Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ، 6 نومبر، 2015

    دیوہیکل سیارے بیرونی نظام شمسی میں کیسے پہنچے

    دوسرا باب

    دیوہیکل سیارے بیرونی نظام شمسی میں  کیسے پہنچے
     
    خاکہ2.1 سیاروی ہجرت کے نظریئے کے مطابق  نظام شمسی کے ابتدائی دنوں میں پھیلے ہوئے قدیمی حلقے زحل اور نیپچون کے گرد موجود تھے ۔  ایک نظریئے "نائس" کے مطابق، نیپچون کا واسطہ کئی مرتبہ زحل و مشتری سے پڑا۔ اس عمل کے دوران آوارہ گردی کرتے ہوئے سیارچے مثلاً زحل کا چاند فیبی  اس کا قیدی بن گیا۔ بلکہ یہاں تک یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک سیارے کے چاند کو دوسرے سیارے نے آپس میں بدل لیا ۔ قید کرنے کا یہ عمل کافی متشدد رہا ہوگا ، جس کی وجہ سے اندرونی دباؤ نے  آتش فشانوں ، تفاوت اور سطح  کے منہدم ہونے کے عمل کو پیدا کیا ہوگا۔
    سائنس کی بھی اپنی طلسمی کہانیاں ہوتی ہیں۔

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گرد و گیس کی ایک قرص تھی  جس کا نام شمسی سحابیہ تھا۔ اس پن چکی  جیسے گول سے کرّوی بادل کے درمیان، قوانین حر حرکیات  اور قوّت ثقل نے مادّہ کو خود سے اپنے آپ  میں منہدم ہونے  پر مجبور کیا۔ جوں جوں پھیلتی ہوئی مرکزی  کمیت بھاری ہوتی گئی، اس کے جوہر خود کو برقرار نہیں رکھ پائے، اور  ضو فشاں چرخ میں نیوکلیائی گداخت کا عمل شروع ہو گیا۔ سورج کی آمد ہو گئی تھی۔


    نوخیز ستارچہ بڑھ رہا تھا اور اپنی تجاذبی قوّت کی بڑھوتری کے ساتھ مزید مادّے کو کھینچ رہا تھا۔  جس طرح سے برف پر اسکیٹنگ کرنے والا تیزی سے چکر کھانے کے لئے اپنے بازو اندر کی جانب موڑ لیتا ہے  بالکل ایسے ہی وہاں ہو رہا تھا۔  گیس و گرد ، بے قاعدہ شکل و صورت کے سیارچوں ، دم دار تاروں  اور سیاروں میں ڈھلتے چلے گئے۔ چٹانی ارضی سیاروں نے اپنے آپ کو سورج کے نزدیک کرلیا تھا۔ ان کے قابل تبخیر مختلف  قسم کے مادّے تو سورج کی شمسی ہواؤں میں اڑ گئے تھے۔ نوزائیدہ سورج سے دور جہاں ٹھنڈ اور سکون تھا، وہاں مشتری اور زحل نے شمسی سحابیہ سے ہائیڈروجن اور ہیلیئم کھینچنے شروع کردی تھی۔ ان سے دور یورینس اور نیپچون نے پانی کو زیادہ قابو کیا، جس کے نتیجے میں وہ  آج نظر آنے والے برفیلی دیو بن گئے۔ قصہ مختصر سیارے وہاں بنے جہاں آج ہم انھیں دیکھتے ہیں ۔ اس منظر نامے کو معیاری نمونہ کہتے ہیں۔ یہ کافی اچھی کہانی بیان کرتا ہے۔

    بہرصورت سائنس میں نظریات بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں  اور بہت سارے محقق اب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا نظام ہائے سیارگان اپنے  تشکیلی ایّام میں اتنا پرسکون نہیں تھا کہ جتنا ہم سمجھتے تھے۔ ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ ان بولڈر ، کولوراڈو کے ہال لیویزن  ہمارے نظام شمسی کی اس طلسمی کہانی کے پیچھے تاک میں رہتے ہیں۔

