضافہ ہوگا۔ بالفاظ دیگر ہر چیز اپنی عمر پوری کرکے ختم ہو جائے گی۔ جنگلات میں آگ، مشینوں میں زنگ کا لگنا، سلطنتوں کا زوال، اور انسانی جسم پر بڑھاپے کا طاری ہونا تمام کے تمام کائنات میں ناکارگی میں اضافے کو بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی کاغذ کے ٹکڑے کو آگ لگانا بہت آسان ہے۔ اس سے کل انتشار میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم یہ ممکن نہیں ہے کہ دھوئیں کو واپس کاغذ کی شکل دی جا سکے۔ (ناکارگی کو میکانکی کام کے ذریعہ کم کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ریفریجریٹر میں ، تاہم یہ کام کم پیمانے پر آس پاس ہی کیا جا سکتا ہے؛ پورے نظام کی ناکارگی -بشمول ریفریجریٹر اور ارد گرد کے ماحول کی - ہمیشہ بڑھے گی۔)

آرتھر ایڈنگٹن نے ایک مرتبہ دوسرے قانون کے بارے میں کہا تھا: " قانون جو یہ کہتا ہے کہ ناکارگی ہمیشہ بڑھے گی - یعنی حر حرکیات کا دوسرا قانون - میرے خیال میں قدرت کے قوانین میں سب سے اہم ہے ۔۔۔۔۔ اگر آپ کا کوئی نظریہ حر حرکیات کے دوسرے قانون کے خلاف ہے تو میں آپ کو کوئی امید نہیں دلاؤں گا؛ اس کا مقدر ذلت کے اندھیروں کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔"

(ابتداء میں ایسا لگا کہ پیچیدہ حیات کی شکل نے دوسرے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ حیرت انگیز طور پر ایسا لگتا ہے کہ زمین کے ابتدائی انتشاری حالات میں سے ناقابل تصوّر پیچیدہ بوقلمونی والی حیات کا ظہور ہوا جس میں ذہانت اور شعور بھی تھا اس طرح سے انہوں نے ناکارگی کو کم کیا۔ کچھ لوگ اس معجزے کو کریم خالق کا کام بتاتے ہیں۔ تاہم یہ بات یاد رکھیں کہ حیات کا ظہور ارتقا کے قدرتی قوانین کے ہاتھوں ہوا ہے، اور کل ناکارگی اس وقت بھی بڑھتی ہے۔)

تیسرا قانون کہتا ہے کہ کوئی بھی ریفریجریٹر مطلق صفر تک نہیں پہنچ سکتا۔ کچھ بھی کر لیں آپ مطلق سفر سے تھوڑا اوپر ہی درجہ حرارت تک جا سکتے ہیں اس سے نیچے نہیں ، آپ کبھی بھی صفر حرکت کی حالت تک نہیں پہنچ سکتے۔ (اور اگر ہم کوانٹم کا نظریئے کا اطلاق کر دیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سالموں میں ہمیشہ تھوڑی توانائی کی مقدار باقی رہے گی، کیونکہ صفر توانائی کا مطلب ہوگا کہ ہم ہر سالمے کی صحیح جگہ اور صحیح سمتی رفتار معلوم کر سکتے ہیں جو اصول عدم یقین کی خلاف ورزی ہوگی۔)

اگر دوسرے قانون کا اطلاق پوری کائنات پر کیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ کائنات بالآخر ختم ہو جائے گی ۔ ستارے اپنا ایندھن پھونک دیں گے، کہکشائیں آسمان فلک کو روشن کرنا بند کر دیں گی اور کائنات ایک حیات کے بغیر مردہ بونے ستاروں، نیوٹران ستاروں اور بلیک ہولز کا مجموعہ رہ جائے گی۔ کائنات ابدی تاریکی میں گر جائے گی۔

کچھ ماہرین کونیات اس مقدر سے کنی کتراتے ہوئے "گرم موت" کا تصوّر پیش کرتے ہیں جس میں کائنات جھول رہی ہوتی ہے۔ ناکارگی مسلسل بڑھے گی کیونکہ کائنات پھیلے اور سکڑے گی۔ تاہم عظیم چرمراہٹ کے بعد یہ نہیں معلوم کہ کائنات میں ناکارگی کا کیا ہوگا۔ کچھ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ کائنات شاید اسی طرح اگلے چکر میں اپنے آپ کو دہرائے گی۔ سب سے زیادہ حقیقی منظرنامہ یہ ہے کہ ناکارگی اپنے آپ کو اگلے چکر میں بھی شامل رکھے گی یعنی کائنات کی حیات کا دور ہر چکر کے ساتھ بڑھتا چلا جائے گا۔ لیکن اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آپ سوال کو کس طرح سے دیکھ رہے ہیں ، جھولتی ہوئی کائنات کھلی اور بند کائنات کی طرح بالآخر تمام ذہین مخلوق کے خاتمے پر ہی منتج ہوگی۔

جمعہ، 26 اگست، 2016

کائنات نوخیز، حیات نوخیز تر ہے۔

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب یازدہم 


وقت کا سفر

کائنات نوخیز ، حیات نوخیز تر ہے۔


ہماری کہانی میں وقت کے سفر کو سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ حیات کو کائنات کے پس منظر میں سمجھا جا سکے۔

جہاں میں کام کرتا ہوں اس کی عمارت کے برابر میں ہارورڈ کالج رصد گاہ واقع ہے جو ١٨٣٩ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ یہ ہارورڈ صحن کے اوپر پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے۔ یہاں سے پہاڑی بمشکل نظر آتی ہے۔ اس کے چہار اطراف میں اونچے درخت اور عمارتیں موجود ہیں۔ بننے کے وقت سے لے کر اب تک کافی چیزیں ،آبادی ، ترقی، عمارتوں اور ارضی منظروں کی وجہ سے بدل چکیں ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود جو چیز نہیں بدلی ہے وہ پہاڑی کی قدیمی گرینائیٹ کی چٹانیں ہیں۔

خوش قسمتی سے ہمارے سیارے پر موجود ٹیکٹونک سرگرمی نے اصل میں ان چٹانوں کو جب سے یہ رصد گاہ میسا چوسٹس کی باقی چیزوں اور پورے شمالی امریکہ کے ساتھ بنی ہے، مغرب میں 3.2 میٹر تک (میرے کار کی لمبائی جتنا) دھکا دیا ہے۔ اس حرکت کے بارے میں عام طور پر ہم نہیں جانتے ہیں۔

براعظم اس شرح سے حرکت کرتے ہوئے مکمل طور پر بیس کروڑ سال میں از سر نو ترتیب پا سکتے ہیں۔ مزید براں ہم اس حرکت کی آزاد ذرائع سے حاصل ہونے والے ثبوتوں سے بھی تصدیق کر سکتے ہیں ۔ یہ ثبوت ہمیں دنیا میں موجود چٹانوں کی پرتوں کی جانچ سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ ہمہ وقت بدلتے سیارہ زمین کے ارضیاتی نقشے براعظموں کی از سرنو ترتیب کے چکر کے ساتھ بناتے ہیں۔

میں جب بظاہر اس غیر متغیر امر واقعہ کو دیکھتا ہوں مثال کے طور پر زمین کے پہاڑوں کی ارضیات کو - تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنے دماغ میں یہ بات ڈال سکوں کہ میں ایک ایسی مخلوق بن گیا ہوں جو ارب ہا برس سے زندہ رہ رہی ہے۔ ان کے دل کی ایک دھڑکن ہمارے ایک ہزار برس کے برابر ہے جبکہ ان کا ایک منٹ ہمارے اسی ہزار برس کے برابر ہوگا۔ میں زمین سے اوپر ارضی ساکن مدار میں محو گردش موسمی سیارچوں میں معلق ہوں۔ مجھے زمین کیسی دکھائی دے رہی ہے ؟ جب میں دیکھتا ہوں تو براعظم مکمل طور پر از سر نو ترتیب پائے ہوئے نظر آتے ہیں - بڑے چھوٹوں میں بٹ گئے ، اور ایک دوسرے سے بہہ کر دور جا رہے ہیں اور اس چکر میں ایک دوسرے سے شائستگی کے ساتھ ٹکرا کر ضم ہوتے ہوئے پہاڑوں کی صورت میں نمودار ہو رہے ہیں، تہ ہور ہے ہیں اور اس عمل میں کٹ پھٹ بھی رہے ہیں۔ میرے ان نئی آنکھوں کے سامنے نیا سیارہ اب ٹھوس اور غیر متغیر نہیں رہا بلکہ ایک بہتا ہوا اور متحرک بن گیا جس طرح سے چولہے پر کوئی برتن رکھ کر گرم کیا جاتا ہے۔

