Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, جون 3, 2015

    بلیک ہولز

    یہ سچ ہے کہ کائنات میں نادیدہ اور غیرمرئی، دیوہیکل عفریت پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ ہم ان کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتے لیکن ان کی موجودگی محسوس ضرور کی جاسکتی ہے۔ کائنات میں کوئی بھی چیز ان بلیک ہولز (Black Holes) سے زیادہ طاقتور، ہیبت ناک اور خوفناک نہیں۔ بلیک ہولز بلاتفریق ہر وہ چیز ہضم کرلیتے ہیں جو ان کی دسترس میں ہو؛ اس میں وہ کوئی تخصیص نہیں کرتے چاہے وہ سیارے ہوں یا ستارے۔ کوئی بھی چیز ان سے بچ نہیں سکتی۔ بلیک ہولز نے شروع ہی سے ماہرین طبیعیات کو الجھا رکھا ہے۔ اس کی وجہ ان کے آس پاس اور ان کے اندر، قوانین طبیعیات کا بہت ہی عجیب طریقے سے برتاؤ ہے۔

    (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر١) بہرحال، ایک بات تو ثابت ہے کہ ہماری کائنات پر ان ہی کی حکمرانی ہے۔ بلیک ہولز عموماً کہکشاؤں کے مرکز یا قلب میں ہوتے ہیں۔ اب ہم جان چکے ہیں کہ کائنات کے ارتقاء میں ان کا کردار بہت ہی کلیدی نوعیت کا رہا ہے۔ بلیک ہولز، کائنات کی سب سے زیادہ پراسرار چیزوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی ثقلی قوّت اس قدر شدید اور زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز ان سے فرار حاصل نہیں کرسکتی… چاہے وہ روشنی کی رفتار ہی سے سفر کرنے کے قابل کیوں نہ ہو۔ ان میں سے بعض بے رحم عفریت اتنے بھیانک ہوتے ہیں کہ پوری کی پوری کہکشاں تک نگل سکتے ہیں؛ وہ بھی ڈکار لئے بغیر۔

    آج سے کچھ عرصہ پہلے تک بلیک ہولز صرف سائنس فکشن ہی میں نظر آتے تھے۔ مگر اب ہم جانتے ہیں کہ وہ واقعتاً، حقیقت میں وجود رکھتے ہیں۔ یہ کچھ زیادہ پہلےکی بات نہیں جب لوگ بلیک ہولز کے تصور کا مذاق اڑایا کرتے تھے؛ اور انہیں سائنسی خرافات سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ مگر اب لوگ انہیں سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک یہ تو ممکن نہیں ہوسکا کہ ہم خلاء میں کئی نوری سال کا سفر کرکے کسی ایک بلیک ہول تک جاپہنچیں، اور نہ ہم ان کا براہ راست مشاہدہ ہی کرسکتے ہیں؛ مگر پھر بھی ہمارے پاس ان کی موجودگی کے واضح ثبوت ہیں۔ سائنس دان ‘‘عقاب’’ (Aquila) نامی مجمع النجوم (ستاروں کے جھرمٹ) میں ایک نادیدہ بلیک ہول کو ایک ستارہ ہڑپ کرتے ہوئے مشاہدہ کرچکے ہیں۔ کچھ ہی لاکھ سال میں یہ پورے کا پورا ستارہ، اپنے قریبی بلیک ہول کا تر نوالہ بن جائے گا۔ بلیک ہولز لکڑ ہضم پتھر ہضم ہوتے ہیں۔ ان میں گرنے والی کسی بھی چیز کا وقت، اس کے خاتمے کا وقت ہوتا ہے۔ اس میں گرنے والی چیز کےلئے – چاہے وہ ستارہ ہو، معمولی سا مادّہ ہو، توانائی ہو یا پھر کچھ اور – انجام صرف اور صرف موت ہے۔ اگرچہ یہ کائنات کی سب سے تباہ کن طاقتوں میں سے ہیں، لیکن پھر بھی یہ کہکشاؤں کے ارتقاء میں، ان کی تعمیر میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    کچھ ماہرین فلکیات کے نزدیک بلیک ہولز کسی دوسری متوازی کائنات کا دروازہ ہیں۔ ہم بلیک ہولز کی طبیعیات پر ہونے والی تحقیق کے سنہرے دور میں داخل ہورہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کائنات کے آغاز، ارتقاء اور انجام کے بارے میں وہ ایسی اہم معلومات فراہم کرسکیں جو اس سے پہلے ہمارے علم میں نہیں تھیں۔ جدید فلکیات میں بلیک ہولز کا کردار صف اول کا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہکشاؤں کے ارتقاء سے متعلق ہمارے خیالات بدل کر رکھ دیئے ہیں۔ بلکہ اس بارے میں بھی ہماری سوچ اتھل پتھل کردی ہے کہ یہ کائنات، آفاق کی یہ کارگہِ شیشہ گری، کس طرح کام کرتی ہے۔ اور بلیک ہولز کو یہ صلاحیت ایک بنیادی کائناتی قوت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے: قوتِ ثقل کی وجہ سے۔

    قوتِ ثقل ہمارے قدموں کو زمین پر جمائے رکھتی ہے۔ اسی کی بدولت زمین، سورج کے گرد چکر لگاتی ہے۔ مگر یہی ثقلی قوّت جب بلیک ہولز میں ہوتی ہے تو اس قدر شدید ہوتی ہے کہ ہر چیز کو اپنے شکنجے میں اس مضبوطی سے جکڑ لیتی ہے کہ وہ اس کی گرفت سے فرار ہی نہیں ہوسکتی۔ یہاں تک کہ یہ دور ستاروں سے آنے والی روشنی کو بھی بہت خم دے دیتی ہے؛ اور اگر وہ روشنی ان سے کچھ زیادہ قریب آجائے تو یہ اسے بھی ہضم کرلیتے ہیں۔

    بلیک ہول کی ہر چیز ہضم کرلینے کی یہ خاصیت سمجھنے کیلئے ہم ایک مثال سے مدد لیتے ہیں۔ فرض کیجئے کہ ایک دریا بہتا آرہا ہے، جو آگے جاکر ایک آبشار کی صورت میں گر رہا ہے۔ آبشار والی جگہ سے بہت پیچھے، دریا کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ لیکن جیسے جیسے آبشار قریب آرہا ہے، ویسے ویسے دریا کا بہاؤ بھی تیز ہوتا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ عین آبشار کے دہانے پر پہنچ کر دریا کا بہاؤ انتہائی تیز ہوکر آبشار کی شکل اختیار کرلیتا ہو؛ اور تیزی سے گرنے لگتا ہے۔ اس دریا میں ایک ڈونگی (چپوؤں والی چھوٹی کشتی) بھی تیر رہی ہے۔

    یہ مثال ذہن میں رکھتے ہوئے ہم قوتِ ثقل کو بہتا دریا تصور کرتے ہیں، جبکہ آبشار کے دہانے کو بلیک ہول کا کنارہ قرار دیتے ہیں۔ ڈونگی کو ہم ایک وجود سمجھے لیتے ہیں؛ جو روشنی بھی ہوسکتی ہے اور مادّہ بھی۔ آبشار سے بہت پیچھے، خاصی دوری پر دریا کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے؛ یعنی قوتِ ثقل بھی معمول پر ہے۔

    ڈونگی اس بہاؤ میں خراماں خراماں آبشار کی سمت بہتی جارہی ہے۔ اس وقت ڈونگی پر سوار فرد کےلئے ممکن ہے کہ وہ رخ موڑ سکے اور چپوؤں کی مدد سے بہاؤ کے مخالف بھی حرکت کرسکے۔

