Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 14 دسمبر، 2015

    کائنات کی عمر

    کائنات کی عمر



    ماہرین فلکیات کائنات کی عمر جاننے کے لئے ہمیشہ سے پر تجسس رہے ہیں . صدیوں تک عالم، راہب اور عالم دین کوشش کرتے رہے کہ کائنات کی عمر کے بارے میں تخمینے لگا سکیں۔ اس مقصد کے لئے ان کے پاس ایک ہی طریقہ تھا یعنی کہ انسانیت کی شجرہ نصب کو باوا آدم اور اماں حوا سے ناپ لیں۔ پچھلی صدی میں ماہرین ارضیات نے چٹانوں میں بچی ہوئی اشعاع ریزی کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی عمر کا سب سے بہتر تخمینہ لگایا۔ اس کے مقابلے میں ڈبلیومیپ سے حاصل شدہ مواد نے ہمیں اب تک کا سب سے مستند تخمینہ کائنات کی عمر سے متعلق لگا کر دیا ہے۔ ڈبلیو میپ کے مواد نے ہم پر یہ بات آشکار کی کہ کائنات ایک انتہائی ہولناک دھماکے سے وجود میں آئی ہے جو آج سے تیرہ ارب ستر کروڑ برس پہلے رونما ہوا تھا۔

    (گزرے برسوں میں سب سے شرمندہ کرنے والی حقیقت جو علم فلکیات سے چمٹی رہی وہ اس کی عمر کا اندازہ تھا جس کا اندازہ اکثر اوقات ستاروں اور سیاروں کی عمر سے بھی کم لگایا گیا تھا۔ اور اس کا سبب غلط مواد تھا۔ کائنات کی عمر سے متعلق پچھلے اندازے ایک سے دو ارب برس کے تھے جو زمین کی عمر( چار ارب پچاس کروڑ برس ) سے ہی میل نہیں کھاتے تھے۔ یہ تضاد بہرحال اب ختم ہو گیا ہے۔)

    ڈبلیو میپ نے ایک نئی عجیب بحث شروع کردی ہے کہ کائنات کس چیز سے بنی ہے ، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کو یونانیوں نے آج سے دو ہزار برس پہلے پوچھا تھا۔ ہزاروں محتاط تجربوں کے بعد سائنس دانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کائنات بنیادی طور پر لگ بھگ ایک سو سے زائد قسم کے مختلف جوہروں سے مل کر بنی ہے ، جس کو انہوں نے دوری جدول میں ترتیب دے کر رکھا ہوا ہے جو ہائیڈروجن سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے ہماری جدید کیمیا کی بنیاد ڈالی اور درحقیقت میں یہ تمام اسکولوں میں سائنس کے مضامین میں پڑھایا جاتا ہے۔ ڈبلیو میپ نے اس تصوّر کی بنیاد کو ختم کر دیا ہے۔ پچھلے تجربات کی تصدیق کرتے ہوئے ، ڈبلیو میپ نے یہ راز ہم پر آشکار کیا کہ ہمارے ارد گرد نظر آنے والا مرئی مادّہ تمام توانائی اور مادّے کا صرف چار فیصد ہے۔ ( اس چار فیصد میں سے بھی زیادہ تر ہائیڈروجن اور ہیلیئم پر مشتمل ہے اور شاید صرف 0.03 فیصد مادّہ بھاری عناصر پر مشتمل ہے۔ کائنات زیادہ تر پراسرار ، غیر مرئی مادّے سے بنی ہے جس کے ماخذ سے ہم مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ ایک طرح سے سائنس صدیوں پیچھے جوہر کے نظرئیے کو پیش کرنے سے پہلے کے دور میں چلی گئی ہے کیونکہ طبیعیات دان اس حقیقت میں الجھ گئے ہیں کہ کائنات پر مکمل نئی غیر معلوم مادّے اور توانائی کی حکمرانی ہے۔

