Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ، 20 دسمبر، 2019

    طبیعیات کیا ہے؟

    طبیعیات کیا ہے؟ از جیروم ایس مئیر 


    ہمارے سرمایہ حیات کا بیشتر حصہ کاروبار زندگی کے نذر ہو جاتا ہے۔ اسکے بعد جو وقت باقی رہ جاتا ہے اس میں عموماً ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ حقائق ہستی کی ہنگامہ خیزیوں سے دور رہیں - یہ بہت ہی بڑی بات ہے۔ اگر حقائق ہم پر بے نقاب ہو جائیں اور ہم ان کا تجزیہ کر سکیں تو ہم ان میں سنسنی خیز جاسوسی کہانیوں سے زیادہ لطف ، طربیہ ڈراموں سے زیادہ کیف و انبساط اور سن و عشق کی رومانی داستانوں سے کہیں زیادہ جذبات انگیزی پائیں گے۔ کارخانہ تکوین کے عجائب و غرائب ہر ذی عقل و ذی شعور کو دعوت فکر و نظر دیتے ہیں ۔ کسی مطرب خوش نوا کی مترنم آواز ، قہوے کی تلخ مگر خوشگوار و اشتہا انگیز خوشبو ، شمع کشتہ کا دھواں ، سایہ دار گھنیرے درخت ، آفتاب کی تمازت ، گھر کے بنے میٹھے بسکٹ ، غرض ہر وہ چیز جس کا حواس خمس سے ادراک کیا جا سکتا ہے عقل انسانی کیلئے آب بقا کا ایک حیات پرور جام ہے ۔ مختصراً - حقیقت مادہ ہے اور مادے کی کارفرمائیاں اسی کا مطالعہ ایک مظہر کے بعد دوسرے مظہر کی توجیہ کرتا ہے جس کے مقابلہ میں انتہائی جاذب توجہ خیالیہ بھی ڈاک کے قواعد میں پھیکا نظر آنے لگے ۔ 

    سائنس اور خصوصیت کے ساتھ علم طبیعیات و علم کیمیا کے ذیل میں ہم مادے اور مختلف صورتوں اور حالتوں میں مادے کے عمل اور رد عمل کا مطالعہ کرتے ہیں . یہ کائنات کی سب سے بڑی نفرا کے مشاہدے کے لئے ایک مستقل اجازت نامہ ہے ۔ 

    اسکے باوجود ہم میں کتنے ایسے میں جو اس دعوت عمومی پر لبیک کہہ رہے ہوں - ہم ٹیلی فون استعمال کرتے ہیں ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے رنگا رنگ نشریات سے روز لطف اندوز ہونے ہیں مگر برقی مقناطیس کی سحر آفرینیوں سے نابلد ہیں ۔ خلائی نلیوں اور نور برقی خانوں کی حیرت انگیز صحت کارکردگی اور حساسیت کو جانے بغیر ہم پردۂ سیمیں پر متحرک تصاویر سے اپنی انسباط خاطر کا سامان ہر شب مهیا کرتے ہیں ۔ ہم میں اکثر افراد نه تو اس سے واقف ہیں اور نه واقف ہونے کی سعی کرتے ہیں اور نتیجے میں نہ جانے کتنی تحیر خیز باتوں سے لاعلم رہتے ہیں ۔ 

    لیکن ہم لا علم ہیں کس چیز سے؟ مثلاً کاغذ کے ایک پرزے اور صابن کی ایک ٹکیہ میں کونسی عجیب و غریب بات ہے ؟ لوہے کے ٹکڑے اور تار کے لچھے اور سی ساو کے دل میں کیا کمال ہے؟ ان باتوں کا اور ایسی ہی بے شمار باتوں کا جواب علم طبعیات میں ملتا ہے - کاغذ کے پرزے میں بے حد بے حساب اتنے چھوٹے چھوٹے ذرات موجود ہیں جن کو معمولی خردبینوں سے دیکھنا ناممکن ہے ۔ ان ذرات میں ہر ایک اکیس (21) جوہروں سے مرکب ہے اور یہ جوہر خود الیکڑان، پروٹون ، نیوٹرون ، اور ازیں قبیل دیگر بنیادی ذرات پر مشتمل ہے - جوہر کے تمام جزوی بنیادی ذرات نظام فطرت کے ما تحت اور قانون جذب و دفع کے زیر اثر ہوش ربا رفتار سے حرکت کر رہے ہیں ۔ یہ بات ہر مادی شے کے لئے درست ہے ۔ خواہ وہ کچھ بھی ہو - رہا لوہے کا ٹکڑا اور تاروں کا لچھا . یہ تو تہذیب حاضر کی روح رواں ہے۔ ریڈیو ، ٹیلیفون، ٹیلی ویژن ، ڈائنامو، موٹر ، برقی گھنٹی ۔ غرض ہر جا ان دونوں کی عجوبہ کاریاں نظر آئینگی۔ 