    لیکن جیسے جیسے آبشار (بلیک ہول کا کنارہ) قریب آرہا ہے، ویسے ویسے دریا کے بہاؤ (قوتِ ثقل کی شدت) میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ڈونگی میں بیٹھے شخص کےلئے بہاؤ کے خلاف جانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ لیکن اب بھی وہ خاصی جدوجہد کے بعد ڈونگی کا رُخ موڑ سکتا ہے… مگر وہ ایسا نہیں کرپاتا۔

    یہ ڈونگی آگے بڑھتے بڑھتے آبشار کے دہانے کے بالکل قریب پہنچ جاتی ہے۔ دریا کا بہاؤ اور بھی تیز ہوچکا ہے؛ یعنی قوتِ ثقل کی شدت میں اور زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔

    اب یہ ڈونگی، بالکل آبشار کے دہانے پر، بلیک ہول کے کنارے پر جاپہنچی ہے… اگلے ہی لمحے دریا کا تیز بہاؤ اسے آبشار میں گرادے گا۔

    بالکل اسی طرح جو چیز بھی بلیک ہول کے کنارے پر آتی ہے، بلیک ہول اپنی انتہائی شدید قوتِ ثقل استعمال کرتے ہوئے اسے اپنے اندر کھینچ لیتا ہے… فرار ہونے کا کوئی موقعہ نہیں دیتا۔

    بہ الفاظِ دیگر، خلاء میں بھی یہی اصول کارفرما ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آپ بلیک ہول کے کنارے کے قریب ہوتے جائیں گے ویسے ویسے ثقلی طاقت میں اضافہ ہوتا جائے گا؛ اور وہ اس قدر طاقتور ہوجائے گی کہ روشنی کی کرن بھی اس سے فرار حاصل نہ کرپائے گی۔

    روشنی ہضم کرنے کی اسی خاصیت کی بدولت انہیں ‘‘بلیک ہول’’ (سیاہ سوراخ) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ بالکل یک طرفہ ٹکٹ کی طرح ہے جہاں آپ اندر داخل تو ہوسکتے ہیں مگر باہر نہیں نکل سکتے۔ جو چیز بھی ان کے قریب جائے گی اس کا خاتمہ لازم ہوگا۔ ستارے، سیارے، نظام ہا ئے شمسی، سب کچھ۔ اور ہاں! یہ نہ سمجھئے گا کہ یہ بلیک ہولز ہم سے یا ہماری کہکشاں سے کہیں بہت دور واقع ہیں۔ بلیک ہولز بالکل ہمارے پڑوس میں بھی موجود ہیں۔

    اب ہم جان چکے ہیں کہ ہماری کہکشاں ملکی وے میں بھی بہت سارے بلیک ہولز مٹرگشت کررہے ہیں۔ اگر کبھی کوئی بھٹکتا ہوا بلیک ہول ہمارے نظام شمسی کے قریب نکل آیا تو وہ ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔ کسی بھی قسم کا بلیک ہول، جو ہمارے قریب سے گزرسکتا ہو، وہ سارےنظام شمسی کے سیارے نگل لے گا۔ درحقیقت بلیک ہول سارے سیاروں کو ان کے مداروں سے کھینچ کر، ایک دوسرے سے ٹکرا کر، ریزہ ریزہ کردے گا۔ یہ بڑا ہولناک اور قیامت خیز منظر ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے شیشے کے برتنوں کی دکان میں ایک بپھرا ہوا سانڈ چھوڑ دیا جائے۔ اگریہ بلیک ہول سیارہ مشتری کے قریب آئے گا تو مشتری کے تمام چاند اپنے مداروں سے ہٹ جائیں گے۔ نظام شمسی کے دوسرے سیارے ادھر ادھر بھٹکیں گے۔ قیامت کا سماں ہوگا۔

    اگر بلیک ہول زمین کا رُخ کرے گا تو تمام شہابیئے اور سیارچے اپنے مداروں کو چھوڑ کر زمین کی طرف لپکیں گے۔ سطح زمین جہنم بن جائے گی۔ اور یہ تو بس خاتمے کی شروعات ہوگی۔ پہلے پہل تو وہ زمین کی فضا کو نگلے گا۔ پھر اس کے بعد زمین کی اپنی باری آئے گی۔ ایک مکمل نظام شمسی کو تباہ کرنا کسی بلیک ہول کیلئے کوئی بڑی بات نہیں۔

    بلیک ہولز کی کثافت ناقابل یقین حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ ان کی کثافت کا اندازہ لگانے کےلئے ہم ایک اور مثال کا سہارا لیتے ہیں۔ ذرا ہمارے سیارہ زمین کو تصور میں لائیے۔ اب اسے دبانا شروع کیجئے؛ اور اتنا دبائیے کو وہ انتہائی کثیف ہوکر، اور سکڑ سمٹ کر صرف دو اِنچ قطر کی رہ جائے۔ بلیک ہول کی کثافت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی ہماری پوری زمین پر جتنا بھی مادّہ موجود ہے، وہ بلیک ہول میں صرف گولف کی ایک گیند جتنی جگہ میں سما جائے گا۔

    مگر ذرا ٹھہریئے… اور بتائیے کہ آخر وہ کونسی قوّت ہے جو زمین کے جتنی کمیت کو اتنا دباکر چھوٹا اور اس قدر کثیف بناسکتی ہے۔ کوئی بیرونی قوّت تو بلیک ہول کو تخلیق نہیں کرتی۔ یہ صرف اسی وقت ہوسکتا ہے جب قوّت ثقل بذات خود ایسا کرے۔ یہ قوتِ ثقل کے سوا کسی اور قوت کے بس کا روگ نہیں۔

    کائنات میں صرف ایک ہی ایسی جگہ موجود ہے جہاں قوّت ثقل یہ کام کرسکتی ہے؛ اور وہ ہے ستاروں کے قلب یا مرکز (Center)۔ جب کوئی ستارہ جو سورج سے کم از کم دس گنا زیادہ کمیت رکھنے والا ہو، اپنی زندگی مکمل کرلیتا ہے تو قوّت ثقل اسے اتنا بھینچ دیتی ہے کہ وہ ایک زبردست دھماکے سے پھٹ جاتا ہے جسے ہم سپرنووا (Supernova) کہتے ہیں۔ لیکن کچھ ستارے اس سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ وہ عظیم الجثہ ستارے ہمارے سورج سے بھی سو گنا زیادہ تک بڑے، سو گنا سے بھی زیادہ جسیم ہوسکتے ہیں۔ اور ان کی ثقلی قوّت بھی سو گنا زیادہ ہوتی ہے۔ جب ایسا کوئی ستارہ اپنی زندگی پوری کرتا ہے تو وہ کائنات کے سب سے بڑے دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتا ہے جسے ہم نے ‘‘ہائپرنووا’’ (Hypernova) کا نام دے رکھا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک بلیک ہول جنم لیتا ہے۔

