Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    اتوار، 13 دسمبر، 2015

    ڈبلیو میپ سیارچہ

    ڈبلیو میپ سیارچہ 




    "ناقابل یقین !"، "ایک سنگ میل" یہ وہ الفاظ تھے جو فروری ٢٠٠٣ء میں فلکیاتی طبیعیات دانوں کے منہ سے عام طور پر اس وقت نکلتے تھے جب وہ تازہ ترین سیارچے سے حاصل ہونے والے قیمتی مواد کو دیکھتے تھے۔ ڈبلیو میپ (ولکنسن مائیکروویو اینسو ٹروپی پروب ) سیارچہ جس کو شہرہ آفاق عالم تکوینیات کے نام پر ان کی خدمات کے صلے میں رکھا تھا ، اسے ٢٠٠١ء میں خلاء میں بھیجا گیا تھا۔ اس سیارچے نے سائنس دانوں کو بے مثل درستگی کے ساتھ ، ابتدائی کائنات کی ایک تفصیلی تصویر اس دور کی پیش کی جب اس کی عمر صرف تین لاکھ اسی ہزار برس کی تھی۔ستاروں اور کہکشاؤں کو پیدا کرنے والے اصل آگ کے گولے میں سے بچی عظیم الجثہ توانائی ہماری کائنات میں ارب ہا برسوں سے آوارہ گردی کر رہی تھی جس کی مفصل تصویر ڈبلیو میپ سے لے لی گئی ہے۔ اس نے ایسا نقشہ دکھایا ہے جسے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ، آسمان کی ایسی تصویر جو مفصل طور پر خرد امواج کی اشعاع پر مشتمل ہے جس کی تخلیق بذات خود بگ بینگ نے کی ہے۔ اس کو ٹائم میگزین نے تخلیق کی گونج کا خطاب دیا تھا۔ اب ماہر فلکیات آسمان کو اس طرح سے کبھی نہیں دیکھ سکیں گے جیسا کہ پہلے دیکھتے تھے۔ ڈبلیو میپ سیارچے کی چھان بین کونیات کے لئے "قیاس سے درستگی کا دستوری راستہ " بن گئی۔ اس بات کا اظہار پرنسٹن کے ایڈوانسڈ اسٹڈی انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے جان بہکل نے کیا۔ پہلی مرتبہ اطلاعات کے اس سیلاب نے جو کائنات کی تاریخ کے ابتدائی دور سے حاصل کیا گیا ہے ماہرین تکوینیات کو انتہائی صحت کے ساتھ ان تمام قدیمی سوالات کا جواب دینے کے قابل بنا دیا ہے جنہوں نے انسانیت کو اس وقت سے پریشان اور الجھا کر رکھا ہوا ہے جب سے اس نے پہلی بار رات کے آسمان کی سماوی سحر انگیزی کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھا ہے۔ کائنات کی عمر کتنی ہے؟ یہ کس سے مل کر بنی ہے ؟ کائنات کا انجام کیا ہوگا؟ 

    (١٩٩٢ء میں ایک اور دوسرا سیارچہ جس کا نام کوبی [کاسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر سیٹلائٹ ] تھا اس نے ہمیں آسمان میں موجود پس منظر اشعاع کی پہلی دھندلی تصویر دی۔ ہرچند اس سے حاصل کردہ نتیجے انقلابی تھے لیکن یہ اس قدر شاندار نہیں تھے کیونکہ یہ نوزائیدہ کائنات کی دھندلی تصویر تھی۔ یہ تمام تر دھندلاہٹ اخبار والوں کو اس کا نام "خدا کا چہرہ " رکھنے سے باز نہیں رکھ سکی۔ تاہم کوبی سے حاصل ہونے والی اس دھندلی تصویر کا صحیح نام نوزائیدہ کائنات کا "طفلی شبیہ " ہو سکتا ہے۔ اگر کائنات کی عمر اسی برس کی ہو تو کوبی اور بعد میں ڈبلیو میپ سے حاصل ہونے والی نوزائیدہ کائنات کی تصویر ایک دن سے بھی کم عمر کائنات کی ہے۔)

