Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات، 26 نومبر، 2015

    حیات کا ماخذ - سیارے ہی کیوں؟

    باب ہشتم

    حیات کا ماخذ

    سیارے ہی کیوں؟


    عہد وسطیٰ کے دوران جب ہر بر اعظم کی  ایک  اپنی ہی الگ دنیا تھی ،  لوگوں کے جد امجد کو سنجیدگی کے ساتھ  الگ الگ سمجھا جاتا تھا۔ نشاط الثانیہ کے دور میں   زمین دوسرے سیاروں کی طرح ایک سیارہ سمجھا جاتا تھا ، جبکہ دوسرے سیاروں میں بلکہ یہاں تک کہ چاند پر بھی مختلف النسل لوگوں کے رہنے کا سنجیدگی سے یقین رکھا جاتا تھا۔ لہٰذا میں ایک قدیمی سوال کے ساتھ ہی جوان ہوا  اور اس سوال کو میں نے دوبارہ نئے جہانوں کی دریافت کے ثبوتوں کے ساتھ ملا کر دیکھا کہ حیات کو نمودار اور قائم رہنے کے لئے کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں سے کچھ ثبوتوں کو میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے لیکن اب میں یہاں ان سب کو جمع کرنے کی کوشش کروں گا  تاکہ حیات کے ظہور پذیر ہونے پر بحث کر سکوں کہ یہ صرف سیاروں پر ہی پائی جائے گی۔


    لہٰذا ہمیں پھر سے کچھ قدم پیچھے جانا ہوگا اور کائناتی نقطۂ نظر سے چیزوں کو دیکھنا ہوگا۔ سیارے ہی کیوں ؟ کیا کائنات میں دوسری جگہیں موجود نہیں ہیں جو حیات کو پالنے کے لئے اتنی ہی اچھی ہوں جتنا کہ اچھے سیارے ہوتے ہیں ؟

    یہاں پر اس جواب دینے کا ایک طریقہ ہے :کائنات میں ہم دوسری جگہوں کے بارے میں معلومات کو حاصل کریں اور اس کو اپنی حیات کے متعلق معلومات سے ملا کر دیکھیں  کہ کیا کوئی نتیجہ خیز چیز نکلتی ہے۔ پہلا جز تو حاصل کرنا سب سے زیادہ آسان ہے۔ پچھلے پچاس برسوں میں فلکیات دانوں نے ہماری قابل مشاہدہ  کائنات کے بارے میں سوجھ بوجھ کو بدل کر رکھ دیا ہے بہرحال اس بارے میں تو سب لوگ زیادہ تر متفق ہیں کہ کائنات میں کیا موجود ہے  - بہت ساری کہکشائیں ، مزید ستارے اور سیاروں کی ایک فہرست جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
     
    ہمارے لئے قبل مشاہدہ کائنات صرف یہ دائرہ ہی ہے۔
    حیات کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں یہ ایک مشکل بات ہے  - بیک وقت ہم کافی باتیں جاننے کے باوجود بھی  بہت کم جانتے ہیں۔ سائنس دانوں نے بنیادی اینٹوں  اور حیات کی اشکال اور باہمی ربط کے بارے میں ہماری سوچ میں انقلاب برپا کر دیا ہے ، اس کے باوجود وہ حصّے ایک نظام میں موجود ہیں (نظام کی تعریف ، پیچیدہ چیز کو نسبتی عناصر کے امتزاج میں ڈھالنے سے کی جا سکتی  ہے ۔ یہی وہ تعریف ہے جو میں نظام کے لئے یہاں پیش کروں گا کیونکہ نظام کی اس سے بہتر تعریف  پیش کرنے کو میرے پاس نہیں ہے ۔)جو ایک جال سا  بناتے ہیں ،(جال شاخوں کا ایک ایسا نمونہ ہوتا ہے جو ایک دوسرے سے خطوں، سرکٹ، چیزوں اور اسی طرح سے دوسری چیزوں سے جڑا ہوتا ہے، نمونے کو کسی ترتیب کی ضرورت نہیں ہوتی۔) اور  یہاں پر کوئی ایسی چیز بھی موجود ہے جو لازمی تو ہے پر مغالطے میں ڈال دینے والی ہے۔
      