    معیاری نمونے کا سامنا دو طرح کے اہم مسائل سے ہے۔ پہلا مسئلہ  وہ ہے جس کو لیویزن میٹر کی حد کہتے ہیں۔ "تیرتے ہوئے مٹی کے ذرّات کا تصوّر کریں؛ یہ آپس میں چپک کر روئی کے گالوں کی طرح ہو جاتے ہیں۔ ایک سے لے کر دس کلومیٹرکے کسی بھی جسم میں اگر یہ دھیمے سے ٹکرائیں تو یہ قوّت ثقل کی وجہ سے اس سے چپک جائیں گے۔ لیکن ان کے درمیان مسئلہ ہے۔" لیویزن اپنی میز پر رکھے دو کافی کی پیالیوں  کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ "اگر میں یہ دونوں پیالیاں  آپس میں ٹکراؤں ، تو میں چاہئے جتنی بھی کوشش کرکے ان کو آہستہ سے ٹکراؤں یہ جڑیں گی  نہیں۔ کوئی بھی ایسی قوّت نہیں ہے جو ایک میٹر کی چیز میں ایک ڈیسی میٹر کو ٹکر مار کر جوڑ دے۔ ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس ذرّے پر  ہوائی حرکی رگڑ بھی ہوگی۔ وہ اس گیس کی قوّت کو بھی باد مخالف (headwind)کی طرح  محسوس کریں گے جس میں سے وہ گزر رہے ہوں گے۔ بعد مخالف انھیں چکر دیتے ہوئے سورج میں جھونک دے گی۔"

     بہت ہی چھوٹے ذرّات  تو قدیم شمسی سحابیہ میں ہی ٹھر جاتے۔ بڑے اجسام پر رگڑ کی قوّت ان کی کمیت کی وجہ سے کچھ زیادہ اثر نہیں دکھا پاتی۔ لیکن وہ جسم جو ان کے درمیان میٹر کی رینج میں ہوتے وہ بڑا ہونے سے پہلے ہی سورج کی طرف ہجرت کر لیتے اور یوں سیارے بن ہی نہ پاتے۔ یہ معمہ ماہرین کو اس وقت سے تنگ کئے ہوئے تھا جب سے  اسے ١٩٧٠ء کی دہائی میں متعارف کروایا ہے۔

    کچھ محقق اس نظریئے کو پیش کرتے ہیں کہ شمسی سحابیہ میں ہونے والی اتھل پتھل نے میٹر جتنے اجسام کو  گرداب کی صورت  میں مرتکز کر دیا تھا۔ سورج کی قرص نے شاید ان بٹوں جتنے  چٹانی پتھروں کے ہجوم کو  بھنور کی سمت میں ہانک کر بتدریج منہدم کرتے ہوئے بڑے اجسام میں بدل دیا تھا۔ شاید۔
     
    نائس نمونہ  مصّور کی نگاہ میں 
    سیاروی ارتقاء کے بارے میں ایک دوسری کافی مختلف رائے  جو کہ کافی بہتر طور پر بنائی گئی ہے  وہ یہ ہے کہ یہ دیوہیکل سیارے اس جگہ نہیں بنے جہاں آج ہم انھیں دیکھتے ہیں۔ "یورینس اور نیپچون وہاں نہیں بن سکتے جہاں آج یہ ہیں۔"لیویزن کہتے ہیں۔" ان کو لازمی طور پر اندرونی طرف ہونا چاہئے تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر زمین جیسے حجم کے سیاروں کو اس علاقے میں رکھ دیا جائے تو وہ ایک دوسرے سے نہیں ٹکرائیں گے۔ قوّت ثقل بکھر کر ایک دوسرے کو مشتری کے مدار کے پاس پھینک دے گی، اور وہاں سے مشتری ان کو اٹھا کر نظام شمسی سے باہر روانہ کر دے گا۔ ان اجسام کو صرف اس علاقے (یورینس اور نیپچون کی حالیہ علاقے) میں نہیں بنایا جا سکتا۔"
     
    کائیپر  پٹی  میں زیادہ تر اجسام کے مدار  کافی جھکاؤ کے حامل ہیں.

