جمعہ، 30 ستمبر، 2016

اگر آپ مرغی کی بے خبری میں اس کے انڈے کو بطخ کے انڈے سے بدل دیں تو کیا ہو گا؟


جواب:ہنٹر بروکس

میں اپنے والد کی جانب سے جواب دے رہا ہوں جو ایک فارم پر پلے بڑھے۔ 

انہوں نے (فارم کے دیگر جانوروں اور فصل کے ساتھ) فارمی پستہ قد مرغیاں اور بطخوں کو پالا ہے۔ پستہ قد مرغیاں بہترین اور خوب انڈے دینے والی ہوتی ہیں، اور اس وقت تک ہمت نہیں ہارتیں جب تک ان کے انڈوں سے بچے نہیں نکل آتے۔ اگر ان کا "اسقاط حمل" ہو جاتا ہے، تب بھی وہ انڈوں کو دینا بند نہیں کرتیں۔ دوسری طرف بطخیں جلد انڈوں کو دینے میں دلچسپی کھو کر آوارہ گردی شروع کر دیتی ہیں۔ بطخوں کو برقرار رکھنے کے لئے میرے والد کا کام بطخوں کے انڈوں کو جمع کر کے پستہ قد مرغیوں کے نیچے رکھنا تھا۔ 

جب انڈوں سے بچے نکل آتے، تو اس وقت پستہ قد مرغیاں فرق واضح نہیں کرسکتیں۔ تاہم غریب بطخ کے بچوں کو اپنی "ماں " کی پہچان کرنے میں سخت دشواری ہوتی تھی۔ پستہ قد مرغیاں کیڑوں کو کھانے کے لئے آڑا ترچھا چلتی ہیں ؛ بطخ کے بچوں کی فطری جبلت اپنی ماں کے پیچھے ایک ترتیب سے قطار میں چلنے کی ہوتی ہے۔ اب آپ بطخوں کے بچوں کے ایک گچھے کا اپنی ادھر ادھر بھاگتی ہوئی ماں کے پیچھے ایک ترتیب میں قطار بند ہو کر چلنے کی مشکل کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ 

اوہ، اور اس کے بعد تالاب سے پانی پینے کا مسئلہ بھی ہے۔ پستہ قد مرغی اپنے چوزوں کو تالاب تک لے جاتی ہے، اور پھر ہر کوئی پانی کی تھوڑی سے چسکی لیتا ہے اور اس کے بعد کیڑوں کے پیچھے چل دیتا ہے۔ جب بطخ اپنے بچوں کے ساتھ تالاب میں جاتی ہے، تو وہ سب حملہ کر دیتے ہیں اور پانی کو تیرتے ہوئے پیٹے ہیں۔ اب جب پستہ قد مرغی بطخوں کے بچوں کے ساتھ ہر ایک کو تالاب میں چند چسکیوں کے لے جاتی ہے، تمام بطخ کے چوزے جبلی طور پر پانی میں جا کر تیرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کی تیرنے کی صلاحیت سے لاعلم بے چاری ماں، اس وقت مڑتی ہے اور تالاب کے گرد ایک دائرے میں پاگلوں کی طرح کڑکڑاتی ہے۔ اور اس دوران، بطخ کے چوزے تیرتے رہتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ "ماں کو کیا ہو گیا ہے ؟"

آئن سٹائن کے نظریات - حصّہ دوم



لہٰذا آئن سٹائن نے کہا ہمیں اپنے روز مرہ کے مشاہدات کو رد کرنا ہو گا۔ جب ہم سمتی رفتاروں سے نبٹتے ہیں تو ایک جمع ایک دو نہیں ہوتے۔ اس نے ایک ریاضیاتی ڈھانچہ بنایا جس کے اندر روشنی کی رفتار ہمیشہ سے کسی بھی مشاہد کے لئے ایک جیسی ہو گی جو اس کی پیمائش کو کسی بھی حرکت کرتی ہوئی جگہ سے خط مستقیم میں ایک ہی متوازن رفتار سے آ رہی ہو۔ یہ تمام جگہیں ایک دوسری کی نسبت حرکت کر سکتی ہیں (اور 'اضافیت' کے آنے کی یہ ہی وجہ ہے)، تاہم ان کو گھومنا یا اسرع پذیر نہیں ہونا چاہئے(لہٰذا 'اضافی' کا مطلب یہ ہے کہ نظریہ صرف طبیعات کی مخصوص مسائل سے ہی نبٹتی ہے ) ۔ کوئی بھی اس طرح کی حوالاتی جگہ میں ایک جیسی ہی قوانین طبیعیات دیکھے گا، اور اس جگہ جہاں وہ رہتا ہے اس کو 'ساکن' سمجھے گا۔ اور سب روشنی کی رفتار کو c ہی ناپیں گے۔ کائنات میں کوئی خصوصی حوالاتی جگہ نہیں موجود ہے۔


تفصیلات میں جائے بغیر آئن سٹائن کے حسابات کے نتائج کے کا خلاصہ سادے طور پر کیا جا سکتا ہے۔ دو سمتی رفتاروں کو جمع کرنے کے بہتر قانون v 1 اور v 2 یہ (V = (v 1 + v 2 نہیں بلکہ V = (v 1 + v 2) تقسیم (1+ v 1 v 2 /c 2) کے برابر ہے، جہاں c روشنی کی رفتار ہے۔ کیونکہ c بہت زیادہ بڑی ہے یعنی 300,000 کلومیٹر فی سیکنڈ لہٰذا روز مرہ کی سمتی رفتار جیسے کہ 10 میل فی گھنٹہ یا 30 میل فی گھنٹہ لہٰذا جس عدد کو آپ اس سے تقسیم کریں گے اس کا حاصل لامحالہ طور پر ناقابل شناخت ہو گا اور مجازی طور پر وہ صفر ہی ہو گا۔ تاہم اگر آپ کسی ایک سمتی رفتار کو یا دونوں کو c کے برابر لیں تو عجیب و غریب چیزیں وقوع پذیر ہونے لگتی ہیں۔ آپ کبھی بھی دو سمتی رفتاروں کو لے کر جو روشنی کی رفتار سے کم ہوں جمع کر کے ایک ایسا جواب حاصل نہیں کر سکتے جو روشنی کی رفتار سے بڑا ہو۔ 

