Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    منگل، 2 جون، 2015

    بگ بینگ

    بگ بینگ - Big Bang (انفجار عظیم یا دھماکہ عظیم)

    How The Universe Works – Season 1, Episode 1

    کائنات میں ارب ہا ارب کہکشائیں(Galaxies)موجود ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کائنات ہمارے تصور سے بھی زیادہ وسیع ہے۔اکثر ہمارے ذہنوں میں یہ سوال کلبلاتا ہے کہ یہ اتنی بڑی اور ہمہ دم وسعت پذیر کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی؟ سائنس دانوں کے مطابق آج سے لگ بھگ 14 ارب سال پہلے کچھ بھی موجود نہیں تھا۔ ماہرین فلکیات کی تحقیق و مطالعے کے مطابق، کائنات کی ابتداء آج سے تقریباً 13 ارب 80 کروڑ سال پہلے ہوئی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ زمان و مکان (Time and Space) کا آغاز بگ بینگ (انفجار عظیم یا زبردست دھماکے) سے ہوا تھا۔ ہم اس باب میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کائنات کی ابتداء کیسے ہوئی۔ہمارا یہ سفر، زمان و مکان کے راستے سے ہوتا ہوا، ابتدائے کائنات سے شروع ہوکر اس کے انجام تک پہنچے گا۔ تو آئیے، اس عظیم الشان سفر کی ابتداء کرتے ہیں۔

    کرۂ ارض ہماری دنیا ہے۔ شہر، جنگل، سمندر اور لوگ، غرض ہر وہ چیز جو اس دنیا اور کائنات میں موجود ہے، اسی مادّے سے بنی ہے جو بگ بینگ کے ابتدائی چند سیکنڈوں میں تخلیق ہوگیا تھا۔ ہر ستارہ، ہر سیارہ، گھاس کا ہر پتّا، پانی کی ہر اِک بوند، ہر ایک جوہر، یہ سب کے سب اسی مادّے سے پیدا ہوئے ہیں۔ ہائیڈروجن کے وہ ایٹم جو کائنات میں بکثرت پائے جاتے ہیں، ان کے مرکزے بھی بگ بینگ کے چند لمحوں بعد ہی وجود میں آگئے تھے ۔ بگ بینگ، کائنات کی پیدائش کا، اس عظیم الشان کارخانہ قدرت کی ابتداء کا معیّن واقعہ ہے۔ ہمارا ما ضی، حال اور مستقبل، سب کچھ اسی ایک اہم واقعے میں قید ہیں۔ لیکن یہ سب جاننے کے لئے ہمیں بہت دُورکا سفر کرنا ہوگا… ہمیں نظام شمسی کے پار، اپنی کہکشاں مِلکی وے (Milky Way) سے بھی بہت آگے جانا ہوگا۔

    جب ہم خلاء میں دیکھتے ہیں تو دراصل ہم ما ضی میں جھانک رہے ہوتے ہیں۔ خلاء میں بہت دُور تک دیکھنے پر ہم اس قابل ہوتے ہیں کے زمانے کی، اس زمان و مکان کی، اس کائنات کی ابتداء کو دیکھ سکیں۔ پہلی نوزائیدہ کہکشاں اور اس میں موجود پہلے ستارے کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے، ہم کائنات کے بالکل ابتدائی دور میں آچکے ہیں۔

    بگ بینگ اس وقت سائنس کی سب سے بڑی پہیلی ہے۔ دراصل ہم جاننا چاہتے ہیں کے بگ بینگ کے موقعے پر کیا ہوا ، کیسے ہوا ، اور کیوں ہوا تھا ؟ اور اس سے پہلے کیا تھا… اگر ہم واقعی جان سکیں۔ ان سب سوالوں کے جوابوں کے لئے سائنس داں ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے بڑی بڑی عظیم الجثہ مشینیں اور طاقتور دوربینیں بنائیں، تاکہ وہ ان تمام حالات کی نقل کر سکیں کہ جب کائنات اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل سے گزر رہی تھی؛ ان لمحوں کی باقیات دیکھ سکیں کہ جب ایک ننھی سی کائنات میں ہنگامہ بپا تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم اس حقیقت سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں کہ آخر ہم یہاں کیوں ہیں؛ اور کہاں سے آئے ہیں ۔کیا واقعی کائنات کا کوئی نقطہ آغاز تھا ؟ اس کا انجام کیا ہوگا ؟ اگر ہم نے ان سوالات کےمکمل جوابات حاصل کرلئے، تو یہ انسانیت کی سب سے شاندار فتح ہوگی۔ شاید تب ہم یہ جان سکیں کے خدا نے اسے کیوں تخلیق کیا ہے۔ بگ بینگ کی ابتداء ایک سربستہ راز ہے؛ اور جیسے جیسے ہمارا علم بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے یہ راز اور بھی گہرا ہوتا جارہا ہے۔ سرِدست ہم پورے وثوق سے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہماری کائنات ایک منفرد جگہ ہے۔ شاید ہماری کائنات، کئی دوسری کائناتوں میں سے ایک ہو۔ بہت ممکن ہے کہ یہ بگ بینگ جس کے نتیجے میں ہماری کائنات ظہور پذیر ہوئی، وہ دوسرے کئی ‘‘بگ بینگوں’’ میں سے کوئی ایک ہو۔ یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بگ بینگ تو ایک ہی رہا ہو مگر اس کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والی لاتعداد کائناتوں میں سے ایک، ہماری کائنات بھی ہو۔ یہ بھی عین ممکن ہے کے ان لاتعداد کائناتوں میں کچھ جگہیں ایسی بھی ہوں جہاں اب بھی بگ بینگ وقوع پذیر ہورہا ہو؛ وہ کائناتیں ابھی اپنی ابتداء اور تخلیق کے مراحل ہی طے کررہی ہوں۔ لیکن فی الحال تو ہم صرف اپنی کائنات کے بارے میں ہی بات کر سکتے ہیں؛ اگرچہ اسے سمجھنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ بقول آئن اسٹائن: ‘‘کائنات کی سب سے ناقابلِ فہم بات یہی ہے کہ یہ قابلِ فہم ہے۔’’

    1960ء کی دہائی کے اختتام سے ذرا پہلے تک جو کچھ ہم کائنات سے متعلق جانتے تھے، اس عشرے کے اختتام پر وہ سب کچھ بالکل تبدیل ہوکر رہ گیا۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ پچھلی یعنی بیسویں صدی میں کائنات سے متعلق ہماری سوجھ بوجھ کس حد تک بدل گئی تھی۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ہم سمجھتے تھے کہ کائنات ابدی اور سا کن ہے۔ یہ ہمیشہ سے ہے، اور ایسی ہی ہے جیسی کہ یہ ہے۔ لیکن 1929ء میں یہ سب کچھ بدل کر رہ گیا۔ امریکی شہر لاس اینجلس میں مشہور زمانہ ماؤنٹ ولسن رصد گاہ (Mount Wilson Observatory) واقع ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں 1929ء میں ماہر فلکیات ایڈوِن ہبل(Edwin Hubble) نے دریافت کیا کہ کائنات صرف ہماری کہکشاں، ملکی وے پر ہی مشتمل نہیں بلکہ اس میں ان گنت کہکشائیں ہیں۔ ان میں سے کوئی کہکشاں بھی اپنی جگہ پر ساکن نہیں۔ اس کے برعکس، کہکشائیں نہ صرف مسلسل تیزی سے حرکت کررہی ہیں بلکہ وہ نا قابل یقین رفتار کے ساتھ ہماری زمین سے دُور ہوتی جارہی ہیں۔ دراصل یہ بگ بینگ سے متعلق پہلی شہادت تھی۔ اوسطاً تمام کہکشائیں ہم سے دور بھاگ رہی ہیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ جو کہکشاں ہم سے جتنی زیادہ دور ہے وہ اتنی زیادہ تیزی سے ہم سے اور دُور ہوتی جارہی ہے۔ مثلاً اگر کوئی کہکشاں ہم سے دگنے فاصلے پر ہے تو وہ دگنی رفتار سے مزید دور ہورہی ہے؛ اور اگر تین گنا فاصلے پر ہے تو تین گنا رفتار سے دور بھاگتی جارہی ہے… علیٰ ہٰذالقیاس۔ ہر چیز ہم سے دور بھاگ رہی ہے، آج ہم اس کُلئے کو ‘‘ ہبل کے قانون’’ (Hubble’s Law)کے نام سے جانتے ہیں۔