ایسا کوئی بھی منظر وقت کے سفر میں اتنا زیادہ دلفریب نہیں ہوگا۔ ایک پتنگا بن کر سوچیں جس کی حیات صرف ایک دن کی ہی ہے۔ ممکن ہے اس کی نظر میں ہری بھری چراگاہ اور سبز جنگل ابدی ہو۔ جب بات سیارہ ارض کے چکر کی آتی ہے تو ہم انسان اس پتنگے کی طرح پتیوں کو ہوا میں گرتا ہوا دیکھتے ہیں تاہم موسم کے گزرنے کا احساس نہیں کرتے۔ زمین پر حیات چار ارب سال پہلے سے موجود ہے اور ارضیاتی" موسموں "اور سیاروی تقلب کے تابع ہے۔

اگر ہم حیات کی تاریخ کے بارے میں اپنے وقت کے پیمانے کے بجائے حیات کے وقت کے پیمانے پر سوچیں تو اہم عوامل سامنے ابھر کر آئیں گے۔ مثال کے طور پر حیات زمین پر پچھلے چار ارب سال سے موجود اور نشو نما پا رہی ہے ۔ حیات کی اس عمر کا کائنات کی لگ بھگ ١٤ ارب سال کی عمر سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی اہم حقیقت ہے جس کو سائنس دان "غیر معمولی حقیقت "کہتے ہیں۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حیات کی نمو اور ارتقاء سیاروی، ستاروی یہاں تک کہ کہکشانی نظام کی تشکیل و ارتقاء کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کئی طریقوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ حیات کی ارتقاء کا عمل ایک "عام " کائناتی عمل ہو۔

دوسری طرف ہم یہ بات بنی نوع انسان کے لئے نہیں کہہ سکتے کیونکہ وقت کا پیمانہ دونوں کے لئے ایک جیسا نہیں ہے۔ سب سے قدیم انسانی باقیات صرف بیس لاکھ سال پہلے کی ہیں۔ انسان کو جس چیز نے مختلف بنایا ہے وہ ہے زبان اور ٹیکنالوجی جو دونوں حال ہی میں شاید صرف چالیس ہزار برس پہلے ہی نمودار ہوئی ہیں۔

انسان اور کائناتی وقت کے پیمانے پر موجود تفاوت بہت ہی زیادہ ہے۔ جبکہ حیات کی تاریخ اور انسانی تاریخ میں ایک اور ایک لاکھ کی نسبت ہے۔ اس نسبت کی بھی اپنی انتہائی اہمیت ہے۔ یہ دو باتوں کی جانب اشارہ کرتی ہے : (١) یا تو بہت ہی مختصر عمل (انسانی سماج کا ارتقاء ) بہت ہی طویل عمل کے دوران نمودار ہوا ہے ؛(٢)یا پھر ہم کچھ زیادہ ہی خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ ایک انتہائی مختصر عرصے کے عمل کی ابتداء میں موجود ہیں۔ موخّرالذکر کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس پیش بینی کی بہت ہی مختصر صلاحیت ہے۔

پیش خبری کی صلاحیت کا حامل ہونا سائنس کی دنیا میں انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر حالات میں اس کا مطلب رواں حالات کی ٹھوس سمجھ بوجھ ہے۔ کیونکہ ہم قانون ثقل کو سمجھ سکتے ہیں لہٰذا مستقبل میں چاند کے مدار میں اس کی جگہ کی پیش بینی کر سکتے ہیں اور اس کے بعد ہم خلائی جہاز کو بھیج کر اس کی سطح پر انتہائی درستگی کے ساتھ اتر سکتے ہیں۔ دوسری شرط وقت کا موازنہ واضح طور پر اپنی محدودیت کی وجہ سے ایک بدقسمت انتباہ ہوگا۔

دوسری طرف پہلی حالت کافی ترسا دینے والی ہے ! یہ ہمیں بتاتا ہے کہ سیاروی عمل (حیات بذات خود) حیات کی اشکال (انسان)کے ارتقاء کے لئے سیاروی وقت کے پیمانے پر لازمی ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ شاید حیات ایک کائناتی مظہر ہے جو سیاروں پر سیاروی وقت کے پیمانے پر ارتقاء پاتی ہے لیکن یہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتی ہے جو سیاروی پیمانے پر دوسرے سیاروں سے جداگانہ طور پر نمو پانا شروع کر دیتی ہے یعنی کہ یہ کسی مخصوص سیاروی وقت پر انحصار نہیں کرتی بلکہ اپنا ہی علیحدہ سیاروی وقت بنا لیتی ہے جس کے ساتھ ساتھ یہ ارتقاء پاتی ہے یا کم از کم اپنا ماحول بدل دیتی ہے۔ بہر کیف یہ عمل اس سطح پر پہنچنے کے لئے ایک طویل سفر کرتا ہے۔ دوسری حالت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ انسان جیسی حیات سیاروی وقت کے پیمانے کا حصّہ ہے اور بالآخر یہ اس عمل کے آخری حصّے میں نمودار ہوتا ہے تاہم یہ عمل لمبے عرصے تک قائم رہنے والی کائنات کی ساتھ چلتا نہیں ہے۔

کم از کم اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ عمل کائنات کے ساتھ چلنے کے قابل تو ہے - انسانوں نے یہ بات چاند کی سطح پر اتر کر تو ثابت کی۔ کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں موجود میرے ایک رفیق اس بات کو اکثر دہراتے ہیں کہ اگر قانون طبیعیات کسی عمل کی اجازت دیتا ہے تو کائنات میں وہ عمل کہیں پر وقوع پذیر ہو رہا ہوگا۔ تفنن برطرف ، لیکن ہمارے امکان اور معقولیت کو جانچنے میں ایک گہری سچائی موجود ہے۔ میرے مطابق صرف سیارے کے وجود کے موافق قابلیت کے بھروسے پہلے ہی آج سیارہ زمین پر ہمارا وجود اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ایسا کائنات میں کہیں اور بھی ( کسی اور وقت !) ہو سکتا ہے چاہے ہم اپنا وجود برقرار رکھ سکیں یا نہیں۔ اس موافقت پذیری کے وقوع پذیر ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ کیا ہماری کائنات میں حیات کے مستقبل کو دوام دینے کی صلاحیت ہے۔ کیا حیات کے ماخذ کا دور اپنے جوبن پر ہے یا اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے ؟ یا شاید اس کی ابھی شروعات ہی ہوئی ہے ؟

سائنس دان اس سوال کا جواب دینے کے لئے بالکل بے بس ہیں ، بہرکیف اب وہ تھوڑا بہت حیات کے مہربان ماحول کے ارتقاء کے بارے میں جانتے ہیں۔ حیات کو بطور سیاروی مظہر سمجھنے کا عمل سائنس دانوں کو مستقبل کے بارے میں نئی پیش گوئیاں کرنے کے قابل بناتا ہے۔ حیات سے متعلق وقت کے پیمانے کے مراتب کافی دلچسپ ہیں اور یہ امکانی حیات کے پیمانے کے ساتھ گندھے ہوئے ہیں۔ بڑا سالماتی پیمانہ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں اوسطاً 10-7 میٹر ہوتا ہے اور ایک ڈی این اے کا اپنی نقل بنانے کا کیمیائی عمل 10-3 سیکنڈ میں انجام پذیر ہو جاتا ہے۔ یہ جوہری پیمانے پر کافی سست رفتار ہے کیونکہ اس پیمانے پر ننھے حجم یعنی 10-7میٹر پر پھیلے ہوئے جوہر بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ بہرکیف یہ کسی بھی سیاروی عمل کے مقابلے میں بہت ہی برق رفتار عمل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حیات بطور ایک عمل (یا اعمال کا مجموعہ ) ایسا مظہر ہے جس کے پاس ڈھلنے ، جماعت میں رہنے یا صرف قائم رہنے کے لئے لمبے ارضیاتی پیمانے مثلاً عالمگیر درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ یا براعظموں کی از سرنو ترتیب ؛ کا وقت موجود ہے ۔ لیکن کیمیائی عمل تو کیمیائی عمل ہوتا ہے اور سیاروی ارضی کیمیائی عمل زیادہ تر درپردہ دسیوں ہزار کیمیائی عمل کا مجموعہ ہوتا ہے۔ لہٰذا تمام انفرادی ارضی کیمیائی عمل ایک جیسے (مختصر) وقت کے پیمانے پر بعینہ اس طرح جیسے انفرادی حیاتیاتی کیمیائی عمل نمودار ہوتے ہیں جو حیات کے عمل کو تشکیل دیتے ہیں۔ 