    جس وجہ سے ڈبلیو میپ نوزائیدہ کائنات کی اس بے نظیر تصویر کو لے سکتی ہے وہ یہ ہے کہ رات کا آسمان ایک طرح سے ٹائم مشین ہے۔ کیونکہ روشنی ایک محدود رفتار سے سفر کرتی ہے ، لہٰذا وہ ستارے جو ہم رات کو آسمان میں دیکھتے ہیں وہ ان کے حال کی نہیں بلکہ ماضی کے کسی وقت کی تصویر ہوتی ہے۔ روشنی کو چاند سے زمین تک پہنچنے میں صرف ایک سیکنڈ سے تھوڑا اوپر کا وقت لگتا ہے۔، لہٰذا جب ہم چاند کو دیکھتے ہیں تو اصل میں اس جگہ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جہاں وہ ایک سیکنڈ پہلے تھا یا جیسا وہ ایک سیکنڈ پہلے تھا۔ روشنی کو سورج سے زمین تک پہنچنے کے لئے آٹھ منٹ کا وقت لگتا ہے۔ اسی طرح سے ہمارے زیادہ تر شناسا ستارے جن کو ہم فلک میں دیکھتے ہیں ہم سے اس قدر دور واقع ہیں کہ ان کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں دس سے سو نوری برس کا عرصہ لگتا ہے۔( دوسرے الفاظ میں وہ زمین سے دس سے سو نوری برس کے فاصلے پر موجود ہیں۔ ایک نوری برس لگ بھگ ساٹھ کھرب میل کا فاصلہ ہوتا ہے یا با الفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دور دراز کہکشاؤں کی روشنی کروڑوں برسوں سے لے کر ارب ہا برسوں تک دور ہو۔ نتیجتاً وہ " رکازی " روشنی کی نمائندگی کرتے ہیں ، ان میں سے کچھ کی روشنی تو ڈائنو سارس کے زمین پر نمودار ہونے سے پہلے کی ہے۔ دور دراز کے کچھ اجسام جن کو ہم اپنی دوربینوں کے ذریعہ دیکھ سکتے ہیں وہ کوزار کہلاتے ہیں، یہ عظیم سماوی انجن ہیں جو ناقابل تصوّر اور ناقابل بیان مقدار میں توانائی کو قابل مشاہدہ کائنات کی انتہائی آخری کناروں میں پیدا کر رہے ہیں۔ ان کا زمین سے فاصلہ بارہ سے تیرہ ارب نوری برس کا ہے۔ اور اب ڈبلیو میپ سیارچے نے اس اشعاع ریزی کا سراغ لگایا ہے جو ان سے بھی پہلے آگ کے اس اصل گولے سے خارج ہوئی ہیں جس سے کائنات کی تخلیق ہوئی ہے۔ کائنات کی تشریح کے لئے اکثر اوقات ماہرین تکوینیات امپائر اسٹیٹ کی عمارت کی چھت نیچے دیکھنے کی مثال دیتے ہیں۔ اس عمارت کی چھت مین ہٹن سے اوپر سو منزل سے بھی زیادہ کی ہے۔ جب آپ اوپر کھڑے ہو کر نیچے کی جانب دیکھتے ہیں تو آپ کو بمشکل ہی سڑک کی سطح دکھائی دیتی ہے۔ اگر ہم امپائر اسٹیٹ کی عمارت کی بنیاد کو بگ بینگ فرض کریں ، اور اوپر سے دیکھنا شروع کریں تو سب سے دور دراز کی کہکشاں دسویں منزل پر موجود ہو گئی۔ دوربین سے دور دراز نظر آنے والے کوزار ساتویں منزل پر ہوں گے۔ کائناتی پس منظر کی اشعاع جو ڈبلیو میپ نے ناپی ہیں وہ سمجھ لیں کہ سڑک سے صرف آدھے انچ کے فاصلے تک کی ہے۔ اور اب ڈبلیومیپ سیارچے نے ہمیں کائنات کی عمر کے بارے میں جو اندازے فراہم کیے ہیں وہ ششدر کر دینے والی ایک فیصد درستگی تک کے ہیں یعنی تیرہ ارب ستر کروڑ برس پہلے کے۔

    ڈبلیو میپ مہم ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصے پر محیط فلکیاتی طبیعیات دانوں کی کڑی محنت کا ثمر ہے۔ ڈبلیو میپ کا تصور ناسا میں سب سے پہلے ١٩٩٥ ء میں دیا گیا اور اس کے دو سال کے بعد اس کی منظوری دے دی گئی۔ ٣٠ جون ٢٠٠١ء میں ناسا نے ڈبلیو میپ سیارچے کا بسیرا ڈیلٹا دوم راکٹ کے ذریعہ زمین اور سورج کے درمیان موجود شمسی مدار میں کروایا۔ منزل انتہائی احتیاط کے ساتھ چنی گئی لاگرینج نقطہ دوم (یا ایل ٹو ، ایک مخصوص نقطہ جو زمین سے قریب موجود مدار میں کافی پائیدار ہوتا ہے )۔ اس تفوق والی جگہ سے سیارچہ ہمیشہ سورج ، زمین اور چاند سے دور رہے گا ، لہٰذا اس کو کائنات کا مکمل غیر مسدود نظارہ ملے گا۔ یہ پورے آسمان کی چھان بین ہر ششماہی میں مکمل کر لیتا ہے۔