اسی طرح کی مساوات جو ریاضی سے نکلتی ہے ہمیں بتاتی ہے کہ ایک حرکت کرتا ہوا جسم اپنی منتخب کی ہوئی جگہ میں اس وقت بھاری ہوتا جاتا ہے جب اس کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنے لگتی ہے اور اسی وقت حرکت کرتا ہوا جسم اپنی حرکت کرنے کی سمت میں سکڑ بھی جاتا ہے۔ ایک حرکت کرتی ہوئی گھڑی اس ساکن حوالاتی جگہ کے مقابلے میں آہستہ چلنے لگتی ہے۔ اور مزید فائدہ دیتے ہوئے دو واقعات تو ایک ساتھ وقوع پذیر ہو رہے ہیں تو ان میں سے ایک حوالاتی جگہ میں صرف ایک ہی معنی ہوتا ہے - ایک مشاہد جو آپ کو مستقل سمتی رفتار سے پاس کرتا ہے اس کی نظر اسی وقت ہونے والے واقعہ یا اس واقعے کو جو اس نے پیچھے چھوڑا ہے کے لئے مختلف ہو گی۔ اور یہ تمام آج کے دور کی انجینئرنگ کا حصّہ ہے۔ وہ مشینیں جو پروٹون یا الیکٹران کو روشنی کی رفتار کے قریب اسراع دیتی ہیں وہ اس وقت کام نہیں کرتیں اگر مساوات دنیا کے کام کرنے کے طریقہ کار کو ٹھیک طرح سے بیان نہ کرتی، اور کیونکہ وہ کام کرتی ہیں لہٰذا وہ طبیعیات دانوں کو براہ راست کمیت میں اضافے، وقتی کشادگی اور دوسرے اثرات جن کی پیش گوئی آئن سٹائن نے کی ہے ان کی پیمائش کو کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ خصوصی اضافیت روزمرہ کی دنیا میں زبردست طریقے سے کام کرتی ہے اور نیوٹن کی پرانی میکانیات کے ساتھ اور برقی مقناطیسی مساوات جو میکسویل نے بنائی تھی ان دونوں کے ساتھ کافی اچھا چلتی ہے (اس وقت تک ٹھیک کام کرتی ہے جب تک چیزیں روشنی کی رفتار کے قریب نہیں پہنچ جاتیں )۔ تاہم یہ اب بھی 'خصوصی' اضافیت کا نظریہ ہے۔ یہ قوّت ثقل کے ساتھ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتی، اور قوّت ثقل وہ قوّت ہے جس کا کائنات پر غلبہ ہے۔ لہٰذا یہ بحیثیت مجموعی کائنات کی مکمل تشریح بیان نہیں کرتی۔ ایسا کرنے کے لئے آئن سٹائن کو ایک مزید عمومی نظریے کی ضرورت تھی۔ 

خصوصی نظریہ اپنے وقت کا بچہ تھی۔ نیوٹن اور میکسویل کے تصورات کے نظریات میں موافقت پیدا کرنے کی واضح طور پر ضرورت تھی اور اگر آئن سٹائن 1905ء میں خصوصی اضافیت کے ساتھ نہیں آتا تو کوئی دوسرا اس کو ایک یا دو برسوں میں تلاش کر لیتا۔ تاہم عمومی نظریہ کچھ خاص تھا۔ آئن سٹائن کے علاوہ کوئی اور خصوصی نظریہ کی محدودیت کی وجہ سے اتنا تنگ نہیں تھا۔ تاہم دس برس کے مزید کام کے بعد (صرف اسی معمے پر کام نہیں کیا؛ آئن سٹائن نے ان دس برسوں میں کوانٹم نظریے کو بنانے میں کافی اہم حصّہ ڈالا تھا) اس نے ایک نظریہ پیش کیا جو کائنات کے حالیہ مشاہدے سے کہیں زیادہ مکمل تھا۔ جب مبصرین نے اس وقت تک سحابیہ کے پیمانے کے فاصلے کا تعین نہیں کیا تھا اور اس بات کو تو چھوڑ دیجئے کہ کہکشائیں ہم سے بہت تیزی سے دور ہو رہی ہیں وہ اس بات کو یقین سے نہیں جانتے تھے کہ یہ سحابیہ اصل میں دوسری کہکشائیں ہیں، آئن سٹائن نے ایک ایسے نظریہ کو پیش کیا جو قدرتی طور پر اور اپنے آپ میں کائنات کو ایسا بیان کرتا ہے جو کافی بڑی، خالی جگہ تھی جس کو پھیلنا تھا۔ اب آئن سٹائن اس مساوات کے ساتھ کائنات کو بیان نہیں کر سکتا تھا۔ اس کی دلچسپی کا بنیادی مقصد کائنات کا نمونہ حاصل کرنا تھا - ایک ریاضیاتی نمونہ - تاکہ وہ جانچ کر سکے کہ عمومی اضافیت حقیقت میں مکمل کائنات سے نبٹ سکتی ہے اور لا محدودیت تک پہنچنے کی صورتحال یا کائنات کے 'کونے ' تک پہنچنے میں مسائل کا شکار نہیں ہوتی - نام نہاد سرحدی شرائط۔ یہ کافی گہرا ریاضیاتی سچ تھا۔ لہٰذا وہ اس بات سے زیادہ پریشان نہیں تھا کہ اس کی سادی مکمل ترین اور قائم بالذات نظریہ جس کو کوئی خاص سرحدی شرائط کی ضرورت نہیں تھی وہ اصل کائنات کو بیان کرتا ہوا نہیں لگتا تھا۔ وہ اس حقیقت کو جاننے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا کہ نمونہ اصل میں مکمل ہونا چاہئے اور اس میں کوئی خصوصی سرحدی شرائط کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ ایک لحاظ سے اس نے یہ بات قبول نہیں کی کہ نظریہ اس کو کیا بتانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور اپنی زندگی میں ایک مرتبہ اس نے اس اصول کی پاسداری نہیں کہ جو تمام عصبیت کو ایک طرف اٹھا کر رکھ دے۔ اپنے نمونے کو اپنے پیش تصوری کے نمونے میں زیادہ بہتر طور پر اتارنے کے لئے جس میں کائنات ایک ساکن جگہ تھی اس نے مساوات میں تھوڑی سی تبدیلی کی جس سے وہ تھوڑی پیچیدہ ہو گئی تاکہ وہ ایک تھوڑا سا مختلف مکمل نمونہ بنا سکے جس کی کوئی خصوصی سرحدی شرائط نہ ہوں۔