پھر کس طرح سے حیات کا عمل سیاروی ماحول کی تباہ کن کیمیا کے بل بوتے پر نمودار ہو گیا؟ اگر ان کو پورا کرنے کے لئے اتنا ہی وقت درکار ہوتا ہے تو عام کیمیا اس میں جیت جائے گی۔ حیات اور اس کی حیاتیاتی کیمیا کو غلبہ حاصل کرنے کے لئے اپنا وقت کا پیمانہ مختصر کرنا ہوگا۔ زمین پر حیات دو ترکیبوں کی مدد سے مسابقت حاصل کرتی ہے۔ ایک ترکیب میں تو اپنے اس عمل کو اسراع دینے کے لئے خصوصی سالمات (عمل انگیز خاص طور پر خامرے کہلانے والے سالمات)سے حاصل شدہ مدد ہے ؛ اور دوسری ترکیب ان کے کام کرنے کے انداز پر قابو رکھنا ہے۔ با الفاظ دیگر ، حیاتیاتی کیمیا ستھرے طریقے سے تعاملات کی ترتیب کا حکم دیتی ہے جو اس عمل (جیسا کہ توانائی کا ذخیرہ اور اس کا اخراج ، خول بنانا وغیرہ )کو بہت اچھی طرح اور تیز رفتاری سے سرانجام دیتا ہے۔ مزید براں ایک خاص سالمہ ان احکامات کے سلسلے پر نظر رکھتا ہے تاکہ ان احکام کو ہر مرتبہ دوبارہ ایجاد نہ کرنا پڑے۔ ہم ان سالمات کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں - ہم سب کے پاس یہ موجود ہوتے ہیں اور ان کو ہم ڈی این اے اور آراین اے کہتے ہیں۔

حیات پر موجود موروثی سالمات ، ڈی این اے اور آراین اے بہت ہی منفرد اور ارضی حیاتی کیمیا میں فراواں موجود ہیں۔ ان کی پیچیدگی ایک طویل ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ یہ بات انتہائی دلچسپی کی حامل ہے کہ سالمہ میں ایک رمزی سلسلے والی ساخت ہو سکتی ہے جو اس رمز کی نقل کرکے آگے موروثیت کی شکل میں منتقل بھی کر سکتی ہے۔ بعینہ ایسے ہی آراین اے بھی دلچسپی کا حامل ہے اور یہ بات کئی مرتبہ تجربہ گاہ میں ثابت ہو چکی ہے کہ یہ اپنے عمل انگیزی کی نقل کرنے کے قابل ہے۔ ان دونوں کی ان خصوصیات کے سبب حیاتی کیمیا کے وقت کا پیمانہ بہت ہی مختصر ہو جاتا ہے - تیز رفتار شرح جو سیاروی ماحول کے تباہ کن کیمیا کے سینے پر نمو پا سکتی ہے۔

کائنات میں طویل عرصے تک اپنی شناخت رکھ سکنے والے اجسام یا تو کافی بڑے( مثلاً کہکشائیں ) ہیں یا پھر کافی پائیدار (مثلاً ستارے اور سیارے ) ہیں۔ ہمارا سورج ایک ایسا ستارہ ہے جو اپنی 10 ارب سال کی عمر کے دوران انتہائی کفایت شعاری سے اپنا ایندھن خرچ کرے گا؛ درحقیقت یہ انتہائی پائیدار ستارہ ہے۔ لیکن حیات ان دو ترکیبوں کے طفیل ایک تیسری چیز پیش کرتی ہے۔ اپنے انفرادی ، مختصر دورانیے کی حیات اور مقامی جاندار اکائیوں کی بدولت، جو بدلتی فضا سے تیز کیمیا گیری کرتے ہوئے ماحول کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت کی لچک رکھتے ہیں ، حیات ثابت قدم اور دیرپا رہتی ہے۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ مقامی اور مختصر عرصے والی حیات لمبے عرصے زندہ رہنے والی حیات اور عالمگیر موجودات مثلاً پوری آبادی یا نوع سے متوازن رہتی ہے۔ یہ بڑی جماعتیں کافی لچک دار ہوتی ہے اور اپنے اراکین کو زندہ رہنے کے لئے مختلف چیزوں کی کوششوں کو جاری رکھنے کی اجازت دیتی ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی ایجاد ہے !ہم صرف یہ بات جانتے ہیں کہ اس کے وسیلے سے حیات ایک ایسا کائناتی مظہر ہو سکتی ہے جو ایک دفعہ نمودار ہو جائے تو پھر ایک غیر معین وقت تک جاری رہ سکتی ہے۔

انسانی حیات کا وقفہ نہایت مختصر ہے ، لیکن بطور نوع ہم ہمیشہ مستقبل بعید کے بارے میں سوچتے اور منصوبے بناتے ہیں۔ ماضی میں اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اپنی اس نسل کی فکر کرنا جو ہم سے زائد مدت تک سیارہ زمین کو اپنا مسکن بنائے رکھے، ہم مستقبل کے منصوبے بطور سماج بناتے ہیں۔ مکان و زمان کے افق سے بھی دور تک پرواز کرتے ہمارے مجرد خیالات کو سوچنے کی قابلیت ہی ہماری سب سے منفرد اور اہم خاصیت ہے۔ خرد بینی حیات کائنات کی جانب سے پھینکے جانے والے اکثر ہتھیاروں سے بچ کر اپنا وجود برقرار رکھنے کے قابل ہے لیکن جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ سورج ایک دن اس سیارے پر حیات کے خاتمے کا سبب بن جائے گا۔ اگر ماضی میں محدود سیاروی حیات میں کوئی چیز ثابت قدم رکھ سکی ہے تو وہ صرف ہماری سوچنے کی صلاحیت ہی ہے۔ 

حیات بطور سیاروی مظہر کے استدلال کے علاوہ دوسرے اہم مضمرات بھی ہیں۔ اکثر ہم کائنات میں اپنا مقام ایسا سمجھتے ہیں جیسا کہ ہم اپنی زندگی کا مشاہدہ اور اپنے رہنے والی جگہ کا سمجھتے ہیں۔ اسی لئے ہار ورڈ کالج رصدگاہ کے چٹانوں کے ٹکڑوں کو دائمی سمجھنا ہمارے لئے انتہائی آسان ہے ، ہم ایک ایسی دائمی اور جامد کائنات کا تصوّر کرتے ہیں جہاں ہم اور حیات پیدا ہوئے ہیں ، پروان چڑھے ہیں اور عمر کی منزلیں طے کی ہیں ؛ ہم تو صرف کئی نسلوں میں سے ایک ہیں، لیکن کائنات بذات خود ہمارے وہم و گمان سے بھی کافی زیادہ عمر کی ہے۔

یہ بہت ہی جھوٹی بات ہے! ہم جانتے ہیں کہ کائنات ایک محتاط اور اب تک کے بہترین لگائے ہوئے اندازوں کے مطابق لگ بھگ چودہ ارب برس پرانی ہے جبکہ زمین پر حیات صرف چار ارب سال پرانی ہے : حیات اور کائنات قریب قریب ہم عصر ہی ہیں۔ اس بات کو ہم اپنے سمجھنے کے لئے کچھ ایسے کہے دیتے ہیں ، اگر کائنات کی عمر ٥٥ برس کی ہے ، تو حیات کی عمر سولہ سال کی ہو گئی۔ مزید براں یہ کہ کائنات میں کچھ بھی مستقل یا دوامی نہیں ہے۔

یہ تمام باتیں گھما پھرا کر ہمیں پھر اسی سوال کی جانب لے جاتی ہیں ، ہمارا اس نوجوان دنیا میں کیا مقام ہے ؟ یہ ایک نہایت ہی عمیق سوال ہے، اور بہت سارے ایسے طریقے موجود ہیں جس میں یہ بات پوچھی جا سکتی ہے۔ ان میں سے ایک تو سادہ طور پر یہ سوال ہے کہ کیا ہم اکیلے ہیں ؟ میں اس سوال کا ایک ہی حصّہ زیر بحث کروں گا جو زیادہ تر کائنات کے متعلق ہماری حالیہ سمجھ بوجھ کے ارد گرد گھومے گا جس سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کائنات ابھی تو اپنے عہد شباب میں ہے اور یہ اب بھی تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی ہے۔

کئی وجوہات کی بنا پر اس سوال کا جواب مثبت ہو سکتا ہے۔ ان میں سے ایک بات تو یہ ممکن ہے کہ ہم (صرف انسان نہیں بلکہ حیات ) اکیلے ہی ہوں کیونکہ حیات ایک انتہائی عنقا چیز ہو سکتی ہے اور کائنات کی تیرہ ارب ستر کروڑ برس کی تاریخ میں صرف ہم نے ہی جنم لیا ہو۔ دوسری طرف ہم اس لئے بھی اکیلے ہو سکتے ہیں کہ ہم بعد میں اس جہاں میں آئے ہیں۔ ہمارے سورج اور زمین کے جنم سے پہلے نو ارب سال کا عرصہ گزر چکا تھا ، لہٰذا یہ امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے علم میں آئے بغیر حیات کائنات میں کسی جگہ پہلے ہی نمودار ہو کر اپنی عمر تمام کر چکی ہے۔ یا ہو سکتا ہے کہ ہم پہلے ہوں!

