Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات، 10 ستمبر، 2015

    ماورائے شمس سیارے

    باب اوّل

    ماورائے شمس سیارے

    یہ اکتوبر ١٩٩٥ء کی بات ہے جب میں  اطالوی شہر فلورینس میں ایک کانفرنس میں شرکت کر رہا تھا۔ یہ وہی شہر ہے جہاں سترویں صدی کے دوران میڈیچی فلکیات کے مربّی و سرپرست تھے۔ میرا اس کانفرنس میں شرکت کا مقصد اپنے  کچھ  رفقائے کاروں کے ساتھ کچھ نئی چیزوں کے بارے میں تبادلۂ خیال اور غور و فکر تھا۔ جیسا کہ اکثر اس قسم کی کانفرنسوں میں ہوتا ہے کہ لوگ غیر رسمی گفتگو شروع کر دیتے ہیں ، اسی قسم کی  ایک غیر رسمی گفتگو کے دوران  ایک نیا اچھوتا  خیال میرے گمان کی گہرائیوں سے نکل کر سامنے کھڑا ہو گیا۔

     
    پگاسی ٥١ اپنے سیارے کے ساتھ 
    دن کے اختتام پر ،  کانفرنس کے شرکاء میں سے کچھ سوئس ماہر فلکیات "مچل میئر" (Michel Mayor) کی دریافت کے بارے میں گفت و شنید  کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک چھوٹا  سا  ساتھی سیارہ جو لگ بھگ مشتری کے حجم کا تھا؛ ایک ستارے  جس کا نام پگاسی  ٥١ تھا اس کے  گرد دریافت کیا تھا۔ یہ دعویٰ کوئی ایسا بھی حیرت انگیز نہیں تھا۔ ایسے  کئی دعوے پچھلی دہائیوں میں کئی آئے اور گزر گئے تھے۔ اصل بات جس نے مجھے حیرت زدہ کیا تھا وہ  اس سیارے کا مدار کے گرد  وقت  تھا جو مچل اور اس کے طالبعلم  دیدیر  کیو لوز نے امیدوں کے برخلاف برسوں کے بجائے دنوں میں ناپا تھا۔ نیا سیارہ اپنے مورث  یا مرکزی ستارے کے گرد صرف ٤٠٠ دنوں میں ایک چکر مکمل کر رہا تھا۔

     
    سوئس ماہر فلکیات "مچل میئر" (Michel Mayor) 
    میں یہ بات سن  کر  تذبذب  کی کیفیت  میں تھا۔

    یہ بات ٹھیک ہے کہ میں سیاروں کے بجائے ستاروں کا ماہر تھا  لیکن مجھے سیاروں کے بارے میں بھی بنیادی چیزیں معلوم تھیں اور اس علم کی بنیاد پر یہ بات  مجھ سے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ میں اپنے کالج کے آخری سال کے وقت سے ہی کانٹ –لا پلاس  کے نظام شمسی کے تشکیل کے نمونے کو جانتا تھا۔ اگرچہ آپ ایما نیول کانٹ کو ایک فلسفی کے طور پر جانتے ہوں گے مگر نوجوانی کے دور میں وہ ایک ماہر فلکیات اور آئزک نیوٹن کے رفقائے کاروں میں سے ایک تھا۔ وہ یونیورسٹی آف  کوئنگس برگ میں تھا۔ اس یونیورسٹی  کا نام تبدیل ہو کر اب کیلن انگارڈ  ہو گیا ہے جو بحیرہ بالٹک میں واقع ہے ، اور اس نے نیوٹن کے تازہ بنائے ہوئے علم الا احصاء  اور نظری میکانیات کی مدد سے نظام شمسی کا ایک واضح مگر ناقابل بیان خاصیت کو دریافت کیا تھا۔