    حیات اپنی روح  میں کیمیائی  بندھوں کا گورکھ دھندہ ہے۔
     
    میں شروع مشکل والے حصّے سے کروں گا اور ان چیزوں کی فہرست بیان کروں گا جو ہم حیات کے بارے میں جانتے ہیں  - حیات کی  تعریف  نہیں بیان کروں گا ، صرف اس کے چند لازمی خواص ہی بتاؤں گا:
    1.  حیات اپنی روح میں کیمیائی ہے۔
    2.  حیات ایک ایسا نظام ہے جو توازن میں نہیں ہے۔
    3.  حیات  مطابقت رکھنے والی اور خود اصلاحی ہے۔
    4.  حیات الگ الگ اور ممیز حصّوں میں بٹی ہوئی ہے  - اس کو خلیوں ،  ملفوفات  اور تھیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
    5.  حیات وہ سالمے استعمال کرتی ہے جو پانی سے موزونیت  رکھتے ہوں۔
     
    مائع  بہتے ہوئے پانی کا حیات کی تخلیق میں انتہائی بنیادی اور اہم کردار ہے۔
    فہرست کو مرتب کرنا آسان ہے ؛ اصل مشکل اس بات کا تعین کرنا ہے کہ اس میں سے کیا چیز غائب ہے ، کیونکہ ہم حیات کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں وہ صرف ایک ہی مثال    - یعنی کہ زمین پر حیات  کی مدد سے جانتے ہیں۔ دلچسپ  طور پر پانچ میں سے ہر ایک نکتہ  جداگانہ طور پر  ایک غیر حیاتیاتی نظام کو بیان کر سکتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ حیات کے ظہور پذیر ہونے کے لئے ان تمام پانچوں نکات کا ہونا لازمی ہے۔
     
    حیات  کو خلیوں ،  ملفوفات  اور تھیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
    پہلی خاصیت تو عیاں ہے  لیکن بڑی تصویر کو بیان کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہے  کیونکہ یہ کائنات میں حیات کے کسی بھی ماخذ کے لئے مطلق ضروری ہے۔ مادّے کی کوئی دوسری شکل یا نظام ایسا موجود نہیں ہے  جو اتنے منظم جال رکھتا ہو ؛ کیمیائی بند قدرتی ماحول میں حیرت انگیز کام سر انجام دے سکتے ہیں۔ ہم اس بات کے امکان کو رد نہیں کر سکتے جس میں حیات ایک نظام کو تشکیل دے (یا نظام کی شکل میں ڈھل جائے )جو سالموں پر انحصار نہ کرے ، لیکن یہ وہ سوال نہیں ہے جو میں پوچھ رہا ہوں۔ میری دلچسپی تو اس عمل میں ہے جس میں حیات ظاہر ہوتی ہے  اور اس ماحول میں ہے جو اس کو نمو کرنے کی اجازت دیتا ہے ؛ یعنی کہ ، میں اس عبوری کائناتی مرحلے میں دلچسپی رکھتا ہوں جس میں کیمیا ، حیات کی شکل اختیار کرتی ہے۔ لوگ غیر سالمی (غیر حیاتیاتی ) حیات کی شکل کو بیان کر چکے ہیں (جیسا کہ ہینز  مورویک(Hans Moravec)، رے کرزویل (Ray Kurzweil) اور اسٹیون ڈک (Steven Dick)کی کہانیوں میں ملتا ہے )، لیکن اس کا ماخذ یا ارتقاء ہمیشہ سے سابقہ حیاتیات ہی ہوتی ہے اور اس کی بنیاد  جزوی طور پر ہی  سالموں یا سالماتی بندھوں پر ہی ہوتی ہے۔ ہم انسان منظم جال سلیکان میں بنانے کے اہل ہو سکتے ہیں  لیکن یہ لمبے عرصے پر محیط ٹیکنالوجی  میں پیشرفت کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے  بغیر حیات کے سیارے کے اصلی ماحول کی وجہ سے نہیں۔
     