    اس کے آلات انتہائی اختراعی نوعیت کے ہیں۔ طاقتور حساسیوں کے ساتھ یہ مدھم خرد موجی اشعاع کا سراغ لگا سکتا ہے جو بگ بینگ کے بعد بچی تھیں اور جنہوں نے کائنات کو اپنی ضو سے نہلا رکھا ہے لیکن زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی ہمارا کرۂ ہوائی ان کو جذب کر لیتا ہے۔ ایلومینیم پر مشتمل سیارچہ 3.8 بائی 5 میٹر کا ہے اور اس کا وزن ٨٤٠ کلوگرام کا ہے۔ اس میں یکے بعد دیگرے دو دوربینیں لگی ہوئی ہیں جو آسمان سے آتی خرد موجی اشعاع پر مرتکز ہوتی ہے اور پھر وہاں سے اطلاعات کو زمین پر نشر کرتی ہیں۔ یہ صرف ٤١٩ واٹس کی برق کا استعمال کرتی ہیں (لگ بھگ عام پانچ برقی قمقموں کے برابر )۔ زمین سے لاکھوں میل دور بیٹھ کر ڈبلیو میپ سیارچہ زمین کے کرۂ ہوائی کی مداخلت سے کہیں زیادہ دور ہے۔ زمین کا کرۂ ہوائی ان کمزور پس منظر کی خرد امواج کو چھپا دیتا ہے۔ زمین کے کرۂ ہوائی سے دور مدار میں رہ کر یہ مستقل تمام آسمان کی چھان بین کرتا رہتا ہے۔

    سیارچے نے اپنا پہلا مکمل آسمان کا مشاہدہ اپریل ٢٠٠٢ء میں مکمل کیا۔ چھ مہینے بعد پورے آسمان کا مشاہدہ مکمل ہوا۔ آج ڈبلیومیپ سیارچے نے ہمیں اس اشعاع کا اب تک حاصل ہونے والا سب سے زیادہ جامع اور مفصل نقشہ فراہم کیا ہے۔ پس منظر کی خرد موجی امواج جس کا سراغ ڈبلیو میپ نے لگایا ہے اس کا سب سے پہلے اندازہ جارج گیمو اور ان کے رفقائے کاروں کی ٹیم نے ١٩٤٨ء میں کیا تھا۔ انہوں نے ان اشعاع کا درجہ حرارت بھی درج کیا تھا۔ ڈبلیو میپ نے اس درجہ حرارت کو مطلق صفر سے ذرا سا اوپر ، یا 2.7249 سے لے کر 2.7251 کے درمیان بتایا ہے۔

    خالی آنکھ سے دیکھنے پر یہ ڈبلیو میپ سے لیا ہوا آسمان کا نقشہ بالکل ہی غیر دلچسپ نظر آتا ہے۔ یہ صرف اٹکل پچو نظر آنے والے نقطے نظر آتے ہیں۔ بہرحال ان نقاط کے مجموعہ نے تو ماہرین فلکیات کو جذبات کی شدت سے رلا دیا تھا۔ ان کے لئے ان نقاط میں اتار چڑھاؤ یا بےقاعدگی بگ بینگ کے اس اصل شدت دھماکے کو ظاہر کر رہی تھی جو اس کی تخلیق کے بعد فوراً پیدا ہوئی تھی۔ یہ چھوٹے اتار چڑھاؤ "تخم" جیسا تھے جو اس وقت کے بعد سے بہت تیزی سے کائنات کے باہری جانب پھیلنے کے ساتھ پھیلے۔ یہ چھوٹے تخم آج پھوٹ کر کہکشانی جتھوں اور کہکشاؤں میں بدل چکے ہیں جن کو ہم فلک کو روشن کرتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر ، ہماری ملکی وے کہکشاں اور دوسرے کہکشانی جتھے جو ہم ارد گرد دیکھتے ہیں وہ کبھی یہ ہی چھوٹے اتار چڑھاؤ تھے۔ ان اتار چڑھاؤ کو ناپ کر ہم کہکشانی جتھوں کے ماخذ کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ نقطے رات کے آسمان پر ٹنگے ہوئے کائناتی نقشے میں پروئے ہوئے ہیں۔ 