    ہماری پوری کائنات ستاروں سے اٹی پڑی ہے۔ کچھ ستارے اپنی زندگی پوری کرکے خاموشی سے مرجاتے ہیں؛ اور کچھ انتہائی شدید دھماکے سے پھٹ پڑتے ہیں… اور ان ہی میں سے کچھ بلیک ہولز کو جنم دیتے ہیں۔ جب کوئی عظیم الجثہ ستارہ، جو سورج سے لگ بھگ سو گنا بڑا ہو اور اپنا تمام نیوکلیائی ایندھن پھونک چکا ہو، تواس وقت مادّے کی قوّت ثقل، ستارے کی کمزور پڑتی ہوئی نیوکلیائی طاقت پر غالب آجاتی ہے؛ اور پھروہ ستارہ اپنی شکل برقرارنہیں رکھ پاتا اور وہ اپنے آپ ہی پر منہدم ہونے لگتا ہے۔ اس کا مرکز بلیک ہول میں ڈھل جاتا ہے… اور جب ایسا ہوتا ہے تو ستارے کے مرکز سے پیدا ہونے والی زبردست ثقلی قوّت بے قابو ہوجاتی ہے۔
    سائنس دانوں نے ایک ایسا ہی مرتا ہوا ستارہ دیکھا ہے، جسے انہوں نے ‘‘وی وائی کینس میجورس’’ (VY-Canis Majoris) کا نام دیا ہے (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر٢)۔ یہ ‘‘کلبِ اکبر’’ کہلانے والے، ستاروں کے مشہور جھرمٹ میں واقع ہے۔ اس جھرمٹ کو عام زبان میں ‘‘بڑا کُتّا’’ بھی کہا جاتا ہے۔ اس ستارے کا پھیلاؤ ایک ارب میل سے بھی زیادہ ہے۔ ہر ستارے کی طرح یہ بھی ایک عظیم و جسیم نیوکلیائی ری ایکٹر کی طرح کام کرتا ہے؛ جس کا کام توانائی پیدا کرنا ہے۔ لیکن اس میں نیوکلیائی عمل کے ساتھ ساتھ ستارے کی ثقلی قوّت اسے اندر کی طرف دبارہی ہے، بھینچ رہی ہے پچکا رہی ہے۔ نیوکلیائی عمل سے پیدا ہونے والی قوت، اس ستارے کو پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ لیکن اس کے برعکس، قوتِ ثقل اسے اندر کی طرف بھینچنے میں مصروف ہے۔

    چند سال تک ثقلی قوّت اور نیوکلیائی قوّت میں رسہ کشی جاری رہے گی۔ مگر، آخرکار، جب ستارہ اپنا تمام ایندھن پھونک چکے گا تو نیوکلیائی عمل رک جائے گا؛ اور جیت ثقلی قوّت ہی کی ہوگی۔ ایک سیکنڈ کے لاکھویں حصّے سے بھی کم وقت میں ستارے کا مرکز سکڑ کر بہت ہی چھوٹا سا رہ جائے گا اور ایک نئے بلیک ہول کا جنم ہوجائے گا۔ ستارے کے قبل میں یہ بلیک ہول جیسے ہی وجود میں آئے گا، وہ فوراً ہی ستارے کا بچا کچا حصّہ ہضم کرنا شروع کردے گا۔ جیسے جیسے مادّہ، بلیک ہول کے بھنور میں گم ہوگا، ویسے ویسے اس کا درجہ حرارت بھی بڑھنا شروع ہوجائے گا؛ اور دوسری قوّتوں (مثلاً مقناطیسی قوّت اور رگڑ کی قوّت) کی کارستانیاں بھی شروع ہوجائیں گی۔ یہ سب کچھ بہت ہی ہولناک طریقے سے ہوگا۔
    سائنس دان یہ جاننے کےلئے نہایت بے چین ہیں کہ اس وقت بلیک ہول کی سطح سے بالکل اوپر کیا چل رہا ہوگا۔ نومولود بلیک ہول، ستارے کے بالکل مرکز میں پیدا ہوا ہوگا اور وہ مسلسل ستارے کے بچے کچھے مادّے کو ہضم کررہا ہوگا۔ ستارے کا باقی ماندہ مادّہ، بلیک ہول کی سطح یعنی ‘‘واقعاتی اُفق’’ (Event Horizon) کے بالکل قریب پاس ایک پرت دار ٹکیہ (Accretion Disk) بنادے گا۔ اب بلیک ہول اس پرت دار ٹکیہ میں موجود، ستارے کے بچے کچھے مادّے کو، ستارے کی بیرونی گیسوں کو، بہت تیزی سے ہضم کرنا شروع کردے گا۔

    گیسیں ہڑپنے کا یہ عمل شدید سے شدید تر ہوتا جائے گا۔ لیکن ستارے کے اندر گرنے والی گیسیں، اپنی آخری نشانی کے طور پر زبردست توانائی بھی خارج کررہی ہوں گی۔ بلیک ہول کی کمیت بڑھتی جائے گی، وہ اور بھی زیادہ بے رحم ہوتا چلا جائے گا… وہ مزید تیزی سے، مزید شدت کے ساتھ، زیادہ مقدار میں گیسوں کو نگلنے لگے گا۔ اور جب یہ سلسلہ اپنی تمام حدیں پھلانگ جائے گا تو یک لخت بہت سارا مادّہ، بہت ساری گیسیں اس بلیک ہول میں گریں گی اور چشمِ زدن میں بہت زیادہ توانائی خارج ہوگی: ایک زبردست دھماکے سے توانائی کی لہروں کا اخراج، توانائی کے فواروں (Jets) کی صورت میں ہوگا جسے ہم ‘‘گیما شعاعوں کی بوچھاڑ’’ (Gamma Rays Burst) کہتے ہیں (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر٣)۔
    دراصل یہ سب اتنی تیزی سے ہوگا کے باقی ماندہ ستارے کو بھی یہ پتا نہیں چل سکے گا کہ اس کا مرکز غائب ہوچکا ہے۔ اور یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی چیز کے زمین پر گرنے سے پہلے ہی اس کی موت ہوجائے۔ آخرکار ستارہ پھٹ جائے گا۔

    ستارے کے پھٹ پڑنے سے انتہائی شدید توانائی خارج ہوگی۔ یہ توانائی کتنی شدید ہوگی؟ اس کا اندازہ لگانے کےلئے صرف یوں سمجھ لیجئے کہ جتنی توانائی ہمارا سورج اپنی پوری زندگی (تقریباً دس ارب سال) میں مجموعی طور پر خارج کرے گا، ہائپرنووا اس سے ١٠٠ گنا زیادہ توانائی صرف ایک سیکنڈ میں خارج کردیتا ہے۔ دھماکے کے بعد صرف بلیک ہول اور توانائی کے دو فوارے ہی بچ پاتے ہیں۔ یہ فوارے کائنات میں روشنی کی رفتار سے دوڑتے ہیں۔ اس قیامت خیز منظر کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں۔ بگ بینگ کی طاقت اور توانائی کے بعد اگر کسی اور چیز کا نمبر آتا ہے، تو وہ یہی گیما شعاعوں کی بوچھاڑیں ہیں۔ اگرچہ گیما شعاعوں کی یہ بوچھاڑیں صرف چند سیکنڈ تک ہی جاری رہتی ہیں، لیکن اس قدر توانا ہوتی ہیں کہ اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بھون کر رکھ دیتی ہیں۔ ان کی طاقت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایسی کوئی ایک (گیما شعاعوں کی) بوچھاڑ بھی ہماری کہکشاں میں، نظام شمسی کے آس پاس واقع ہو یہ ہمارے پورے کے پورے سیارے کو بھاپ بناکر اُڑادینے کےلئے کافی ہوگی۔ لیکن خوش قسمتی سے زیادہ ترگیما شعاعوں کی بوچھاڑیں ہماری کہکشاں سے خاصی دور وقوع پذیر ہوتی ہیں۔

    بلیک ہولز کے بارے میں گیما شعاعوں کی یہی بوچھاڑیں ہمیں بہت ہی اہم معلومات فراہم کرتی ہیں؛ اور ہمیں کائنات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ہم جب بھی آسمان میں ان گیما شعاعوں کی بوچھاڑوں کو دیکھتے ہیں تو درحقیقت یہ کسی نئے نئے پیدا ہونے والے بلیک ہول کی نشانی ہوتی ہیں۔ ان شدید و توانا بوچھاڑوں کو ریکارڈ کرکے سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ اب تک کتنے بلیک ہولز بن چکے ہوں گے۔