جدید تہذیب کی اقسام - اے سے لے کر زی تک



ساگاں نے ترقی یافتہ تہذیب کی ایک اور طرح سے درجہ بندی کی جو ان کے اطلاعاتی مواد کی نسبت سے ہیں اور جو اس تہذیب کے لئے لازمی ہوں گے جو کائنات کو چھوڑنا چاہ رہی ہوگی۔ مثال کے طور پر جماعت اے کی تہذیب وہ ہوگی جو 10^6 بٹس کی اطلاعات پر عمل کاری کر سکتی ہوگی۔

یہ ایک ایسی قدیمی تہذیب ہوگی جس کے پاس کوئی تحریری زبان نہیں ہوگی تاہم اس کے پاس بولی ضرور ہوگی۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ جماعت کی تہذیب کس قدر اطلاعات کو رکھ سکتی ہے، ساگاں نے بیس سوالات پر مشتمل ایک کھیل کا سہارا لیا، جس میں آپ کو بیس سوالات پوچھ کر ایک پراسرار جسم کی شناخت کرنی ہوتی ہے اور سوالات کا جواب ہاں یا نہ میں ہوتا ہے۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ سوال کو اس طرح پوچھا جائے جو الفاظ کو دو بڑے ٹکڑوں میں توڑ دے جیسا کہ، "کیا وہ زندہ ہے؟" اس طرح کے بیس سوالات کرنے کے بعد ہم دنیا کو 220 ٹکڑوں یا 10^6 میں تقسیم کر سکتے ہیں جو جماعت اے کا کل اطلاعاتی مواد ہو سکتا ہے۔ 

ایک مرتبہ تحریری زبان دریافت ہو جائے تو کل اطلاعاتی مواد تیزی سے بڑھے گا۔ ایم آئی ٹی کے طبیعیات دان فلپ موریسن تخمینہ لگاتے ہیں کہ کل تحریری ورثہ جو قدیمی یونانیوں کا باقی رہ گیا ہے وہ لگ بھگ 10^9 بٹس یا کارل ساگاں کی درجہ بندی کے مطابق جماعت سی کی تہذیب ہے۔ ساگاں ہمارے دورحاضر کے اطلاعاتی مواد کا حساب لگاتے ہیں۔ دنیا کے تمام کتب خانوں میں رکھی ہوئی کتابوں کی تعداد (جن کو کروڑوں کی تعداد میں ناپا گیا ہے) اور ہر کتاب کے صفحہ کا اندازہ لگا کر اس کے حساب سے کل مواد 10^13 ہے۔ اگر ہم تصاویر کو بھی شامل کر لیں تو شاید یہ بڑھ کر 10^15 ہو جائے ۔ اس طرح سے ہم جماعت ایچ کی تہذیب بن جاتے ہیں۔ ہماری کم توانائی اور اطلاعاتی پیداوار کو دیکھتے ہوئے ہم ایک جماعت 0.7 ایچ کی تہذیب میں درجہ بند ہو سکتے ہیں۔ اس نے اندازہ لگایا کہ ہمارا پہلا رابطہ کسی ماورائے ارضی تہذیب سے کم از کم 1.5 جے یا 1.8 کی تہذیب تک پہنچنے کے بعد ہوگا کیونکہ اس طرح کی تہذیب پہلے ہی سے بین النجمی سفر کے محرکات کی ماہر ہو چکی ہوگی۔ کم از کم ایسی کوئی بھی تہذیب ہم سے کئی صدیوں سے ہزار صدی تک آگے کی ہوگی۔ اسی طرح ایک کہکشانی جماعت سوم کی تہذیب کو بھی ہر سیارے کے اطلاعاتی مواد کو کہکشاں میں موجود قابل رہائش سیاروں کی تعداد سے ضرب دینے بعد درجہ بند کیا جا سکتا ہے۔ ساگاں کا اندازہ تھا کہ اس طرح کی جماعت سوم کی تہذیب کی قسم کیو کی ہوگی۔ ایک ترقی یافتہ تہذیب جو ارب ہا کہکشاؤں کے اطلاعاتی مواد کو رکھتی ہوگی وہ قابل مشاہدہ کائنات کے کافی بڑے حصّہ کی نمائندہ ہوگی اور وہ قسم زی کے لئے اہل ہوگی ، اس نے قیاس کیا۔

یہ کوئی معمولی درسی مشق نہیں تھی۔ کوئی بھی تہذیب جو کہکشاں کو چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہوگا لازمی طور پر دوسری طرف کی کائنات کے حالات کا اندازہ لگائے گی۔ آئن سٹائن کی مساوات بدنامی کی حد تک مشکل ہے کیونکہ خلاء کے خم کا حساب کسی بھی نقطے پر لگانے کے لئے آپ کو کائنات میں موجود تمام اجسام کا محل وقوع معلوم ہونا چاہئے جس میں سے ہر ایک خلاء کے خم میں اپنا کردار ادا کرے گا ۔ آپ کو بلیک ہولز کی کوانٹم کی تصحیحات بھی معلوم ہونی چاہئیں جن کا حساب لگانا فی الوقت ناممکن ہے۔ کیونکہ یہ ہمارے کمپیوٹروں کے لئے بہت مشکل کام ہے، طبیعیات دان عام طور بلیک ہول کے لئے اندازہ لگاتے ہیں یہ اندازہ کائنات کی تحقیق کرتے ہوئے لگایا جاتا ہے جہاں ایک اکلوتے منہدم ہوتے ستارے کا غلبہ ہے۔ بلیک ہولز کے واقعاتی افق کے اندر یا ثقب کرم کے منہ کے قریب جگہوں کی مزید حقیقی سمجھ بوجھ کے لئے ہمیں لازمی طور پر تمام قریبی ستاروں کا محل وقوع اور توانائی کو معلوم کرکے کوانٹم اتار چڑھاؤ کا حساب لگانا ہوگا۔ یعنی یہ انتہائی مشکل کام ہے۔ پھیلتی ہوئی کائنات میں موجود ارب ہا کہکشاؤں کی تو بات ہی چھوڑ دیں یہ کام تو ایک خالی کائنات میں ایک اکلوتے ستارے کے لئے کرنا انتہائی مشکل کام ہے ۔ 

یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی تہذیب جو ثقب کرم کے ذریعہ سفر کرنے کی کوشش کرے گا اس کے پاس حسابی قوّت ہمارے جیسی 0.7 ایچ تہذیب سے کہیں زیادہ ہونی چاہئے۔ شاید وہ کم سے کم توانائی اور اطلاعاتی مواد جو ایسی کسی سنجیدہ چھلانگ کے لئے لازمی ہوگی وہ جماعت سوم کیو کی تہذیب ہوگی۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ذی شعور حیات کاردیشوف کی جماعت بندی سے بھی آگے نکل کر پھیل گئی ہوں۔ جیسا کہ سر مارٹن ریس کہتے ہیں، "اس کا کافی امکان ہے کہ اگر صرف زمین پر ہی حیات موجود ہے، تو یہ بالآخر تمام کہکشاں اور اس سے آگے پھیل جائے گی۔ لہٰذا حیات ہمیشہ کے لئے کائنات کو اپنے آلودہ نشانوں سے پاک نہیں رکھے گی اگرچہ ابھی تو ایسا ہی ہے ۔ حقیقت میں مجھے یہ بات زیادہ قرین قیاس لگتی ہے کہ یہ اگر اس کا اشتراک وسیع پیمانے پر کیا جائے گا تو یہ کافی سود مند ہوگی۔" تاہم وہ خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے،" اگر ہم اپنے آپ کو باہر نکال لیں تو ہم کونیاتی حقیقی صلاحیتوں کو تباہ کر رہے ہوں گے۔ لہٰذا اگر کوئی یہ یقین رکھتا ہے کہ زمین پر ہی حیات انفرادی طور پر موجود ہے، تب اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کائنات میں حیات ہمیشہ ایک معمولی ٹکڑا بن کر رہے گی۔"

کس طرح سے ایک ترقی یافتہ تہذیب اپنی مرتی ہوئی کائنات کو چھوڑے گی؟ اس کے مشکلات کے پہاڑوں کو سر کرنا ہوگا۔

تمام تر طبیعیات قوانین کو لاگو کرنے کے ساتھ اگر نظام شمسی کو از سر نو ترتیب دیا جائے تو آپ اس کو کیسا بنائیں گے؟

اگر آپ کو اس بات کا موقع ملے کہ نظام شمسی کو از سر نو ترتیب دائیں تو آپ کیا تبدیلیاں وغیرہ کریں گے۔) تمام طبیعیات اب بھی لاگورہے۔) آپ اسے کیسے تبدیل کریں گے؟

اپنی مرضی کے بنانے کا مطلب یہ ہوا کہ آپ موجودہ اجسام کے مداروں کو تبدیل کر سکتے ہیں، یا تو سیاروں کو چاند بنا دیں یا چاندوں کو سیارے۔ کمیت، حجم اور نصف قطر موجودہ اجسام کو تبدیل کر دیں۔ یا سادہ طور پر نئے اجسام ہی بنا دیں۔ آپ کس طرح سے اپنے نظام کو تبدیل کریں گے ؟


جواب: لرکلی ایش 

میں مفروضات کے ایک جوڑے سے شروع کرتا ہوں۔ میں یہ فرض کر رہا ہوں کہ میرے پاس لامحدود دیوتاؤں جیسی قوت ہے اور مجھے مداری حسابات کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یا تو میرے پاس مصنوعی ذہانت ہے یا میں بہت زیادہ ہوشیار ہوں۔ 

سب سے پہلے، ایک کلمپیرر روزیٹ (Klemperer rosette)۔ ایک کلمپیرر روزیٹ ایک ستارے کے گرد سیاروں کی  ایک دوسرے سے برابر فاصلے پر، ستارے کے گرد ایک جیسے مدار کا اشتراک کرتے ہوئےایک مکمل اور متوازن طور پر بڑے اور چھوٹی اجسام کے نمونے کی ترتیب ہوتی ہے۔ میں قابل رہائش سیاروں کا کلمپیرر روزیٹ اتنا زیادہ گنجان اور رہنے کے قابل بناؤں گا کہ آبادکاروں کا آنا جانا روزیٹ کے اندر سفر کرنے کے لئے بغیر راکٹ افزودہ گر(boosters) کے تیز رفتار مکافی نما پروازوں سے ہونا ممکن ہو۔ (کرۂ فضائی ایک دوسرے پر چڑھی ہوئی ہو۔ )

ایک نظریاتی امکان ڈونٹ جیسی دنیائیں۔ ایسا تب ہوتا ہے جب ایک سیارے کی مکمل کمیت مرکز ثقل کے گرد مدار میں چکر لگاتی ہے تاکہ یہ ایک مخروط نما یا ڈونٹ کی صورت جیسا سیارہ بنا سکے۔ 