     
    ماہر فلکیات پیری سائمن لاپلاس 

    کانٹ سے پہلے کے تمام ماہرین فلکیات یہ بات درج  کر چکے تھے  کہ تمام سیارے سورج کے گرد ایک ہی سطح  اور ایک ہی سمت  میں چکر لگاتے ہیں  اور یہ وہی سمت ہے جس میں سورج خود گھوم رہا ہے۔ زیادہ تر سیارے بھی اسی طرح سے گھومتے ہیں۔ کانٹ نے اس کا ایک نفیس حل  زحل کے حلقوں کی مماثلت سے پیش کیا تھا۔ سیارے ان ذرّات سے بنے تھے جو سورج کے گرد ایک چپٹی قرص میں گھوم رہے تھے  اور بقائے زاویائی معیار حرکت  اس کے چپٹے ہونے کی وجہ بیان کرتا ہے۔(معیار حرکت ، کمیت ، سمتی رفتار اور گھومتے ہوئے جسم کے حجم کا حاصل ضرب ہوتا ہے  جواس میں باقی رہ جاتی  ہے ، جسم اپنی معیار حرکت کا بچا لیتا ہے۔ اگر اس جسم کا حجم گھٹنا شروع ہو جاتا ہے تو وہ جسم تیزی سے گھومنا شروع کر دیتا ہے  تاکہ حجم میں کمی کا ازالہ کر سکے۔ گرد و غبار کی کمیت جو کسی نوجوان ستارے کے گرد موجود ہوتی ہے  اس  کے گرد چکر لگاتے ہوئے  سکڑتی ہے  اور ایک چپٹی قرص کی شکل حاصل کر لیتی ہے۔)

     
    فلسفی اور ماہر فلکیات  ایما نیول کانٹ  
    [کانٹ کا ناشر  دیوالیہ ہو گیا تھا اس وجہ سے   اس دور میں  اسے اس کھوج کا سہرا نہیں دیا گیا ، یہ حقیقت  میرے پرانے استاد چارلس وہائٹنی  نے" دی ڈسکوری آف آورگیلیکسی" میں  بیان کی ہے ] پیئری سائمن لا پلاس   نے ریاضی کے اصول کو کانٹ کے پیش کردہ خیال میں ١٧٩٦ء میں شامل کر دیا۔ کانٹ -لا پلاس کا پیش کردہ خیال  ٢٥٠ برسوں کی تنقید ، تبدیلی  اور بہتری کے ساتھ  اپنے بنیادی ستونوں کو بچانے میں کامیاب رہا ہے۔

     
    نیا پیدا ہوا ستارہ گھومتی ہوئی گیس و گرد کی قرص  جس کے مادّے سے سیاروں نے تشکیل پانا ہے اس میں گھرا ہوا ہے۔ قرص کو ستارہ گرم کر رہا ہے اور وہاں ایک خم فاصلے پر موجود ہے جہاں اس قرص کا درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے ہے جس کو ہم برفیلے خط سے جانتے ہیں۔ اس خط کےباہر برف کے گالے گرد سے مل کر سیاروں  (مثلاً  گیسی دیو مشتری )  کی تشکیل میں مدد دے رہے ہیں۔  
     کچھ اور بھی ایسا تھا جس کے نتیجے میں مچل کی دریافت پر بھروسہ کرنا میرے لئے کافی مشکل تھا۔ کانٹ –لا پلاس  کے جدید ورژن کے مطابق زمین کے سورج سے  فاصلے کے دو سے تین گنا دور ایک ایسا خم موجود ہوتا ہے جہاں ستارے کے گرد موجود گیس کی قرص کا درجہ حرارت ١٧٠ کیلون  یا صفر فارن ہائیٹ سے  ١٥٠ ڈگری نیچے  تک گر جاتا ہے جس نقطے پر اس کمیاب ماحول میں پانی اور امونیا کے سالمات  برف کے ذرّات اور گالوں  میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہ دونوں ہلکے مادّے ، ہائیڈروجن کے ساتھ مل کر  گرد کے ذرّات  سے جڑ کر گیسی دیو ہیکل سیاروں کی شکل اختیار کرنا شروع کر لیتے ہیں  جو سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ خود ساختہ  برف کے خط کے اندر  موجود گرد کے ذرّات  ، برف کے دانوں اور گالوں کے بغیر ہی ان سیاروں کی بڑھوتری  میں اضافہ کرنے کا سبب بن گئے تھے۔ انہوں نے چھوٹے سیاروں کے ساتھ مل کر کثیف سیارے بنانے شروع کر دیئے تھے۔(ملاحظہ کیجئے خاکہ نمبر ١۔١ )۔ ہمارے نظام شمسی کی تخلیق  کی یہ بہت ہی خوبصورت اور سادہ سی  توضیح ہے  جس میں گیسی دیو سورج سے دور مدار میں چکر کاٹ رہے ہیں اور اپنے اس سفر کو مکمل کرنے میں برسوں کا وقت لیتے ہیں  جبکہ چھوٹے چٹانی سیارے سورج کے اندرونی مدار میں چکر کاٹ رہے ہیں۔ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کیوں میں مچل کے دعوے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھا۔ کوئی بھی ایسی صورت نہیں تھی جس میں مشتری کے جیسے گیسی دیو سیارے  اس برفیلی خط کے اندر تشکیل پا سکیں۔ پگاسی  ٥١ جو ہمارے سورج کے جیسا ہی سیارہ تھا اس جیسے کسی سیارے کے اتنے قریب صرف ٤٠٠ دنوں میں مدار میں چکر لگانا بظاہر ناممکن نظر آتا تھا۔

