Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ، 26 جولائی، 2019

    آج کی سائنس - اظہار اثر



    آج جس کتاب کا ہم آپ سے تعارف کروا رہے ہیں اس کا نام "آج کی سائنس" ہے اور اس کے مصنف "اظہار اثر" صاحب ہیں۔ریختہ پر موجود اظہار اثر صاحب کا تعارف کچھ اس طرح سے ہے:

    اظہار اثر پہلے ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اردو میں تسلسل کے ساتھ سائنسی فکشن لکھاہے۔ ’آدھی زندگی‘ ’مشینوں کی بغاوت‘ اور ’بیس ہزار سال بعد‘ جیسے سائنسی ناول لکھ کر انہوں نے اردو میں سائنسی فکشن کی روایت کو مضبوط کیا۔ ان کی شاعری بھی ان کے خیال اور فکر کی اسی جہت کو نمایاں کرتی ہے، اس میں سائنسی علم و آگہی سے حاصل ہونے والی بصیرت کے نقوش ملتے ہیں۔ 

    اظہار اثر کرت پور بجنور میں 15 جون 1927 کو پیدا ہوئے تھے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور تلاش معاش میں لگ گئے۔ دہلی میں رہ کر ایک لمبے عرصے تک آزادانہ طور پر صحافتی خدمات انجام دیتے رہے۔ ’بانو‘ اور ’چلمن‘ جیسے رسالوں کی ادارت کی۔ ’ہم قلم‘ کے نام سے ایک پندرہ روزہ ادبی رسالہ جاری کیا اور ایک ڈائجسٹ بھی نکالا۔ اظہار اثر کے جاسوسی، سائنسی اور عوامی پسند کے موضوعات پر مشتمل ناولوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔ 

    15 اپریل 2011 کو انتقال ہوا۔

    مجھے  اظہار اثر صاحب کے سائنس فکشن ناول درکار ہیں اگر کسی کے پاس موجود ہوں تو وہ مجھ سے ان باکس/کمنٹس سیکشن میں رابطہ کرسکتا ہے۔

    آج کی سائنس - اظہار اثر - تعارف 


    اردو میں سائنسی مضامین بہت کم لکھے جاتے ہیں سائنس خود ایک الگ دنیا ہے اور اس کے مختلف علوم وفنون پر عام فہم زبان میں اصطلاحات سے قطع نظر کر کے لکھنا خاصہ دشوار کام ہے ۔ مگر جتنا دشوار ہے اتنا ہی ضروری بھی ہے۔ اردو میں یہ کام اظہاراثر اپنے مضامین کے ذریعے خوبی سے انجام دے رہے ہیں اور اس لحاظ سے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں زیادہ وسعت پیدا کریں اور ان کی کاوشوں کو اردو حلقوں میں زیادہ مقبولیت اور پذیرائی ملے۔ یہ کام آسان نہیں اردو والوں کے مزاج کو بدلنے کا ہے۔ مگر جتنا دشوار کام ہوتا ہے اتنا ہی ہمت اور حوصلے والوں کو اسے انجام دینے میں لطف آتا ہے۔ اظہار اثر صاحب ہمت اور حوصلے سے یہ کام کررہے ہیں امید ہے کہ وہ اپنا حلقہ اور وسیع کریں گے۔ دوسرے لکھنے والوں کو اس طرف متوجہ کریں گے اور سائنسی موضوعات پر باقاعدگی سے اور سلسلے کے ساتھ اردو میں لکھنے والوں کی تہذیب و تربیت کے لئے بھی وقت نکالیں گے ۔ آج کے دور میں سب سے بڑی تخلیقی خدمت یہی ہوگی کہ سائنسی مزاج کو اردو میں مروج اور مقبول کیا جائے۔ 