    علم طبیعیات کا نور ہر ہر گوشہ کائنات کو منور و محیط کئے ہوئے ہے ۔ اسی کی مدد سے ہم حقائق کا سینہ چیر کر جوہر مقصود نکال سکتے ہیں۔ 

    علم طبیعیات کی اہمیت پر کچھ کہنا تحصیل حاصل ہے ۔ روز اول ہی سے انسان غور و فکر کے ساتھ فطرت سے نبرد آزما رہا ہے اور آہستہ آہستہ رفتہ رفتہ کارگاہ ہستی کے اسرار نہاں کا علم حاصل کر سکا ہے ۔ 

    انسان کے پہیہ اور دہرا، ایجاد کرنے کے بعد کی صدیوں میں تمام اقوام و ملل کے ارباب سائنس نے ایک عظیم اور پیچیدہ تہذیب کا قلعہ تعمیر کیا ۔ آگ کا استعمال ، لوہے کی کڑھائی ، بھاپ کی برقی رو کی دریافت ، جوہری توانائی کی نقاب کشائی ، سائنسی فتوحات کے طویل سلسلہ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں - یہ چند لوگ مسلسل مجاہدانہ محنت اور مشقت کرتے رہے تا کہ سب کا بهلا ہو اور انکی ہر نئی ایجاد و تحقیقات نے نوع انسانی کے خزینہ علمی میں معتد یہ اضافہ کیا اور ان ہی کی ڈالی ہوئی بنیادوں پر عہد حاضر کے انسان نے ترقی کی فلک پیما عمارت بلند کی اور سامان آسایش و تعیش سے مالا مال ہے ۔ علوم فطرت کے طویل سلسلے میں وہ عظیم و جاودان شخصیتیں کوہساروں کی طرح بلند و پائیدار حیثیت کی دارا ہیں ۔ لیکن ہر فرد جس نے اپنی زندگی رموز ہستی کو سمجھنے اور سمجھانے میں گزار دی چھوٹا ہو یا بڑا بلا تخصیص بہ مستحق تبریک و تہنیت ہے ۔ 

    یہ صحیح ہے انسان نے فطرت کے بیشتر معمے حل کر لئے مگر وہ گیسوۓ فطرت ، ابھی منت پذیر شانہ ہے ۔ نہ جانے کتنے رموز کائنات تشنہ تحقیق و انکشاف ہیں ۔ باوجودیکہ آج انسان کے دام تحقیق میں برقیات کا خزانہ اور نظریہ اضافیت،، کا انقلابی تصور اسیر ہے ، اسکی رسائی خلائی کائنات تک ہو چکی ہے ، اسکی کمند نجوم و کواکب پر پڑ رہی ہے مگر اب بھی عقل انسانی اسی منزل پر ہے جہاں سترھویں صدی عیسوی میں نیوٹن ایسے بطل عظیم نے اپنے کو پا کر کہا تھا : 

    "مجھے نہیں معلوم کہ دنیا کا خیال میرے متعلق کیا ہے لیکن میں خود اپنے آپ کو اس طفل خورد سال کی مثل تصور کرتا ہوں جو ساحل بحر پر خوشنما مونگوں ، خوبصورت سیپی کے ٹکڑوں اور سڈول رنگین سنگریزوں سے کھیل رہا ہے اور صداقت و حقیقت کا بے کراں سمندر سامنے موجیں مار رہا ہے۔"

    مترجم:صولت رضوی

    #جہان_سائنس #اردو #سائنس #ترجمہ #طبیعیات #صولت_رضوی #اردو_سندھ_اکیڈمی
    #jahanescience 


    آن لائن پڑھنے کے لئے نیچے دیکھیں:

    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: طبیعیات کیا ہے؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top