    مگر ہبل کی یہ دریافت تو صرف ابتداء تھی۔ کہکشاؤں کے حرکت سے ہبل نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماضی کے کسی موقعے پر یہ ساری کی ساری کائنات یقیناً کسی ایک جگہ پر، یکجا ضرور رہی ہوگی۔ کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار سے ماہرین فلکیات نے اندازہ لگایا کہ یہ تمام کا تمام مادّہ کب، آج سے کتنا عرصہ پہلے، یکجا رہا ہوگا۔

    اکثر ہمارے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب ہم کائنات کی پیدائش کے وقت موجود ہی نہیں تھے تو ہمیں کیسے پتا چلا کہ کائنات کی عمر ۱۳ اَرب ۸۰ کروڑ سال کے لگ بھگ ہے۔ اس بات کو ہم ایک سادہ مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ہم جب کوئی ویڈیو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ہم اسے روکنے (Stop) اور پیچھے (Rewind) کرنے پر بھی قادر ہوتے ہیں۔ ہم اسے دوبارہ بھی چلا سکتے ہیں۔ کونیات میں بھی بالکل ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب ہم کونیاتی دھماکے کی بات کرتے ہیں تو یہ ویڈیو والی مثال اس پر صادق آتی ہے۔ ماضی میں جھانکنے کے لئے ماہر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب آپ نگاہ اٹھا کر آسمان میں رات کو ستارے دیکھتے ہیں تو دراصل ان کی روشنی آپ تک کروڑوں نوری سال(Light Year) کا فاصلہ طے کر کے پہنچ رہی ہوتی ہے۔اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ ان ستاروں کی روشنی کو ہم تک پہنچنے کے لئے کروڑوں سال درکار ہیں۔ لہٰذا اگر آپ اور بھی دور تک دیکھنے کے قابل ہوجائیں، تو دراصل آپ اور بھی پرانی، اور بھی زیادہ قدیم کائنات کا نظارہ کررہے ہوں گے۔ کائنات کی گہرائی میں دیکھتے چلے جائیے، اور ہوتے ہوتے ایک مقام وہ بھی آئے گا جو ہم سے اربوں نوری سال دور ہوگا؛ اور وہاں آپ اس کائنات کو اس کے اوّلین وقت میں دیکھ سکیں گے۔ ہبل خلائی دوربین کے ذریعے (جسے ایڈوِن ہبل کی خدمات کے اعتراف میں یہ نام دیا گیا ہے) ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ خلائے بسیط میں، کائناتی ماضی کے جھروکوں میں جھانک سکیں (ملاحظہ کیجئے: تصویر نمبر١ اور ٢)۔خلاء میں ہم جتنا زیادہ دور تک دیکھ سکیں، ہم اتنا ہی قریب سے بگ بینگ کوبھی دیکھ سکیں گے۔ سائنس دانوں کے لئے بگ بینگ کی ابتداء کو دیکھنا تو بس ابتدائے عشق جیسا معاملہ ہے!
    عام آدمی جب بگ بینگ کے بارے میں سنتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ یہ کس جگہ وقوع پذیر ہوا تھا؟ اس کا سادہ جواب ہے کہ یہ ہر جگہ وقوع پذیر ہوا تھا،کیونکہ کائنات اس وقت انتہائی مختصرسی جگہ تھی۔ کائنات کے متعلق ابھی ہمارا نظریہ بہت مبہم اور مشکل ہے۔ مگردماغ کی چولیں ہلا دینے والاسوال تو یہ ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ قدیم زمانے کے اہلِ علم اکثر یہ کہتے تھے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز عدم (Nothingness) سے اچانک وجود میں آ جائے! حیرت انگیز طور پر، قوانینِ طبیعیات کی روشنی میں ایسا ہونا بالکل ممکن ہے۔سیدھے لفظوں میں بات یہ ہے کہ ہماری پوری کائنات اور اس میں موجود ہر شئے بشمول کھاناپینا،او ڑھنابچھونا، ہماری عزیز ترین چیزیں وغیرہ، سب کی سب اچانک عدم سے وجود میں آگئیں۔ آج بگ بینگ کو سمجھنے میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ کائنات کا عدم سے وجود میں آنا ہی ہے۔

    سب سے پہلے تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کائنات عدم سے وجود میں آئی ہے۔ یہ یقیناً نا ممکن سی بات ہے اور اس بات کو سمجھنا انسانی ذہن کے لئے آسان نہیں۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ عدم سے اچانک لامحدود توانائی اور لامحدود کثافت نے جنم لیا۔ اور تو اور اس زمان و مکان نے، اس خلاء اور وقت نے بھی اسی عدم سے وجود پایا ہے۔ کائنات کا سب سے بڑا اسرار، اس کا عدم سے وجود میں آنا ہی ہے۔ لیکن اگر آپ نے عدم سے وجود کو سمجھنا شروع کردیا تو گویا آپ نے بگ بینگ کو سمجھنا شروع کردیا۔آغازِ وقت پر کائنات ایک عظیم دھماکے سے وجود میں آگئی۔ کائنات اس وقت دراصل ایک نقطہ تھی۔ یہ نقطہ لامحدود طور پر چھوٹا، نا قابلِ تصور حد تک گرم اور لا محدود و لا متناہی کثافت و توانائی پر مشتمل تھا۔ ہم بگ بینگ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سارے کا سارا مادّہ اور توانائی جو کہ آج ہم تقریباً چار کھرب کہکشاؤں میں ہم دیکھتے ہیں، وہ سب کا سب اس ایک نقطے میں قید تھا، جس کی جسامت ایک سادہ ترین ہائیڈروجن کے ایٹم سے بھی کم تھی۔ تمام قابل مشاہدہ تمام کائنات، اُس وقت صرف ایک سینٹی میٹر کے بھی کروڑ ہا کروڑویں حصے جتنی مختصر تھی۔ ہر چیز ناقابل یقین حد تک کثیف اور گرم تھی۔اس وقت تک مادّہ وجود میں نہیں آیا تھا۔ بس توانائی ایک بھپری ہوئی شکل میں موجود تھی۔ بس یہی نقطہ آغاز تھا ہماری کائنات اور اس میں موجود ہر چیز کا۔

    اس وقت ہر چیز بہت ہی سادہ تھی۔ کائنات کی وہ تمام بنیادی قوّتیں جنہیں ہم آج جانتے ہیں، وہ سب ایک اور یکجا تھیں۔اس وقت کائنات کسی خاص ترتیب میں نہیں ڈھلی ہوئی تھی؛ نہ ہی اس کی کوئی ساخت تھی۔ اس اوّلین وقت میں قوانین طبیعیات (جنہوں نے کائنات کو اس کی موجودہ شکل و صورت دی ہے) بذات خود تشکیل پارہے تھے۔ کشش ثقل (Gravity) پہلی قوّت کے طور پر نمودار ہوئی۔ کائنات اور اس میں موجود ہر چیز کی قسمت کا فیصلہ اسی وقت ہو گیا تھا۔