    2004ء میں ناسا نے ‘‘سوئفٹ’’ (Swift) کے نام سے ایک خلائی کھوجی روانہ کیا تھا (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر۴)؛ جس کا مقصد کائنات میں گیما شعاعوں کے ان ہی دھماکوں کی کھوج کرنا تھا۔ سوئفٹ نے اب تک کے سب سے طاقتور اور شدید گیما دھماکے دریافت کئے ہیں جو ہم سے بہت ہی فاصلے پر، کائنات کے دور افتادہ علاقوں میں واقع ہورہے ہیں۔ اگرچہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود، اب تک سوئفٹ نے سمندر میں سے صرف چند قطروں جتنی دریافتیں ہی کی ہیں، لیکن پھر بھی وہ اوسطاً ہر روز کم از کم ایک نیا گیما دھماکہ ریکارڈ کر ہی لیتا ہے۔ بلیک ہول کی ان دریافتوں نے جدید فلکیات کو آگے بڑھنے کےلئے نہایت ہی ٹھوس بنیاد فراہم کردی ہے۔

    ہم سمجھتے تھے کہ جس طرح جل پریوں کو ہم آج تک نہیں دیکھ سکے، بالکل اسی طرح بلیک ہولز بھی ایک افسانوی قصّہ ہی ہوں گے؛ اور ہم کبھی ان کا سراغ نہیں لگا پائیں گے۔ مگر اب ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کائنات میں ارب ہا ارب بلیک ہولز پائے جاتے ہیں۔ جب ہم اپنی اور دوسری کہکشاؤں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجا تی ہے کہ ہماری کائنات، بلیک ہولز سے بھری ہوئی ہے۔ بلیک ہولز کو تلاش کرنا ایک بات ہے اور ان کے کام کرنے کا طریقہ سمجھنا دوسری بات۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے تصویر کا دوسرا رخ۔ ان کے کام کرنے کا انداز سمجھنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ بلیک ہول تک کا سفر کریں۔ اس کےلئے آپ کو ایک بہت ہی بڑے خلائی جہاز کی ضرورت ہوگی۔ جب آپ بلیک ہول کے قریب پہنچیں گے، تب آپ پر یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ وہاں تو وقت بالکل ہی ساکن ہے۔

    کائنات میں ارب ہا ارب بلیک ہولز موجود ہیں۔ مگر فی الحال ہم ان کی کھوج دوربینوں اور مصنوعی سیاروں کے ذریعے ہی لگاسکتے ہیں۔ ہم انہیں قریب سے نہیں دیکھ سکتے کہ اصل میں وہ کیسے نظر آتے ہیں۔ اس کےلئے ہمیں ابھی بہت انتظار کرنا ہوگا۔ سائنس دانوں نے بلیک ہول تک خلائی سفر کے مشن کےلئے ابھی سے خیالی گھوڑے دوڑانا شروع کردیئے ہیں۔ یہ سفر، کائنات کی سب سےخطرناک جگہ کا ایک طرح سے یک طرفہ ٹکٹ ہی ہوگا۔

    شروع میں ماہرینِ طبیعیات، بلیک ہولز کے نظریئے سے بہت زیادہ خائف تھے۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ کسی طرح بلیک ہولز کا نظریہ ناممکن اور ناقابلِ قبول ثابت ہوجائے؛ کیونکہ وہ قوانین طبیعیات جن سے ہمارا روزمرّہ میں واسطہ پڑتا ہے، ان کا اطلاق بلیک ہولز پر بالکل نہیں ہوتا۔ وقت وہاں ساکن ہوجاتا ہے۔ قوّت ثقل لامحدود و لامتناہی ہوجاتی ہے۔ یہ واقعی ایک بھیانک خواب کی مانند ہے۔

    بہرحال! یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ انسان، بلیک ہولز کے قریب بالکل نہیں جاسکتے۔ مگر شایدانسان مستقبل میں وہاں روبوٹ کھوجی ضرور بھیج سکیں۔ یہ روبوٹ کھوجی صرف اس مقام تک جاکر ہمیں اطلاعات بھیج سکتا ہے جس کا نام واقعاتی افق (Event Horizon) ہے۔ یہ دراصل کسی بلیک ہول کے گرد، زمان و مکان کا وہ آخری کنارہ ہے جسے ہم اب تک جانتے ہیں۔ یہ خلاء (مکان) کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ کوئی جسمانی وجود رکھنے والی سطح نہیں کہ جسے دیکھا جاسکے۔ اس کنارے کو پار کرتے ہوئے شاید ہمیں یہ بھی پتا نہ چلے مگر درحقیقت اگر ایک مرتبہ آپ نے اس مقام کو، اس واقعاتی افق کو پار کرلیا تو سمجھ لیجئے کہ اب آپ گئے! آپ جیسے ہی اس کنارے کے پاس پہنچتے ہیں، ویسے ہی ثقلی قوّت انتہائی طاقتور ہوجاتی ہے؛ اور بہت ہی عجیب و غریب قسم کی صورتحال سے آپ کا سامنا ہوتا ہے۔ جسم کا جو حصّہ بلیک ہول کے قریب ہوگا، وہ ثقلی قوت کو اتنا ہی زیادہ محسوس کرے گا۔ اصل میں آپ کا جسم سویّوں کی طرح لمبا ہوکر کھنچ رہا ہوگا اور آپ کو ایسا لگے گا جیسے آپ کے جسم کو دو مختلف و مخالف سمتوں میں کھینچا جارہا ہو۔ آپ کا جسم باریک سے باریک تر ہوتا چلا جائے گا۔ قوّت ثقل ہمارے اس کھوجی روبوٹ کو اس کنارے سے آگے بڑھنے پر ریزہ ریزہ کردے گی۔

    فرض کیجئے کہ وہ روبوٹ اس قدر طاقتور ہے کہ واقعاتی افق کو پار کرنے کہ بعد بھی سالم بچ جائے، تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ جیسے ہی روبوٹ کھوجی، واقعاتی افق کے پاس پہنچے گا، ویسے ہی ہر چیز عجیب و غریب برتاؤ کرنے لگے گی۔ وہاں ثقلی قوّت اس قدر طاقتور ہوگی کہ اس نے وقت کو ساکن کردیا ہوگا۔ وقت ایک نہ ختم ہونے والی چیز بن گیا ہوگا۔ بہرحال، یوں سمجھ لیجئے کہ بلیک ہول میں وقت بالکل ساکن ہوگیا ہوگا۔ یہ سننے میں بالکل پاگل پن محسوس ہورہا ہے، مگر بلیک ہول میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ریاضی کی مساواتیں اور ان سے حاصل ہونے والے نتیجے تو ہمیں ابھی تک یہی بتاتے ہیں۔ اگر آپ اس روبوٹ کو دور سے دیکھ سکتے ہوں گے، تو آپ کو ایسا لگے گا جیسے روبوٹ کی رفتار دھیمی ہوگئی ہے؛ اور اس کے بعد وہ ایک جگہ آکر رک سا گیا ہے۔ اگرچہ یہ سارا عمل بہت ہی تیزی سے پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہوگا لیکن باہر سے بالکل ایسا لگ رہا ہوگا جیسے ہر چیز دھیمی پڑگئی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک جگہ پر منجمد ہوگئی ہے۔