    ڈبلیو میپ کے حاصل کردہ مواد کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ٢٣ فیصد کائنات عجیب اور غیر واضح عنصر سے بنی ہے جس کو "تاریک مادّہ" کہا جاتا ہے۔ اس کا وزن بھی ہے اور یہ کہکشاؤں کے گرد دیوہیکل ہالے کی شکل میں موجود ہے لیکن مکمل طور پر غیر مرئی ہے۔ تاریک مادّہ اتنا اثر پذیر اور وافر مقدار میں ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے میں ہے کہ یہ ہماری کہکشاں کے تمام ستاروں سے دس گنا زیادہ ہے۔ ہرچند یہ غیر مرئی ہے ، لیکن اس عجیب تاریک مادّے کا بالواسطہ مشاہدہ سائنس دان اس وقت کر سکتے ہیں جب یہ ستاروں کی روشنی کو شیشے کی طرح خم دیتا ہے۔ اس طرح سے اس کی موجودگی کہ پتا لگ جاتا ہے۔ جتنا زیادہ یہ روشنی کو کم دیتا ہے اتنا ہی زیادہ سائنس دان اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ڈبلیو میپ سیارچے سے حاصل کردہ نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پرنسٹن کے ماہر فلکیات جان بہکل نے کہا ، " ہم ایک عجیب اور حیران کن کائنات میں رہتے ہیں ، ایک ایسی کائنات جس کی واضح کرنے والی خاصیت کو ہم اب جان گئے ہیں۔"

    لیکن ڈبلیو میپ سے حاصل کردہ سب سے عظیم جھٹکا تو وہ مواد ہے ، جس مواد نے سائنس دانوں کو چکرا کر رکھا ہوا ہے یعنی کہ ٧٣ فیصد کائنات ایک مکمل نا شناختہ توانائی سے بنی ہوئی ہے جو کافی زیادہ مقدار ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مکمل طور پر مخفی توانائی ہے جو خلاء میں پنہاں ہے۔ ١٩١٧ ء میں آئن سٹائن نے خود سے اس کو متعارف کروایا اور بعد میں اس کو رد کر دیا ( آئن سٹائن نے مخفی توانائی کے رد کرنے کو اپنی عظیم غلطی قرار دیا )۔ تاریک توانائی یا خالی خلاء یا عدم کی توانائی اب کائنات پر غالب توانائی کی حیثیت سے نمودار ہو رہی ہے۔ تاریک توانائی اب ضد قوّت ثقل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے جو کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے۔ کائنات کا حتمی انجام یہ تاریک توانائی ہی متعین کرے گی۔

    فی الوقت کسی کے پاس بھی اس بات کا جواب نہیں ہے کہ "عدم کی توانائی" کہیں سے آ رہی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اس کا کیا اثر ہوتا ہے [لیکن] ہم مکمل طور پر بے خبر ہیں۔۔۔۔ہر کوئی اس سے بے خبر ہے۔"سیٹل میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہر فلکیات دان ، کریگ ہوگن اس بات کو برملا قبول کرتے ہیں۔ 

    اگر ہم تازہ ذیلی جوہری ذرّات کے نظرئیے کو لیں اور اس تاریک توانائی کی مقدار کا حساب لگائیں تو ہمیں١٠ ١٢٠ عدد ملے گا۔ (ایک ایسا عدد جس میں ایک کے بعد ایک سو بیس صفر لگے ہوئے ہیں )۔ نظرئیے اور تجربے کے درمیان یہ تضاد سائنس کی تاریخ میں پایا جانے والے سب سے بڑا تضاد ہے۔ اس بات نے ہماری خجالت کی انتہا کردی ہے - ہمارے بہترین نظرئیے بھی پوری کائنات میں موجود توانائی کے سب سے بڑے منبع کی قدر کا تخمینہ نہیں لگا سکتے۔ بلاشبہ نوبیل انعام ان مہم جو افراد کی راہ تک رہا ہے جو تاریک مادّے اور تاریک توانائی کے راز سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہو جائیں۔


    ماہرین فلکیات اب بھی ڈبلیو میپ سے حاصل کردہ طوفانی مواد سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ کائنات سے متعلق پرانے نظریات اس نے دیوار پر دے مارے لہٰذا ایک نئی تکوینی تصویر نمودار ہو رہی ہے۔" ہم نے کونیات کے مربوط وحدتی نظرئیے کی بنیاد ڈال دی ہے ،" اس بات کا اظہار چارلس ایل بینیٹ نے کیا جو ایک بین الاقوامی ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں جس نے ڈبلیو میپ سیارچے کو بنانے اور اس سے حاصل کردہ مواد کا تجزیہ کرنے میں مدد دی ہے۔ سردست تو "افراط پذیر کائنات کا نظریہ" ہی اپنا غلبہ قائم کرتا نظر آ رہا ہے۔ اس نے بگ بینگ نظریہ کو موجودہ صورت میں ڈھالنے کے لئے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نظرئیے کو سب سے پہلے ایم آئی ٹی کے ایلن گتھ نے پیش کیا تھا۔ اس افراط پذیر کائناتی منظر میں پہلے سیکنڈ کے دس کھرب حصّے کے دس کھرب حصّوں میں ایک پراسرار ضد ثقل قوّت نے کائنات کو ہمارے پچھلے اندازوں سے بھی سرعت رفتاری سے پھیلایا۔ افراط زدہ دور ناقابل تصوّر حد تک انفجاری تھا جس میں کائنات سریع از نور رفتار سے پھیل رہی تھی۔(یہ آئن سٹائن کے اس نظرئیے کے خلاف نہیں ہے جس میں کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کر سکتی ہے۔ کیونکہ یہ خالی خلاء تھی جو پھیل رہی تھی۔ مادّی اجسام کے لئے روشنی کی رفتار کو توڑنا ممکن نہیں ہے۔) ایک سیکنڈ کے کچھ ہی حصّے میں ، کائنات ناقابل تصوّر طور پر ١٠٥٠ کے تناسب سے پھیلی۔