    کارلوس فرینک (Carlos Frenk) نے ایک سپر کمپیوٹر پر مصنوعی طریقے (سمیولیشن) سے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کس طرح کشش ثقل نے کائنات کو اس کی موجودہ شکل دی۔ یہ جاننے کےلئے انہوں نے کئی طرح کی (مصنوعی) کائناتیں (سپر کمپیوٹر پر) تشکیل دیں اور ان میں کشش ثقل کی مختلف قیمتیں رکھیں۔ انہوں نے پہلی سمیولیشن میں کشش ثقل کی قیمت (یعنی اس قوت کی شدت)، اس کی موجودہ سے قیمت سے بہت کم رکھی؛ جس کا نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا۔ اتنی کم ثقلی قوّت کے ساتھ مادّہ ایک ساتھ یکجا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ یعنی قوّت ثقل کی موزوں شدت نے ہمیں بچالیا؛ کیونکہ اگر یہ اپنی موجودہ قیمت سے تھوڑ سی بھی کم ہوتی تو ہماری کائنات بہت ہی بیزارکن جگہ ہوتی۔ ایک ایسی جگہ جہاں ہر چیز ایک دوسرے سے دور بھاگ رہی ہوتی۔ اور جب مادّہ ہی ایک جگہ جمع نہ ہوتا توستاروں کوجنم دینے والے، گردو غبار کے بادل کیسے وجود میں آتے۔ہماری کائنات کو اس کی موجودہ شکل و صورت دینے میں ثقلی قوّت کا بڑا ہی اہم کردار ہے۔ اگر ثقلی قوّت اپنی موجودہ شدت سے ذرا بھی کم ہوتی تو ستارے ہوتے نہ ان سے بھری کہکشائیں؛ اورنہ ہی کچھ اور۔

    ایک اور سمیولیشن میں فرینک نے قوتِ ثقل کی شدت، اس کی موجودہ کیفیت کے مقابلے میں زیادہ رکھی۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات: اگر کشش ثقل اپنی موجودہ شدت سے ذرا بھی زیادہ مضبوط ہوتی تو کائنات، اپنی ابتداء کے کچھ ہی عرصے بعد ایک بلیک ہول کی شکل میں سمٹ کر ختم ہوجاتی۔

    مختصر یہ کہ کائنات کی تشکیل سے لے کر اس کی موجودہ شکل و صورت کو برقرار رکھنے تک کے لئے ثقلی قوّت کوبالکل اتنا ہی طاقتور، عین اتنا ہی شدید ہونا چاہئے تھا کہ جتنی یہ اس وقت ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ بگ بینگ سے وجود پذیر ہونے والی قوتِ ثقل ٹھیک اتنی ہی مضبوط تھی کہ جتنا اسے (ہماری اپنی تخلیق و تشکیل کےلئے) ہونا چاہئے تھا۔

    پہلے سیکنڈ کے کچھ ابتدائی حصّے میں، جب ثقلی قوّت وجود میں آ گئی تھی اور مختلف قوتوں کی ہنگامہ خیزی جاری تھی، توانائی کی ایک زبردست صدماتی لہر (شاک ویو) پھوٹ پڑی اور کائنات، ناقابل تصور رفتار سے ہر طرف پھیل گئی۔ صرف ایک سیکنڈ کے کچھ حصّے میں ہی کائنات ناقابل یقین حد تک پھیل چکی تھی! ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سیکنڈ کےسو کھربویں حصّے کے بھی سو کھربویں حصّے کے دوران یہ کائنات ایک کھرب کھرب گنا سے بھی زیادہ پھیل چکی تھی۔ آج اس مرحلے کو ہم ‘‘کائنات کا افراط زدہ پھیلاؤ’’ کہتے ہیں۔

    تب کائنات کے پھیلنے کی رفتار، روشنی کی رفتار سے بھی تیز تھی۔ یہ تو سائنس سے مناسب واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کرسکتی۔ تو پھر خلاء کس طرح روشنی کی رفتار سے تیز سفر کرسکتی ہے؟ تو کیا اس نے طبیعیات کا قانون توڑ نہیں دیا تھا؟ یہ بات تو چوٹی کے سائنس دنوں کو بھی پریشان کئے رکھتی ہے۔ مگر اہم بات اُس وقت کی کائنات کو جاننا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ ہائیڈروجن کا ایک سادہ ایٹم اتنے ہی وقت میں پھیل کرگولف کی ایک گیند جتنا ہوجائے ۔ہمارے لئے شاید ایٹم اورگولف کی گیند کے حجم کو سمجھنا مشکل ہو، لیکن اگرگولف کی ایک گیند پھیل کر، اتنے ہی وقت میں، دنیا کے گولے جتنی بڑی ہوجائے، تو شاید ہمیں بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ یہ تو پھر وہی بات ہوگی جس کا مطلب روشنی کے رفتار سے بھی زیادہ ہوا۔ بات دراصل یہ ہے کہ ابتدائے وقت میں بہت ساری چیزیں جو ایک دوسرے کے بہت ہی قریب تھیں، بہت ہی تیزی کے ساتھ وقوع پذیر ہوئیں۔ اس بات کو صحیح طریقے سے سمجھنے کے لئے ہمیں وقت کی ایک نئی اکائی تخلیق کرنا ہوگی: پلانک وقت (Planck Time)۔

    پلانک وقت کتنا مختصرپیمانہ ہوتا ہے؟ اسے سمجھنے کےلئے یہ جان لیجئے کہ صرف ایک سیکنڈ میں پلانک وقت کی جتنی اکائیوں کی تعداد ہوتی ہے، وہ ان تمام سیکنڈوں سے بھی زیادہ ہیں جو بگ بینگ سے لے کر آج تک گزر چکے ہیں! آج بگ بینگ ہوئے تقریباً ۱۳ اَرب ۸۰ کروڑ سال ہوچکے ہیں۔ حساب کتاب میں آسانی کی غرض سے ہم انہیں پورے ۱۴ اَرب سال مان لیتے ہیں۔ اب اس ۱۴ اَرب (۱۴۰۰۰۰۰۰۰۰۰) کو ایک سال کے دوران گزرنے والے سیکنڈوں کی مجموعی تعداد (یعنی ٣١،٥٥٦،٩٢٦ سیکنڈ) سے ضرب دیجئے تو اس سے حاصل ہونے والا جواب واقعی میں سِٹّی گُمادینے والاعدد ہوگا۔ وقت کا یہ پیمانہ، یعنی پلانک وقت، اس قدر مختصر ہے کہ انسان اس کا ادراک ہی نہیں کرسکتا۔ اگر ہم اپنی گھڑی کو دیکھتے ہوئے ایک سیکنڈ کو پلانک وقت میں ناپنے کی کوشش کریں تو وہ کتنے پلانک وقت پر مشتمل ہوگا؟ وہ ایک ارب ارب ارب ارب ارب پلانک سیکنڈوں پر مشتمل ہوگا!

    چلئے، اب واپس بگ بینگ شروع ہونے کے اوّلین وقت کی طرف چلتے ہیں۔ اس وقت بگ بینگ کی عمر صرف چند پلانک سیکنڈ ہی تھی۔ اُس وقت مادّہ نہایت ہی تیزی کے ساتھ کائنات میں پھیل رہا تھا۔ اگلے چند پلانک سیکنڈوں میں کائنات، جیسا کہ اس کے بارے میں ہم اب تک جان پائے ہیں، پیدا ہوچکی تھی۔ ہتھیلی پر سما جانے والی یہ چھوٹی سی کائنات، صرف ایک سیکنڈ کے بہت ہی معمولی حصے میں پھیل کر ہمارے کرۂ ارض جتنی جسامت کی ہوگئی؛ اور پھر اسی قدر معمولی وقت کے دوران یہ مزید پھیل کر ہمارے نظامِ شمسی سے بھی بڑی ہوگئی!