    دراصل ہم کسی بھی جسم کو واقعاتی افق پار کرکے، بلیک ہول میں گرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ ہمیں ایسا نظر آئے گا جیسے وہ واقعاتی افق کے پاس جاکر رک گیا ہو کیونکہ اس جگہ وقت کے بہنے کی رفتار لامحدود طور پر سست ہوجائے گی۔ لیکن درحقیقت وہ روبوٹ کھوجی رکا ہوا نہیں ہوگا۔ اگر کسی طرح اس روبوٹ کھوجی کا کیمرا، واقعاتی افق میں داخلے کی جگہ کی طرف دیکھنے کے قابل ہوگا تو وہ روشنی کو بلیک ہول میں قید ہوتا دیکھ سکے گا۔ اگر وہ کیمرے کا رخ بلیک ہول کی طرف کرے گا تو وہ ایک انوکھی دنیا سے روشناس ہوگا۔ بلیک ہول کا مرکز ہر چیز کو اپنی جانب کھینچ رہا ہوگا… ایک ایسے نقطے کی طرف، جو ناقابل بیان حد تک چھوٹا ہوگا۔ سائنس دانوں نے اس جگہ کا نام ‘‘وحدانیت’’ (Singularity) رکھا ہے۔

    وحدانیت وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر ہمارے مروجہ قوانینِ طبیعیات کے پر جلنے لگتے ہیں۔ وہ قوانین اور ان سے متعلق ریاضیاتی مساواتیں کوئی قابلِ بھروسہ جواب دینے سے معذرور ہوکر رہ جاتی ہیں۔ جب ایسی کوئی وحدانیت، بلیک ہول کا حصہ ہو، تو ہم اسے ‘‘بلیک ہول وحدانیت’’ (بلیک ہول سنگولیریٹی) کہتے ہیں۔

    اب تک ہم یہ معلوم نہیں کرسکے کہ وہاں، بلیک ہول کے اندر، کیا چل رہا ہوگا۔ کثافت اتنی زیادہ ہوگی کہ ہمارے جانے پہچانے طبیعیاتی قوانین کا وہاں اطلاق نہیں ہوسکے گا۔ وحدانیت ایک ایسی جگہ ہے جہاں زمان و مکان کا تصور بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔ آپ کو یہ بہت ہی عجیب لگے گا۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ وحدانیت کا سیدھا سادہ مطلب ہے ‘‘ہم کچھ نہیں جانتے۔’’ ہمارے پاس اس گتھی کو سلجھانے کا کوئی طریقہ نہیں۔ اب تک سائنس دان اس سوال کا جواب صحیح طور سے دینے سے معذور ہیں کہ بلیک ہول میں کیا چل رہا ہوگا۔ یہ بہت زیادہ حوصلہ افزاء صورت حال نہیں کہ ہمیں یہ تو معلوم ہو کہ خلائے بسیط میں کچھ اجسام ایسے ہیں جن پر موجودہ قوانین طبیعیا ت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہاں کچھ اور، کچھ دوسرے ہی طبیعیاتی قوانین لاگو ہوں جن سے ہم اب تک لاعلم ہیں۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ مرتے ہوئے ستاروں سے بلیک ہول وجود میں آتے ہیں؛ اور یہ کہ ان میں سے زیادہ تر کا قطر صرف بیس میل کے لگ بھگ ہوتا ہے۔

    البتہ، کچھ بلیک ہول بہت زیادہ بڑے ہوتے ہیں جنہیں ہم ‘‘فوق ضخیم بلیک ہول’’ (Super-massive Black Hole) کہتے ہیں۔ وہ ہمارے نظام شمسی جتنے بڑے بھی ہوسکتے ہیں۔ ان میں سے ایک فوق ضخیم بلیک ہول تو ہماری اپنی کہکشاں، ملکی وے ہی میں واقع ہے (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ۵ اور ۶)۔ ارب ہا ارب ستارے اس کے گرد چکر لگا رہے ہیں جن میں ہمارا اپنا سورج بھی شامل ہے۔

    اکثریہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر چاند، زمین کے گرد اور زمین، سورج کے گرد چکر لگارہی ہے تو سورج کس کے گرد چکر لگا رہا ہے؟ واقعی یہ بہت ہی عمدہ سوال ہے۔ ماہرینِ فلکیات خود یہی معلوم کرنا چاہتے تھے۔ سائنس دانوں کو شک تھا کہ شاید ملکی وے کے مرکز میں کچھ ایسا چل رہا ہے جو وہاں بلیک ہول کے موجود ہونے کی نشاندہی کررہا ہے۔ چونکہ ہم بلیک ہول کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتے، اس لئے ہم اس کے ثقلی اثرات کا صرف جائزہ ہی لے سکتے ہیں۔ انفراریڈ دوربینوں کے ذریعے سائنس دانوں نے ملکی وے کے مرکز میں لاکھوں ستاروں کو ایک دوسرے کے انتہائی قریب تو دیکھ لیا ہے، مگر مرکز میں موجود گرد و غبار کے بادلوں کی وجہ سے وہ یہ نہیں دیکھ سکے کہ مرکز (کہکشانی مرکز) میں دراصل کیا ہے۔

    سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے پندرہ سال اس تحقیق پر صرف کئے ہیں کہ کیا واقعی ملکی وے کے مرکز میں کوئی فوق ضخیم بلیک ہول موجود ہے یا نہیں۔ امریکی ریاست ہوائی کے علاقے موانا کی (Mauna Kea) میں بادلوں سے خاصے اوپرنصب دیوہیکل دوربین ‘‘کیک’’ (Keck) اس قابل ہے کہ وہ ہماری کہکشاں کے عین مرکز کا جائزہ لےسکے۔ اپنی کہکشاں کے اسی حصے کا نہایت باریک بینی سے مطالعہ کرکے ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہاں موجود بلیک ہول انتہائی مختصر ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے بھوسے کے ڈھیر سے سوئی کی تلاش کرنا۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں ہمیں معلوم ہے کہ بلیک ہول کا محل وقوع کیا ہے۔ یہ تجربہ کرنے کےلئے آپ کو ان تمام ستاروں کا محل وقوع نہایت درستگی سے معلوم ہونا چاہئے کہ جو کہکشاں کے مرکز میں ایک دوسرے سے نہایت ہی قریب ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی لاہور میں بیٹھ کر، دوربین سے کسی کو کراچی میں تلاش کرے؛ اور اس کی حرکات و سکنات کو بالتفصیل دیکھ بھی سکے۔

    کیک دوربین کی لیزر شعاعیں کرہ ہوائی میں ایسی معمولی ہلچل کا سراغ لگاتی ہیں جو حاصل ہونے والے عکس میں دھندلا پن پیدا کرسکتی ہیں۔ اور یہ دھندلا پن ختم کرنے کےلئے موٹروں کی مدد سے اس کا دیوقامت، تیس فٹ قطر والا آئینہ درست کیا جاتا ہے تاکہ عکس میں دھندلاہٹ ختم کرکے اسے بالکل صاف ستھرا حاصل کیا جاسکے؛ اور کہکشانی مرکز میں ستاروں تعاقب، پوری درستگی سے کیا جاسکے۔ گزشتہ پندرہ سال کے دوران سائنس دانوں نے ہزاروں تصاویر حاصل کی ہیں۔ اور جب انہوں نے ان تصاویر کا باریک بینی سے تجزیہ کیا تو پتا چلا کہ ستارے، کہکشاں کے مرکز میں کئی لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کررہے ہیں۔ کہکشانی مرکز کا ماحول بہت ہی قیامت خیز ہوتا ہے۔ جس رفتار سے وہ ستارے حرکت میں ہیں، اتنی رفتار سے کوئی بھی ستارہ ہماری کہکشاں کے کسی بھی دوسرے حصے میں حرکت نہیں کررہا ہے۔ یہی چیز اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ یہاں بلیک ہول وجود رکھتا ہے۔

    کہکشانی مرکز میں یہ ستارے ایسے لگتے ہیں جیسے چھوٹے چھوٹے سیارے، کسی نادیدہ سورج کے گرد بڑی تیزی سے چکر کاٹ رہے ہوں۔ اتنے جسیم ستاروں کو اس قدر تیز اور اتنے چھوٹے سے مدار میں چکر کاٹنے کیلئے بہت ہی زیادہ ثقلی قوّت درکارہوتی ہے… اور کائنات میں صرف ایک چیز ہی ایسی ہے جس کے پاس اس قدر ثقلی قوّت ہے۔ اور وہ ہے فوق ضخیم بلیک ہول!