    اگلی صبح پریس کانفرنس میں مجھے معلوم ہوا کہ میں نے ٤٠٠ دنوں کے بارے میں غلطی کی ہے۔

     
    پہلے تپتے ہوئے مشتری کا مدار جس کا نام پگاسی ٥١ ب ہے۔ دونوں مداروں کو ایک ہی پیمانے پر دکھایا گیا ہے۔ سورج سے زمین کا فاصلہ نو کروڑ تیس لاکھ میل ہے ، جبکہ پگاسی ٥١ کا فاصلہ پگاسی ٥١ ب سے صرف پچاس لاکھ میل تک  ہی ہے۔
    وہ چار دن تھے !

    اصل میں کسی طرح سے میرا دماغ اس ناقابل یقین عدد میں الجھ گیا تھا اور میں نے اس کو سو سے ضرب دے دیا تھا۔ اس کے باوجود مچل  اپنے تمام تر ثبوتوں سے  اپنے دعوے میں ثابت قدم تھا  اور اس نے  نئے سیارے کے مدار کا چکر4.2دن بیان کیا !

    میری پہلے سے قائم کی ہوئی رائے  ایسے ہوا میں تحلیل ہوئی جیسے کہ برف کے ذرّات اور گالے سورج میں گر جانے کے بعد تحلیل ہوں۔ یہ ایک طاقتور اور منکسر المزاج بنانے والا سبق تھا جو میں نے حاصل کیا تھا۔

    پگاسی  ٥١ ب  کی طرح دوسرے اور سیاروں کی دریافت  کی بھی خبریں آنی شروع ہو گئی تھیں۔ مچل کی پہلی کھوج  کے کچھ ہی مہینوں بعد کیلی فورنیا میں موجود  جیفری مارسی  اور پال بٹلر اس قسم  کے پہلے ہی سے موجود  ایک منصوبے اور فنی مہارت  کی مدد سے کئی دلچسپ ماورائے شمس نظام ہائے سیارگان میں دریافت کر چکے تھے  جس کے نتیجے میں وہ شکوک و شبہات  کافی کم ہو گئے تھے  جس میں سیارہ ٥١ پگاسی ب  اپنے مرکزی  ستارے کی غیر معمولی خاصیت سمجھا جاتا۔ یہ بھی ایک آسان سی بات تھی کہ ماضی میں جا کر پہلے  سے موجود ایک کھوج  کو HD 114762 ستارے کا ممکنہ سیارہ مان لیا جائے  جس کو  میرے ایک رفیق اور ممتاز سیارہ کھوجی ڈیوڈ لاتہم  نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ  ١٩٨٩ء  میں تلاش کیا تھا۔ اس بات اندازہ لگانا بھی ممکن تھا کہ آیا کیوں وہ  کینیڈا کی یونیورسٹی آف وکٹوریا  کے گورڈن واکر کی سربراہی میں  اس تیکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ایک بھی ماورائے شمس سیارے کو ڈھونڈھنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ انہوں نے ایک  انتہائی منظم طریقے سے ١٩٨٦ء سے لے کر ١٩٩٥ء تک  سیاروں کی تلاش کی تھی مگر ان کا ہدف وہ سیارے تھے جن کے مدار کا وقت دس برس  یا اس سے بھی زیادہ لمبا ہوتا  اور اسی بات نے ان کے ستاروں کی تعداد کو محدود کر دیا تھا۔ وہ قسمت کے ہاتھوں مجبور تھے اور اس طرح سے  یہ تلاش خالی ہی ثابت ہوئی۔

