Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, جون 3, 2015

    نظام شمسی اور پردیسی نظام ہائے شمسی

    ہمارے نظام شمسی(Solar System) میں کل ملا کر آٹھ سیّارے اور تین سو کے لگ بھگ چاند ہیں١۔ہمارے نظام شمسی میں موجود ہر چیز سورج کے گرد انتہائی منظّم طریقے سے اس کے مدار میں چکر کاٹ رہی ہے(ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ١)۔ 


    مگر اپنی پیدائش کے دور میں یہ سب کچھ اتنا منظّم اور ترتیب میں نہیں تھا۔ہمارے نظام شمسی کی تاریخ ہنگامہ خیزی اور تباہی سے پھرپور تھی۔ اس ہنگامہ خیز دور سے صحیح سلامت اور بچ کر نکل جانے والے سیّارے اور چاند آج نہایت منظّم اور ترتیب میں نظر آتے ہیں۔ مگر تیار رہئے مستقبل میں بھی ہمارے نظام شمسی کا واسطہ تباہی اور ہلاکت خیزی سے پڑ سکتا ہے۔ ہمارا نظام شمسی شیشے کے محل سے بھی زیادہ نازک ہے۔
    ہمارا سورج ملکی وے کے ارب ہا ستاروں میں سے ایک ہے۔سورج کے گرد سیّارے اور چاند چکر لگا رہے ہیں۔یہ سب مل کر ہمارے نظام شمسی کو تشکیل دیتے ہیں۔ہمارا نظام شمسی یقینا"ایک قیمتی اور نایاب نظام ہےاور یہیں سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا دوسرے ستاروں کے بھی اس طرح کے سیّارے ہوتے ہیں جو ان کا نظام ہائے سیّارگان ترتیب دیتے ہیں۔ اس بات کی تلاش کے لئے سائنس دان آسمان کی خاک چھان رہے ہیں ۔ موانا کیا (Mauna Kea) ، امریکی ریاست ہوائی (Hawaii)میں واقع ہے جہاں دنیا کی ایک بہت بڑی دوربین نسب ہے جس کا نام" کیک (Keck)"ہے ۔ اس دوربین کا کام نئے نظام ہائے شمسی کی آسمان میں کھوج کرنا ہے۔
    حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا نظام شمسی اپنے آٹھ سیّاروں کے ساتھ ملکی وے کہکشاں میں اکیلا نہیں ہے۔اس جیسے ارب ہا نظام ہائے شمسی کائنات میں موجود ہیں۔ خلاء نوردوں کو امید ہے کہ جلد ہی وہ ایک ایسا نظام شمسی تلاش کرلیں گے جس میں زمین کے جیسا کوئی سیّارہ موجود ہوگا۔ بہرحال ان کی ابھی کی شروعات تو کافی اچھی ہیں۔ اب تک سائنس دان ٣٦٠ ستاروں کی کھوج کر چکے ہیں جن کے گرد سیّارے چکر کاٹ رہے ہیں(ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٢)۔




    سب سے اچھی خبر یہ کہ ستاروں کے گرد صرف ایک سیّارہ نہیں مدار میں چکر لگا رہا بلکہ ہر ستارے میں عام طور پر دو،تین،چار یا پھر اس سے زیادہ سیّارے چکر کاٹ رہے ہیں۔سیّارے خاندانوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ پہلی دفعہ سائنس دان ان کا مطالعہ اس قدر تفصیل کے ساتھ کررہے ہیں ۔ وہ اس بات کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ کس طرح سے سیّارے گرم ہوکر ستاروں کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں ۔ انہوں نے ایک سیّارے کو دیکھا جو اپنے ستارے کے گرد چکر لگاتے ہوئے انتہائی گرم اور انتہائی ٹھنڈا ہوتا رہتا ہے۔بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ سیّارے کےدرجہ حرارت کا فرق اس کا دن اور رات والے حصّوں کا مشاہدہ کرنے کی وجہہ سے تھا۔ سائنس دان طلوع آفتاب اور غروب آفتاب ایک دوسرے نظام میں مشاہدہ کررہے ہیں ۔ مگر انھیں ابھی تک زمین کے جیسا سیّارہ نہیں ملا ۔بلکہ زیادہ تر سیّارے ہمارے نظام شمسی کے سیّاروں سے بھی مختلف ہی ہیں۔ وہ سیّارے نہایت ہی عظیم الجثہ ہیں اتنے بڑے ہیں کہ مشتری بھی ان کے آگے بونا (Dwarf)لگتا ہے۔ ان میں سے اکثر کے مدار بہت ہی خطرناک ہیں ۔ کچھ سیّارے اپنے ستارے سے انتہائی دور چکر کاٹتے ہوئے اس کے انتہائی نزدیک آجاتے ہیں تو کچھ سیّارے اپنے ستاروں سے اتنے قریب ہیں کہ ان کی سطح بخارات بن کر اڑ جاتی ہے تو کچھ سیّارے الٹی سمت میں گھوم رہے ہیں۔ یہ یقینا"خوفناک نہیں ہے تو نہایت عجیب توضرور ہے۔