    اُس وقت تک کائنات ایک بپھری ہوئی توانائی کا طوفان تھی۔ وہ لامحدودو لا متناہی طور پر گرم اور کثیف تھی؛ جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ بس اتنا سمجھ لیجئے کہ اس کے مقابلے پر کسی بھی ستارے کا قلب (جس کا درجہ حرارت کروڑوں ڈگری سینٹی گریڈ میں ہوتا ہے) بہت ہی ٹھنڈا اور پُرسکون لگےگا۔ اُس وقت درجہ حرارت اس حد تک تھاکہ ہمارا جسم ریزہ ریزہ ہوجاتا۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس درجہ حرارت میں ایٹم بھی اپنا وجود قائم نہ رکھ سکیں گے۔ اس وقت درجہ حرارت دسیوں کھرب ڈگری تک جا پہنچا تھا۔ جیسے جیسے کائنات پھیلتی گئی، ویسے ویسے اس کا درجہ حرارت بھی کم ہوتا گیا۔کم ہوتے درجہ حرارت نے کائناتی ارتقاء کے اگلے مرحلے میں اہم کردار ادا کیا۔ عظیم دھماکے (بگ بینگ) سے پیدا ہونے والی خالص توانائی ایٹم کے ذیلی ذرات (Subatomic Particles) میں تبدیل ہونا شروع ہوگئی۔ یہ ہماری کائنات میں تشکیل پانے والا اوّلین مادّہ تھا۔

    توانائی کے مادّے میں تبدیل ہونے کا تصور سب سے پہلے البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) نے، بگ بینگ کے نظریئے سے بھی بہت پہلے دیا تھا۔ یہ وہی سائنسی مساوات ہے جسے تقریبا ً سب ہی جانتے ہیں؛ یعنی E = mc2۔ (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٣۔)
    یہی کلیہ ہمیں تخلیق کائنات کے بارے میں آگہی دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کائنات کی ابتداءصرف اور صرف خالص توانائی سے ہوئی تھی؛ جس سے بعد میں مادّہ پیدا ہوا۔ توانائی اور مادّہ ایک ہی چیز کی دو مختلف شکلیں ہیں؛ ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ مادّہ، توانائی میں اور توانائی، مادّے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ہم کائنات کی ہر چیز اس خالص توانائی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ آئن اسٹائن کی یہ چھوٹی سی مساوات نہایت ہی پُراثر ہے۔ اسی کی بنیاد پر پہلا ایٹم بم بنایا گیا۔
    نیو کلیائی دھماکے میں مادّے کی تھوڑی سی مقدار زبردست توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کائنات کی تشکیل میں اس کا بالکل الٹ ہورہا تھا۔

    خالص توانائی، مادّے میں تبدیل ہو رہی تھی۔ شروع میں مادّے کی ضرورت نہیں تھی، بس توانائی ہی چاہئے تھی۔ صرف توانائی ہی سے مکمل کائنات وجود میں آ سکتی تھی۔ بگ بینگ کے پہلے سیکنڈ کے کچھ ہی حصّے میں کائنات کو بنیاد فراہم کرنے والے ذیلی ایٹمی ذرّات بننا شروع ہوگئے تھے۔ اوّلین وقت میں وجود آنے والا مادّہ، اس مادّے سے بہت مختلف تھا کہ جس کا ہم آج کل مشاہدہ کرتے ہیں۔ اب ہم جان چکے ہیں کہ عام مادّہ، بگ بینگ کی ابتداء میں بننے والے مادّے سے نہایت مختلف تھا؛ جس کی وجہ اس وقت کی وہ انتہائی صورتحال تھی جس نے اس وقت تک کسی بھی کوئی ایٹم کو پنپنے نہیں دیا تھا۔ بس سارا مادّہ ذیلی ایٹمی ذرّات (سب اٹامک پارٹیکلز) ہی پر مشتمل تھا۔ بگ بینگ کے وقت کائنات انتہاء درجے کی گرم اور کثیف تھی۔ وہ لامحدود و لا متناہی توانائی پر مشتمل تھی۔ اس وقت مادّہ کے توانائی میں اور توانائی کے مادّے میں تبدیل ہونے کا سلسلہ جاری تھا۔ تخلیق ہونے والا یہ اوّلین مادّہ اتنا غیر قیام پذیر تھا کہ وہ اس کائنات کو تشکیل دینے کی ابتداء کر ہی نہیں سکتا تھا کہ جس سے ہم واقف ہیں۔

    اس بات کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں:آپ کسی بڑے بازار کا منظر اس کے مصروف اوقات کار میں تصور کیجئے۔ اس بازار کو ابتدائی کائنات، اور بھیڑ سے نکلنے اور اس میں گم ہوجانے والے لوگوں کو ذیلی ایٹمی ذرّات سمجھئے۔ اگر آپ نے ایک بڑے ہجوم کا تصور کرلیا تو آپ دیکھیں گے کے بھیڑ میں سے لوگوں کا نکلنا اور اس میں گم ہونا کسی خاص ترتیب سے نہیں ہوگا بلکہ وہ بالکل بےترتیب ہوگا۔ لوگوں کی یہ حرکت خاصی حد تک کائنات کے ابتدائی وقت میں ذیلی ایٹمی ذرّوں کی حرکات سے مِلتی جُلتی ہے۔ ابتدائی کائنات کے انتہائی شدید درجہ حرارت نےتوانائی سے بھرپورذیلی ایٹمی ذرّوں میں زبردست ہلچل پیدا کردی تھی۔ وہ وجود میں آتے اور فوراً ہی توانائی میں تحلیل ہوکر غائب ہوجاتے۔ ان کا اس طرح سے حاضر اور غائب ہونا ناقابل یقین رفتار اور عجیب افراتفری کے انداز میں ہو رہا تھا۔

    اب ذرا تصور کیجئے کہ کسی ریلوے ا سٹیشن پر لوگ ٹرین میں جلدی جلدی میں سوار ہونے کی کوشش کر رہے ہوں تو کیا ہوگا؟ شروع میں لوگ شدید دباؤ میں ہوں گے، ہر ایک جلدی جلدی ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش کررہا ہوگا۔ مگر جیسے جیسے رش کم ہوگا، ویسے ویسے لوگ پُرسکون ہو کر ٹرین پر سوارہوں گے۔ ابتدائی کائنات میں ذیلی ایٹمی ذرّات کا برتاؤ بھی بالکل ایسا ہی تھا۔ شروع میں ذرّات بہت تیزی سے حرکت کررہے تھے۔ مگر پھر ان کی حرکت بتدریج دھیمی پڑتی چلی گئی۔ اور ساتھ ہی ساتھ ان میں بے ترتیبی (randomness) کا عنصر بھی خاصا کم ہوتا چلا گیا۔ کائنات کے درجہ حرارت میں جب خاصی کمی ہوگئی تو ذرّات نے واپس توانائی میں تبدیل ہونا تقریباً بند کردیا۔ اس وقت بس ذیلی ایٹمی ذرّات ہی ہر جگہ موجود تھے۔درجہ حرارت میں بہت کمی ہوجانے کے باوجود،کائنات میں اب بھی بہت گرمی اور ہنگامہ خیزی جاری تھی۔ یہ سب کچھ ایک سیکنڈ کے کچھ ہی حصّے میں ہورہا تھا۔ بگ بینگ اپنے پہلے سیکنڈ کے سب سے اہم حصّے میں داخل ہو رہا تھا۔

    اسی مرحلے پر ایک جنگ، مادّہ اور ضد مادّہ (Antimatter) میں شروع ہوچکی تھی۔ ضد مادّہ، کائنات کو تشکیل پانے سے پہلے ہی ختم کرسکتا تھا۔ کائنات کی ہر چیز،جس میں چھوٹے سے ذرّے سے لے کر عظیم الجثہ ستارے تک شامل ہیں، مادّے سے بنی ہوئی ہے۔ اور سارے کا سارا مادّہ بگ بینگ کی خالص توانائی ہی سے تخلیق ہوا ہے۔