     
    تپتے ہوئے مشتریوں نے سیاروں کی ہجرت سے متعلق ہمارے علم میں اضافہ کیا ہے 
    دوسرے ستاروں کے گرد چکر لگانے والے سیارے جن کو اب ہم ماورائے شمس سیارے کہتے ہیں ، ان کی دریافت شدہ تعداد یہ کتاب لکھنے کے وقت تک ٦٠٠ کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ یہ تمام کے تمام ہماری کہکشاں  ملکی وے میں ہی پائے گئے ہیں ، اس میں زیادہ تر ہم سے کافی نزدیک  صرف ٥٠٠ نوری برس کے فاصلے پر واقع ہیں  اگرچہ کافی تعداد میں سیارے پانچ ہزار نوری برس کے فاصلے پر بھی موجود ہیں۔ ان میں سے ٦٠ سے زیادہ سیارے پگاسی  ٥١ ب جیسے ہی ہیں  جن کو اکثر تپتے ہوئے مشتری کہا جاتا ہے۔  دریافت شدہ ماورائے ارض سیاروں  کی یہ تعداد اس بات کا عندیہ دے  رہی ہے کہ سیارے تلاش کرنا ایک آسان سی بات ہے۔ یہ سیارے جو شروعات میں خلاف قاعدہ لگ رہے تھے ( کیسے یہ اپنے مورث ستارے کے نزدیک اتنی گرمی میں تخلیق ہو سکتے ہیں ؟) انہوں نے اپنی وجود کی توضیح پیش کردی تھی جس کے نتیجے میں کانٹ – لا پلاس کے نمونے کو رد کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ تپتے ہوئے مشتریوں نے ہماری آنکھیں سیاروں کی ہجرت کے مظہر کے بارے میں کھول دیں ، یہ ہجرت  نئے تشکیل پائے ہوئے سیارے کے مدار میں  اس کے گرد و گیس کے قرص کے تعامل کے نتیجے میں سست رفتار تبدیلی کا نتیجہ تھی۔ مدار میں چکر لگاتے ہوئے سیارے کی قرص میں بڑھتی کثافتی  موجوں  کے ساتھ  اس کا مدار اندرونی یا بیرونی طرف مرغولے کھاتا ہوا بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر موقعوں میں نتیجہ اندرونی تبدیلی کی طرف  تپتے ہوئے مشتریوں کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔

    اس خوبصورت پرانے میڈ یچی کے شہر نے اپنے آپ میں غرق کرنے میں میرا کچھ وقت  لے لیا تھا  اس کے باوجود میں ان  سوالات  کے جوابات کی کھوج میں گہری سوچ میں غلطاں تھا ۔ان سوالات کو میں   کچھ دن پہلے تک میں انتہائی ہلکا  ہی لیتا تھا۔

    تیرا سال بعد میں اور مچل اسی کانفرنس میں ملے۔ اس دفعہ مچل نے ان  چھوٹے زمین جیسے سیاروں کو بیان کیا جو اس نے دریافت کئے تھے۔ میں نے کمپیوٹر کے کچھ حساب کتاب کی مدد سے اس امکان کو ظاہر کیا کہ ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ عجیب دنیائیں زمین جیسی ہی ہوں۔ یہ چھوٹے سیارے کافی تعداد میں اور ہماری امید سے بھی زیادہ انتہائی متنوع فیہ اقسام کے تھے۔ کچھ تو اتنے گرم تھے کہ وہاں پر لوہے کی برسات ہو رہی تھی ، ایک ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے ان کے کرۂ فضائی میں ہوائیں چل رہی تھیں ، دو ستاروں والے سیاروی نظام بھی تھے ، ایک ایسا سیارہ بھی تھا جو درحقیقت اپنے مورث ستارے کی ہر تین مہینے کے بعد ایک مہین سی پرت اتار لیتا تھا  اور اسی طرح کے مزید کچھ عجیب برتاؤ والے سیارے تھے۔