    کرۂ فضائی حیات  کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
    سیارے  اس بات کو ممکن بناتے ہیں کہ وہ طبعی طور پر خلائی اشعاع کے خلاف اپنے وزن اور کرۂ فضائی کی بدولت ہمیں حفاظتی  مدد  فراہم کر سکیں۔ سیارے اوسط وقتی پیمانے پر پائیداری فراہم کرتے ہیں جو اتنے لمبے برسوں پر محیط ہوتی ہے کہ   کیمیائی جال کی نشوونما ہو سکے۔ مثال کے طور پر بین النجمی سالماتی بادل (کسی بھی دوسرے بادل کی طرح) صغیر یا کبیر ماحول  نہیں فراہم کر سکتے جو  پائیدار ہو۔ یہ ہمیں کائنات کی تباہ کن اشعاع سے وقت کے اس پیمانے پر تحفظ فراہم کر سکے  جبکہ سیارے ایسا کر سکتے ہیں۔

    دوسری خاصیت بھی ایک مطلق ہے : توازن میں پایا جانے والا نظام ایک مردہ نظام ہوتا ہے جس میں کوئی چیز وقوع پذیر نہیں ہوتی؛ آپ کو کچھ بھی کرنے کے لئے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کو ایک منظم جال بنانے کے لئے  کیمیا یا توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کو کسی بھی چیز کو ترتیب میں رکھنے کے لئے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے ، اندرون کو بیرون سے الگ رکھنے کے لئے بھی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
        
    تیسری خاصیت  جو ارض پر موجود حیات یا شاید کسی بھی حیات کے بارے میں دل موہ لینے والی ہے  - وہ اس کی تیز اور سست تبدیلیوں سے  مطابقت پذیری ہے۔ چارلس ڈارون  نے اس خاصیت کی روح کو دیکھ لیا تھا ، جو جزوی طور پر اس عمل پر انحصار کرتی ہے  جس کے نتیجے میں نئے اور مختلف جاندار جنیاتی مادے تبدیلی کے نتیجے میں نشوونما پاتے ہیں۔ جس کو ارتقاء کہتے ہیں  یا ڈارون کو اعزاز دینے کے لئے ڈارونی ارتقاء  بھی کہتے ہیں۔ زیادہ تر سائنس دان اس بات کو اتنا  اہم سمجھتے ہیں  کہ وہ اس کے ذریعہ سے حیات کو بیان کرتے ہیں۔ اسکریپس انسٹیٹیوٹ کے   جیرالڈ جوائس(Gerald Joyce)  نے ناسا کی کمیٹی میں پیش کی جانے والے  تجویز کے خلاصے میں ١٩٩٤ء میں حیات کی شہرہ آفاق مختصر ترین تعریف میں بیان کی  " ایک خود  کو قائم رکھنے والاکیمیائی  نظام جو ڈارونی ارتقاء کا اہل ہو "،  اس کو اکثر ناسا کی تعریف سے بھی جانا جاتا ہے۔ اگرچہ ڈارونی ارتقاء ایک عیاں طریقہ ہے جس سے تبدیل ہوتے ماحول کے جواب میں   اور دوسرے جاندار اشیاء کے ساتھ میل کھا کر  بوقلمونی حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن اصل میں صرف یہ ہی ایک ایسی چیز نہیں ہے۔

    اس کا متبادل ایک ایسے ماحول کی موجودگی ہے جو ایک تسلسل کے ساتھ حیات کی تخلیق  کو بغیر کسی مورثی سالمے کے بننے کی اجازت دے ، لیکن اس میں بھی کچھ غیر متوقع تبدیلی کے ساتھ حیات بنتی رہی۔ ایسی کسی بھی حیاتی کیمیا کی بقاء کا انحصار اس ماحول کی موجودگی پر ہوگا جس نے  تسلسل کے ساتھ حیات کی شکل کو تالیف کیا ہوگا۔ ارتقاء ایک سادہ اور سیدھا طریقہ کار پیش کرتی ہے  اور اس بات کا کافی امکان ہے کہ یہ کائناتی خاصیت  مختلف حیات کے ماخذوں اور حیاتیاتی کیمیا  کا خاصہ ہو۔