    آئن اسٹائن مشہورِزمانہ مساوات ہمیں بتاتی ہے کہ مادّہ اور توانائی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔جب آئن ا سٹائن نے یہ تصور پیش کیا تھا تووہ صرف ایک مفروضہ ہی تھا۔ مگر آج سائنس اس تصور کو پرکھ چکی ہے۔ ذرّاتی طبیعیات کی مشہور یورپی تجربہ گاہ ‘‘سرن’’ (CERN) سوئٹزر لینڈ میں واقع ہے؛ جہاں دنیا کی سب سے بڑی مشین موجود ہے۔ یہ مشین ایک شہر جتنی بڑی ہے۔ اسے خاص اسی مقصد کے لئے بنایا ہے کہ اس میں بگ بینگ کے وقت کی صورتحال کو دوبارہ چھوٹے پیمانے پر تخلیق کیا جاسکے۔ہم جتنے خردبینی ماحول میں اسے جانچنا چا ہتے ہیں، اتنی ہی بڑی مشین ہمیں درکار ہو گی۔ یعنی جتنے چھوٹے پیمانے پرتجزیہ درکار ہوگا، اتنی ہی بڑی مشین بھی درکار ہوگی۔ فی الحال اس طرح کے تجزیئے اورمطالعے کا دوسرا کوئی طریقہ دستیاب نہیں۔ بڑی مشین کا مطلب نہایت ہی چھوٹے پیمانے پر طبیعیات کی جانچ پڑتال کرنا ہے؛ جو ہمیں ابتدائے زمان و مکاں، یعنی کائنات کی پیدائش کے اوّلین وقت کے ماحول کا تجزیہ کرنے میں مدد کرے گی۔ اس کے سوا ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔

    سرن میں واقع اس جناتی مشین کو ‘‘تصادم گر’’ (کولائیڈر) کہتے ہیں؛ جس کا پورا نام ‘‘لارج ہیڈرون کولائیڈر’’ (The Large Hadron Collider) ہے۔ یہ مشین خاص طور پر اس لئے بنائی ہے تاکہ ہم اس میں بگ بینگ کے اوّلین وقت کا مطالعہ کرسکیں۔یہ تقریباً ١٢ فٹ چوڑی، کنکریٹ سے بنی گول سرنگوں پر مشتمل ہے۔ ان سرنگوں کی مجموعی لمبائی لگ بھگ ١٧ میل ہے۔ اس مشین میں مادّے کے چھوٹے ذرّات (پروٹونوں) کو قریب قریب روشنی کی رفتار تک پہنچاکر آپس میں ٹکرایا جاسکتا ہے۔ اس عمل میں ایک سیکنڈ کے کچھ حصّے تک ہی رہنے والی زبردست توانائی پیداہوتی ہے۔بالکل اسی طرح جیسے آج سے ۱۳ اَرب ۸۰ کروڑ سال پہلے، بگ بینگ سے توانائی پیدا ہوئی تھی۔اور پھر یہ خالص توانائی، مادّے میں تبدیل ہوجاتی ہے؛ بالکل ویسے ہی جیسے بگ بینگ کے فوراً بعد، ابتدائے کائنات میں ہوئی تھی۔ اس تصادم کی سراغرسانی کرنے کےلئے بھی ہمیں اتنا ہی بڑا کوئی سراغرساں آلہ درکار ہوگا۔ لارج ہیڈرون کولائیڈر میں بھی ایسا ہی ایک دیوقامت سراغرساں (Giant Detector) نصب ہے۔ (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٤۔)
    یہ ڈٹیکٹر پانچ منزلہ عمارت جتنا اونچا اور تقریباً٧ ہزار ٹن وزنی ہے۔٧ ہزار ٹن! پڑھنے میں بہت معمولی سا لگتا ہے مگر پورے آئفل ٹاور کا وزن بھی اس سے زیادہ نہیں۔ مگر اپنے اس حجم کے باوجود بھی یہ مادّے کے ان ذرّات کو نہیں دیکھ سکتا۔ وہ تو ایک سیکنڈ کے بہت ہی معمولی حصے میں نمودار ہوکر غائب بھی ہوجاتے ہیں۔ البتہ، اپنے پیچھے کچھ نشانیاں ضرور چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ دیوقامت سراغرساں، ان ہی نشانیوں کا مشاہدہ کر پاتا ہے۔ یا پھر یوں کہئے کہ یہ سانپ گزرجانے کے بعد لکیر پیٹتا رہ جاتا ہے۔ لیکن لیکن یہی لکیر، وجود پذیر ہوکر غائب ہوجانے والے ذرّات کی نشانیاں، ہمیں بہت کچھ جاننے میں مدد دیتی ہیں۔ ان ذرّات میں بہت زیادہ توانائی ہوتی ہے؛ اور وہ بہت تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں جناتی سائز کا ڈٹیکٹر بھی چاہئے، جو اُن کے راستوں (trails) کی ٹھیک ٹھیک نقشہ کشی کرسکے۔ بہتر ریزولوشن کے لئے جناتی سائز کا ڈٹیکٹر نہایت ضروری ہے۔یہ بالکل کیمرے ہی کی طرح ہے :جس قدر زیادہ پکسل کا کیمرا ہوگا، اتنی ہی بہترین تصویر بھی ملے گی۔ یہ ڈٹیکٹر پانچ منزلہ کیمرے جیسا ہی ہے!

    سائنسدانوں کو اُمید ہے کہ جلد ہی اس راز سے پردہ اٹھ جائے گا کہ توانائی کس طرح مادّے میں تبدیل ہوتی ہے۔ عام مادّے میں نہیں، بلکہ اس طرح کے مادّے میں جو آج سے تقریباً ١٤ ارب سال پہلے، اوّلین وقت میں تشکیل پایا تھا۔ کائنات کی تشکیل میں اوّلین وقت بہت ہی نازک مرحلہ تھا۔ کیونکہ اس وقت خالص توانائی انتہائی خطرناک چیز پیدا کررہی تھی؛ اور وہ تھی ضد مادّہ ۔

    جی ہاں ضد مادّہ بالکل حقیقی ہے۔ اصل میں ضد مادّہ، مادّے کے برعکس ہے۔ مادّی ذرّات کے مقابلے میں ضدمادّہ کے ذرّات پر بالکل اُلٹ چارج ہوتا ہے۔ مادّے کے الیکٹرون پر منفی چارج ہوتا ہے، لیکن ضد مادّہ کے الیکٹرون پر مثبت چارج ہوتا ہے (اسی لئے وہ ‘‘پوزیٹرون’’ کہلاتا ہے)۔ یہی معاملہ مادّی پروٹون اور ضدمادّہ سے بنے پروٹون (اینٹی پروٹون) کا ہے۔ اب فرض کیجئے کہ اگر ہمارا کوئی ہمزاد، جو ضد مادّہ سے بنا ہو، اپنی شکل و صورت، چہرے مہرے اور شخصیت کے اعتبار سے بالکل ویسا ہی دکھائی دے گا جیسے کہ ہم خود ہیں۔ لیکن جونہی ہم اس سے ہاتھ ملائیں گے، ایک زبردست دھماکہ ہوگا… ہم اور ہمارا ہمزاد، دونوں ہی فنا ہوجائیں گے؛ خالص توانائی میں تبدیل ہوجائیں گے۔ یہ دھماکہ انتہائی شدید ہوگا، اتنا شدید کہ ایک طاقتور ایٹم بم کا دھماکہ بھی اس کے سامنے کچھ نہ ہو!