اس بحث کا اہم حصّہ خود ساختہ فرمی کا تناقض ہے ، اس کو ایک شہرہ آفاق طبیعیات دان اینریکو فرمی کے نام پر یہ سوال اٹھانے کی وجہ سے رکھا تھا "وہ کہاں ہیں ؟" اس سوال کے پیچھے یہ قیاس موجود ہے کہ اگر جدید تہذیبیں موجود ہیں تو فلکیات دانوں کو ان کا مشاہدہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ یقینی طور پر کسی بھی جدید تہذیب کو اس قدر قوّت کا حامل ہونا چاہئے کہ وہ کہکشاں کو اس حد تک بدل سکے کہ ہم اس کا مشاہدہ کر لیں۔ فرمی دلائل دیتا ہے کہ کائنات کی لمبی عمر اور انسانی ٹیکنالوجی کو مختصر وقت کے پیمانے پر ترقی حاصل کرنے کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے، ہماری کہکشاں میں موجو ہم سے عمر میں برتر د دوسری تہذیبیں اور حیات کے ماخذ غیر معمولی طور پر ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہوں گے۔ زیادہ ترقی یافتہ ہونے کی صورت میں ان کی توانائی کی ضرورت نجمی اور کہکشانی سطح کی ہو گی جس کا ہم صرف مشاہدہ کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتے۔ اگر ہم نے ابھی تک کسی چیز کا مشاہدہ نہیں کیا ہے تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ ہم اپنی کہکشاں میں اکیلے ہی ہیں اور ٹیکنالوجی کی حامل تہذیبیں بہت ہی نایاب ہوں گی۔( مجھے یہاں پر آرتھر کلارک کا وہ جملہ یاد آتا ہے : کسی بھی جدید تہذیب کی ٹیکنالوجی کو جادو سے علیحدہ کرنا مشکل ہوگا ،" یہ جملہ مجھے میرا اعتماد اس بات پر کم کر دیتا ہے ہمیں معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ہمیں کیا دیکھنا ہے ۔)

١٩٩٠ء میں ہار ورڈ کی طبیعیات کے شعبے کے پال ہوروویٹز(Paul Horowitz) نے ہرب یارک (Herb York)اور فل موریسن(Phil Morrison) کے فرمی کے مشہور سوال کے ماخذ کے یاد داشتی کام کو قلمبند کیا۔ لوس الاموس میں ١٩٥٠ء کی گرمیوں کا موسم تھا جب متعدد امریکی طبیعیات دان جمع ہوئے تھے، یہ مین ہٹن منصوبے کے چند برسوں بعد کی بات ہے جس میں ہائیڈروجن بم بنایا گیا تھا۔ فرمی کو طبیعیات دانوں سے کھانے کے دوران کے وقفے میں اپنے اس خطیبانہ سوال کا پوچھنا اور پھر اس کا جواب دینا نہایت پسند تھا۔ یارک کے یاد داشتی کام کو قلمبند کرنے کے مطابق کسی ایک ایسے ہی موقع پر اس نے اپنی میز کے گرد موجود بیٹھے لوگوں سے پوچھا ،" آپ لوگوں کو کبھی حیرت نہیں ہوئی کہ سب لوگ کہاں ہے ؟" فرمی نے کہکشاں میں موجود ستاروں اور ان میں موجود نظام ہائے سیارگان کی کثرت و فراوانی اور ان کی قدیمی عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے دلائل دیے ، اگر حیات کہیں اور پروان چڑھ گئی اور اس نے ٹیکنالوجی بھی حاصل کر لی تو وہ ہم سے کہیں زیادہ جدید ہوگی اور ایسی کسی تہذیب نے کہکشاں میں اپنی بستیاں قائم کر لی ہوں گی۔

١٩٧٠ء کی دہائی میں مائیکل ہارٹ نے ثابت کیا کہ فرمی کے نتائج شماریات کے حوالے سے نہایت ٹھوس تھے۔ بہرکیف شماریاتی دلائل صرف اس وقت ہی مضبوط ہوتے جب پیچیدہ حیات کا ظہور کائنات کی عمر سے کہیں زیادہ نوخیز ہوتا۔ اگر دونوں کی حیات ایک دوسرے کے مماثل ہوتی تو پھر یہ دلیل کام نہیں کرتی تھی۔

فرمی نے اپنا نقطۂ نظر ١٩٥٠ء جبکہ ہارٹ نے ١٩٧٠ء کے عشرے میں دیا تھا۔ ان دونوں ادوار میں ہمارے رفیق ماہرین فلکیات کا اس بات پر اجماع تھا کہ کائنات کی عمر ١٠ سے ١٥ ارب سال سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت کائنات کی عمر کا تخمینہ کچھ بیس سے پچیس ارب برس کا تھا جبکہ کچھ تو کائنات کو مستقل حالت کی دائمی کائنات مانتے تھے۔ جبکہ اس دور میں ارضیاتی وقت کا پیمانہ اچھی طرح سے چار ارب سال کا سمجھا جا چکا تھا۔

تب سے لے کر بیسویں صدی کے اختتام تک طبیعیاتی فلکیات میں بے نظیر انقلاب کی بدولت بہت سارے رازوں سے پردہ فاش ہو چکا تھا۔ پچھلے دس پندرہ بر سوں میں سائنس دانوں نے اس انقلاب کی بدولت جو رائے قائم کر لی تھی وہ فرمی کے تناقض اور کائنات میں حیات کے مستقبل کے بارے میں کافی مدد کر سکتا ہے۔ تاریخ کی کافی چیزیں بہت ہی سلیقے سے استوار کر لی گئی ہیں جن میں سے زیادہ تر کے براہ راست ثبوت بھی مل چکے ہیں۔ کہانی کچھ اس طرح ہے :

روشنی اپنی محدود رفتار کے باوجود ایک عظیم ٹائم مشین ہے ؛ فلکیات دان اپنی دوربینوں کا رخ دور دراز اجسام کی طرف کرکے ان کے ماضی میں جھانک سکتے ہیں۔ لہٰذا جب ہم فلک کے ماضی میں جھانکتے ہیں تو ہم تیرہ ارب ستر کروڑ سال پہلے کے وقت میں جھانک رہے ہوتے ہیں جب تمام قابل مشاہدہ کائنات گرم ہائیڈروجن اور ہیلیئم گیس کا ملغوبہ تھی جس میں کہیں کہیں لیتھیم بھی موجود تھی۔ رات کے آسمان میں موجود ہمارے شناسا اجسام - کہکشائیں ، ستارے ، سیارے کچھ بھی وجود نہیں رکھتے تھے۔ مزید براں دوسرے کیمیائی عناصر بھی موجود نہیں تھے۔

فلکیات دان اس دور کا براہ راست مشاہدہ اپنی حساس حرارت ناپنے والی دوربینوں کے ذریعہ کر سکتے ہیں جو انہیں کائناتی پس منظر کی شعاعوں یا عرف عام "سی بی ایم" کا مشاہدہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جب پہلے پہل فوق توانا ذرّات جوہروں کی صورت میں جڑ کر کائنات میں موجود تمام ہائیڈروجن کو بنا رہے تھے تو اس وقت روشنی کا جو اخراج ہوا سی بی ایم اس کی باقیات ہیں ۔ روشنی کو اس طرح سے خارج کرنے کے پورے عمل میں صرف بیس ہزار برس لگے۔ اس روشی کا زیادہ تر حصّہ جب سے ہمارے پھیلتی اور سرد ہوتی کائنات میں محو سفر ہے۔ دور حاضر میں یہ مہین ہو کر لمبی طول موجوں کی طرف تبدیل ہو گئی ہیں ۔ اس طرح سے جو بصری روشنی تھی وہ خرد اور ریڈیائی امواج میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ 

سی بی ایم نے بذریعہ حرارت ، حرارتی بدلاؤ اور تقطیب - ایک لطیف پیمانہ جو سی بی ایم امواج کے خم کو ناپتا ہے ، اطلاعات کا خزینہ اپنے اندر چھپا رکھا ہے۔ ان کی پیمائش حاصل کرنا ایک مشکل اور دقیق عمل ہے ۔ ماضی کے چند عشروں میں ہونے والی دونوں زمینی اور خلائی مثلاً کوبی، ڈبلیو میپ اور پلانک ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کی بدولت ان پر تحقیق کرنا ممکن ہو سکا ہے۔ اس سے حاصل کردہ براہ راست نتیجوں نے واضح طور پر یہ بات ثابت کی ہے کہ کائنات میں آج سے تیرہ ارب ستر کروڑ سال پہلے حیات کے آمیزے کے لئے تو کیا بلکہ سیاروں کے لئے بھی کسی بھی قسم کے اجزاء موجود نہیں تھے اگر کچھ موجود تھا تو وہ ہائیڈروجن اور ہیلیئم ہی تھی۔