    ہمارے سیاروی نظام کے باہری کونے پر ، برفیلی کائیپر پٹی  ایک اور اسرار دبائے بیٹھی ہے۔ بیرونی نظام شمسی میں پلوٹو جیسے برفیلے بونے  سیارے  بلند جھکاؤ  اور زیادہ بے قاعدہ گمگ کے ساتھ یورینس اور نیپچون کے محوری تعلق میں چکر لگاتا ہے۔ لیکن جس طرح سے سیارے پیدا ہوتے ہیں اس کے مطابق انھیں دائروی، کم جھکاؤ اور کم سمتی رفتار والے مدار میں ہونا چاہئے تھا۔[1] صرف یہی ایک طریقہ ہے جس میں سیارے  بنتے ہیں لیکن اس کے باوجود مشاہدہ کرنے والا کائیپر کی پٹی میں مختلف صورتحال کو دیکھتا ہے۔ کائیپر پٹی کے اجسام زیادہ بیضوی مداروں  کی طرف جھکاؤ رکھ کر تیر رہے ہیں۔ کائیپر پٹی کے اجسام کی کافی اکثریت غلط قسم کے مادّے سے بنی ہوئی لگتی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے وہ مختلف جگہوں سے آئے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے میں گھس گئے ہیں۔ سیارے اپنی حالیہ  ہئیت میں اس طرح نہیں بن سکتے جہاں وہ اب موجود ہیں۔ کوئی ایسی چیز تھی جس نے ہمارے نظام شمسی کی ساخت کو بدلا تھا۔ کافی ماہرین تو اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دیوہیکل سیاروں نے شروع دبے ہوئے اجسام سے کی تھی اور پھر انہوں نے وہاں سے ہجرت کر لی۔ یہ منظر نامہ  اس اچھے نمونے کا دل ہے۔ اس  نظریئے کا نام "نائس " اس لئے پڑا کہ لیویزن اور تین دوسرے سائنس دان جنہوں نے سب سے پہلے اس نظریئے کو ملا کر بنایا تھا ان کا تعلق فرانس کے ساحلی گاؤں "نائس" سے تھا۔

    خاکہ2.2 نائس نمونہ۔ بائیں: باہری سیارے اور سیارچوں کی پٹی کا  اس وقت کا منظر  جب مشتری اور زحل  نے ٢ اور ١ کی نسبت سے گمگ حاصل نہیں کی تھی۔ درمیان: نیپچون (گہرا نیلا) اور یورینس (نیلا –ہرا) نے جب جگہیں بدلیں، تو انہوں نے سیارچوں کو اندرونی نظام شمسی کی طرف ہنکا دیا ۔ دائیں: سیارے اپنے حالیہ مدار میں، جب انہوں نے سیارچوں کو نظام شمسی سے باہر نکال دیا۔

    نائس نمونہ ، معیاری نمونے کے شدید خلاف دو متبادل  پیش کرتا ہے۔ ایک منظر نامے میں تو بہت ہی سکون کی ہجرت ہے جہاں یورینس اور نیپچون شمسی سحابیہ میں سے گزر کر آرام کے ساتھ مرغولے نما چکر کھاتے ہوئے اس جگہ پہنچے ہیں۔ دوسرے خیال میں چار دیو ہیکل سیارے (اور یا شاید پانچ جس میں سے ایک کو نظام شمسی سے باہر نکال دیا گیا) آپس میں قریب آتے رہے یہاں تک کہ  وسیع غیر پائیداری نے یورینس اور نیپچون کو ہڑبونگ میں ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔(خاکہ2.2 کو ملاحظہ کیجئے)۔نمونہ بتاتا ہے کہ دونوں کے مدار ایک دوسرے سے گزرتے تھے  بلکہ شاید مشتری اور زحل کے مداروں میں سے بھی گزر ہوتا تھا۔ دو گیسی دیوہیکل سیاروں کی قوّت ثقل نے یورینس اور نیپچون کو بوریا بستر گول کرکے انہوں چھوٹے سیارچوں کی قرص کی جانب روانہ کر دیا تھا ۔ یہ  ایک ایسے دور دراز کی سیارچوں کی پٹی تھی  جو اب وجود نہیں رکھتی ہے۔ باہری سیارچوں اور دم دار ستاروں  کے اس ہجوم نے بالآخر کائیپر کی پٹی کو جنم دیا ۔ لیویزن کے الفاظ میں یہ ، "ایک ایسی جگہ ہے جہاں زمین جیسی کمیت کے  ہزاروں  اجسام مثلاً پلوٹو نمو پا سکتے تھے۔" یہ ان قوی ہیکل سیاروں کی ہجرت تھی جس نے ان کو بننے سے روک دیا تھا۔ لیکن قرص کی کمیت  اور سورج سے قریبی جہانوں کے باہمی تعامل نے  سیاروں کو بالآخر باقی رکھا اور انھیں نظام شمسی سے خارج ہونے سے باز رکھا۔
     