    کائنات میں کیمیا کے حیات میں بدلنے کے عبوری وقت میں سالموں اور ان کے کام کرنے کا کوئی متبادل نہیں ہے؛ صرف ایک دوسری لازمی خاصیت  جو توانائی  کی پراگندگی کو بیان کرتی ہے  - صرف وہی سالموں کے بغیر کام کر سکتی ہے۔ دوسری کسی بھی چیز کے لئے پیچیدہ سالموں  خاص طور پر بڑے سالمات  جن کو کثیر سالمی مرکب (Polymers) کہتے ہیں  ان کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں  ہوگا۔ کثیر سالمی مرکب بہت لمبے سالمے  ہوتے ہیں جو چھوٹے حصّوں جن کو  یک سالمی مرکب (Monomers)کہتے ہیں۔(دیکھیں خاکہ نمبر7.1)۔ حیات کے بنیادی خامرے جو حیاتی کثیر سالمے کہلاتی ہیں وہ پروٹین ہوتے ہیں  - یہ  امینو ایسڈ اور نیوکلک ایسڈ  کو باہم مربوط کرکے بنتے ہیں  - جو نیوکلیوٹائیڈز سے بنتے ہیں۔

    شاید ہم یہ بات نہیں جانتے کہ کونسا کیمیائی جال اور خواص حیات کے لئے لازمی ہیں ، لیکن جہاں تک ہمیں یقین ہے کہ ان میں سے کچھ ضرور  ایسے ہیں جو حیات کے لازمی ہیں۔ سالمے بنیادی اینٹیں بن سکتے ہیں اور ان کے بغیر ایسا نہیں ہو سکتا۔ مزید براں اگرچہ لاکھوں کی تعداد میں سالمے موجود ہیں ، ان کو بنانے کے اوزار بہت ہی محدود ہیں ، اس طرح سے ہم آسانی کے ساتھ اپنے آپ کو ان چیزوں تک محدود کر سکتے ہیں جو ہمارے خیال میں حیات کے ارد گرد موجود ہونا لازمی ہونی چاہئیں۔ یہ اچھی بات ہے کیونکہ یہ ہمیں اسے سمجھنے کے لئے ایک اچھا موقع فراہم کرتا ہے۔

    جیسا کہ ہم ملاحظہ کر چکے ہیں کہ حیات کو اس پیمانے پر ہونا چاہئے جس میں قوّت ثقل اور برقی مقناطیسی قوّت دونوں قابل توجہ  ہوں ، اس کے علاوہ  حیات کو خلائی ماحول سے  تحفظ کی بھی  ضرورت ہے۔ درجہ حرارت کو دیکھیں۔ کائنات میں اس کے بہت ہی زیادہ درجے ہیں  - مطلق صفر سے لے کر کچھ دسیوں لاکھوں ڈگری  تک۔ سب سے ٹھنڈی جگہیں وہ گیس کے بادل ہیں جو ستاروں سے دور  چھوٹی کہکشاؤں کے مضافات میں واقع ہوتے ہیں۔ کئی سیارے بھی بہت سرد ہیں۔ ہمارے نظام شمسی میں بونے سیارے سیڈنا اور ایرس نیپچون کے سورج کے فاصلے سے تین گنا زیادہ دور ہیں  اور ان کی سطح کا درجہ حرارت کبھی بھی ہڈیوں کے گودے تک کو جما دینے والے ٣٠ کیلون (منفی ٤٠٠ فارن ہائیٹ ) سے اوپر نہیں جاتا۔ حالیہ دور میں حاصل کی جانے والی ان گیسی دیوہیکل سیاروں کی تصاویر  جو ستارے  HR 8799  اور فومل ہوٹ(Fomalhaut) کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں  وہ بھی یہ بتا رہی ہیں کہ ان سیاروں کا اپنے ستارے سے اتنا ہی عظیم فاصلہ ہے۔  لہٰذا اس بات کی امید کی جا سکتی ہے کہ اور بھی کافی زیادہ سیارے اتنے ہی سرد ہوں گے۔
     