    مادّہ، ضدّ مادّہ کے ساتھ ایسے سینگ لڑاتا ہے جیسے وہ ایک دوسرے کے ازلی دشمن ہوں۔ اور بات بالکل صحیح بھی ہے۔ ہم بتاچکے ہیں کہ مادّے کے مقابلے میں ضد مادّہ پر بالکل یکساں لیکن اُلٹ چارج ہوتا ہے۔ کائنات کا مقدّر بھی مادّے اور ضد مادّہ کی لڑائی پر منحصر تھا۔ مادّے اور ضد مادّہ کی یکساں مقدار ایک دوسرے کو مکمل طور پر ختم کردیتی (کیونکہ مادّہ اور ضد مادّہ ایک دوسرے کو فنا کر دیتے ہیں) لہٰذا کائنات میں کچھ بھی نہ بچتا۔ تو وہ کائنات جس میں سوائے اشعاع (Radiation) کے کچھ بھی نہ بچا ہو، وہاں نہ تو کوئی ستارہ جنم لے سکتا تھا اور نہ ہی کوئی کہکشاں تخلیق ہو پاتی؛ نہ کوئی سیارہ وجود میں آسکتا تھا اور نہ ہی اس پر بسنے والے انسان پیدا ہو سکتے تھے۔ عام طور پر جس طرح جنگ میں وہی فریق جیتتا ہے جس کی تعداد زیادہ ہو، بالکل ایسے ہی مادّے اور ضد مادّہ کی لڑائی میں ہوا۔ اگرچہ مقابلہ بہت ہی ٹکر کا تھا، پھر بھی جیت تو کسی ایک ہی کی ہونی تھی۔ ہر ایک ارب ضدمادّہ کے ذرّات کے مقابل، مادّے کے ذرّ وں کی تعداد صرف ایک ذرّے کے بقدر زیادہ یعنی ایک ارب ایک ذرّات تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مادّہ تشکیل پاگیا۔ مادّے کا یہی وہ ایک ذرّہ تھا جو ایک ارب ایک ذرّات میں سے بچ گیا تھا۔ اتنا قلیل ہونے کے باوجود بھی یہ مادّہ، موجودہ کائنات کی تشکیل کے لئے کافی تھا۔ وہ تمام مادّہ جو کہکشاؤں اور ستاروں میں ہم آج دیکھتے ہیں، یہ وہی بچ جانے والا مادّہ ہے۔

    سننے میں ‘‘ایک ذرّہ بہ مقابل ایک ارب ایک ذرّات’’ بہت ہی حقیر سا لگتا ہے۔ مگر یہ فرق واقعی اتنا ہے کہ اس سے پوری کائنات وجود میں آئی۔ لیکن سچ تو یہی ہے کہ ہم ‘‘کائناتی کھرچن’’ ہیں۔ مادّے اور ضد مادّہ کے مابین تصادم کی باقیات ہیں؛ اُس تصادم کی باقیات جو ابتدائے کائنات میں بڑے شدّومدّ سے جاری تھا۔ آپ کو یقین آئے یا نہ آئے، لیکن ہر وہ چیز جو آج ہمارے ارد گرد موجود ہے، یہاں تک کہ ہم خود، ہمارے جسم کا ایک ایک ایٹم، ستاروں کا ایک ایک ذرّہ، یہ سب وہی باقی ماندہ مادّہ ہے۔ یہ وہی آخری کھرچن ہے جو مادّے اور ضد مادّہ کی ازلی لڑائی کے بعد بچ گئی تھی۔ خوش قسمتی سے کائنات کے پہلے ایک سیکنڈ کے دوران ہی وہ سارے کا سارہ مادّہ بچ چکا تھا کہ جس سے بعد میں تمام ستارے، کہکشائیں اور سیارے وغیرہ وجود میں آئے۔
    لیکن ٹھہریئے! کائنات ابھی ناتمام تھی۔ یہ بہت ہی مختصر اور ابتدائی قسم کے ذرّات سے لبریز تھی۔ اب اگلا مرحلہ ایٹموں (atoms) کی تشکیل کا تھا۔ کائنات کی عمر ابھی بمشکل ایک سیکنڈ ہی تھی۔ (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٥ ۔)
    مگر اب بھی یہ بہت ہی عجیب و غریب سی جگہ تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کا مادّہ، ضد مادّہ سے جنگ جیت چکا تھا۔اب وقت تھا کائنات کی تشکیل کا! یہ ابھی تک انتہائی گرم تھی اور ناقابل یقین رفتار سے پھیل رہی تھی۔ جب کائنات کی عمر صرف ایک سیکنڈ تھی، تو اُس وقت کائناتی ذرّات اپنی آج کی موجودہ شکل سے بالکل مختلف تھے۔ اس وقت کوئی ایٹم پیدا نہیں تھا۔ ایسا کوئی ایٹم وجود میں نہیں آیا تھا کہ جس سے ہمارے ارد گرد موجود چیزیں، جنہیں ہم جانتے اور پہچانتے ہیں، تشکیل پائی ہیں۔ لیکن اب سب کچھ بدلنے والا تھا۔

    درجہ حرارت بتدریج کم ہو رہا تھا۔ اوّلین کائناتی ذرّوں نے اپنی حرکی رفتار کم کرنی شروع کردی تھی۔ اب انہوں نے آپس میں بند باندھنے شروع کردئیے تھے جس سے ایٹموں کے اوّلین مرکزے (Nucleus) تشکیل پانے لگے تھے۔ سب سے پہلے ہائیڈروجن کا مرکزہ بنا؛ اور اگلے تین منٹوں میں مزید دو عناصر کے ایٹمی مرکزے تشکیل پاگئے؛ اور یہ تھے ہیلیم اور لیتھیم۔ کائنات اب تک تقریباً ایک نوری سال پر پھیل چکی تھی ۔ ان پہلے تین منٹوں کے دوران ہماری دلچسپی کا جو سامان بھی پیدا ہونا تھا، وہ تقریباً سارے کا سارا پیدا ہوچکا تھا۔ البتہ، اگر ہم اس وقت وہاں موجود ہوتے تو کچھ بھی نہ دیکھ پاتے۔
    ہم جب رات کو آسمان پر نگاہ ڈالتے ہیں تو دراصل میں ہم ارب ہا سال پرانے ماضی میں جھانک رہے ہوتے ہیں۔ اور ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ شاید یہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔ ایسا بالکل بھی نہیں۔ بگ بینگ کےتقریباً تین لاکھ اسّی ہزار (۳۸۰،۰۰۰) سال بعد کائنات کچھ شفاف ہونا شروع ہوئی۔اس سے پہلے وہ دودھیا سی تھی۔ یہ دودھیا کہر، آزاد الیکٹرونوں پر مشتمل تھی۔ کائنات کو اپنا درجہ حرارت ابھی اور بھی کم کرنا تھا؛ اس حد تک کہ الیکٹرون مزید دھیمے پڑجاتے، ایٹموں کے مرکزے انہیں اپنے مداروں میں قید کرنے کے قابل ہوجاتے، اور بھرپور ایٹم تشکیل پا جاتے۔ کائنات کو اس کی موجودہ ساخت دینے میں ہائیڈروجن ، ہیلیم اور لیتھیم کو بہت ہی طویل عرصہ انتظار کرنا پڑا۔سائنسدانوں کے تخمینے کے مطابق، الیکٹرونوں کو دھیما ہونے اور بڑی تعداد میں ایٹم بنانے میں لگ بھگ تین لاکھ اسّی ہزار سال لگ گئے۔ اسی کے ساتھ کائنات پر چھائی ہوئی دودھیا کہر ختم ہوگئی؛ اور روشنی کی پہلی کرن کو خلاء میں فرار ہونے، اور پوری کائنات میں پھیل جانے کا موقع ملا۔

    تقریباً ١٤ اَرب سال بعد، نیو جرسی میں دو نوجوان سائنسدانوں نے اتفاقاً ان لہروں کا (روشنی کی اوّلین کرنوں کا) سراغ لگالیا۔ یہ ١٩٦٤ء کی بات ہے۔ آرنو پنزیاس (Arno Penzias) اور رابرٹ ولسن (Robert Wilson)، ہماری کہکشاں میں پھیلی ہوئی ریڈیو لہروں کی نقشہ کشی کرنے میں مصروف تھے۔ لیکن وہ جہاں کہیں بھی دیکھتے، ہر جگہ پس منظر میں ایک عجیب سی بھنبھنا ہٹ جیسے ریڈیائی سگنل پاتے۔ پہلے پہل انہیں لگا کہ ان کے آلے (انٹینا) میں کوئی خربی ہوگئی ہے۔ انہیں شک ہوا کہ شاید کبوتروں کی بیٹ اس انٹینا پر گری ہے جس کی وجہ سے ایسے سگنل موصول ہورہے ہیں۔ مگر خوب اچھی طرح سے انٹینا صاف کرنے کے بعد بھی وہ سگنل ویسے ہی موصول ہوتے رہے۔