    خاکہ2.3: "تپتے ہوئے مشتری" کی دریافت، ماورائے شمس سیارے  قریبی ستارے کے گرد چکر لگاتے ہوئے  ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ سیاروی تشکیل میں ان کا کردار کس قدر اہم ہے ۔
    نائس نمونے کے خیال  کی اعانت نہ صرف ہمارے اپنے نظام شمسی کے مشاہدے سے ہوتی ہے  بلکہ ماورائے شمس سیاروں کے مطالعے سے بھی اس کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ یہ بات ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ ان بولڈر، کولوراڈو کے  اعلیٰ سائنس دان ڈان دردا  (Dan Durda)کہتے ہیں۔"ہماری تفہیم میں کافی کچھ بہتری دوسرے ستاروں کے گرد چکر لگاتے ہوئے  ان تپتے ہوئے مشتریوں کے مشاہدے سے  ہوئی ہے۔ یہ لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں، 'او ، رکو ایک منٹ، قرص میں بنتے سیاروں کی ہماری تصویر اس میں پوری نہیں اترتی کیونکہ کیسے مشتری اتنا قریب آ سکتا ہے؟' یہ لوگوں کو اس بات کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ اس وقت  قرص میں کیا ہوتا ہے جب بڑا مشتری وہاں بننا شروع کرتا ہے، اور بل وارڈ اور اس جیسے دوسرے لوگ اس بات کا احساس کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ  یہ صرف سیاروں اور قرص کے درمیان ہونے والے باہمی تعاملات کا نتیجہ ہے۔"

    محققین سمجھتے ہیں کہ جب سیارہ ،قرص میں بننا شروع ہوتا ہے  تو  وہ  دراڑ  اور موجیں پیدا کرتے ہیں اور یہ کمیتی موجیں اور درزیں سیارے پر بذات خود مروڑیاں  پیدا کرتے ہیں۔ جب سیارے بن جاتے ہیں اور درز صاف ہو جاتی ہے ، تو یہ درز یا شگاف سیارے کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اندر کی جانب حرکت کرے، دردا کہتے ہیں۔ "قرص کے اندر ہونے والے عمل  کی وجہ سے پورا ایک عشرہ سوچ و بچار اور دوبارہ سے سمجھنے  اور سیکھنے میں لگا ۔ اس نے ہمیں پیچھے بھیجا تاکہ ہم اپنے نظام شمسی میں ہونے والی کافی چیزوں کو وقوع پذیر ہوتا ہوا دیکھ سکیں، اور اسی  وجہ سے گیس/قرص/سیاروی  تعاملات کے مختلف تصوّر ابھرے۔ یہ واقعی میں ہماری تفہیم میں کافی بڑی تبدیلی ہے، اور ماورائے شمسی سیاروں نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔"

    ہماری تفہیم میں دوسرا بڑا اہم کردار زحل کے حلقوں کی ساخت کو  سمجھنے کے عمل نے ادا کیا۔ کیسینی مہم نے اس پیچیدہ ، وسیع مادّے کے میدانوں کے بارے میں ہمیں جس قدر مفصل معلومات بہم کی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ اس نے سائنس دانوں کو حقیقی ابتدائی سیاروی نمونہ قرص  کی شبیہ پیش کی ہے۔ حلقوں کے درمیان شگاف ان جگہوں پر بن جاتے ہیں جہاں ذرّات اس کے بڑے مہتابوں کے ساتھ  ثقلی گمگ بناتے  ہیں ۔ کمیت کی مرغولہ نما موجیں پورے نظام میں حرکت کرتی ہیں۔ چھوٹے چاند اکثر حلقوں میں ہی پیوستہ ہو جاتے ہیں اور نفیس موجوں کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ، جو دوڑ کے ٹریک جیسے  برفیلے ذرّات سے بنے جتھوں کے ساتھ ہزار ہا میل تک ہلکورے کھاتی ہیں۔ جبکہ ایک دو میل "V کی شکل  کا مادّہ"(chevron of materials)" ب حلقوں"(B rings) کے کونے سے  پیچھے کو نکلتا ہے۔ "زحل کے حلقوں کا نظام قرص کی حرکت کو دیکھنے کے لئے  شاید قدرت کی سب سے بہترین تجربہ گاہ ہے،" دردا کہتے  ہیں۔
     