ایک اور نظریاتی امکان سیارچوں کی گنجان پٹی کا ہے جو اتنا زیادہ بھری ہوئی ہو کہ ستارے کے گرد ایک ٹھوس سیاروی سطح بن سکے۔ کم از کم ایک ایسی پٹی بھی ہونی چاہئے۔ رہائش یہاں بھی خطرناک ہو گی، کیونکہ ایک طرف متواتر سورج کی روشنی ہو گی اور دوسری طرف مسلسل سایہ، تاہم کنارے پر شگاف بہت جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ قابل رہائش ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی دن اس کو آباد کرنا مفید ہو۔ (اس کی لمبائی کے ساتھ ایک مقناطیسی اسراع گر کے بننے کا تصور کریں، جو نقل و حمل کو کسی بھی مدار کی طرف دھکیلو کو چلائے بغیر بھیج سکتا ہے۔ )

آخر میں ایک قدرتی بالا بر(skyhook)  کا نفاذ کروں گا۔ ایک بالا بر خلائی بالا بر (space elevator) جیسا ہوتا ہے، تاہم یہ اس کا سادہ ترین تصور ہے، یہ سادے طور پر ایک جسیم ٹھوس لوہے کا چاند ہو سکتا ہے جو جہاں وطن (homeworld) کے گرد مدار میں لٹکا ہوا ہو گا۔ اس کی گردش ایسی ہو گی کہ اس کا اختتامی کونہ کرۂ فضائی کے قریب ہو گا تاکہ سیارے کی گردش سے ہم آہنگ ہو - وہ آسمان سے گرتا ہوا لگے گا اور سطح کے نقطہ نگاہ سے واپس اٹھتا ہوا۔ اس نقطہ پر آپ اس کی سمتی رفتار کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، مقناطیس سے آپ خلاء کی سواری کر کے اس سے وہاں پر الگ ہوں جہاں آپ کے لئے کارآمد ہو اور پھر غلیل کے اثر کے استعمال سے اپنے ہدف پر جائیں۔ 

ہمارے روزیٹ جہاں سے بہت زیادہ فاصلے پر نہیں کچھ کم ثقل کے کافی تعداد میں چھوٹے سیارے مدار میں موجود ہوں گے، جن کے چاند ایل 2 لیگرینج نقاط (مستقل طور پر سورج کے سائے میں ) پر ہوں گے، جو برف کی گیندوں - ہائیڈروجن کی برف، آکسیجن کی برف، نائٹروجن کی برف، کئی گیسوں جو خلاء میں رسد کے طور پر مفید ہوں گی، اور ان کم ثقل والے چاندوں پر جمی ہوئی صورت میں رکھی ہوئی ہوں گی، جن کو پورے نظام پر اٹھا کر منتقل کرنا کم خرچ ہو گا۔ 

آخر میں، میں چاہوں گا  کہ آپس میں قریب سے گزرنے والے بھی کئی سیارے ہوں جو اپنے چاندوں کو کبھی کبھار بدل لیا کریں۔ یہ میرے زبردست دماغ کی مصنوعی ذہانت 9001 میں پائیدار مداروں کی ترتیب میں ہوں گے، کیونکہ میرے پاس یہ طاقت ہے، اور آپ نے تخیل کی بات کی ہے، کیوں۔ 

میرے نظام میں ایک جہاں وطن حیات کے لئے ہو گا، (اگرچہ اس میں کئی جگہیں پھلنے پھولنے کے لئے مثالی ہوں گی) اگرچہ روزیٹ میں کئی سیاروں کے وسائل، گردشی زاویے، موزونیت، اور دن کی طوالت، متنوع فیہ آب و ہوا اور نمو کے حالات الگ ہوں گے۔ یہ کھوجنے کے لئے بنایا جائے گا، اور اس کی صورت گری کو چھپانے کی کوئی بھی کوشش نہیں کی جائے گی۔ 

کافی سیارے اور پٹیاں قدرتی طور پر بننے کے لئے چھوڑ دی جائیں گی، تاکہ کچھ قدرتی متنوع فیہ رنگ بھی لگے۔ 

جمعرات، 29 ستمبر، 2016

زمین کا کرۂ فضائی خلاء میں کیوں غائب نہیں ہوتا؟


زمین کا کرۂ فضائی خلاء میں کیوں فرار نہیں ہو جاتا؟

جواب:رابرٹ فراسٹ

جب آپ اس بارے میں متجسس ہوں کہ آیا کیوں کوئی چیز واقع نہیں ہو رہی، تو آپ کو یہ معلوم کرنا چاہئے کہ اس کو کیوں واقع ہونا چاہئے۔ 

کیوں کرۂ فضائی خلاء میں فرار نہیں ہوتا؟

چلیں فرض کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سپرمین جیسی خردبینی نگاہ ہے اور ہم کرۂ فضائی میں موجود ہر سالمے کو دیکھ سکتے ہیں۔ تب ہم کچھ ایسا دیکھیں گے :



ہم ایک افراتفری کا منظر دیکھیں گے - سالمات سناٹے سے گزر رہے ہوں گے، ایک دوسرے سے، زمین سے اور کوئی بھی چیز جو ان کے راستے میں آ رہی ہے اس سے ٹکرا رہے ہوں گے۔ 

ہمارے کرۂ فضائی میں (لگ بھگ 78 فیصد) نائٹروجن ہے۔ 25 ڈگری سیلسیس (77 فارن ہائیٹ) پر، نائٹروجن کے سالمات کی سمتی رفتار لگ بھگ 511 میٹر فی سیکنڈ (1676 فٹ فی سیکنڈ) کی ہوتی ہے۔ 

چلیں تصور کرتے ہیں کہ سالمات سرخ مربع (ہماری تصویر میں ) سے اجاگر کئے ہیں جو حال ہی میں زمین سے اچھلے ہیں اور سیدھے خلاء کی طرف 511 میٹر فی سیکنڈ (1676 فٹ فی سیکنڈ) کی رفتار سے جا رہے ہیں۔ کیا وہ اس رفتار پر قائم رہ سکیں گے؟ کیا وہ فرار ہو جائیں گے؟

امکان اس بات کا ہے کہ یہ کسی دوسرے سالمے سے ٹکرا جائیں گے اور ان کا خط پرواز تبدیل ہو جائے گا، لیکن چلیں یوں سمجھتے ہیں کہ یہ کسی اور سالمے سے نہیں ٹکراتے۔ اب کیا کیا ہو گا؟ سر آئزک اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