کہانی کو آگے بڑھانے سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ ابتدائی کائنات میں ہونے والے کچھ مختلف واقعات کا تسلسل بیان کیا جائے۔ کائنات کی عمر کا تخمینہ تیرہ ارب چھتر کروڑ (دس کروڑ برس کی کمی بیشی کے ساتھ )لگایا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم قطعیت کے ساتھ یہ بیان نہیں کر سکتے کہ کائنات کی عمر تیرہ ارب ساٹھ کروڑ ہے یا تیرہ ارب اسی کروڑ ہے یا پھر ان دونوں کے درمیان کہیں پر ہے۔ اس کے باوجود کچھ واقعات کے وقت کو انتہائی درستگی کے ساتھ اضافی اصطلاح میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس طرح سے مختلف واقعات کے وقوع پذیر ہونے والے وقت کا حوالہ اس وقت سے آسانی کے ساتھ دیا جا سکتا ہے جب وقت کا آغاز ہوا تھا جس کو بگ بینگ کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر سی بی ایم بگ بینگ کے آغاز کے کچھ تین لاکھ اسی ہزار سال کے بعد خارج ہونا شروع ہوئیں۔ سی بی ایم کا وقت ایک پیمائش ہے اور اس سے پہلے کی چیزیں تبدیل نہیں ہوں گی چاہے کائنات کی عمر (یعنی کہ بگ بینگ کی شروعات ) تیرہ ارب ساٹھ کروڑ سال ہو، تیرہ ارب ستر کروڑ سال ہو یا تیرہ ارب اسی کروڑ سال ہو۔ متبادل طور پر اگر ہم بگ بینگ کی عمر تیرہ ارب ستر کروڑ فرض کر لیں تو یہ واقعہ (جو بعد میں سی بی ایم کی تخلیق کہلایا ) تیرہ ارب انہتر کروڑ ستانوے لاکھ برس پہلے رونما ہوا ہوگا۔

چلیں اب اپنے قصے کی طرف واپس چلتے ہیں۔ ہمیں اس واضح سوال کا جواب درکار ہے، تمام اجزائے ترکیبی - تمام کیمیائی عناصر جیسا کہ کاربن ، آکسیجن ، سلیکان اور لوہا کہاں سے آئے ؟ اس کا جواب سب کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ یہ عناصر ستاروں سے بعد میں بنے۔ یہ بات ہمیں کائنات میں ہونے والے دوسرے اہم واقعے کی طرف لے جاتی ہے یعنی کہ ستاروں کی تخلیق۔ یہ ایک ایسا واقع ہے جس کا ہم نے براہ راست مشاہدہ نہیں کیا ہے ، اگرچہ ہبل خلائی دوربین کی جانشین اس کام کو انجام دینے کے لئے بنائی جا رہی ہے۔ اس بات سے قطع نظر سائنس دانوں کے پاس بالواسطہ کافی سارے شواہد موجود ہیں جو اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ایسا آج سے تیرہ ارب دس کروڑ سال پہلے ہوا تھا۔

جب ہم بڑے منظر نامے کو دیکھتے ہیں تو ستارے بشمول اولین ستارے بہت ہی غیر معمولی اجسام نظر آتے ہیں۔ وہ عام مادے یا ابتدائی مادّے کے مرتکز، پائیدار اور طویل العمر اجسام ہیں۔ اس بات میں کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہے۔ عام مادّہ پوری کائنات میں (ارب ہا ارب کہکشاؤں کی صورت میں) بڑے اور چھوٹے لوتھڑوں میں بکھرا ہوا ہے۔ یہ کائنات میں ایسی حالت میں اس وقت تک رہتا ہے جب تک ان میں سے کچھ لوتھڑے اپنے وزن تلے بھینچ کر دب کر ستاروں کی شکل اختیار نہیں کر لیتے۔ ستارے کے اندر قوّت ثقل کے کھنچاؤ اور مادّے کے پھیلاؤ میں توازن اس درجہ حرارت اور کثافت پر حاصل ہوتا ہے جس میں ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے مرکزے ضم ہو کر نئے عناصر بناتے ہیں۔ جب کسی بھی جوہری مرکزے میں گداخت کا عمل ہوتا ہے تو اس کے دو اہم نتیجے نکلتے ہیں: بہت ساری توانائی کا اخراج ہوتا ہے ، بھاری مرکزہ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا سورج چمکتا ہے۔

ستارے گداخت کے شہزادے ہوتے ہیں۔ اس عمل کو یہ بہت ہی جانفشانی سے انجام دیتے ہیں ! سچ میں یہ کائنات کو روشن کرتے ہیں اور اس بے رنگ سادہ گیس سے بھری کائنات کو عناصر کی زرخیزی سے لبریز کر دیتے ہیں۔ یہ عمل انتہائی منظم ہوتا ہے : پہلے ہائیڈروجن ، ہیلیئم میں بدلتی ہے، جو ہائیڈروجن سے بھاری ہوتی ہے یہ سکڑ کر اور گرم ہو جاتی ہے۔ ہیلیئم اس وقت تک گرم ہوتی رہتی ہے جب تک گداخت کی سرحد کو پار نہیں کر جاتی اور اس وقت کم از کم داخلی طور پر ستارے کی زندگی میں ایک نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

ہائیڈروجن کی گداخت سے زیادہ تر تو ہیلیئم ہی بنتی ہے ( عمل گداخت ایک ایسا عمل ہے جس میں آلودگی سے پاک صاف ستھری توانائی انسانیت کے لئے حاصل کی جا سکتی ہے بشرطیکہ ہم اس کو کسی منضبط طریقے سے کرنا سیکھ لیں )، ہیلیئم کے گداختی عمل میں دوسرے بھاری عناصر حاصل ہوتے ہیں جن میں زیادہ اہم کاربن اور آکسیجن ہے۔ ستارے لوہے تک عناصر بنا سکتے ہیں۔ لوہے کو بنانے کے بعد وہ مزید کوئی عنصر گداختی عمل کے ذریعہ نہیں بنا سکتے کیونکہ ان میں اتنی توانائی نہیں ہوتی جو لوہے کے عنصر میں گداختی عمل شروع کر سکے۔ یہاں تک کہ ستارہ پھٹ پڑتا ہے۔ ایک ایسے سپرنووا میں مزید گداختی عمل شروع ہوتا ہے جو مزید دوسرے بھاری عناصر پیدا کرتا ہے اور دوسرے پابند الیکٹران کو آزاد کرا دیتا ہے جو بھاری جوہروں کے عناصر اور تمام ثمر آور کیمیا کو پکا دیتے ہیں۔

ماہرین فلکیات ستاروں کو کائنات کو ثمرآور عناصر سے بھرنے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ دس سے بیس برس پہلے ماضی میں بننے والی دوربینوں کے ذریعہ وہ بارہ ارب سال پہلے تک دیکھ سکتے ہیں۔ وہ کچھ بھاری عناصر جیسا کہ لوہے کو دیکھ سکتے ہیں ؛ وہ عناصر کو ثمرآور ہوتے ہوئے اور کس طرح سے ستارے انھیں بنا رہے ہیں دیکھ سکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے جو صورتحال بنتی ہوئی نظر آتی ہے اس میں ستاروں کی ایک نسل نوجوان کائنات کی ہائیڈروجن اور ہیلیئم کو ایک تسلسل کے ساتھ تمام بھاری عناصر میں تبدیل کر رہی ہے۔ 

ستارے کم کمیت کی گیس سے بنتے ہیں جس کو (اپنے وزن تلے خود سے ) دبتے ہوئے ٹھنڈا ہونا ہوتا ہے تاکہ ستارہ کثیف ہو سکے۔ ہائیڈروجن اور ہیلیئم دبتے ہوئے ٹھنڈے ہونے کی صلاحیت سے کافی زیادہ محروم ہوتی ہیں لہٰذا اولین ستارے لازمی طور پر ہمارے سورج سے سینکڑوں گنا زیادہ بڑے ہوں گے۔ اولین ستارے ضخیم اور کم عمر تھے جنہوں نے کچھ بھاری عناصر بنائے تھے جو اب نمو پذیر کہکشاؤں کے اندر بکھرے ہوئے ہیں یہی وہ ستارے ہیں جنہوں نے چھوٹے اور کم ضخیم ستاروں کی پیدائش کو ممکن بنایا۔ ہائیڈروجن اور ہیلیئم گیس پر ان بھاری عناصر کے چھڑکاؤ نے ان گیسوں کو بھی ٹھنڈا کرنے میں مدد کی تاکہ دوسری نسل کے ستارے ایک متنوع فیہ قسم کی گیس کے ڈھیر سے پیدا ہو سکیں۔ ہر نئی نسل کے ساتھ ، بتدریج چھوٹے ستارے پیدا ہو سکتے تھے اور ایسا ہی ہوا۔ آج ہماری کہکشاں میں سورج سے بھی چھوٹے ستارے موجود ہیں۔ اس کی ایک ذیلی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے ستارے زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنا ایندھن کفایت شعاری سے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم زیادہ اہم بات یہ ہے کہ چھوٹے ستاروں کا جنم نہایت تیزی سے بڑے پیمانے پر کائنات کے ارتقاء کے ساتھ ہوا ہے۔