    خاکہ 2.4 زحل کے حلقے ابتدائی سیاروی نمونہ قرص کے اندر ہونے والی حرکات کو دیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ کیسینی خلائی جہاز سے لئے ہوئے اس منظر میں، ننھا چاند ڈیف نس  (Daphnis)کیلر درز (Keeler gap)کے اندر مدار میں چکر لگانے کے دوران حلقوں میں موجود مادّے کو سامنے اور پیچھے سے موجوں اور بل دار صورت میں ڈھال رہا ہے۔
    بہرحال ہر کسی نے نائس نمونے کو قبول نہیں کیا۔ اس کی کچھ پیش گوئیاں  کچھ مشاہدات سے میل نہیں کھاتیں۔ ناقدین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نائس نمونہ زمین کے چاند کے طاس پر موجود تصادموں کے نشانات اور گڑھوں کی تعداد سے میل نہیں کھاتا( جو نائس کے حساب سے کافی کم ہیں )۔ چاند سے حاصل کردہ نمونے کے اجزاء سیارچوں سے تصادم کی جانب اشارہ کر رہے ہیں ، جبکہ نائس اس کی سطح پر دم دار ستاروں کی  ٹکروں کو زیادہ بیان کرتا ہے۔ نائس نمونہ اس بات کو بھی بیان کرتا ہے کہ جب سیارے ہجرت کرتے ہیں، ان کی قوّت ثقل سیارچوں کو مخصوص قسم کے خاندان میں پھیلا دیتی ہے جو فی الوقت ہم سیارچوں میں نہیں دیکھتے۔ یہ انتشار  بیرونی سیاروں کے برفیلے سیارچوں پر وہ ضربیں لگاتیں ہیں کہ وہ اپنی برف کی زیادہ تر قشر کو کھو دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوا۔

    کمپیوٹر کی مدد سے کی گئی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ مشتری اور زحل کی ہجرت  ارضی سیاروں کے مدار کی حالیہ قدر کو بڑھا کر ان کو اور زیادہ بیضوی مدار میں دھکیل دیتی، اور ہجرت کے بعد  نتیجتاً سیارچوں کی پٹی  میں بلند اور پست جھکاؤ کے مداروں میں بہت زیادہ فرق ہوتا۔ اصل نائس نمونے میں مشتری اور زحل کو باہمی ٢ اور ١ کی نسبتی گمگ میں بتدریج پہنچنے میں یہ ضروری تھا کہ یہ اس دور میں ہوتی جب ماضی بعید کی بھاری بمباری وقوع پذیر ہوتی تھی ، اور اس کے نتیجے میں مریخ  نظام شمسی سے باہر نکل کر اندرونی حصّے کو غیر مستحکم کر دیتا۔

    مشتری اور زحل کے مداروں کی جدائی کی وجہ ایک برفیلے دیو کا قریبی ٹکراؤ ہے جس کو "مشتری کی چھلانگ کا منظر نامہ" کہتے ہیں۔ اس  نظریئے کو اس  قسم کے مسائل  کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، لیکن اکثر اس میں بھی برفیلے دیو کو نظام شمسی سے باہر جانا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کچھ لوگ اس بات کی تجویز پیش کرتے ہیں کہ ابتدائی نظام شمسی میں پانچ برفیلے دیو ہیکل سیارے تھے، جن میں سے ایک اس غیر مستحکم دور میں باہر نکل گیا تھا۔

    محققین مسلسل نمونے میں تبدیلیاں کر  رہے ہیں اور نائس منظر نامے کے پیرامیٹر ز  میں  نئی دریافتوں کو شامل کرکے بہتر سے بہتر کر رہے ہیں۔ لیویزن کہتے ہیں، "کسی نے بھی ایسا نمونہ نہیں بنایا جو اس کے متبادل کے قریب بھی ہو۔"


    نائس دور سے پہلے  - ایک جملہ معترضہ  

    اٹھارویں صدی کے سائنس دانوں کے پاس سیاروں کی تشکیل کے بارے میں دو سراغ  تھے۔ پہلا  سراغ یہ کہ ستارہ گھومتا ہے ( جیسا کہ ہم اپنے سورج میں اس  کے داغوں کو دیکھتے ہیں اور دور دراز ستاروں کی روشنی میں ہونے والی باقاعدہ تبدیلی کو بھی محسوس کرتے ہیں)۔ دوسرا  سراغ بتاتا تھا  کہ تمام سیارے قریباً دائروی مداروں اور ایک ہی سمت میں  اپنے مرکزی ستارے کے گرد سفر کرتے ہیں۔ اس مظہر سے اس جانب غور کرنے کا موقع ملا کہ سورج اور سیارے جس مادّے کی قرص سے بنے ہیں وہ گھوم رہی تھی۔ اب ہم اس قرص کو شمسی سحابیہ کہتے ہیں۔

    ایمانوئیل کانٹ   جو ایک پروشیائی فلسفی اور مصنف تھا اس نے ١٧٥٥ء میں سب سے پہلے شمسی سحابیہ  کا تصوّر پیش کیا تھا[2]  (اور خود مختار طور پر ١٧٩٦ء میں  اس تصوّر کو فرانسیسی ماہر فلکیات  پیئری سائمن لا پلاس نے پیش کیا )۔ کانٹ  نے کہا کہ کائنات میں تیرتے ہوئے  گیس کے بادل  غیر مستحکم ہو کر  قوّت ثقل کے زیر اثر جمع ہونے شروع ہو گئے تھے۔ جب یہ کائناتی بادل منہدم ہوئے تو ان میں گھماؤ پیدا ہوا ہوگا، کانٹ نے   خیال کیا۔ اس گھماؤ نے بادلوں کو چکر دے کر چپٹا کر دیا ہوگا ، اس طرح سے سیارے ایک مرکزی ستارے کے گرد گھومتے ہوئے پیدا ہو گئے ہوں گے۔