سر آئزک کے حرکت کا پہلا قانون ہمیں یہ بتاتا ہے۔ ۔ ۔ 

۔ ۔ ۔ ہر جسم اس وقت تک ساکن یا خط مستقیم میں یکساں حرکت میں رہے گا تاوقتیکہ اپنی حالت کو بیرونی طاقت کے عمل کی وجہ تبدیل کرنے پر مجبور نہ ہو۔ 

صرف ایک ہی قوت ہے جو ہمارے اس ابھرتے ہوئے سالمے پر لگ رہی ہے - اور وہ ہے کشش ثقل۔ 

ہر گزرتے سیکنڈ کے ساتھ، ثقل ہمارے اکیلے سالمے کو 9.8 میٹر فی سیکنڈ قوت نما 2 (32.2 فٹ فی سیکنڈ قوت نما 2)۔ لہٰذا ہم سالمے کا اونچائی تک پہنچنے کا حساب لگا سکتے ہیں:

ہماری ابتدائی سمتی رفتار 511 میٹر فی سیکنڈ (1676 فٹ فی سیکنڈ) ہے اور ہمارا اسراع منفی 9.8 میٹر فی سیکنڈ قوت نما 2 ( منفی 32.2 فٹ فی سیکنڈ قوت نما 2) ہے۔ اس سے ہمیں 13,322.5 میٹر (43,709 فٹ) کی انچائی ملتی ہے۔ ایک مرتبہ جب ہمارے سالمے اس اونچائی تک پہنچ جاتے ہیں تب اس کی عمودی سمتی رفتار صفر ہوتی ہے، اور وہ گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ 

لہٰذا ہمارے سالمے کو فرار ہونے کے لئے کتنی تیز سفر کرنا ہو گا؟ ایک تصور فراری سمتی رفتار کہلاتا ہے جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کتنا تیز کوئی بھی جسم بغیر دھکیلو کے ثقل کے ساتھ بطور تخفیف اسراع سفر کر سکتا ہے۔ خیال یہ ہے کہ جسم متواتر آہستہ تاہم ثقل بھی مسلسل کمزور اس وقت ہو گی جب جسم کافی دور چلا جائے گا۔ فراری سمتی رفتار کے ساتھ، رفتار لامتناہی فاصلے پر صفر کو چھو لے گی۔ 



G ثقلی مستقل (6.67E-11) ہے، M زمین کی کمیت (5.97E24) ہے اور r زمین کا نصف قطر(6378100) ہے 

اس سے ہمیں 11,179.365 میٹر فی سیکنڈ (36,677.7 فٹ فی سیکنڈ) کی ایک فراری سمتی رفتار ملتی ہے۔ 

ابھی آپ کو یاد ہے نہ کہ ہمارے سالمے کی اوسط رفتار یعنی کہ نائٹروجن کے سالمے کی اوسط رفتار 511 میٹر فی سیکنڈ (1676 فٹ فی سیکنڈ) تھی۔ کچھ نائٹروجن کے سالمات زیادہ آہستہ حرکت کرتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ زیادہ تیز حرکت کرتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی فیصدی اصل میں 11,179.365 میٹر فی سیکنڈ (36,677.7 فٹ سیکنڈ) سے حرکت کرتی ہے اور ممکنہ طور پر فرار ہوسکتی ہے (اگرچہ جیسا کہ ہم بے پہلے بھی دیکھا کہ ان کے دوسرے سالمات سے ٹکرانے کا امکان موجود ہے، جس میں وہ اپنی کچھ حرکی توانائی دوسرے سالمات کو دے دیتے ہیں اور آہستہ ہو جاتے ہیں۔)

ہم نائٹروجن کے بارے میں بات کر رہے ہیں، تاہم ہمارے کرۂ فضائی میں صرف یہی گیس نہیں ہے۔ حرکی درجہ حرارت کا اظہار بھی ہے جو مثالی قانون گیس سے اخذ کیا جا سکتا ہے :


حرکی توانائی گیس کے درجہ حرارت کے متناسب ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر ہماری گیس کی مقدار ایک مخصوص درجہ حرارت پر ہے، تو کم کمیت والے سالمات کی لازمی (اوسط) سمتی رفتار ازالہ کرنے کے لئے ہونی چاہئے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ نائٹروجن سے کم ضخیم سالمات جن کی اوسط رفتار نائٹروجن کی اوسط رفتارسے زیادہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ہائیڈروجن کی اوسط رفتار 1930 میٹر فی سیکنڈ (6,332 فٹ فی سیکنڈ) ہوتی ہے۔ یہ رفتار اب بھی اس قدر تیز نہیں ہے کہ اوسط سالمہ فرار ہو جائے، تاہم تھوڑی سی مقدار اتنی تیزی سے حرکت ضرور کرتی ہے کہ وہ فرار ہو سکے۔ اور حقیقت میں ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں۔ لگ بھگ95,000  ٹن ہائیڈروجن ہر سال کرۂ فضائی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ تاہم فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ زمین کی کل ہائیڈروجن کی رسد کا صرف 0.00000000000017 فیصد ہے۔ 

