Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, فروری 25, 2017

    اکیڈمی


    یونان کا ایک مشہور شہر ایتھنز ہے۔ قدیم زمانے کی بات ہے کہ اس شہر کا ایک بہادر جوان تھیسیئس (Theseus) ایک مرتبہ جنوبی یونان کے ایک قدیم شہر اسپارٹا (Sparta) میں موجود زیوس (Zeus) دیوتا کی خوبصورت بیٹی ہیلن (Helen) کو لے بھاگا۔ اس شہزادی کو بعد میں ٹرائے (ایشیائے کوچک کی ایک سلطنت) کے ایک شہزادے پارس نے اغوا کر لیا جس کے نتیجے میں یونانیوں اور ٹرائے کے شہریوں کے درمیان دس سال تک ایک زبردست جنگ لڑی گئی جو ٹروجنی جنگ (Trojan War) کے نام سے مشہور ہے۔ ہیلن کے بھائیوں کیسٹر ( Castor) اور پولیڈوسس (Polydeuces) نے اپنی بہن کو ہر جگہ تلاش کیا۔ آخرکار ایتھنز ہی کے ایک باشندے اکیڈیمس (Academus) نے وہ جگہ تلاش کر لی جہاں اسے چھپایاگیا تھا۔ اسی وجہ سے ایتھنز اور اسپارٹا کے درمیان ہونے والی جنگوں میں اسپارٹا کے باشندے (جو کیسٹر اور پولیڈوسس کی نہایت عزت کرتے تھے) جب بھی ایتھنز کی سلطنت پرحملہ آور ہوئے تو انہوں نے اکیڈیمس کی املاک کے علاقے کو ہمیشہ بچائے رکھا. یہ علاقہ ایتھنز کے جنوب مغرب میں تقریباً ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ اس کا نام "اکیڈیمیا"(’’Academeia ‘‘) رکھا گیا۔ اس طرح سے یہ علاقہ جنگ و جدل کے زمانے میں بھی امن کی ایک علامت بن گیا۔

    مشہور یونانی فلسفی افلاطون، اکیڈیمیا کے قریب ہی رہتا تھا۔ وہ نہ صرف اپنے شاگردوں کے ساتھ اکثر اس پر لطف مقام پر جایا کرتا تھا بلکہ یہاں اس نے انہیں پچاس سال تک فلسفے کی تعلیم بھی دیا۔ پھراس کے جانشین مزید آٹھ سوسال تک یہاں علم حاصل کرتے رہے۔ اسی سے آج کل استعمال ہونے والا Academy(اکیڈمی) کالفظ نکلا۔ اگرچہ یہ زمانہ قدیم کی مشہور ترین درس گاہ کا نام تھا. لیکن آج بھی کچھ درس گاہوں کے ناموں کے ساتھ اسی کی مناسبت سے ”اکیڈیمی“ کا لفظ آتا ہے۔ اب یہ اصطلاح عام طور پر ایسے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے مستعمل ہے جو طلبا کو تعلیم دے کر کالج کے درجے تک پہنچاتے ہیں۔

    اسی سے academic (اکیڈیمک) کی اصطلاح نکلی ہے۔ اس کا اطلاقی عام طور پر ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس کاتعلق ایسے تعلیمی اداروں سے ہوا اورخاص طور پر یہ اس طریقہ تعلیم کے لیے مستعمل ہے جس کی حوصلہ افزائی یہ ادارے کرنے ہیں۔ افلاطون کا فلسفہ چونکہ خاصی حد تک نظری اور قیاسی مسائل سے متعلق تھا یعنی روزمرہ کے عملی معاملات سے ان کو کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا چنانچہ اسی وجہ سے آج بھی" Academic ‘‘سوال سے مراد ایسا سوال لیا جاتا ہے جس کے عملی طور پر کوئی معنی نہ ہوں اور جس کی دلجسپیاں صرف اورصرف نظری معاملات سے ہوں۔

    دوسرے قدیم فلاسفہ نے بھی اپنے اپنے علمی مقامات کے نام زبان میں داخل کے ہیں۔ مثال کے طور پر ارسطو اپنے شاگردوں کو ایک جمنیزیم میں پڑھایا کرتا تھا۔ اس کو وہ Lykeion کہا کرتا تھا۔ اب اسے Lyceum(لائسیم) کہا جاتا ہے۔ اس کا یہ نام نزدیک ہی موجود اپالو دیوتا کے مندر کی وجہ سے رکھا گیا تھا۔ اس دیوتا کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ”بھیڑیوں کو مارنے‘‘ کی بے پناہ سکت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے ” Lykeios" کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا جو غالباً یونانی زبان کے Lykos‘‘(بھیڑیا) سے نکلا ہے۔ چنانچہ اب بھی لائسیم کا لفظ ایک خاص طرز کے اسکول یا پھر لیکچر ہال کے لے استعمال ہوتا ہے۔ امریکہ میں اگرچہ یہ لفظ اکیڈمی جتنا مقبول نہیں ہےلیکن فرانس میں ہائی سکول کوlycee ہی کہا جاتا ہے۔

    ایتھنز ہی میں زینو (Zeno) نامی ایک اورفلسفی ، لوگوں کوفلسفے کی تعلیم دیتا تھا۔ وہ جس جگہ اپنے شاگردوں کو پرھاتا تھا اسے وہ Sto a Poikiles-Cotego (یونانی زبان میں اس کے معنی ہیں ”رنگ وروغن سے مزین بارہ دری‘‘) کہتا تھا۔ اسی مناسبت سےفلسفے میں اس کے مکتبہ فکر کو Stoicism(رواقیت ۔ رواق ”بمعنی پیش دالان یا بارہ دری) کہا جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو تعلیم دیتا تھا کہ ابدی اور حقیقی خوشی کےحصول کے لے اُنہیں عارضی خوشی یا غمی کے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہیے۔ چنانچہ آج بھی جو آدمی اپنے جذبات کا اظہارنہ کرے اسےstoic(رواقی یعنی زینو کا چیلا) کہا جاتا ہے۔


    ماخذ: اردو سائنس بورڈ کی شایع کردہ کتاب ”سائنسی اصطلاحات اور ان کا پس منظر"
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: اکیڈمی Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top