چھوٹے ستارے موت سے ہمکنار ہوتے ہوئے بھاری عناصر کی جماعت کو کائنات میں بکھیر دیتے ہیں لہٰذا کائنات میں بھاری عناصر کی زرخیزی سست رفتاری کے ساتھ تاہم مسلسل رفتار سے جاری رہے گی۔ درحقیقت تیرہ ارب سال بعد صرف اصل کائناتی آمیزے کا صرف دو فیصد بھاری عناصر میں بدلا گیا ہے ؛ فلکیات دان اس عمل کو افزود گی کہنا پسند کرتے ہیں۔ افزود گی کا یہ عمل درحقیقت نہایت ہی سست ہے۔ 

کائنات کی مختصر تاریخ کچھ اس طرح سے ہے : تیرہ ارب سال پہلے صرف ہائیڈروجن اور ہیلیئم سے ستاروں کی ایک ایسی نسل پیدا ہوئی جس نے کافی تعداد میں آکسیجن، سلیکان اور کاربن اور وہ تمام دوسرے عناصر پیدا کیے جس کے ذریعہ زمین یا فوق ارضی سیارے بن سکتے تھے۔ حیات کی کہانی سے حاصل ہونے والے کم از کم دو نتیجے حاصل ہوئے ہیں۔

پہلا تو یہ کہ کائنات میں کہیں پر بھی موجود ان ستاروں کے بننے میں کافی وقت لگا جن کے ارد گرد نظام ہائے سیارگان موجود ہو۔ عام کہکشاؤں میں وہ مستحکم ماحول صرف نو ارب سال پہلے ہی وجود میں آیا جس میں کافی سارے سیارے ستارے کے گرد بن سکیں ۔ اگر آپ بڑے ارضی سیاروں کے بارے میں بات کریں جیسا کہ چٹانی فوق ارضی سیارے یا ارض تو ان کے بننے کا ماحول صرف ساتھ سے آٹھ ارب سال پہلے قیام پذیر ہوا ہے۔ ہم اس بات کا تصوّر کر سکتے ہیں کہ کائنات کی تاریخ میں حیات کو نمودار ہونے کے لئے ہمیں اس وقت تک کا تو انتظار کرنا ہی ہوگا۔

دوسرے افزود گی کا عمل آج تک جاری ہے اور ہم اس بات کا اندازہ کافی اچھی طرح سے لگا سکتے ہیں کہ ہماری کائنات کسی طرح سے طویل اور آنے والے لامحدود دور میں تبدیل ہو گی۔ مثال کے طور پر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ضخیم ستارے پچھلے پانچ ارب سال کے دوران بننا کم ہو گئے ہیں اس طرح سے مستقبل میں چھوٹے ستاروں کا غلبہ عناصر کو بنانے اور ان کو افزودہ کرنے میں بڑھ جائے گا۔ اس کا عام طور پر مطلب یہ ہوگا کہ آکسیجن کے مقابلے میں کاربن زیادہ بنے گی۔ دور حاضر میں ہماری کہکشاں میں اکثر جگہ آکسیجن کے جوہر کاربن کے جوہروں کی نسبت تین گنا زیادہ ہیں لیکن ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب آکسیجن اور کاربن کے جوہر برابر کی تعداد میں موجود ہوں گے۔ جب کبھی بھی ایسا وقت آئے گا تو چٹانی سیاروں کی معدنیات بدل جائے گی۔ کاربائیڈ سیلیکٹ پر غالب آ جائے گا اور اس کے نہایت ہی اہم مضمرات ایسے سیاروں پر موجود حیات کے ماخذوں پر ہوں گے جیسا کہ اس کتاب کے شروع میں بیان کیا گیا تھا کہ کاربنی سیارے نایابی سے فراوانی کی طرف ہو جائیں گے۔

وسیع تناظر میں اگرچہ حیات کا مستقبل بہت ہی شاندار دکھائی دے رہا ہے۔ تاوقتیکہ حیات بہت ہی نایاب مظہر ہو ، مستقبل میں اس کی موجودگی کافی نہ صرف کافی زیادہ ہونی چاہئے بلکہ اس کو بہت زیادہ متنوع فیہ بھی ہونا چاہئے۔ ممکن ہے کہ سیارے کائنات کا بہت ہی معمولی حصّہ ہوں کیونکہ وہ بہت ہی چھوٹے ہوتے ہیں اس کے باوجود یہ اس قدر وافر مقدار میں موجود ہیں کہ حیات کے موجود ہونے کی کافی زیادہ جگہیں دستیاب ہیں۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ہماری کائنات اس دور سے گزر رہی ہے جس میں ستارے بننے کا عمل اپنی جوبن پر ہے ( جس کو ستاروں بھرا دور بھی کہتے ہیں ) لیکن ایسا بھی لگتا ہے کہ ساتھ ساتھ سیاروں کی پیدائش بھی اپنے عروج پر ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ فرمی کا تناقض جو ماضی کے بارے میں ہے وہ کائنات میں موجود کسی دوسری جگہ حیات کے بارے میں سوال کو غلط طریقے سے پوچھتا ہے۔ یہ تناقض اس بات کو فرض کرتا ہے کہ دوسرے کو ہم سے پہلے نمودار اور پروان چڑھنے کے لئے کافی وقت مل چکا ہے۔ نئے حاصل ہوئے شواہد اس فرض کی ہوئی بات کی آسانی کے ساتھ تائید نہیں کرتے۔ بات جب خرد بینی حیات کے بجائے ٹیکنالوجی کی ہو گی تو ہم حالیہ دور میں زبردست رفتار سے حاصل ہوئی اپنی ٹیکنالوجی کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے پیش بینی کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر ترقی کی اس رفتار کو بنیاد بنا کر ہم اندازہ لگائیں تو فرمی کا تناقض شماریاتی طور پر نہایت مضبوط رہے گا۔ لیکن حیات کے لئے جو منطقی سلسلہ میں دیکھوں گا وہ یہ ہے : (١) پیچیدہ کیمیا حیات کے نمودار ہونے لے لئے لازمی ہے - کافی مقدار میں بھاری عناصر درکار ہوں گے ؛ (٢) مستحکم ماحول جو کیمیا کو مرتکز کر سکے وہ درکار ہو گی- ارضی سیارے (ارض ، فوق ارضی سیاروں) کی ضرورت ہو گی۔ ماضی میں یہ تمام شرائط ہماری کائنات نے کس دور میں پوری کی ہیں ؟

اس کا جواب ہے کہ سات سے نو ارب سال پہلے یہ شرائط پوری ہو چکی تھیں۔ میں اس نتیجے پر دو مختلف آزاد ذرائع سے پہنچا ہوں۔ پہلا راستہ یا ذریعہ تو وہ ہے جس پر ہم ستاروں اور دور دراز کہکشاؤں میں موجود گیس پر انحصار کرتے ہوئے قیاس کر رہے ہیں جس میں ہم ستاروں اور گیس میں موجود بھاری عناصر (جو حیات کے ظہور کے لئے ضروری ہیں )کی فراوانی کو ناپتے ہیں، اس طرح سے ہم ان کی بڑھوتری کو وقت کے ساتھ ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ جب ہم ان ستاروں کو دیکھنا شروع کر دیتے ہیں جو ارض یا فوق ارضی سیاروں کو بننے کے لئے درکار عناصر فراہم کر سکتے ہیں تو ہم ماضی میں دیکھے جانے والے اس وقت کی جانب اشارہ کر دیتے ہیں۔ مسئلہ صرف اس جگہ پر اٹکا ہوا ہے کہ ہم یہ بات کس طرح معلوم کریں کہ بڑے ارضی سیاروں کو بننے کے لئے کتنی مقدار میں بھاری عناصر درکار ہوتے ہیں۔ یہ سوال لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے۔ اگر ہمارے سیاروی تشکیل دینے والے کمپیوٹر نمونے درست ہیں تب کسی بھی ایک نظام شمسی کو ہمارے سورج کے مقابلے میں ہزار کے نسبت ایک جتنے بھاری عناصر درکار ہوں گے۔ ہماری کہکشاں اس حالت میں آج سے نو ارب سال پہلے پہنچ گئی تھی۔

جواب حاصل کرنے کا دوسرا ذریعہ یا راستہ سیدھا سیاروں کی جانب جاتا ہے۔ کیا ہم نے ستارے کے گرد چکر لگاتے سیاروں میں ہلکے عناصر کا تناسب گرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ یہ شہادت سیاروں کی کھوج کے ابتداء میں ہی حاصل ہو گئی تھی۔ یہ شہادت اس قدر واضح تھی کہ زیادہ تر ٹیمیں سیاروں کی کھوج کرتے وقت وہ ستارے چنتی تھیں جن میں بھاری عناصر کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔ اس رجحان پر کسی کو بھی حیرت نہیں ہوئی تھی کہ جتنی زیادہ دھاتیں ستارے میں موجود ہوں گی اتنے ہی زیادہ سیارے موجود ہوں گے لیکن اس رجحان کی طاقت بہت زیادہ حیران کن تھی۔ یہ رجحان تیزی سے سیاروں کو ڈھونڈتے ہوئے گر گیا یہاں تک کہ جو میں نے اوپر بھاری عناصر کی سورج کے مقابلے میں ہزار کی نسبت ایک بتائی تھی وہ کافی فیاضانہ محسوس ہوتی ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ سورج کے مقابلے میں بھاری عناصر کی نسبت سو کے مقابلے میں ایک کی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ وقت جب ماضی میں سیارے حیات کو پروان چڑھانے کے لئے سازگار ہوں گے کم ہو کر آٹھ سے سات ارب سال پہلے تک کا ہو گیا ہے۔