    کاربن مونو آکسائڈ بلند درجہ حرارت پر بھی  قائم رہ سکتا ہے۔
    انتہائی شدید درجے حرارت کے علاقے ضخیم سیاروں اور کہکشاں کے مرکز کے قریبی علاقے ہیں۔ ہم سالموں کے ٹوٹنے کی برداشت کو جانتے ہیں ، اور زیادہ تر اونچے درجہ حرارت ان کی برداشت سے باہر ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ بہت زیادہ سخت جان ہوتے ہیں  جیسا کہ کاربن مونو آکسائڈ  جو اونچے نجمی درجہ حرارت (کم کثافت میں  وہ ٦ ہزار کیلون پر بھی بچے رہ سکتے ہیں )، کوئی بھی سالمہ جو تین جوہروں سے زیادہ پر مشتمل ہو وہ صرف اسی درجہ حرارت پر قائم رہ سکتا ہے جو ستاروں کے درجہ حرارت سے بھی  کم ہو۔ کہکشاؤں کے مرکزی علاقوں میں موجود بادلوں میں بھی سالمے باقی نہیں رہ سکتے۔ ستاروں سے نکلنے والی ایکس ریز اور بالائے بنفشی شعاعیں  اور عظیم نوتارے کے دھماکے سے نکلنے والی توانائی  کہکشاؤں کی گیس کو اچھا خاصا گرم رکھتی ہے۔       
     
    خامرے کم درجہ حرارت میں کام کرنا بند کردیتے ہیں۔
    کم درجہ حرارت کے اپنے مسائل ہیں  - خامرے باقی تو رہتے ہیں لیکن اپنے کیمیائی عمل کو کھو دیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم اپنے ذاتی تجربے کی بدولت جانتے ہیں ( اور اس کا استعمال ریفریجریشن کے ذریعہ کرتے بھی ہیں )، کہ نچلے درجہ حرارت پر کیمیائی عمل بہت ہی سست پڑ جاتا ہے۔ اگر بہت ہی زیادہ سخاوت کا مظاہرہ کریں تو درجہ حرارت ١٠٠ کیلون سے ٦٠٠ کیلون تک ٹھیک ہے  لیکن اگر ہم زمین کی اس حیاتیات کی بات کریں جو ہم دور حاضر میں جانتے ہیں تو درجہ حرارت  کا پیمانہ اور تنگ ہو جائے گا۔

    یہ ایک غیر معمولی نتیجہ ہے ۔ ایک ایسی کائنات جہاں درجہ حرارت دسیوں لاکھوں ڈگری  کا ہونا  ایک عام سی بات ہو ، حیات ایک کم درجہ حرارت پر وقوع پذیر ہونے والا مظہر ہے۔ اتنے نچلے درجہ حرارت پر کائنات میں  صرف چند ہی ایسی بڑی  چیزیں   ہیں جو لمبے عرصے قائم رہ سکتی ہیں – جیسے ستاروں کے درمیان گیس کے بادل  جن کو سالماتی بادل کہتے ہیں  اور سیارے (اس کے علاوہ ان کے سیارچے اور دوسرے چھوٹے سیاروی اجسام )۔