    اس بارے میں ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ وہ اپنی اس دریافت کے بارے میں پرنسٹن یونیورسٹی میں ایک لیکچر دے رہے تھے۔ وہاں موجود ایک شخص نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ‘‘آپ نے یا تو کبوتروں کی بیٹ کے اثرات دریافت کئے ہیں یا پھر تخلیقِ کائنات کے۔’’

    درحقیقت یہ تخلیق کے لمحے کی دریافت ہی تھی۔ یہ وہی لمحہ تھا جب تقریباً ١٤ اَرب سال قبل، ایٹموں نے پہلی پہلی بار الیکٹرونوں کو اپنی آغوش میں لیا تھا اور اپنی تکمیل کی تھی… جب کائنات پر چھائے ہوئے دودھیا بادل صاف ہوئے تھے؛ اور نوزائیدہ کائنات اپنا نظارہ کرانے کو بے پردہ ہوئی تھی۔

    اس یادگار لمحے کو بہتر انداز سے سمجھنے کےلئے ناسا نے ‘‘کوبے’’ (COBE) یعنی Cosmic Background Explorer Satellite نامی مصنوعی سیارہ خلاء میں بھیجا تھا۔ اس نے خلاء میں جا کر کائناتی پس منظر کے مختلف حصوں کا درجہ حرارت ناپنا شروع کیا۔ پھر اس کا تجزیہ کیا گیا، جس سے اوّلین کائنات کی نقشہ سازی ہوئی۔ اس نقشے کو ‘‘خدا کا چہر’’ (Face of God) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اُس نومولود کائنات کا نقشہ تھا جس کی عمر صرف تین لاکھ اسّی ہزار سال تھی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ نقشہ بہت دھندلا تھا۔ ہمیں اور زیادہ واضح، مفصل اور باریک بینی سے تیار کئے ہوئے نقشے کی ضرورت تھی۔ کوبے سے حاصل شدہ معلومات، بگ بینگ کی گتھی سلجھانے میں کافی نہیں تھیں۔ لہٰذا، ناسا نے ایک اور مصنوعی سیارہ خلاء میں چھوڑا جو کوبے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید اور حساس تھا۔ اسے Wilkinson Microwave Anisotropy Probe یعنی مختصراً ‘‘ڈبلیومیپ’’ (WMAP) کا نام دیا گیا۔

    ٢٠٠١ء میں ڈیوڈ اسپر جیل (David Spergel) اس ٹیم کا حصّہ تھے جس کا کام کائناتی پس منظر کی تفصیلی نقشہ کشی کرنا تھا۔ اس یادگار لمحے کے بارے میں بتاتے ہوئے، کہ جب وہ سیارہ (ڈبلیومیپ) خلاء میں چھوڑا گیا تھا، اسپرجل کہتے ہیں: ‘‘یہ بہت ہی پُرجوش موقعہ تھا جب میں کیپ کیناورل گیا تھا۔ وہاں میرے گھر والے بھی میرے ساتھ تھے۔ میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ٹیلی ویژن پر راکٹ کو خلاء میں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ وہ لمحہ بہت ہی قیمتی تھا جب اس سیارے کے خلاء میں پہنچنے کے ایک دن سے بھی کم وقت کے دوران، ہمیں اس سے اوّلین سگنلز موصول ہوئے؛ اور تب ہمیں اطمینان ہوا کہ وہ مصنوعی سیارہ صحیح طرح سے کام کر رہا ہے۔’’

    کائناتی پس منظر کی تصویر، جو ڈبلیومیپ سے حاصل ہوئی تھی، اب تک کی حاصل کردہ تصاویر میں سے سب سے بہتر اور واضح تھی۔ (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٦۔)
    یہ آغازِ کائنات کے تین لاکھ اسّی ہزار سال بعد کی تصویر تھی۔ اس تصویر کے لال اور پیلے حصے گرم ہیں؛ جبکہ نیلے اور ہرے حصے، کائنات کے سرد علاقوں کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اور درجہ حرارت کے اسی فرق میں کائناتی مستقبل کی تمام تر جزئیات قید ہیں۔ کائناتی پس منظر کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت کا فرق، یہ اتار چڑھاؤ صرف درجہ حرارت سے وابستہ نہیں، بلکہ یہ اُس نوزائیدہ کائنات میں (مادّے کی) کثافت کے فرق سے بھی تعلق رکھتا ہے جس نے آگے چل کر کائنات کو وہ شکل، وہ ساخت عطا کی کہ جس میں آج ہم اسے دیکھتے ہیں۔ کائناتی پس منظر کے اس نقشے میں گرمی کی نمائندگی کرنے والے حصے دراصل ان علاقوں کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں کثافت (مادّے کی مقدار) زیادہ تھی؛ جبکہ ٹھنڈک کے نمائندہ حصے، ایسے علاقوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں یا تو مادّے کی بہت کم مقدار اکٹھی تھی، یا پھر وہ بالکل خالی تھے۔ وہ حصّے جہاں مادّہ زیادہ نہیں تھا وہ خالی رہ گئے؛ اور جہاں زیادہ مادّہ تھا، وہ جگہیں کہکشاؤں ، ستاروں ، اور سیاروں کا گھر بنیں۔یعنی درجہ حرارت کے یہ فرق صرف کثافت کے فرق نہیں تھے، بلکہ یہ کائنات کی موجودہ ساخت کے بارے میں بھی بہت کچھ بتاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ تب ہماری کائنات کی عمر تین لاکھ اسّی ہزار سال ہوچکی تھی؛ اور تب تک وہ کھرب ہا کھرب میلوں پر محیط ہوچکی تھی۔ ہائیڈروجن اور ہیلیم کے گیسی بادل خلاء میں تیر رہے تھے۔ پہلا ستارہ بننے میں اب بھی ٢٠ کروڑ سال باقی تھے۔ ان ستاروں نے اس وقت کائنات میں آتش بازی کا وہ شاندار مظاہرہ کیا جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہوگا۔کائنات ایک تاریک دور سے نکل کر ایک ایسے شاندار دور میں داخل ہورہی تھی جب اوّلین ستاروں نے گیسی بادلوں کو اپنی ضو سے منور کرنا شروع کیا اور اسی کے ساتھ کائنات ایک شاہانہ انداز میں روشن ہونا شروع ہوئی۔کاش کہ ہم اس نظارے کو دیکھنے کے لئے وہاں موجود ہوتے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہوگا جیسے کسی نےگھپ اندھیرے میں برقی قمقموں کو روشن کردیا ہو۔ کائنات ہر سمت سے روشن ہونا شروع ہوگئی تھی ۔ یکے بعد دیگر ستارے وجود میں آنا شروع ہوگئے تھے۔

    بگ بینگ کے ایک ارب سال بعد پہلی کہکشاں نے جنم لیا۔ اگلے آٹھ ارب سال میں لاتعداد کہکشائیں وجود میں آگئیں۔ تقریباً پانچ اَرب سال پہلے کسی کہکشاں کے ایک گوشے میں قوّت ثقل نے گرد اور گیس کے بادلوں کو ایک جگہ جمع کرنا شروع کیا۔ یہ ایک گرم گیسی گولا تھا جو گیس اور گرد کے مزید بادل ہڑپ کرتے ہوئے خود کو بڑا کررہا تھا۔ اور آخرکار وہ وقت بھی آگیا جب گیس کے اسی گولے سے ایک ستارے نے جنم لیا… جسے ہم اپنے سورج کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ بگ بینگ کے تقریباً ۹ اَرب سال بعد ہمارے اس ننھے سے نظامِ شمسی میں کچھ امن و امان ہوا؛ اور ہماری زمین پر زندگی نے اپنی پہلی پہلی جڑیں نکالنا شروع کیں۔