ایک بات میں یہاں پر واضح طور پر بتانا چاہوں گا کہ زیادہ دھاتیں زیادہ سیاروں کا رجحان فی الوقت مشتری اور زحل جیسے سیاروں کے لئے بالعموم یا پھر تپتے ہوئے مشتری کے لئے با الخصوص ہی دیکھا گیا ہے۔ میں نے فی الحال اس بات کو فرض کیا ہوا ہے کہ یہی رجحان ارضی سیاروں کے لئے بھی کارگر رہے گا لیکن کیپلر کا منصوبہ اس کو درست طور سے جانچنے کے لئے کام کر رہا ہے۔

آج فلکیات دان اس بات کو قطعیت کے ساتھ جان چکے ہیں کہ کائنات کے ستارے اور سیارے پیدا کرنے کی قابلیت میں تیرہ ارب سال سے کم کا عرصہ گزرا ہے لہٰذا نجمی سیاروی کائنات بہت زیادہ نوخیز ہے۔( کیونکہ ہم اپنی کہکشاں اور باقی ماندہ قابل مشاہدہ کائنات کو دیکھ سکتے ہیں، جس میں دو کھرب سے زیادہ کہکشائیں واضح طور پر اس سلسلے کو آگے بڑھانے کی قوّت رکھتی ہیں اگرچہ ہم ان کو آج ابد تک تو نہیں لیکن پھر بھی مزید ہزار ہا ارب سال تک ایسے ہی دیکھیں گے اس لئے میں کائنات کو بیان کرنے کے لئے نوخیز کا لفظ بالکل درست سمجھتا ہوں۔) والدین اور بیٹی کی تشبیہی تمثیل نہایت خوبی سے کائنات کو سیاروں اور زمینی حیات کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ زمین پر موجود حیات ہو سکتا ہے کہ خاندان میں موجود دوسرے بچوں میں سب سے بزرگ ہو۔

ابھی تک ہمارا دائرہ ذکر صرف خوردبینی حیات کے بارے میں تھا لیکن بڑے سوال کے بارے میں کیا خیال ہے : کیا ہم انسان اس کائنات میں اکیلے ہیں ؟ یہ اب تک کا پوچھا جانے والا سب سے مشکل سوال ہے۔ بہرکیف اگر سیارے اور حیات کائنات میں نوخیز تر ہیں تو شاید ہمیں اس کائنات میں آنے میں دیر نہیں ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اولین حیات میں سے ہی ہوں۔ شاید یہی چیز اس امر کو بیان کر سکے کہ ہم کسی بھی قسم کی دوسرے لوگوں کی موجودگی کی شہادت کو کیوں نہیں دیکھ پاتے ہیں۔ اس بات کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ کائنات میں دوسرا کوئی اور موجود نہیں ہے۔

ہر طرح سے فرمی کا تناقض ابھی تک حل نہیں ہو سکا ہے اس کے کئی حیرت انگیز ممکنہ حل موجود ہیں - جو انتہائی گہرائی سے لے کر کافی تفریح والے ہیں ، ان میں سے ہر ایک جتنی توجہ چاہتا ہے وہ میں اس کو یہاں پر دینے کا کوئی منصوبہ نہیں بنا رہا ہوں لیکن بہرحال میں آپ کو اس بات کا مشورہ ضرور دوں گا کہ اس کو مزید پڑھئیے گا ضرور۔

سردست فرمی کے تناقض کے جواب دینے کے لئے ہم اب اس بات کا تخمینہ لگا سکتے ہیں کہ قابل رہائش سیاروں کا خاندان کتنا بڑا ہے اور اس کی آبادی کتنی ہے۔ اس کا جواب ہے ، بہت بڑا۔ ذرا اس پر توجہ دیں : کائنات میں زمین پر موجود تمام ساحلوں کی ریت کے ذرّوں سے کہیں زیادہ ستارے موجود ہیں اور اتنے ہی سیارے ہیں (خاکہ 11.1ملاحظہ کیجئے)جیسا کہ اس کتاب کے شروع میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ فلکیاتی اعداد اس بات پر اٹل دلالت نہیں کرتے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم اپنے نمونوں کے لئے جتنا بھی اچھا محسوس کریں۔ ہمیں خود سے ہی تلاش کرنا ہوگا۔ ناسا کا کیپلر منصوبے کے تحت ہونے والا سروے یہ کام کرے گا۔
[​IMG]11.2 by Zonnee, on Flickr
11.1 زمین پر موجود تمام ساحلوں کی ریت کے ذرّوں جتنی تعداد میں ستارے اور سیارے ہماری کائنات میں موجود ہیں۔ روشن نقطے سورج کے آس پاس کچھ نظام ہائے سیارگان ہیں جو ہم پہلے ہی دریافت کر چکے ہیں۔


اس دوران ابتدائی تخمینے لگانے کے لئے ہمیں حالیہ ماورائے شمس سیاروں کی دریافت کو بنیاد بنانا ہوگا۔ ٢٠١١ ء کی گرمیوں تک دریافت ہونے والے ماورائے شمس سیاروں کی تعداد کو بنیاد بنا کر شروع کرتے ہیں۔ جو سینکڑوں کی تعداد میں(لگ بھگ چھ سو کے قریب ) ہیں ان میں سے زیادہ تر کہکشاں میں ہمارے پڑوس میں ہی موجود ہیں (خاکہ نمبر 11.2ملاحظہ کیجئے)۔ یہ ایک مفید حوالہ ہوگا۔
[​IMG]11.1 by Zonnee, on Flickr
11.2 ابھی تک دریافت ہونے والے زیادہ تر ماورائے شمس سیارے ہمارے نظام شمسی سے قریب ہیں؛ تمام معلوم سیارے پانچ سو نوری برس کے دائرے کے اندر اور ملکی وے کہکشاں کے اور ا ئن بازو میں موجود ستاروں کے گرد ہی موجود ہیں۔ 

سب سے پہلے تو مجھے کہکشاں میں موجود ستاروں کی تعداد معلوم کرنا ہو گئی۔ یہ تعداد مستقل طور پر تازہ ہوتی رہتی ہے لیکن پچھلی کچھ دہائیوں سے اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس کی بنیاد مختلف آزاد ہونے والے سروے پر ہے۔ کئی دسیوں لاکھ ستارے ، مختلف قسم کے اور ہماری کہکشاں کے مختلف حصّوں میں گنے جا چکے ہیں۔ کہکشاں کی وسعت اور اس میں موجود ستاروں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ستاروں کی مکمل تعداد کو حاصل کرنے کے لئے مجھے ضرب دینا ہو گی : جو مل ملا کر دو کھرب ستارے بنتے ہیں۔ ان میں سے نوے فیصد ستارے اتنی کم عمر کے ہیں کہ وہ کسی قسم کے سیاروں کو تشکیل نہیں دے پائیں گے۔ مزید براں صرف دس فیصد چھوٹے ستارے ایسے ہیں جن میں سیارہ زمین میں پائے جانے والے بھاری عناصر موجود ہوں گے۔ ابھی تک ہمارا تخمینہ بہت ہی محفوظ اور طاقتور ہے۔ اب مجھے ضرورت ہے کہ یہ معلوم کروں کہ ان دس فیصد ستاروں میں سے کتنے ایسے ہیں جو زمین جیسے سیاروں کو پیدا کر سکتے ہیں۔

اب میں واپس سیاروں کی تعداد پر آتا ہوں جیسا کہ ہم نے ستاروں کے ساتھ کیا تھا۔ میں اب اس کو گنتا ہوں کہ ہمارے اب تک کیے جانے والے سروے میں کتنے ارض اور فوق ارضی سیارے جیسے سیارے دریافت ہوئے ہیں۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے کیونکہ ابھی تک چند ہی فوق ارضی سیارے دریافت ہوئے ہیں (کوئی بھی زمین جیسا سیارہ دریافت نہیں ہو سکا ہے )؛ جیسا کہ ہم نے دیکھا تھا کہ ان کو ڈھونڈنا بڑے اور بھاری جسیم سیاروں کے مقابلے میں جوئے شیر لانے کے برابر ہے لہٰذا اس مشکل بات کو ہمیں اپنے اندازہ لگانے کے کام میں مد نظر رکھنا ہوگا۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ سیاروں کی دریافت کے دو مختلف طریقوں کا موازنہ کیا اور دیکھا جائے کہ اس سے ہم فوق ارض اور گیسی دیو کی نسبت سے کس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ ڈوپلر منتقلی کے طریقے کا ثقلی عدسے کے طریقے کا مقابلہ کرتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ بھاری عناصر والے آدھے ستاروں میں کم از کم ایک ارض یا فوق ارض جیسا سیارہ ضرور ہوگا۔ اگر ہم فرض کریں کہ کوئی استحقاقی مدار موجود نہیں ہے اور سب کے سب برابر ہیں اور سیارے بننے کے بعد کسی بھی مدار میں ستارے کے گرد چکر لگا سکتے ہیں تو صرف ایسے ارضی اور فوق ارضی سیاروں میں سے دو فیصد سیارے ایسے ہوں گے جو ستارے کے قابل رہائش علاقے میں واقع ہوں گے۔ باقی ماندہ اٹھانوے فیصد سیارے یا تو ستارے سے بہت نزدیک ہوں گے یا پھر کافی دور۔ حتمی جواب تو کیپلر کا منصوبہ چند سال بعد ہی دے سکے گا لیکن ابتدائی مواد ہمارے لگائے ہوئے تخمینا جات سے بہت حد تک میل کھاتا ہے۔