    آج ہم ایک ایسے جہاں کی سرحد پر کھڑے ہیں  جس کو ہم اپنا گھر کہہ سکیں ، وہ سیارے جن کو شاید کوئی اور ہم سے پہلے ہی اپنا گھر کہہ  چکے ہوں۔ ان کی تلاش نے ایک نئی خلائی دوڑ شروع کردی ہے۔ ایک ایسی دوڑ جس میں کرۂ ارض کا جڑواں سیارہ دریافت کیا جا سکے۔ ممکن ہے کہ اس ضمن میں ہونے والی کوششیں اور جوش عجیب اور  بلا جواز لگے۔ یہاں تک کہ سائنس دانوں کے مطابق زمین کے جیسے جڑواں سیارے کی تلاش کا کوئی  فوری فائدہ نہیں ہوگا  کیونکہ زمین جیسے سیارے کی خاصیت کا تجزیہ کرنے کے لئے ان کو بڑے سیاروں پر انحصار کرنا ہوگا  جن کی تلاش کافی آسان ہے۔  ان تمام باتوں کے باوجود ہر شخص اس بات کو مانتا ہے کہ ایسی کوئی بھی دریافت ایک تاریخی لمحہ ہوگی۔

    اس دوڑ میں غیر معمولی جوش و جذبات انسانی چاہت کی منشاء اور یکجہتی کے عکاس ہیں۔ یہ اکیسویں صدی کے   پرانے دور کا سوال "دوسروں " کے بارے میں ہے مگر یہ سوال کافی بڑے پیمانے پر ہے۔

     
    ہومو نیندرتھل   کی ایک خیالی تصویر 
     دوسروں کے بارے میں سوال  یہ ہے کہ ایک شعوری انسان کس طرح سے اپنی شناخت کا ادرک کرتا ہے : میں کون ہوں اور میں کس طرح سے دوسرے  سے تعلق رکھتا ہوں ؟ یہ سوال اوّلین اور پہلی بحث میں ہی پیدا ہو جاتا ہے۔ انسانی تاریخ ایسے مباحثوں  سے بھری ہوئی ہے۔ ہومو  سیپین  کا ٹکراؤ ہومو نیندرتھل  سے آج کے یورپ کے کسی حصّے میں ہوا تھا ، مایا ؤں  کا ٹکراؤ  ہسپانوی فاتح سے وسطی امریکہ میں  ہوا تھا اور اسی طرح کے دوسرے ٹکراؤ۔ ہمارے سیارے پر پہلے ٹکراؤ کا وقت گزر چکا ہے۔ یہ بات چاہئے اچھی ہو یا بری ہو ، ہم انسان آپس میں ایک دوسرے کو جان گئے ہیں۔ بنی نوع انسان کی موجودہ نسل  ایک عالمگیری واقفیت ، ایک معاشرتی  جڑاؤ کا احساس  اور مشترکہ موروثیت کی سوجھ بوجھ رکھتی ہے۔ بیسویں صدی کے اختتام نے اس طرح کے کئی دروازے وا کر دئیے ہیں۔


    دور دراز ستاروں کے گرد چکر لگانے والے ان جہانوں کی دریافت نے  پہلے ٹکراؤ کے بارے میں غور و فکر کرنے کے لئے ہمیں تازہ موقع فراہم کیا ہے۔ جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے کہ  انسان بے صبر تجسس اور خوف کی حالت میں  زبردست جذبات کے ساتھ ایسے ٹکراؤ سے نمٹتا آیا ہے۔ جیسا کے ماضی میں – حیرت انگیز طور پر  ہماری تمام جدید تیکنیکی صلاحیتیں  اور اسٹار ٹریک سے حاصل کردہ  مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت کے باوجود  - نئے جہانوں کو ہم نے ابھی دریافت کرنا شروع کیا ہے  یہ نئے جہاں مکمل طور پر اسراریت  اور حیرت سے بھرپور ہیں۔ اور ہم کبھی بھی ان کی تلاش نہیں روکیں گے جیسا کہ ٹی ایس ایلیوٹ نے مشہور زمانہ فقرہ لکھا ہے " ہمیں کبھی بھی کھوج کو ختم نہیں کرنا چاہئے۔ ہماری تمام جستجو اسی جگہ پہنچے گی جہاں سے ہم نے شروعات کی تھی  اور ہم پہلی دفعہ اس جگہ کے بارے میں جانیں گے۔"    
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ماورائے شمس سیارے Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top