    دوسروں نے کچھ الگ تصوّر پیش کیے۔ ١٩٠٥ء میں ماہر ارضیات تھامس چمبرلین  (Thomas Chamberlin)اور ماہر فلکیات فارسٹ مولٹن  (Forest Moulton)کے خیال کے مطابق  ایک ستارہ نوزائیدہ سورج کے قریب سے گزرا تھا  اور اس کے  نتیجے میں سورج سے مادّہ باہر نکالا  جس نے اس  کے مرغولہ نما بازو بنا دیئے تھے۔ یہ بازو بعد میں تکثیف  ہو کر سیاروں میں ڈھال گئے۔ اس نظریئے کا فائدہ یہ ہے کہ بازو کے موٹے حصّے مرکز کے قریب رہیں گے، جہاں پر برفیلے گیسی دیو ہیں، جبکہ پتلے حصّے  کے ایک کنارے پر   چھوٹے چٹانی سیارے بچ  جاتے ہیں جبکہ دوسرے  دور والے حصّے پر دم دار ستارے اور سیارچے رہ جاتے ہیں۔ اس وقت مرغولہ نما کہکشاؤں کو ستارہ سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ ایک  پھرکی کی طرح ہوتی تھی  لہٰذا فرض کیا جاتا تھا کہ ان کے درمیان میں ستارہ جبکہ  بازوں میں مادّہ  ہوتا ہے ، اور ان  کہکشاؤں کو اس نظریہ کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ تین دہائیوں بعد روسی ماہر فلکیات اوٹو شمڈت  (Otto Schmidt)نے یہ نظریہ پیش کیا کہ جب  سورج بین النجمی گیس کے کثیف بادل میں تیرا تو پیچھے بچے ہوئے گرد و غبار سے نظام شمسی بنا۔
     
    خاکہ 2.5  اورائن سحابیہ میں ابتدائی  سیاروی نمونے کی قرص  جو پرو پلیڈ کہلاتی ہے ، یہ ایما نیول کانٹ کے نظام شمسی کے تشکیل کے  نظریئے  کی تصدیق کرتی ہے۔
    دوسرے نظریات بھی عود آئے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ایمانوئل کانٹ درست تھا، لیکن ریڈیائی دوربین کی  ایجاد تک  کسی نے بھی ستارے کے قریب قرص کو نہیں دیکھا تھا ، جو غیر شفاف تاریک بادلوں  کے اندر جھانک سکتی تھی۔ حالیہ دور میں ہبل خلائی دوربین اور اسپٹزر  دوربین نے ستاروں کے گرد موجود درجنوں سیاروی قرصوں کو دیکھا ہے جو کانٹ کے اصل نظریئے کی تصدیق کرتی ہیں۔


    برف کے خط کے پار

    سورج سے قریب علاقہ پانی یا گیس کو برف میں تبدیل کرنے کے لئے کافی گرم تھا۔ یہاں پر سیارے سلیکیٹ  اور چٹانی اجسام میں تبدیل ہو گئے تھے۔ نظام شمسی کا گرم اندروں ایسی دھند سے بنے گرم ننھے کرہ  میں تیر رہا تھا جس کو کنڈرول (chondrules)کہتے ہیں ۔ کنڈرول  کافی سارے قدیمی سیارچوں میں پایا جاتا ہے،  یہ قدیمی غرقابہ  کافی بلند درجہ حرارت (١٥٠٠-١٩٠٠ کیلون) پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ کنڈرول آپس میں الجھ گئے اور انہوں نے چٹانی سیارے بنائے۔ شمسی سحابیہ کی عظیم قرص سے کافی دور، درجہ حرارت اتنا کم تھا کہ برف جم سکتی تھی۔ ان دو علاقوں کے درمیان موجود خط کو "برفیلا خط"(snow line) کہتے ہیں۔ اس خط کے بعد، چھوٹے اجسام نے  اپنے آپ کو برف اور چٹان کی گیندوں میں ڈھال لیا تھا۔ گیسی دیو نے اپنی زبردست قوّت ثقل کے ساتھ سحابیہ کے قریب موجود ہائیڈروجن اور ہیلیئم کو کھینچ لیا تھا۔ وہ مستقل مزاجی کے ساتھ قوّت ثقل کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہے، یا انہوں نے اس مادّے کی لہر کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جو بادل میں ہونے والی ثقلی  اتھل پتھل کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ ان دونوں میں سے کسی بھی طرح گیسی دیو ہائیڈروجن، ہیلیئم اور امونیا  اور دھاتی قلب کے ساتھ ضخیم کرہ بن گئے۔
     