    افراط زدہ دور کی قوّت کا اندازہ لگانے کے لئے ایک غبارے کا تصوّر کریں جو بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور اس کی سطح پر موجود نقطے سمجھ لیں کہ کہکشائیں ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ جس کائنات کو ہم ستاروں اور کہکشاؤں سے بھرا ہوا دیکھتے ہیں وہ سب کے سب اس کے اندر ہونے کے بجائے اس کی سطح پر موجود ہیں۔ اب ایک خرد بینی دائرہ غبارے پر بنائیں۔ یہ ننھا دائرہ قابل مشاہدہ کائنات کو ظاہر کر رہا ہے یعنی اس میں ہر وہ چیز ہے جس کو ہم اپنی دوربین سے دیکھ سکتے ہیں۔ (موازنے کی خاطر یوں سمجھیں کہ اگر قابل مشاہدہ کائنات ذیلی جوہری ذرّے کے برابر ہے تو اصل کائنات ہماری قابل مشاہدہ کائنات سے بھی کہیں زیادہ بڑی ہو گئی۔) با الفاظ دیگر افراط پذیر دور کی پھیلاؤ اتنا شدید تھا کہ کائنات کے ایسے حصّے موجود ہوں گے جو ہمیشہ کے لئے ہمارے مشاہدے اور پہنچ سے دور رہیں گے۔ درحقیقت یہ افراط زدہ دور اس قدر طاقتور تھا کہ غبارہ ہمیں اپنے پڑوس میں چپٹا نظر آتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو ڈبلیو میپ سیارچے نے تجرباتی طور پر ثابت بھی کر دیا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے زمین ہمیں چپٹی نظر آتی ہے کیونکہ ہم زمین سے نصف قطر کے مقابلے میں کہیں زیادہ چھوٹے ہیں۔ کائنات اس لئے ہمیں چپٹی نظر آتی ہے کیونکہ یہ بہت ہی بڑے پیمانے پر جا کر خم کھاتی ہے۔ اگر یہ بات فرض کی جائے کہ ابتدائی کائنات اس افراط کے عمل سے گزری ہے ، تو کوئی آسانی کے ساتھ کائنات سے جڑے کئی معموں کو آسانی کے ساتھ بیان کر دے گا جیسا کہ کائنات کیوں چپٹی اور یکساں نظر آتی ہے۔ افراط پذیر کائنات پر تبصرہ کرتے ہوئے، طبیعیات دان جوئل پریماک کہتے ہیں ، "کوئی بھی نظریہ اتنی خوبصورتی سے پہلے کبھی غلط نہیں ہوا جتنا یہ ہے۔"

    کثیر کائناتیں

    ہرچند کہ افراط زدہ کائنات کا نظریہ ڈبلیو میپ سے حاصل کردہ مواد سے میل کھاتا ہے اس کے باوجود یہ اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ کس چیز نے افراط پذیر دور کو شروع کیا۔ کس چیز نے اس ضد ثقل کو کائنات پھیلانے پر مجبور کیا ؟ کم از کم پچاس مفروضات ایسے ہیں جنہوں نے اس بات کی وجوہات کو بیان کرنے کو کوشش کی ہے کہ کس چیز نے افراط زدہ دور کو شروع اور ختم کیا جس کے نتیجے میں اس کائنات کا جنم ہوا جس کو ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔ بہرصورت ان کے درمیان کوئی اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ طبیعیات دانوں کی کثیر تعداد اس مرکزی افراط زدہ دور کے خیال کے گرد گھوم رہی ہے، بہرصورت اس بات کا کسی کے پاس کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں ہے کہ اس افراط پذیر دور کو کس چیز نے شروع کیا۔