اب میں اعداد کو جمع کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ہماری کہکشاں میں موجود ان دو کھرب ستاروں کو محتاط اندازوں کے ساتھ کم کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دس کروڑ ستارے ایسے ہیں جو قابل رہائش ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ اعداد اگرچہ درست نہیں ہیں لیکن ہم اس کے بڑے ہونے سے فرار حاصل نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب ان میں سے زیادہ تر سیاروں کی تعداد عمر میں ہماری زمین کے برابر ہی ہے۔ ان میں سے کچھ ہم سے چھوٹے ہیں جبکہ حال ہی میں بننے ہونے والے بھاری عناصر کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے ان میں سے چند کو ہم سے بڑا ہونا چاہئے۔ اس طرح کے وقت کی روک کے ساتھ ہمیں حیات کی ناگزیریت کے بارے میں کافی محتاط رہنا چاہئے۔ جس بارے میں ہم قطعیت کے ساتھ کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ حیات کوئی نایاب مظہر نہیں ہے -غالب گمان ہے کہ لازمی طور پر یہ کم از کم دس کروڑ میں سے ایک سیارے میں تو ہو گی۔ یہ گمان کرنا کچھ ایسا بھی برا نہیں ہے ؛ ایسی شاذونادر واقع ضرور وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ مئی ٢٠١١ ء میں امریکہ کی میگا ملین لاٹری کا بڑا انعام اس سال میں چار دفعہ نکل آیا جس کا گمان سترہ کروڑ ساٹھ لاکھ میں سے ایک کا تھا۔ درحقیقت ثنائی تقسیم کے مطابق دس کروڑ میں سے اٹھارہ فیصد دو لگاتار کامیابی کے مواقع موجود ہیں۔

جیسا کہ میں نے پہلے بھی گزرے ہوئے ابواب میں بیان کیا ہے ، ہم ایک نوجوان اور بدلتی ہوئی کائنات میں رہتے ہیں ، لہٰذا صرف ہماری اپنی کہکشاں میں دس کروڑ قابل رہائش سیاروں کا تخمینہ صرف سمندر میں ایک قطرے کی مانند ہے۔ ایک دفعہ جائیداد کی خرید و فروخت کرنے والے نے مجھ سے قابل رہائش سیاروں کے رجحان کے بارے میں سوال کیا کہ آیا ان کی تعداد بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے ؟ سوال بہت اچھا تھا !

ستارے اس کا جواب دیتے ہیں۔ صرف دس برس پہلے ، ہبل خلائی دوربین کی مدد سے کافی دور دراز موجود کہکشاؤں کو ناپنا ممکن ہوا اس عمل کے دوران وقت کے ماضی میں بھی جھانکا گیا۔ فلکیات دان کہکشاؤں کے رنگوں کو بھی دیکھ سکتے تھے۔ کہکشاں کے رنگ اصل میں ہزار ہا ستاروں کے رنگوں کا مجموعہ تھا۔ جب یہ کام انتہائی احتیاط کے ساتھ مکمل کر لیا گیا اور فلکیات دانوں نے اس بات کا مکمل یقین کر لیا کہ گرد کی وجہ سے ہونے والی سرخی کتنی ہے اور باقی کتنی تو ایک حیرت انگیز نمونہ ظاہر ہوا۔ کہکشاؤں کے رنگ ان کے ابتدائی وجود کے دور میں نیلے مائل تھے ، لیکن آج سے سات ارب سال پہلے ان کے سرخی مائل ہونے کی رفتار نہایت تیز ہونا شروع ہو گئی تھی۔

ان بدلتے رنگوں کا کیا مطلب ہے؟ کہکشاؤں کے رنگ ان کو بنانے والے ستاروں کے رنگ سے ہی بنتے ہیں لہٰذا ہمیں ستاروں کے رنگوں کو جاننا ہوگا۔ اپنی حیات کا لگ بھگ ٩٠ فیصد یا اس سے بھی زیادہ حصّے کے دوران ستاروں کا رنگ ان کی ضخامت کا بتا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم آخری باب میں دیکھیں گے کہ جتنا زیادہ ضخیم ستارہ ہوگا اتنی ہی تیزی سے وہ اپنا ہائیڈروجن کا ایندھن پھونک دے گا۔ اس طرح سے وہ ستارہ زیادہ گرم اور روشن ہو جائے گا۔ اس کی اضافی توانائی اس کو نیلی روشنی کے ساتھ منور کرنا شروع کر دے گی ، بعینہ جیسے کہ برقی قمقمے کا فلامنٹ بجلی کے اسٹوو ہیٹر کے مقابلے میں کرتا ہے۔ زیادہ تیزی سے جلنے کا مطلب یہ ہے کہ بڑے ستاروں کا دور حیات بھی کم ہوتا ہے۔ 

لہٰذا اگر ہم نے نیلی کہکشاؤں کا مشاہدہ کیا ہے تو ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ان میں سے اکثر میں بہت زیادہ بڑے اور بھاری ستارے ہوں گے اور ایسے بڑے ستارے شرحاً بہت تیزی کے ساتھ پیدا ہو رہے ہوں گے۔ اگرچہ بعد کے دور میں نیلی کہکشائیں بہت ہی کمیاب ہوں گی۔ لہٰذا دور دراز کی کہکشاؤں کے رنگ ہمیں ستاروں کی شرح پیدائش کے بارے میں بتاتے ہیں۔

ہبل سے حاصل کردہ تصویر میں وقت کے ساتھ کہکشاؤں کے بدلتی رنگت ہمیں ستاروں کی بدلتی شرح پیدائش کے بارے میں بتاتی ہے۔ ستارے اور کہکشائیں شروع میں بنے اور اس کے بعد ستاروں نے اگلے پانچ ارب سال تک مستقل تیزی سے اپنی پیدائش کی شرح کو جاری رکھا۔ کچھ ارب سال پہلے ماضی میں اس شرح میں کمی دیکھنے کو ملی ہے جو ٢٠٠٨ء کو ہونے والی دنیا کی کساد بازاری سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس شرح میں بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔ بڑے ستاروں کا دور پورا ہو چکا ہے ! ہماری اور دور حاضر کی کائنات کی دوسری کہکشاؤں میں دس سے پچاس گنا تک کم ستارے موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر ستاروں کی تعداد چھوٹے ستاروں کی ہے۔

تاریخ کیمیا اور حیات دونوں کے لئے اچھی رہی ہے۔ کم عمر اولین ستاروں کی فراواں کھیپ نے کائنات اور اگلی نسل کے ستاروں (اور سیاروں ) کو ثمر آور بھاری عناصر سے لبریز کر دیا ہے۔ چند بڑے نیلے ستاروں والی کہکشاں کیمیا اور حیات دونوں کے لئے بہتر ہے۔ ایکس ریز اور بالائے بنفشی روشنی جو "نیلے " بڑے ستارے بڑی تعداد میں پیدا کرتے ہیں حیات کے لئے پرخطر ہوتی ہیں۔ ماضی میں سات سے آٹھ ارب سال پہلے تک ہماری کائنات حیات کے لئے زیادہ سے زیادہ مہربان ہونا شروع ہوئی ہوگی اور اس جانب اس کا ارتقاء مستقبل میں ایک لمبے عرصے کے لئے جاری رہے گا۔

اسی دوران کم از کم دو ایسی وجوہات موجود ہیں جو ہمیں اپنی کہکشاں میں کثیر جہانوں کے بارے میں پرامید لگتی ہیں جہاں ہر جگہ حیات کا ماخذ الگ ہوگا۔ پہلی وجہ تو بظاہر حیات کے نمودار ہونے اور زمین کی سطح پر اس کے قدم جمانے کا عرصہ نہایت ہی کم لگتا ہے۔ دوسرے اب ہم یہ جان گئے ہیں کہ قابل رہائش سیاروں کا خاندان ہمارے وہم و گمان سے بھی کہیں زیادہ بڑا ہے جس میں فوق ارضی سیارے تو حیات کو پالنے پوسنے کے لئے نہایت ہی شاندار جگہ ہیں۔