آئن سٹائن کے نظریات - حصّہ اوّل





1905ء میں جرمنی کا جریدہ انالین ڈر فزک کا والیوم نمبر 17 شایع ہوا، اور اب تو سائنس دانوں کے لئے یہ تو نوادرات جیسی حیثیت رکھتا ہے۔ اس جریدے کے ایک والیوم میں، نوجوان آئن سٹائن جو ایک گمنام پیٹنٹ محرر تھا (اس وقت اس کے پاس پی ایچ ڈی کی سند بھی نہیں تھی)، نے تین مقالے شایع کئے جنہوں نے دنیا کی ماہیت کے بارے میں نئی راہ دکھائی۔ ان میں سے ایک نے جوہر کی حقیقت کو قائم کرنے میں مدد دی؛ دوسرے نے اشارہ دیا کہ ہو سکتا ہے کہ روشنی صرف موج ہی نہ ہو بلکہ وہ ذرّات کے سلسلوں کی طرح برتاؤ کرتی ہو۔ ان دونوں مقالات نے کوانٹم طبیعات میں ہونے والی پیش رفت میں اپنی اہمیت کو ثابت کیا، اور یہ ان میں سے دوسرا تھا جو ضیا برقی اثر پر تھا جس پر سترہ برس بعد آئن سٹائن نے نوبل انعام حاصل کیا۔ تاہم یہ تیسرا مقالہ تھا جو سب سے زیادہ مشہور ہوا۔ اس نے تیس صفحات کو بھرا تھا اور اس کا عنوان متاثر کن 'حرکت کرتے ہوئے اجسام کی برقی حرکیات پر' تھا۔ یہ وہ مقالہ تھا جو ہمیں بتاتا ہے کہ نہ تو خلاء اور نہ ہی وقت کوئی مطلق چیز ہے بلکہ اس کو کھینچا یا سکیڑا جا سکتا ہے جس کا انحصار آپ کے دیکھنے پر منحصر ہے ؛ اور یہ کہ حرکت کرتی ہوئے اجسام بھاری ہو جاتے ہیں ؛ اور یہ کہ E = mc 2 جس نے جوہری بم اور نیوکلیائی بجلی گھر کو بنانے کی راہ دکھائی، اس کے علاوہ اس فہم کے ادراک کہ سورج اور ستاروں کو اندر سے کیا چیز گرم رکھتی ہے۔ اگر یہ سب متاثر کن لگتا ہے، یاد رہے کہ 1905ء میں جس چیز کو آئن سٹائن نے اپنے عظیم ترین کام ثابت کرنا تھا اس میں اب بھی مستقبل میں دس برس لگنے تھے۔ 

1905ء کا مقالہ خصوصی نظریہ اضافیت کی بنیادی اینٹیں آج کی دنیا میں کافی اہم ہیں، تاہم بگ بینگ کی طرف جانے والے راستے کا ایک چھوٹا تماشہ ہے۔ آئن سٹائن کی روشنی کی ماہیت کے اوپر غور و فکر کرنے کی جڑیں انیسویں صدی کے عظیم اسکاٹ لینڈ کے رہائشی جیمز کلارک میکسویل تک جاتی تھیں، جس نے وہ مساوات بنائی تھی جو روشنی کو بطور برقی مقناطیسی موجوں کے ایک مخصوص رفتار سے حرکت کرتا ہوا بیان کرتی ہے جس کو عام طور پر c سے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ سوال کہ یہ موجیں اس وقت کیسی دکھائی دیں گی جب آپ ان کے ساتھ مستقل رفتار c کے ساتھ بھاگیں، اس سے روشنی کے برتاؤ اور ہمارے روز مرہ کی عقلی اصول جو ہم دنیا میں رہتے ہوئے روز مرہ زندگی میں سیکھتے ہیں، کے درمیان ایک اہم تضاد کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔ اگر آپ اس طرح بھاگیں جیسے کہ آئن سٹائن نے تصور کیا ہے تو برقی مقناطیسی موجیں اس وقت بھی قیاس ہے کہ لہروں کی طرح چل رہی ہوں گی، تاہم جہاں تک آپ کے سمجھنے کے لئے ہے تو یہ حرکت نہیں کر رہی ہوں گی جو میکسویل کی مساوات کے خلاف بات ہے۔ دنیا کو اس طرح سے دیکھنے میں ضرور کچھ غلطی ہے۔ میکسویل کی مساوات روزمرہ عقل سے میل نہیں کھاتی کچھ تو دینا ہو گا۔ آئن سٹائن کی ذہانت میکسویل کی مساوات کو بعینہ اسی طرح سے قبول کرنے میں تھی تاہم پہلے سے معلوم شدہ تصورات کو پھینک دینے سے حقیقت کی ایک نئی اور بہتر تشریح سامنے آتی ہے۔ 

1900ء کے عشرے کی ابتداء میں تجربات نے بتایا کہ روشنی کی رفتار کو کیسے بھی ناپیں اس سے ہمیشہ ایک ہی جواب c آئے گا۔ سائنس کے مورخین اب بھی اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ آیا آئن سٹائن کو اس وقت ان تجربات کا علم تھا یا نہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ روشنی کی کرنوں اور آئینوں کے لطیف انتظام سے یہ ممکن ہے کہ روشنی کی حرکت کرتی ہوئی کرن کو اسی سمت میں ناپ لیا جائے جس سمت میں زمین خلاء میں گزر رہی ہے یا اس سمت کے برخلاف بھی ناپا جا سکتا ہے۔ عقل بتاتی ہے کہ جواب کو کچھ اور ہونا چاہئے۔ اگر میں ایک بس کو 10 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے جاتا ہوا دیکھ رہا ہوں اور اس کو پکڑنے کے لئے ایک وین میں 9 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اس کو پکڑنے کے لئے جاؤں تو بس کی رفتار میرے لئے 1 میل فی گھنٹے کی ہے، اور اگر میں ایک ایسی بس پر سفر کروں جس کی رفتار 30 میل کی ہے اور ایک اور دوسری بس جو اس کے مخالف سمت میں روڈ پر مجھے 30 کلومیٹر کی رفتار سے پاس کرتی ہے تو بس میری نسبت سے 60 میل فی گھنٹے سے حرکت کر رہی ہے۔ تاہم روشنی اس طرح کی نہیں ہوتی۔ خلاء میں زمین کسی سمتی رفتار سے حرکت کر رہی ہے جس کو ہم v کہہ سکتے ہیں۔ وہ روشنی کی کرن جو ہم سے c سمتی رفتار سے آگے نکلے گی اس کی رفتار c - v نہیں ہو گی، اور نہ ہی کوئی روشنی کی کرن جو مخالف سمت سے ہمارے پاس آ رہی ہو اس کی رفتار c+v ہو گی۔ ہماری جو بھی سمتی رفتار ہو اور کسی بھی سمت سے روشنی کی کرن ہماری طرف آئے، جب ہم اس کی رفتار کی ناپیں گے ہمیں ہمیشہ ایک ہی جواب c ملے گا۔ 