    کیونکہ درست طور پر کوئی بھی نہیں جانتا کہ افراط زدہ دور کیسے شروع ہوا لہٰذا اس بات کا امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ وہی سلسلہ دوبارہ بھی شروع ہو سکتا ہے - افراط زدہ دور بار بار دہرایا جا سکتا ہے۔ اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے روسی نژاد طبیعیات دان کا کچھ ایسا ہی نظریہ ہے - جس چیز نے بھی کائنات کو اس طرح پھلایا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ نظام اب بھی مصروف عمل ہو اور کائنات کے دور دراز مقامات کو پھیلانے میں مصروف ہو۔

    اس نظرئیے کے مطابق شاید کائنات کا ایک چھوٹا سا حصّہ اچانک سے افراط پذیر ہونا شروع ہوا، اس نے کونپل کی طرح سے پھوٹنا شروع کیا جس کے نتیجے میں ایک شیرخوار کائنات یا نوزائیدہ کائنات پیدا ہو گئی جو کبھی بھی دوسری نوزائیدہ کائنات کو جنم دے سکتی ہے اور اس طرح سے وہ ہمیشہ پھلتی پھولتی رہتی ہے۔ ہوا میں بلبلے پھلانے کا ذرا تصوّر کریں۔ اگر ہم تیزی سے انھیں پھلانے کی کوشش کریں گے تو ہم دیکھیں گے کہ ان میں سے کچھ دو بلبلوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ بعینہ ایسے ہی کائنات تواتر کے ساتھ نئی کائناتوں کو جنم دیتی رہے گی۔ اگر یہ بات سچ ہے تو ہم کائنات کے سمندر میں رہ ہے ہیں ، جس طرح سے سمندر میں ایک بلبلا دوسرے بلبلوں کے ساتھ تیرتا رہتا ہے۔ درحقیقت اس کو ہم کثیر کائناتوں یا میگا کائناتوں کے طور پر بہتر انداز میں بیان کر سکتے ہیں۔ لنڈے اس نظریہ کو ابدی خود افزائش نو افراط یا کلی انتشاری افراط کہتے ہیں۔ کیونکہ انھیں کبھی نہ ختم ہونے والا متوازی کائناتوں کا مسلسل افراط زدہ دور لگتا ہے۔ افراط پذیر کائنات خود سے ہم پر کثیر کائناتوں کا نظریہ ٹھوس رہی ہے ،" اس بات کا اظہار ایلن گتھ نے کیا جنہوں نے سب سے پہلے افراط پذیر کائنات کا نظریہ پیش کیا تھا۔

    اس نظریہ کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ہماری کائنات شاید کبھی خود سے کسی نوزائیدہ کائنات کو جنم دے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہماری کائنات خود کسی دوسری قدیم کائنات کے بطن سے پیدا ہوئی ہو۔ جیسا کہ عظیم برطانیہ کے شاہی فلکیات دان ، سر مارٹن ریس نے کہا تھا ، " جو روایتی کائنات کہلاتی ہے وہ کل کائنات کا ایک جز ہو سکتی ہے۔ لاتعداد ایسی جگہیں ہوں گی جہاں پر مختلف قسم کے قوانین لاگو ہوں گے۔ جس کائنات میں ہم نمودار ہوئے ہیں اس کا تعلق ایک غیر معمولی ذیلی جوڑے سے ہو سکتا ہے جس نے پیچیدگی اور شعور کو پنپنے کی اجازت دی ہو۔"






    نظریاتی شواہد کثیر کائناتوں کے وجود کی گواہی دے رہے ہیں ، جہاں پر پوری کائنات متواتر دوسری کائناتوں سے پھوٹ رہی ہے۔ اگر یہ بات سچ ہوئی تو یہ دو عظیم مذاہب کے دیومالائی تصورات کو ایک نظریہ میں پرو دے گا، تخلیق اور نروانا۔ تخلیق وقت سے ماورا نروانا کے اندر متواتر جاری رہے گی۔ 


    کثیر کائنات سے متعلق چلنے والے اس تمام تر تحقیقی عمل نے دوسری کائناتوں کے بارے میں قیاسات کو جنم دیا ہے مثلاً وہ دیکھنے میں کیسی ہوں گی ، کیا وہ حیات کے لئے موافق ہوں گی اور کیا ہم ان سے کسی صورت رابطے میں آ سکیں گے یا نہیں۔ کالٹک ،ایم آئی ٹی، پرنسٹن، اور دوسرے تعلیمی اداروں نے ریاضی کے پیچیدہ حساب لگائے ہیں تاکہ اس بات کو جان سکیں کہ آیا متوازی کائنات میں داخل ہونا قوانین طبیعیات کی رو سے ممکن ہے یا نہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کائنات کی عمر Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top