    خاکہ 2.6 کروی کنڈرول بنیادی طور پر سلیکٹ معدن مثلاً اولیوائن اور پروکسینی  پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ مختلف قسم کے شہابیوں میں پایا جاتا ہے، اور ابتدائی نظام شمسی کے بننے کے وقت کی جانب سراغ فراہم کرتا ہے۔
    چاہئے نائس نمونہ درست ہو یا نہیں ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ یورینس اور نیپچون برف کے خط سے دور بنے ہیں۔ ہرچند کہ مشتری اور زحل  نے کافی تعداد میں ہائیڈروجن اور ہیلیئم کو جمع کرلیا تھا، لیکن ان  برفیلے دیو میں ہائیڈروجن اور ہیلیئم گیس  کم ہے ، جبکہ  وہ گیسیں جو منجمد پانی اور نامیاتی مادّوں  کے ساتھ نسبت رکھتی ہیں مثلاً آکسیجن، نائٹروجن، کاربن اور میتھین  وہ کافی تعداد میں ہیں۔

    جب وہ بن رہے تھے تو تمام چکر کھاتی ہوئی گیس اور برفیلے دیو  ہیکل سیاروں نے خود کے گرد قرص کی شکل کے بادل کے خول کو جمع کرلیا تھا۔ نوزائیدہ سورج کے  اندرونی نظام کی طرح گیسی دیو کو بنانے والا مرکزی بادل گرم تھا اور جمع ہوتی توانائی سے حرارت حاصل کر رہا تھا۔
     
    جب مشتری اور زحل ٹھنڈے ہوئے تو سکڑ گئے اور اپنے پیچھے ٹھنڈا گیس، برف اور گرد  کا بادل چھوڑ گئے۔ ان چھوٹی قرصوں میں سے ان کے حلقوں کے نظام بنے اور قرص میں دور ان کے چاند تکثیف ہوئے۔ مشتری کے چار مہتاب جن کو گلیلیو کے چاند کہتے ہیں اس کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔ مشتری سے قریب آئی او اور یوروپا بڑی کثیف چٹانی قلب والے کروں میں منہدم ہوئے، اور یوروپا میں تو  ایک نسبتاً پتلی پانی کی قشر بھی بنی ۔ یہ مشتری کے اپنے ارضیاتی سیارے ہیں۔ مشتری کے باہری بادل میں جہاں زیادہ پانی تھا گینی میڈ  اورکیلسٹو  بڑے کثیف جہانوں کی صورت میں بنے جن کا قلب چھوٹے چٹانی پتھر ہیں اور برف کی گہری قشر ہے۔ برفیلے دیو (عجیب بات یہ ہے کہ برفیلے دیو نیپچون کے مہتاب  اس قسم کے منظم نمونے پر عمل پیرا نظر نہیں آتے  جس میں کمیت بڑھتے فاصلے کی نسبت سے کم ہوتی ہے، شاید اس کی وجہ  بے جا مداخلت کرنے والا بڑا ٹرائٹن ہے  جو اس نظام  کے باہر سے آیا ہے۔)

    جب گیسی یا برفیلے دیو کی تشکیل ہو چکی تب بھی ان سیاروں نے شمسی سحابیہ  یعنی سورج کے اطراف  میں موجود گرد و گیس کے بادلوں سے گیس، چٹان اور برف کو جمع کرنا جاری رکھا۔ دیوہیکل سیارے کے گرد چکر لگاتی ہوئی مادّے کی قرص اپنے خط استواء کے میدان میں گھٹنا  شروع ہو گئی اور بالکل ایسے گرداب میں بہنے لگی جس طرح سورج کے ابتدائی بادل نے سیاروں کو بنانے کے لئے چکر دیا تھا۔ نئے تحقیقات [3] کے مطابق ابتدائی سیارچوی بادلوں نے مرکزی سیارے کے گرد تکثیف ہونا شروع کیا اور اس سے ان کے مہتاب بنے، نئے بننے والے مہتابوں کی قوّت ثقل نے بادل  کو بے کل کرکے مرغولہ نما لہریں پیدا کر دیں۔ جب مہتاب بڑھنا شروع ہوئے، تو  یہ اثر اور بڑھ گیا اور مہتابوں کے مدار ستارے کی جانب چکر کھاتے ہوئے قریب ہونا شروع ہو گئے۔ جتنا زیادہ مادّہ بادلوں میں آنا شروع ہوا، اندرونی مہتاب اتنا ہی قریب  سیارے کی جانب حرکت کرتے رہے جبکہ گیسی قرص میں باہر کی جانب دوسرے چاند بنتے رہے۔