    اس بلیک ہول کا جائزہ لینے کے بعد سائنس دان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کی کمیت (مادّے کی مقدار) ہمارے سورج کے مقابلے میں تیس لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اور یہ ہماری کہکشاں کے عین مرکز میں موجود ہے۔ یہ ایک بہت ہی بڑی دریافت تھی۔ ہماری کہکشاں کی ہر چیز، جس میں ہمارا مکمل نظام شمسی بھی شامل ہے، سب اس کے گرد مدار میں چکر کاٹ رہے ہیں۔ مگر دھیان رہے کہ صرف ملکی وے کہکشاں ہی وہ واحد کہکشاں نہیں جس میں فوق ضخیم بلیک ہول ہے۔ اس طرح کے فوق ضخیم بلیک ہول اکثر کہکشاؤں کے مرکزوں میں پائے جاتے ہیں۔ اینڈرومیڈا (Andromeda) یعنی ‘‘مراۃ المسلسلہ’’ ہمارے پڑوس میں سب سے قریبی کہکشاں ہے۔ اس کے مرکز میں بھی ایک بہت بڑا، فوق ضخیم بلیک ہول موجود ہے، جس کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں 3 کروڑ گنا زیادہ ہے۔ اینڈرومیڈا کہکشاں کے تمام ستارے، اسی بلیک ہول کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں۔ دوسری کہکشاؤں کے مرکزوں میں، جیسے کہ M-87 اور اس قبیل کی بڑی کہکشائیں ہیں، بلیک ہول کی کمیت ہمارے سورج سے 20 اَرب سورجوں جتنی ہے۔

    بلیک ہول اس قدر بڑے کیسے ہوسکتے ہیں؟ اور وہ کہکشاؤں کے مرکز میں کیا کررہے ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب جاننے کیلئے ہمیں واپس تقریباً 14 اَرب سال پہلے کی کائنات میں جانا ہوگا؛ اس موقعے پر کہ جب کائنات بالکل نئی نئی وجود میں آئی تھی۔ تب کائنات گیس کے بادلوں سے اٹی پڑی تھی۔ کچھ جگہوں پر گیس کے بادل اتنے کثیف تھے کہ وہاں لاکھوں ستارے بیک وقت جنم لے سکتے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر ستارے فوق ضخیم تھے… یعنی ان کی کمیت، بہت ہی زیادہ تھی۔ انہوں نے اپنا نیوکلیائی ایندھن بہت ہی تیزی سے جلایا اور اس کے بعد پھٹ کر بلیک ہولز میں تبدیل ہوگئے۔ ابتدائی کائنات ایک ایسی منہ زور اور تباہ کن جگہ تھی جہاں کمیت کے عظیم حصے اپنی کشش ثقل کے باعث، اپنے آپ ہی میں منہدم ہوکر بلیک ہولز تشکیل دے رہے تھے۔ درحقیقت ابتدائی کائنات میں جگہ جگہ بلیک ہولز بن رہے تھے۔ قوّت ثقل انہیں ایک دوسرے کے قریب کھینچ رہی تھی، اور وہ ایک دوسرے میں ضم ہوکر اور بھی بڑے فوق ضخیم بلیک بناتے جارہے تھے۔

    آئندہ کروڑوں سال کے دوران ہر بلیک ہول اور بھی بڑا ہوتا چلا گیا۔ اس کی ثقلی قوّت بڑھتی گئی؛ اور نتیجتاً اس نے اور زیادہ گیس کو کھینچنا شروع کردیا۔ دوسری جانب معمول کی کمیت اور جسامت والے ستارے بننے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ یہ مرحلہ، کہکشاں کے وجود میں آنے کا مرحلہ تھا۔ بلیک ہول نے گیس کے بادلوں کو ہضم کرنا جاری رکھا، یہاں تک کہ وہ شکم سیر ہوگیا۔ اس میں مزید گیسیں ہڑپنے کی گنجائش نہیں رہی۔ اور یہی وہ موقعہ تھا جب کائنات کی عظیم الشان آتش باری وجود میں آئی۔ اس آتش باری کو آج ہم ‘‘کوزار’’ (Quasar) کے نام سے جانتے ہیں۔ لیکن کسی نوزائیدہ کہکشاں میں کوزار کے وجود میں آنے کا قصہ بھی اپنے آپ میں ایک الگ داستان ہے۔ تو آئیے! اس داستان سے بھی لطف اندوز ہوتے چلئے۔
    ذرا تصور کیجئے کہ ایک کہکشاں نئی نئی بنی ہے۔ اس نوزائیدہ کہکشاں میں اربوں ستارے ہیں جو اپنی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہے ہیں؛ اور اس کے مرکز میں ایک فوق ضخیم بلیک ہول بن رہا ہے۔ گرد و غبار اور گیس کے بادلوں کی وافر مقدار ستاروں اور بلیک ہول، دونوں کی ضروریات بخوبی پوری کررہی ہے۔ بلیک ہول کے قرب و جوار میں ماحول انتہائی گرم ہے۔ گیس کے بادل نہایت تیزی سے بلیک ہول میں داخل ہورہے ہیں۔ بلیک ہول میں گرتے وقت ان کی رفتار اور بھی بڑھ رہی ہے؛ جبکہ یہ اور بھی زیادہ گرم ہوتے جارہے ہیں۔ پھر ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب بلیک ہول کی واقعاتی افق کے بالکل قریب موجود پرت دار ٹکیہ (Accretion Disk) میں جگہ اس قدر تنگ ہوجاتی ہے کہ حرارت اور رگڑ کی قوتوں کی وجہ سے گیس کے بادل، عظیم الشان اور انتہائی روشن فواروں کی شکل میں باہر کی طرف پھوٹ پڑتے ہیں۔ یہ فوارے، انتہائی زبردست توانائی سے لبریز ہیں۔ ایسا ہر فوارہ ہمارے نظامِ شمسی کے مقابلے میں بھی بیس گنا زیادہ چوڑا ہے۔ یہ وہی وقت ہے جب فوق ضخیم بلیک ہول، کوزار کو جنم دیتا ہے۔ کوزار درحقیقت کائنات میں سب سے زیادہ منور چیزیں ہیں۔ ان کی روشنی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ پوری کہکشاں میں موجود، تمام کے تمام ستاروں کی مجموعی روشنی سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ صحیح معنوں میں باقی تمام کہکشاں کو گہنا دیتے ہیں۔
    سائنس دانوں نے M-87 کہکشاں میں ایک کوزار کی تصویر کشی کی ہے (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٧)۔ یہ ہم سے پانچ کروڑ نوری سال دور ہے۔ کوزار اپنے ارد گرد موجود کہکشاں کی گیس کو بڑی تیزی اور نہایت بے رحمی سے بکھیر رہے ہوتے ہیں۔ بس یوں سمجھئے کہ وہ ہر ایک منٹ میں سیارہ زمین جیسے دس سیاروں جتنی کمیت، خلاء میں اُچھال رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ گیس کو گرم کرتے ہیں تو یہ پھیلتی ہے اور باہر کی جانب حرکت کرتی ہے۔ کوزار سے خلاء میں اچھالی جانے والی گیسوں کو بھی آپ ایک طرح کے جھکڑ سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ جھکڑ بہت ہی بڑے پیمانے پر چل رہے ہوتے ہیں۔ آخر کو یہ فوق ضخیم بلیک ہولز کے چلائے ہوئے جھکڑ ہیں؛ انتہائی تیزی سے، بے دردی سے، اور بہت بڑی مقدار میں خلاء بُرد کی جانے والی توانا اور روشن گیسوں کے جھکڑ! آپ کوزار اور بلیک ہولز کو ایک دوسرے کا اُلٹ بھی سمجھ سکتے ہیں: بلیک ہولز گیس کو ہضم کرتے ہیں؛ اور کوزار اسے دور دھکیلتے ہیں۔ یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ جب کسی فوق ضخیم بلیک ہول کو بد ہضمی ہوجاتی ہے، اور وہ ‘‘کائناتی الٹیاں’’ کرنے لگتا ہے، تو پھر ایک کوزار وجود میں آتا ہے۔