    توانائی  تک رسائی ایک اور اہم ماحولیاتی شرط ہے۔ درج بالا درجہ حرارت  کے پیمانے  میں  صرف دو خفیف ، پائیدار اور لمبے عرصے تک قائم رہنے والی توانائی کے ذرائع  ہیں : ستاروں کی روشنی  اور سیاروں کی اپنی اندرونی حرارت۔ ستارے سے اتنا  دور رہنا جیسا کہ زمین سورج سے فاصلے پر ہے  ایک اچھی جگہ ہے۔ توانائی کا بہاؤ تسلسل کے ساتھ اور لمبے عرصے چلنے والا ہونا چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑے سالموں کے اجسام  کو تباہ کیے بغیر ان کی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے  کافی ہے۔ اس نجمی توانائی تک رسائی کے لئے حیات کو صرف سیاروں پر ہونا لازمی نہیں ہے۔ دوسری طرف  سیاروی ہائیڈرو تھرمل ریخیں  جیسا کہ یلو اسٹون نیشنل پارک میں یا آئس لینڈ  میں موجود ہیں ، یا پھر سمندر کی تہ میں موجود ہیں ، یہ اس اندرونی حرارت  کی اچھی مثال ہیں  جو ویسی ہی توانائی مقامی اور عالمگیر سطح پر سیارے کو دیتی ہے  اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ستارے سے کتنی دور ہے۔ سیارے آہستگی کے ساتھ ٹھنڈے ہوتے ہیں ، خاص طور پر بڑے عظیم ارضی سیارے  اور ان کا توانائی کا یہ منبع ایک کافی لمبے عرصے تک تسلسل کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے۔ حرارت کے علاوہ ، یہ ریخیں زرخیز کیمیا کے منبع کے طور پر بھی کام کرتی ہیں  جو توانائی کے ذرائع کے طور پر کام میں آسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ہائیڈروجن سلفائڈ ایک ایسا کیمیا ہے جو میرے اور آپ کے لئے زہریلا ہو سکتا ہے ، لیکن ریخ میں رہنے والا ایک جرثومہ اس کو ایک ایسے عمل کے ذریعہ استعمال میں لاتا ہے جس کو کیمیائی تالیف  کہتے ہیں اور جس کے نتیجے میں وہ اپنے خلیوں کو توانائی فراہم کرتا ہے۔

    کیمیا کی بات کرتے ہوئے ، ایک تیسری اہم ماحولیاتی شرط ہے –  بظاہر حیات کو ایک ایسے ماحول کی ضرورت ہے جو کیمیائی تعاملات کرنے کی اجازت دے۔ کائنات میں موجود زیادہ تر ماحول رقیق ہیں۔ نسبتاً پیچیدہ سالموں کو سالمی بادلوں میں بننے کا مشاہدہ کیا گیا ہے  لیکن ان کی مرکزیت ہمیشہ بہت ہی رقیق رہی ہے۔ یہ  بات انتہائی خطرناک طریقے سے سالموں کی پیچیدگی اور ان کے آپس میں ایک دوسرے سے برتاؤ کو محدود کر دیتی ہے۔ گیسی دیو ہیکل سیارے جیسا کہ مشتری اور زحل ہیں  وہ بھی ایک دوسری ایسی مثال ہیں جو کیمیائی طور پر انتہائی مہین جگہیں ہیں۔ ان کے ابر آلود ماحول اور چمکیلے رنگ ہی وہاں موجود ہیں  - کوئی ٹھوس یا مائع سطح وہاں پر موجود نہیں ہے۔ جیسے ہی بادلوں کی گہرائی میں اتریں ، گیس کثیف اور گرم تر ہوتی جائے گی  اور چھوٹے سالموں کو چھوڑ کر سب تباہ ہو جائیں گے۔ زمین پر حیات کو خلیوں اور تھیلیوں کی صورت میں ملفوفات درکار ہوتے ہیں  تاکہ وہ اپنے کیمیائی اجزاء کو کام کی جگہوں پر استعمال کر سکیں ؛ اس قسم کے عدم توازن کو قائم رکھنے کے لئے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

    نسبتاً نچلے درجہ حرارت ، تسلسل کے ساتھ توانائی  اور کیمیائی ارتکاز  مل کر ایک ایسی جگہ ہی چھوڑتے ہیں جو سیارے کی شکل میں بہترین  ہو سکتی ہے ، اگرچہ صرف یہ واحد جگہ نہیں ہے جہاں حیات کے سالمے اور ان کے باہمی تعاملات ظہور پذیر ہو کر قائم رہ سکتے ہیں۔ کسی دوسری جگہ  میں یہ تمام شرائط پوری نہیں ہوتیں۔ اور کچھ دوسرے سیارے جیسا کہ گیسی دیو ہیں وہ بھی اچھی جگہ نہیں ہو سکتے۔ میدانی سیارے منفرد ہوتے ہیں جو زرخیز مرتکز کیمیائی عمل ، توانائی کے ذرائع  اور محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں۔  یہ ایک عمیق فہم ہے !


    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: حیات کا ماخذ - سیارے ہی کیوں؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top