    اظہار اثر صاحب نے اب تک جس انداز سے اس کام کو سرانجام دیا ہے اس سے امید بندھتی ہے کہ آئندہ بھی سائنس کے مختلف شعبوں کو وہ عام فہم بناسکیں گے اور اردو کے عام پڑھنے والے کے لئے سائنسی موضوعات میں دلچسپی کا وافر سامان فراہم کر سکیں گے۔ سائنس حال اور مستقبل کی کلید ہے اور جو زبان سانس کو جس طرح اور جس آسانی سے اوڑھنا بچھونا بنا لے گی وہ دور نو کی بصیرت کو اسی قدر کامیابی کے ساتھ اپنانے میں کامیاب ہوگی ۔ کام مشکل ضرور ہے مگر مجھے امید ہے کہ اظہار اثر صاحب اردو میں وہ کام کر دکھائیں گے جو ایچ جی ویلز نے انگریزی میں سرانجام دیا تھا۔ 

    محمد حسن 

    مضامین کی فہرست 


    1.جب دماغ سوتا ہے
     2.بجلی کی اقسام
    3.آوازوں کی آلودگی
     4.نیا خون سفید خون
    5. سائنس کی دین
     6.غیر معمولی قوتیں
    7.جمالیات کیا ہے
    8. حیات کیا ہے
    9.مصنوعی شعور
    10.جین تھراپی
     11.انسانی کلونگ ڈرامہ یا حقیقت
    12.کلوننگ
    13.علم نجوم سے علم فلکیات تک
     14.اڑن طشتریاں
    15.نظر به امکانات
     16.بنت افلاک سے آگے
    17.مختصر کہانی زبان اور تحریر کی
     18.نینو ٹیکنالوجی
     19.نوبل انعام یافتہ سائنسدان

    کتاب کو اس ربط سے پڑھا اور ڈاونلوڈ کیا جاسکتا ہے۔


    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    1 comments:

    TaemeerNews کہا... 23 فروری، 2021 4:08 PM

    ناول: تھری ایکس
    مصنف: اظہار اثر (صفحات: 206)۔
    سائنس اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ خیالات کی لہریں بھی مادہ ہیں اور روشنی کی لہروں یا حرارت کی لہروں کی طرح ان لہروں میں بھی طاقت ہوتی ہے۔ اگر آپ کے دماغ میں اس قسم کی طاقت ور لہریں خارج کرنے کی قوت ہے تو آپ بھی نظروں سے چیزیں اٹھا سکتے ہیں۔ اگر آپ ان لہروں سے کام لینا جان لیں تو اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ آپ حادثوں سے بچ سکتے ہیں۔ کاروبار میں شرطیہ کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ بیماریوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ سوال صرف صلاحیت کا ہے۔ کیا آپ کے دماغ میں وہ لہریں خارج کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا وہ لہریں کافی طاقت ور ہیں؟ یہ بات طے شدہ ہے کہ قوتِ ارادی کا انحصار انہی لہروں پر ہوتا ہے۔ جس فرد کے دماغ سے خارج ہونے والی لہریں جس قدر زیادہ طاقت ور ہوں گی اسی قدر اس شخص کو اپنے اوپر اعتماد ہوگا اور اس کی قوتِ ارادی مضبوط ہوگی۔
    اب ذرا تصور کیجیے۔ ہمارا دماغ جس کا حجم مشکل سے چار پانچ انچ لمبائی میں اور دو تین انچ چوڑائی میں ہوتا ہے، اگر اس کو کسی طرح ہم دس بارہ فٹ لمبا اور اتنا ہی چوڑا کر دیں، یعنی ہمارا دماغ اپنی موجودہ جسامت سے ایک ہزار گنا بڑا ہو جائے تو کیا اس عظیم دماغ سے خارج ہونے والی لہریں حیرت انگیز حد تک طاقت ور نہیں ہوں گی؟ کیا اس قسم کے دماغ کی قوتِ ارادی خوفناک حد تک طاقتور نہیں ہوگی؟
    زیر نطر ناول اسی قسم کے ایک تجربہ کی داستان ہے۔
    https://www.taemeernews.com/2021/02/three-x-novel-izhar-asar-pdf.html

    Item Reviewed: آج کی سائنس - اظہار اثر Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top