    لیکن کب تک؟ آخرکار کہکشاں میں ستارے بنانے کےلئے گیس نہیں بچے گی؛ یعنی تب کہکشاں کی مزید نشوونما بھی رک جائے گی۔ اسی بناء پر سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کسی بھی کہکشاں کی حتمی جسامت کا انحصار، اس کے مرکز میں موجود (فوق ضخیم) بلیک ہول پر ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کےلئے لازم و ملزوم ہیں۔ گیسی بادلوں کے ختم ہوجانے کے بعد کوزار کے فوارے بھی سکڑتے سکڑتے بالکل ختم ہوجاتے ہیں۔ کہکشاں کے مرکز میں فوق ضخیم بلیک ہول اور اس کے ارد گرد ڈھیر سارے نوزائیدہ ستارے ہی بچ رہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ماضی میں ہماری ملکی وے کہکشاں میں بھی ہوا تھا، جب یہ نوجوان تھی۔ جب ہماری کہکشاں نئی نئی وجود پذیر ہوئی، تو شاید اس کے مرکز میں بھی ایک کوزار تھا۔ مگر اب چونکہ ہماری کہکشاں کی عمر اچھی خاصی ہوگئی ہے، اس لئے یہ بہت پرسکون ہے۔ اب ماہرینِ فلکیات جان چکے ہیں کہ بلیک ہولز کا راز پانے کےلئے کوزاروں کا مطالعہ ضروری ہے؛ اور اسی لئے وہ زیادہ سے زیادہ کوزار تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

    چندرا ایکسرے رصدگاہ (Chandra X-Ray Observatory) ایک خلائی دوربین ہے جو طاقتور ایکس ریز شعاعوں کا کھوج لگاتی ہے۔ یہ اب تک ہزاروں کوزار دریافت کرچکی ہے… ہر قسم اور ہر شکل کے کوزار، جو خلاء میں گیس اور روشنی کے فوارے چھوڑ رہے ہیں۔ ان میں سے ہر کوزار ایک نئی کہکشاں کی نشاندہی کررہا ہے؛ جو اپنی تخلیق و تشکیل کے مرحلے سے گزر رہی ہے، اور جس کے مرکز میں ایک فوق ضخیم بلیک ہول موجود ہے۔ کہکشاؤں کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ یہ کوزار بھی آخرکار پُرسکون ہوجاتے ہیں۔ کہکشائیں بھی شاید انسانوں کی طرح ہوتی ہیں: نوجوانی میں جوش سے بھرپور اور جیسے جیسے ادھیڑ عمری کی طرف بڑھتی جائیں، ویسے ویسے ان کے مزاج میں ایک ٹھہراؤ آتا چلا جاتا ہے۔
    اب ہم یہ جان چکے ہیں کہ فوق ضخیم بلیک ہول ہی کوزار کو جنم دیتے ہیں اور یہی اصل میں کہکشاؤں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ کہکشاؤں کا ارتقاء سمجھنے میں سب سے زیادہ ضروری ان کا سمجھنا ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ کہکشاؤں کو سمجھنے کی کنجی ان ہی کو سمجھنے میں ہے۔ یہ ہماری کائنات اور کہکشاؤں کو سمجھنے کےلئے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان کے بغیر ہم کائنات اور کہکشاؤں کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ انہیں سمجھنے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ ان کا براہ راست، قریب جاکر مطالعہ کیاجائے۔ کوئی بھی ایسا سفر جو ان کا قریبی جائزہ لے سکے، ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا سائنس دان کھوج میں لگے ہوئے ہیں کہ کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈھ نکالا جائے کہ کسی طرح ان کی تصویر حاصل کی جاسکے۔ لیکن اس کام کےلئے جتنی بڑی دوربین کی ضرورت ہے، اسے زمین جتنا بڑا ہونا چاہئے… ایک اور ناممکن ہمارے مدمقابل ہے۔ ایک فوق ضخیم بلیک ہول تو ہماری کہکشاں کے بالکل بیچوں بیچ موجود ہے۔ لیکن اسے اربوں ستاروں کے ایک دبیز جھنڈ نے گھیر رکھا ہے۔ لیکن سائنس دان پر امید ہیں کہ وہ جلد ہی اسے دیکھنے کے قابل ہوجائیں گے۔ یہ یقیناً شاندار نظارہ ہوتا اگر ہم واقعاتی افق کے بالکل قریب جاسکتے۔ ہر کہکشاں کے بیچ میں ایک فوق ضخیم بلیک ہول موجود ہوتا ہے۔ بلیک ہول کے آس پاس ستارے، اس کے گرد لاکھوں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر لگاتے ہیں۔ اس لئے ہمیں ان کی موجودگی کا علم ہے۔ شاید کوئی ایسا طریقہ ہو جس سے ہم واقعاتی افق کے بالکل قریب سے (اپنی کہکشاں کے مرکز میں موجود) فوق ضخیم بلیک ہول کی تصویر لے سکیں۔

    سائنس دانوں کی ایک ٹیم شیپ ڈوئلمین (Shep Doeleman) کی قیادت میں کوشش کررہی ہے کہ کسی طرح بلیک ہول کی کوئی تصویر لے سکے۔ آخرکار انہوں نے ایک جگہ ڈھونڈھ ہی نکالی جہاں گیسی بادلوں کا بھنور، کسی نادیدہ چیز کے گرد چکر کاٹتا ہوا اس میں غائب ہورہا تھا۔ یہ کسی بلیک ہول کا سایہ دیکھنے جیسا ہی تھا۔ جس تکنیک کے ذریعے سائنس دانوں نے اسے دیکھا ہے، وہ اب تک کی سب سے جدید تکنیک ہے۔ انہیں امید ہے کہ اس تکنیک سے استفادہ کرتے ہوئے ہم اپنی کائنات کے وہ گوشے بھی مشاہدے میں لاسکیں گے جو بصورتِ دیگر ہماری نظروں سے بالکل پوشیدہ ہیں۔ بصری دوربینیں (Optical Telescopes) بلیک ہولز کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتیں۔ لیکن چمکتے ہوئے گرم گیسی بادل جو ریڈیائی لہریں (Radio Waves) خارج کررہے ہیں، ان کی مدد سے بلیک ہول کا ایک خاکہ ضرور تیار کیا جاسکتا ہے۔ جناتی جسامت کی ریڈیو دوربینیں، خلاء سے آنے والی ان ہی ریڈیائی لہروں کو جمع کرتی ہیں اور پھر ان لہروں میں پوشیدہ ترتیب استعمال کرتے ہوئے، نادیدہ بلیک ہول کی نقشہ کشی کی جاتی ہے۔