اطلاعات کی درجہ بندی


تہذیب کی مزید بہتر درجہ بندی نئی ٹیکنالوجی کو بنیاد بنا کر بھی کی جا سکتی ہے۔ کاردیشوف نے اصل درجہ بندی کو 1960ء کے عشرے میں، کمپیوٹر انقلاب، نینو ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور ماحول کے انحطاط کے شعور کے احساس ہونے سے پہلے لکھا تھا۔ ان میدانوں میں ہونے والی ترقی کی روشنی میں، ایک جدید تہذیب ممکن ہے تھوڑا الگ طریقے سے ترقی کرے اور اس اطلاعاتی انقلاب کا پورا فائدہ اٹھائے جس کا ہم آج مشاہدہ کر رہے ہیں۔

جیسا کہ ایک جدید تہذیب نہایت تیزی سے ترقی کرے گی لہٰذا ضمنی فالتو وسیع حرارت خطرناک طور سے سیارے کے درجہ حرارت میں اضافہ کر سکتی ہے اور ماحولیاتی مسائل کو پیدا کر سکتی ہے۔ جرثوموں کی بستیاں برق رفتاری سے بطری قاب میں اس وقت تک اپنی تعداد بڑھاتی رہتی ہیں تاوقتیکہ ان کی خوراک کی رسد ختم ہو جائے اور واقعی میں وہ اپنے ہی فضلہ میں غرق ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح کیونکہ خلائی سفر آنے والی صدیوں تک مشکل بنا رہے گا اور قریبی سیاروں کو زمین جیسا بنانا اگر ممکن ہوا تو بھی معاشی اور سائنس چیلنج بنے گایوں ایک جماعت اوّل کی ارتقا پذیر تہذیب ممکنہ طور پر اپنی ہی پیدا کی ہوئی فالتو حرارت میں دم گھٹ کر مر جائے گی یا پھر اس کو اپنی اطلاعات کی پیداوار کو انتہائی مختصر ہموار کرنا ہوگا۔

اس طرح کے مختصر کرنے کے اثر کو دیکھنے کے لئے انسانی دماغ پر غور کریں جس میں 100 ارب عصبانیے (جتنی قابل مشاہدہ کائنات میں کہکشائیں ہیں) ہوتے ہیں اور اس کے باوجود وہ کسی قسم کی حرارت پیدا نہیں کرتا۔ مقابلے کے طور پر اگر آج کے کمپیوٹر انجنیئر کوئی برقی کمپیوٹر بنانے شروع کر دیں جو اس قابل ہو کہ پدم ہا بائٹس فی سیکنڈ پر کام کر سکے جس طرح سے دماغ بظاہر طور پر بڑے مزے سے کام کرتا ہے، تو وہ ممکنہ طور پر حجم میں کئی منزلہ ہوگا اور اس کو ٹھنڈا ہونے کے لئے پانی کا وافر ذخیرہ درکار ہوگا۔ ہنوز ہمارا دماغ زیادہ تر پر شکوہ خیالات پر دھیان پسینہ نکالے بغیر دے سکتے ہے۔

دماغ اس طرح اپنے سالماتی اور خلیاتی ساخت کی بنیاد پر کرتا ہے۔ سب سے پہلے یہ کوئی کمپیوٹر نہیں ہے ( ایک معیاری ٹیورنگ مشین کی طرح ، جس میں ایک دخول کی ٹیپ ہوتی ہے ایک نتیجہ حاصل کرنے کی اور ایک مرکزی عمل کار ہوتا ہے)۔ دماغ میں کسی قسم کا چلانے والا نظام موجود نہیں ہے، نہ ونڈوز ، نہ ہی سی پی یو، نہ کوئی پینٹیم چپ جن کو ہم عام طور پر کمپیوٹر سے جوڑتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی متاثر کن عصبانی جال ہے ایک سیکھنے کی مشین، جہاں پر یادداشت اور خیالات کے نمونے بجائے کسی مرکزی عمل کار یونٹ میں موجود ہونے کے پورے دماغ میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ دماغ کو بہت تیزی سے حساب لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ برقی پیغامات جو عصبانیوں کو بھیجتے ہیں وہ اصل میں کیمیائی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ تاہم یہ اپنی سست رفتاری کا ازالہ اس طرح سے کرتا ہے کہ یہ متوازی عمل کاری کرتا ہے اور نئے کام فلکیاتی رفتار سے سیکھتا ہے۔

برقی کمپیوٹر کی خام کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے سائنس دان کوشش کر رہے ہیں کہ نئے خیالات کا استعمال کریں، ان میں سے اکثر وہ قدرت کے خیالات کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ ایک نئی نسل کے مختصر کمپیوٹر بنا سکیں۔ پرنسٹن میں پہلے ہی سائنس دان ڈی این اے کے سالمے کا استعمال کرتے ہوئے حساب کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔(ڈی این اے کو بطور کمپیوٹر ٹیپ کے لے کر انہوں نے ثنائی صفر اور ایک کے چار مرکزائی تیزاب، اے، ٹی، سی، جی ) کو لیا؛ ان کا ڈی این اے کا کمپیوٹر ایک کئی شہروں میں محو سفر فروش کار کے مسائل کو حل کر چکا ہے (یعنی سب سے مختصر راستہ جو "این" شہروں کو جوڑتا ہے۔) اسی طرح سالماتی ٹرانسسٹر کو تجربہ گاہ میں بنا لیا گیا ہے بلکہ پہلا ابتدائی کوانٹم کمپیوٹر (جو انفرادی جوہروں پر حساب کر سکتا ہے) بنا لیا گیا ہے۔

نینو ٹیکنالوجی میں پیش رفت کو دیکھتے ہوئے یہ قرین قیاس ہے کہ ایک ترقی یافتہ تہذیب کافی اثر انگیز طریقے بنا لے گی جس سے وہ فالتو حرارت نہ نکل سکے جو ان کی اپنے ہی وجود کے لئے خطرہ ثابت ہو۔