    بگ بینگ ہی کی وجہ سے ہر چیز کا وجود ہے۔ ہر چیز تب سے مسلسل نشوونما پارہی ہے۔ ہر چیز جس کا آغاز ہے، اس کا انجام بھی ہوگا۔بگ بینگ سےلے کر اب تک، ان تقریباً ۱۴ اَرب سال میں کہکشائیں تخلیق ہوتی رہیں اور وہ ستاروں، سیاروں اور چاندوں سے بھرتی رہیں۔ اور اس پورے عرصے میں کائنات بھی مسلسل پھیلتی رہی۔ہم یہ جان گئے ہیں کہ کائنات بہت ہی بڑی جگہ ہے؛ لگ بھگ ١٥٠ اَرب نوری سال پر پھیلی ہوئی۔ لیکن یہ کائنات لامحدود بھی ہو سکتی ہے۔ (از مترجم: پال ہالپرن کی کتاب Edge of the Universe – A Voyage to the Cosmic Horizon کے پہلے باب How Far Out Can We See میں کائنات کا پھیلاؤ ٩٣ اَرب نوری سال بیان کیا گیا ہے۔) لیکن کیا یہ کائنات واقعی ہمیشہ ہمیشہ پھیلتی ہی رہے گی؟ ہوسکتا ہے کہ کائنات کے باہر کچھ بھی نہ ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کائنات محدود ہو۔ ایسا بھی تو ممکن ہے کہ کائنات ایک بند جیومیٹری کی حامل ہو؛ یعنی اگر ہم بہت دور تک خلاء میں دیکھیں تو اپنے آپ ہی کو دیکھیں۔ شاید ہم یہ کبھی نہ جان پائیں کہ بگ بینگ سے وجود پذیر ہونے والی یہ کائنات ہمیشہ جاری و ساری رہے گی۔ لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ بگ بینگ رکا نہیں؛ وہ آج بھی کائناتی پھیلاؤ کی صورت میں جاری ہے۔

    ایک اور تعجب انگیز بات یہ ہے کہ کائنات کا پھیلاؤ سست نہیں پڑرہا، بلکہ یہ تو تیز ہورہا ہے! یعنی کائنات صرف پھیل نہیں رہی، بلکہ اس کے پھیلنے کی رفتار بھی مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اسراع پذیر کائناتی پھیلاؤ (یعنی کائناتی پھیلاؤ کی بڑھتی ہوئی رفتار) کے پس پشت ایک ‘‘تاریک توانائی’’ (Dark Energy) کارفرما ہے۔ یہ پراسرار اور غیرمرئی شئے، کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے۔ لیکن ہم اس تباہ کن طاقت کو نہ تو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ آخر یہ پراسرار توانائی موجود ہی کیوں ہے۔ مگر کہیں تاریک توانائی کی موجودگی کا مطلب یہ تو نہیں کہ بگ بینگ سے جو کچھ بھی تخلیق ہوا، وہ سب کچھ ختم ہو جائے گا؟ اگر تاریک توانائی اسی طرح کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے دور دھکیلتی رہی تو ہماری ملکی وے کہکشاں اکیلی ہی رہ جائے گی۔ آج سے ایک کھرب سال بعد ہمارے کائناتی پڑوس میں موجود زیادہ تر اجرام فلکی ہم سے بہت دور ہوکر ہماری نظروں ہی سے اوجھل ہوچکے ہوں گے۔ تب تک ہماری کہکشاں میں موجود ستارے اپنا ایندھن پھونک چکے ہوں گے۔ کہکشائیں اندھیری ہونا شروع ہوجائیں گی۔ اور شاید ایٹموں کے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوکر رہ جائیں گے۔ کائنات کی ابتداء، بگ بینگ سے، چشمِ زدن میں ہوگئی تھی۔ لیکن شاید اس کے اختتام کو ایک اَبد کا زمانہ درکار ہے؛ اِک ہمیشگی کی ضرورت ہے۔ یہ بحث کہ کائنات کا اختتام کیسے ہوگا، بگ بینگ ہی کی مانند ایک پہیلی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیاکائنات اس غبارے کی طرح پھس ہوجائے گی جس کی ہوا نکال دی جائے؟ یا اس کا خاتمہ ایک عظیم چٹاخے، ایک ‘‘بگ کرنچ’’ کی صورت میں ہوگا، جو بگ بینگ کے بالکل الٹ ہے؟ یا پھر یہ پھیلتی چلی جائے گی اور آخرکار ایک سرد و تاریک اختتام پر منتج ہوگی؟ اگر کائنات واپس سکڑتی ہے اور اپنے آپ میں منہدم ہوجاتی ہے، تو شاید ایک اور بگ بینگ کی ابتداء ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے پہلے بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہو؛ اور ہماری کائنات اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کوئی ایک کائنات ہی ہو۔ ممکن ہے یہ ایک ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہو جس میں کائناتیں آپس میں ٹکراتی ہوں، منہدم ہوتی ہوں، نئی کائناتوں کو جنم دیتی ہوں… شاید ایسی کائناتوں کو کہ جن میں ایک دوسرے سے مختلف قوانینِ طبیعیات کی حکمرانی ہو۔ شاید، اس سے ہٹ کر، یہ سب کچھ پہلی بار نہ ہوا ہو۔ بلکہ یہ ایک چکردار سلسلہ ہو: بگ بینگ سے کائنات پیدا ہوئی ہو اور بگ کرنچ پر ختم ہوگئی ہو؛ لیکن فوراً ہی ایک نئے بگ بینگ سے ایک نئی کائنات وجود میں آگئی۔ اس طرح زمان و مکان کی بار بار پیدائش اور اختتام کا سلسلہ جاری رہا ہو۔

    خیر! کائنات ایک ہو یا لامحدود، ان سب کا نقطہ آغاز بہرحال بگ بینگ ہی ہے۔

    ہر وہ چیز جو ہمارے انسان ہونے کا باعث ہے – ہمارے جسم میں موجود ایٹم، ہمارے زیورات، وہ تمام چیزیں جو ہمیں خوشی دیتی ہیں، غمگین کرتی ہیں، جن سے ہم میں جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے، محبت جاگری ہے – اس لئے وجود پذیر ہوئیں کیونکہ آج سے لگ بھگ چودہ ارب سال پہلے ‘‘بگ بینگ’’ وقوع پذیر ہوا تھا؛ جس نے یہ سب کچھ جنم دیا۔ اور اگر ہم واقعی میں خود کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں بگ بینگ کو صحیح طریقے سے سمجھنا ہوگا۔

    ١٤ اَرب سال پہلے بگ بینگ سے اس کائنات نے، اس تمام زمان و مکان نے جنم لیا۔ وقت کے بے انتہاء مختصر لمحے میں
    سارے کے سارے قوانینِ طبیعیات وجود میں آئے۔ بس! یہی وہ مختصر سا لمحہ ہے جس میں اس ساری کائنات کا، ہمارے اپنے وجود کا، عظیم ترین راز پوشیدہ ہے۔ اگر ہم ابتدائے وقت کے اس لمحے کی باریک ترین جزئیات کو کھنگال پائے، اور اس سربستہ راز سے پردہ اٹھاسکے، تو شاید یہ ہماری سائنس کی، ہمارے فہم و فکر کی، پوری انسانیت کی سب سے بڑی فتح ہوگی۔ غرض اسی لمحے میں ہمارا ماضی، حال اور مستقبل، سب کچھ پنہاں ہے۔

    ختم شد

    تلخیص و ترجمہ: زہیر عبّاس

    ترمیم، ادارت و اضافہ جات: علیم احمد

    ماخذ: How The Universe Works, Season 1, Episode 1: The Big Bang


    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    4 comments:

    Item Reviewed: بگ بینگ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top