    یہ نوزائیدہ کائنات کی تصویر ہے جو ڈبلیو میپ نے لی ہے ، اس وقت کائنات کی عمر صرف تین لاکھ اسی ہزار برس کی تھی۔ ان میں سے ہر ایک نقطہ تخلیق کے بعد کی شفق میں ہونے والے ننھے کوانٹم اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ نقطے یا اتار چڑھاؤ آگے چل کر ان کہکشاؤں اور کہکشانی جتھوں کی شکل میں پھیل گئے جنھیں آج ہم دیکھتے ہیں۔

    آج فلکیاتی مواد کی مقدار سائنسی نظریوں سے کہیں زیادہ تیز ی سے آ رہی ہے۔ درحقیقت میں تو کہتا ہوں کہ ہم فلکیات کے سنہرے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ (ڈبلیو میپ سیارچہ جس قدر اثر انگیز تھا ، اس کی اثر انگیزی پلانک سیارچے کے سامنے مانند پر جائے گی ، اس سیارچے کو یورپی ٢٠٠٧ء میں خلاء میں چھوڑنے جا رہے ہیں؛ پلانک ماہرین فلکیات کو اس پس منظر خرد امواج اشعاع کی تصویر کی مزید تفصیلات فراہم کرے گا۔) دور حاضر میں علم تکوین ، برسوں سائنس کے سائے میں ڈوبے رہنے اور قیاسات کی دلدل اور بے تکے اندازوں کی گمنامی کے اندھیرے سے نکل کر، اپنے جوبن پر آ رہا ہے۔ تاریخ کے آئنے میں علم تکوین کی ساکھ پر کافی دھبے لگے ہیں۔ جس جذبے اور طمطراق کے ساتھ انہوں نے کائنات سے متعلق نظریات پیش کئے تھے وہ ان کی کم علمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جیسا کہ نوبیل انعام یافتہ لیو لینڈو اکثر بھپتی کستے ہیں ،" ماہرین تکوینیات اکثر غلط تو ہو سکتے ہیں لیکن کبھی متشکک نہیں ہوتے۔" سائنس کی ایک مشہور کہاوت ہے :" پہلے قیاس آرائی کی جاتی ہے اور اس کے بعد مزید قیاس آرائیاں ہوتی ہیں اور اس کے بعد علم تکوین حاصل ہوتا ہے۔" 

    ١٩٦٠ء کی دہائی کے آخر میں ہارورڈ میں طبیعیات پڑھتے ہوئے ، میں نے انتہائی کم عرصے کے لئے کونیات کے مطالعہ کو سرسری سا پڑھا۔ عہد طفلی سے ہی میرے اندر کائنات کے ماخذ کو جاننے کا جوش تھا۔ بہرحال ایک اچٹتی سے نگاہ اس میدان میں ڈالنے پر یہ ظاہر ہوتا تھا کہ یہ میدان تو شرمندگی کی حد تک اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ یہ تجرباتی سائنس تو بالکل بھی نہیں ہے جہاں کوئی بھی قیاسی تجربات کو انتہائی درستگی سے ناپنے والے آلات کی مدد سے کر سکتا ہو بلکہ یہ تو ان نظریات کا مجموعہ تھی جو بہت ہی زیادہ اندازوں پر قائم تھی۔ ماہرین تکوینیات ہمیشہ سے اس بات میں الجھے رہتے ہتے کہ آیا کائنات کسی دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے یا پھر ہمیشہ سے ایک اور ساکن حالت میں ہے۔ لیکن کیونکہ مواد انتہائی کم تھا لہٰذا نظریات زیادہ اور ان کی جانچ کے لئے مواد نہ ہونے کے برابر تھا۔ درحقیقت جتنا کم مواد تھا اتنی ہی زیادہ گرما گرم بحث چل رہی تھیں۔

    علم تکوین کی پوری تاریخ میں قابل اعتبار مواد کی شدید کمی نے ماہرین فلکیات کے درمیان تلخ اور لمبی عداوتوں کو جنم دیا جو اکثر عشروں تک جاری رہیں۔ (مثال کے طور پر جب ماؤنٹ ولسن رصدگاہ کے ماہر فلکیات ایلن سینڈیج کائنات کی عمر کے بارے میں بیان دینے والے تھے تو ان سے پہلے کے مقرر نے طنزیہ کہا ، " اب جو آپ سننے جا رہے ہیں وہ سب غلط ہے۔" اور سینڈیج نے جب یہ سنا کہ مخالف گروہ کس طرح کی زبردست تشہیر کر رہا ہے تو وہ دھاڑا ، " یہ بکواس کرنے والوں کا ایک ٹولہ ہے۔ یہ تو جنگ ہے - جنگ!")
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    4 comments:

    Item Reviewed: ڈبلیو میپ سیارچہ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top