    بوسٹن میں واقع ایم آئی ٹی (میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کی رصدگاہ میں انٹینا تقریباً 100 فٹ چوڑا ہے۔ یہ اتنا بڑا ہے کہ دور سےآتی ہوئی کمزور سے کمزور لہروں کو بھی پکڑسکے۔ یہ لہریں ہماری کہکشاں کے مرکز میں واقع بلیک ہول سے آرہی ہیں جو ہم سے لگ بھگ پچیس ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ مگر اس ریڈیو دوربین سے حاصل کردہ مواد بھی اتنا کافی نہیں کہ اس سے ایک واضح قسم کا خاکہ تیار کیا جاسکے۔ ایک واضح خاکہ حاصل کرنے کیلئے ہمیں ایسی کئی دوربینوں کی ضرورت ہوگی؛ اور انہیں پوری دنیا میں اس طرح لگانا ہوگا کہ وہ ایک زمین جتنی بڑی دوربین کی طرح کام کرسکیں۔ ڈوئلمین کی ٹیم ان ریڈیو دوربینوں کو جو ہوائی سے چلی تک، اور چلی سے افریقہ تک پھیلی ہوں گی، آپس میں مربوط کرے گی۔ جب دوربینوں کا یہ جال مکمل ہوجائے گا تو ایک ایسی دوربین کے طور پر کام کرے گا جس کی طشتری تقریباً دس ہزار میل قطر پر محیط ہوگی۔ اس کی طاقت ایک دوربین کے مقابلے میں پانچ سو گنا زیادہ ہوگی۔ یہ عالمگیر ‘‘مربوط دوربین’’ اس قدر طاقتور ہوگی کہ ہماری کہکشاں میں موجود فوق ضخیم بلیک ہول کے واقعاتی افق کی تصویر لے سکے۔ یہ دوربین ہماری کہکشاں کے تاریک حصے سے سگنل وصول کرنا شروع کرچکی ہے۔ اس کے وصول کردہ اوّلین سگنل، کمپیوٹر اسکرین پر دیکھ کر سائنس دان بہت ہی زیادہ خوش ہیں۔ مگر اب بھی یہ سگنل اتنے زیادہ طاقتور نہیں جتنے ایک مکمل تصویری خاکے کیلئے درکار ہیں۔

    ڈوئلمین اور ان کے رفقائے تحقیق خاصے پر امید ہیں کہ جب اس نیٹ ورک میں مزید دوربینیں شامل ہوکر کام شروع کریں گی تووہ اس سے کہیں بہتر تصویریں حاصل کرلیں گے۔ مستقبل قریب میں سائنس دان آخرکار اس قابل ہوجائیں گے کہ وہ بلیک ہول کا واضح خاکہ حاصل کرسکیں۔ مستقبل بعید میں ہوسکتا ہے کہ ہماری ٹیکنالوجی اس قدر ترقی یافتہ ہوجائے کہ نہ صرف ہم بلیک ہول میں داخل ہوسکیں بلکہ اس کا سفر کرکے باہر صحیح سلامت بھی نکل آئیں۔ تب ہی ہم اس قابل ہوسکیں گے کہ یہ بتاسکیں کہ آخر بلیک ہول میں کون سے قوانین طبیعیات رواں دواں ہیں۔
    کچھ سائنس دان یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ بلیک ہول، کائنات کے دُور دراز گوشوں تک کا سفر کرنے کےلئے ‘‘مختصر راستے’’ (شارٹ کٹس) فراہم کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب ابھی صرف تصوراتی باتیں ہیں۔ ریاضی کے حساب کتاب بہرحال یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ کوئی بھی چیز بلیک ہول میں گر کر بالکل ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ شاید وہ ایک وارم ہول (Worm Hole) میں پہنچ جاتی ہے؛ جو دراصل کائنات میں زمان و مکان کا مختصرترین راستہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم کائنات کا سفر ان بلیک ہولز کے ذریعے ہی کرسکیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ سائنس فکشن والوں کےلئے زبردست خوشخبری ہوگی کہ ان کا ایک تصور حقیقت کا روپ دھار لے گا۔

    ریاضیاتی مساواتوں کے اعتبار سے وقت میں سفر اگرچہ ممکن ہے، لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں۔ اس کے لوازمات اتنے انوکھے ہیں کہ ہم انہیں ابھی تجربہ گاہ میں بھی نہیں بناسکتے۔ اگر ہم کبھی اس قابل ہوگئے کہ انہیں تجربہ گاہ میں بناسکے، تو ہم ضرور وقت میں سفر کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں وقت میں سفر کرنے کی ماہر ہوجائیں۔ تو تیار رہئے کہ اگر کبھی کوئی اجنبی آپ کے گھر پر آکر دستک دے اور کہے کہ وہ آپ کے پڑپوتے کا پڑپوتا ہے تو دروازہ بند نہ کیجئے گا۔

    بلیک ہول کسی دوسری کائنات کا دروازہ بھی ہوسکتا ہے؛ یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے دوسری طرف کوئی بگ بینگ شروع ہورہا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ منہدم اور سمٹتا بلیک ہول، مادّے کو دوسری طرف وائٹ ہول (White Hole) میں نکال پھینک رہا ہو۔ اگر آپ بلیک ہول کی مساوات پر ایک نگاہ ڈالیں اور اس مساوات کو بھرنا شروع کریں جس میں کائنات کی کمیت، اس کا حجم اور اس سے متعلق دوسری چیزیں اس میں رکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہماری کائنات نے بلیک ہول کی مساوات کو حل کردیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھئے کہ ہم خود واقعاتی افق میں بھی ہوسکتے ہیں یا ہوسکتا ہے کہ ہم کسی بلیک ہول کے اندر ہی رہ رہے ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ ہر ایک بلیک ہول ایک نئی کائنات کی جنم بھومی ہو۔ اگر یہ بات سچ ہوئی تو ارب ہا ارب کائناتیں ہوں گی جو ستاروں، کہکشاؤں، سیاروں اور زندگی سے بھرپور ہوں گی۔ بہرحال یہ تو مستقبل کی خیالی باتیں ہیں۔ ابھی تو ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ بلیک ہول ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ بہت بڑے بھی ہیں اور ان کا کردار کائنات کی تخلیق اور اس کو موجودہ شکل و صورت دینے میں جس قدر ہے، ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگاسکتے۔ بصری دوربینوں سے حاصل کردہ معلومات سے جو ہم نے کائنات کی بنیادی باتیں سمجھیں تھیں، وہ بلیک ہول کی دریافت کے بعد بہت زیادہ تبدیل ہوگئی ہیں۔ لوگ سوچتے ہیں کہ بلیک ہول کی طبیعیا ت بہت زیادہ طلسمی قسم کی ہے؛ مگر ہم اب اس نہج پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ انہوں نے کائنات کی تشکیل اور اس کے ارتقاء میں نہایت کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    ماضی میں بلیک ہول سائنس فکشن کا حصہ ہوتے تھے اور خلائی مسافر ان سے دور بھاگتے تھے۔ اکثر سائنس فکشن فلموں اور کہانیوں میں دکھایا جاتا ہے کہ لوگ اپنا خلائی جہاز ان سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید یہ بات مبالغہ آرائی نہ ہوگی اگر ہم کہیں کہ بلیک ہول نہ ہوتے تو ہم بھی نہ ہوتے۔ ہمارا وجود بلیک ہول کا مرہون منت ہے۔ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کائنات کے پراسرار ترین اجسام میں سے ایک، جس کا نام بلیک ہول ہے، اس کے بارے میں بہت کچھ دریافت کرنا ابھی باقی ہے… پکچر ابھی باقی ہے مرے دوست!

    ختم شد

    تلخیص و ترجمہ: زہیر عبّاس

    ترمیم و ادارت: علیم احمد
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    1 comments:

    Item Reviewed: بلیک ہولز Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top