    ڈان دردا مشتری کے  ابتدائی وسیع سیارچوں کے نظام کے ارتقاء کو بیان کرتے ہیں:" اشارہ یہ ہے کہ چار گلیلیو کے مہتابوں کا نظام جس کو ہم دیکھتے ہیں یہ سیارچوں کو بنانے والے کارخانے کے آخری باقی بچے ہوئے چاند ہیں ، شروع کے بننے والے مہتابوں کو ان سیاروں نے اس قرص میں سے سفر کرتے ہوئے نگل لیا تھا۔" جب نوزائیدہ سورج جوان ہوا، دردا توجیح پیش کرتے ہیں ، تو اس نے ایک ٹی-ٹوری  مرحلے(T-tauri phase) کو برداشت کرلیا تھا، ایک ایسا متحرک مرحلہ جس میں شمسی ہواؤں نے سیاروی نظام سے زیادہ تر گیس اور گرد کو جھاڑ دیا تھا۔" جس چیز نے اس قرص کو بند کیا وہ  ٹی-ٹوری مرحلہ تھا جب سورج نے آگے بڑھ کر قرص کی صفائی کی – نہ صرف ابتدائی سیاروی قرص کی صفائی  ہوئی بلکہ مشتری کے گرد موجود ابتدائی سیارچوی قرص کی بھی ۔ اس طرح سے اس کی   اس گیس کی قرص سے جان چھٹی اور یہ عمل بند ہوا۔"

    مہتابوں کے اس تباہی اور پیدائش کے کارخانے میں مہتابوں کی کل کمیت مستقل ایک ہی  رہی۔ مشتری ، زحل اور یورینس کے مہتابوں کا نظام  ایک دوسرے سے کافی مختلف ہے۔ مشتری کے چار گلیلیو کے چاند حجم میں قریباً ایک جیسے ہی ہیں، جبکہ زحل کا ایک دیوہیکل چاند  دوسرے کئی چھوٹے اور درمیانی حجم کے مہتابوں کے ساتھ موجود ہے۔ یورینس کے مہتاب کچھ حد تک ترتیب میں مشتری کے مقابلے کے ہیں۔ یہاں تک کہ محققین اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ  مشتری، زحل اور یورینس کی  اپنی سیاروی کمیت اور ان کے تمام مہتابوں کے نظام کی کمیت کی ایک دوسرے سے  نسبت  ایک ہی جیسی ہے۔ یعنی کہ کل سیارچے مل کر اپنے مرکزی سیارے کی کل کمیت  کے ایک فیصد کا سوواں حصّہ ہوتے ہیں۔

    بیرونی نظام شمسی بالآخر اس طرح منظم ہو گیا جو آج ہمیں دکھائی دیتا ہے۔ یہ حد درجے ٹھنڈ، سن کر دینے والی تفرید ، اور تاریکی سے بھری تنہائی کی سلطنت ہے۔ لیکن نظام شمسی کا دور دراز سیاروی علاقہ کچھ سب سے شاندار ، خوبصورت  اور عجیب ان  مظاہر کا گھر ہے جو انسانیت نے شاید کبھی نہیں دیکھے ہوں گے۔ یہ ہمارا انتظار کر رہا ہے، لیکن اس سے پہلے کہ ہم وہاں ٹھنڈے  اور حیرت انگیز جہاں پر  قدم رنجا فرمائی کریں، روبوٹوں کو وہاں بھیجنا چاہئے۔ کچھ تو وہاں پہلے سے ہی موجود  ہیں۔ 





    [1] ۔ جھکاؤ اس کو کہتے ہیں کہ کس طرح سے  مدار نظام شمسی کے خط استواء پر جھکا ہوا ہے۔
    [2] ۔ کانٹ اپنے پیش رو ایما نیول سویڈن بورگ کے کام سے متاثر تھا ۔ 
    [3]۔ مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کیجئے:   www.swri.org/9what/releases/2006/canup.htm
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: دیوہیکل سیارے بیرونی نظام شمسی میں کیسے پہنچے Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top