Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ، 18 مئی، 2019

    بیرونی دنیا کی آبادکاری

    باب - چہارم 

    سیلاب 


    علمی انقلاب سے قبل، تمام انسانی انواع بلا شرکت غیرے صرف اور صرف افریقی-ایشیائی خشکی پر رہتی تھیں۔ البتہ یہ بات بھی سچ ہے کہ انہوں نے کچھ ایسے جزیرے تیر کر یا بہتے شہتیروں کی مدد سے پار کر کے آباد کر دیے تھے جہاں تک رسائی کے لئے زیادہ گہرائی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ مثال کے طور پر، فلورس کو 850,000 برس پہلے تک آباد کیا جا چکا تھا۔ اس کے باوجود وہ کھلے سمندر میں جوکھم اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے تھے، اور ان میں سے کوئی بھی امریکہ، آسٹریلیا، یا دور دراز کے جزیروں جیسا کہ مڈغاسکر ، نیوزی لینڈ اور ہوائی نہیں پہنچے تھے۔ 

    سمندری رکاوٹ نے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور پودوں کو بھی اس 'باہری دنیا' تک پہنچنے سے روکا ہوا تھا۔ نتیجتاً، دور دراز کی خشکی جیسا کہ آسٹریلیا اور مڈغاسکر کروڑ ہا برسوں تک بالکل الگ تھلگ ارتقاء پذیر ہوئی، اور اس نے وہ صورت و ماہیت اختیار کی جو ان کے دور دراز افریقی-ایشیائی رشتے داروں سے بہت مختلف تھی۔ سیارہ زمین کئی الگ ماحولیاتی نظاموں میں بٹ گیا تھا، جن میں سے ہر ایک منفرد جانوروں اور پودوں پر مشتمل تھا۔ ہومو سیپیئن اس حیاتیاتی بہتات کو ختم کرنے والا تھے۔ 

    ادراکی انقلاب کے بعد، سیپیئن نے ٹیکنالوجی، تنظیمی صلاحیت، اور شاید افریقی-ایشیائی حد کو توڑنے کی بصیرت اور بیرونی دنیا آباد کرنے کی قابلیت حاصل کر لی تھی۔ ان کی پہلی کامیابی 45,000 برس پہلے آسٹریلیا کی آباد کاری تھی۔ ماہرین نے اس کارنامے کی وضاحت کے لئے کئے نظریئے پیش کئے ہیں۔ آسٹریلیا تک پہنچنے کے لئے، انسانوں کو سمندری نہروں کی ایک بڑی تعداد کو پار کرنا تھا جن میں سے کچھ ایک سو کلومیٹر سے زیادہ وسیع تھیں، بات صرف سمندر کو پار کرنے کی نہیں تھی بلکہ پار کرنے کے بعد نئی جگہ پہنچنے پر ان کو لگ بھگ راتوں رات نئے ماحولیاتی نظام سے مطابقت بھی اختیار کرنا تھی۔ 

    اس بارے میں سب سے زیادہ معقول نظریہ کے مطابق لگ بھگ45,000 سال پہلے، انڈونیشیا کے جزائر (جزائر کا ایک سلسلہ جو ایشیاء سے الگ ہے اور ایک دوسرے سے بھی صرف تنگ خلیج سے الگ ہوتا ہے ) پر رہنے والے سیپیئن نے پہلی ملاحی سماج کو بنایا۔ انہوں نے سیکھ لیا تھا کہ کس طرح سے سمندر میں چلنے والی کشتیاں بنائی اور چلائی جا سکتی ہیں اور وہ طویل فاصلے والے ماہی گیر، تاجر اور کھوجی بن گئے تھے۔ اس نے انسانی صلاحیتوں اور طرز زندگی میں ایک بے مثال تبدیلی کی ہو گی۔ دوسرے تمام ممالئے جو سمندر میں گئے، سمندری گائے، ڈالفن - ان کو ارتقاء پذیر ہونے میں مدتوں لگ گئیں تاکہ وہ خصوصی اعضاء اور ماحرکیاتی جسم کو بنا سکیں۔ انڈونیشیا میں سیپیئن، افریقہ کے سوانا میں رہنے والے قدیم انسانوں کی آل تھے، ان کو اس بات کا انتظار کرنا نہیں پڑا کہ ان کا جسم ان ارتقائی دباؤ سے گزرے جس سے ان کے مچھلی کی طرح کے چوڑے پر بن سکیں اور نہ ہی ان کو اس بات کا انتظار کرنا پڑا کہ ان کی ناک ان کے سروں کے اوپر ہجرت کرے جیسا کہ وہیل نے کی تھی، وہ تو بس بحرالکاہل کے ملاح بن گئے۔ جسمانی تبدیلی کے بجائے انہوں نے کشتیاں بنانا اور ان کو چلانا سیکھ لیا۔ اور اسی مہارت نے ان کو آسٹریلیا پہنچنے اور آباد ہونے کے قابل بنایا۔ 

    اگرچہ یہ بات سچ ہے کہ آثار قدیمہ کے ماہرین کو ابھی تختے، چپو یا ماہی گیروں کے قصبوں کے ثبوتوں کو تلاش کرنا ہے جو 45,000 برس قبل تک پرانے ہوں (ان کی دریافت مشکل ہو گی، کیونکہ بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح نے قدیمی انڈونیشیائی ساحل سمندر کو سینکڑوں میٹر سمندر میں دفن کر دیا ہے )۔ اس بات سے قطع نظر اس نظریئے کی حمایت کرنے کے لئے مضبوط ضمنی ثبوت موجود ہے، خاص طور پر یہ حقیقت کہ آسٹریلیا میں آباد ہونے کے ہزار ہا برس کے بعد، سیپیئن نے اس کے شمال میں بڑی تعداد میں چھوٹے جزیروں کو آباد کیا۔ ان میں سے کچھ جیسا کہ بوکا اور مانس قریبی خشکی سے کھلے پانی میں 200 کلومیٹر دور الگ ہیں۔ اس پر یقین کرنا مشکل ہے کہ کوئی بھی انسان مانس تک بغیر پیچیدہ کشتیوں اور ملاحی مہارت کے پہنچے اور اس کو آباد کر سکے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ ان جزیروں میں کچھ کے درمیان مثلاً نیو آئر لینڈ اور نیو بریٹن میں باقاعدہ تجارت کے مضبوط ثبوت موجود ہیں۔ 1
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: بیرونی دنیا کی آبادکاری Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top