    سیّاروں کے نظام مختلف قسم کی ساخت ، جسامت،کمیت وغیرہ کے ہیں۔ہمارا نظام شمسی ان اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہر نظام شمسی ایک منفرد قسم کا ہو۔ مگر ان سب میں ایک بات تو مشترک ہوتی ہے کہ یہ سب اپنے ستارے کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی بننا شروع کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ستارہ گیس اور گرد کے غبار جس کو سحابیہ کہتے ہیں وہاں پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے کہ عقابی سحابیہ (Eagle Nebula)جس کو تخلیق کے ستون بھی کہا جاتا ہے(ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٣) ۔



    ایک اور سحابیہ جس کا نام گھوڑے کا سر (Horsehead)ہے یہ بھی ستاروں کابچہ خانہ ہے(ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٤)۔



    سائنس دان اس بات کی تلاش میں ہیں کہ وہ کیا چیز ہے جو ان گیسی سحابیہوں کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ ستارے کی پیدائش کی ابتداء کریں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ قریبی سپرنووا کے پھٹنے سے ستاروں کے پیدا ہونے کا عمل شروع ہوتا ہے ۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ گیسی گرد و غبار کے بادل ایک دوسرے سے ٹکرا کر دبتے ہوئے اتنا دبیں کہ قوّت ثقل اتنی مظبوط ہوجائے کہ وہ ان پر حاوی ہوجائے۔ ایک دفعہ جب قوّت ثقل کا غلبہ ہوجائے تو وہ بادلوں کو سکیڑ تی ہے اور مزید بادلوں کو کھینچتی ہے۔ جس سے ایک گھومتی ہوئی ایک عظیم الجثہ ٹکیہ سی بن جاتی ہے۔ اس ٹکیہ کے مرکز میں قوّت ثقل ہر چیز کو دباتی رہتی ہے اور اس کی کثافت بڑھتی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ حرارت بھی بڑھتی جاتی ہے اور اس کا مرکز ایک گرم گیند کی مانند ہوجاتا ہے۔پھر درجہ حرارت اس قدر بلند ہوجاتا ہے کہ گیس میں موجود جوہر گداخت کا عمل شروع کردیتے ہیں اور ستارا روشن ہوجاتا ہے(ملاحظہ کیجئےتصویرنمبر ٥)۔




    باقی مانندہ گیس اور گرد و غبار کے بادل ستارے کے گرد گھومتے رہتے ہیں جن میں سے سیّارے، چاند سیّارچے اور شہابیے بنتے ہیں۔

    ٢٠٠١؁ء میں ہبل دوربین نے اورا ئن سحابیہ میں ایک نوزائیدہ ستارے کی تصویر کشی کی ہے۔ جس میں اس کے گرد گھومتی ہوئی ایک ٹکیہ تھی۔ یہ کسی دوسرے نظام شمسی کے پیدا ہونے ہی کی ابتداء تھی۔ یہ تصویر ہمیں ہمارے نظام شمسی کی پیدائش یاد دلاتی ہے۔ کبھی ہمارا نظام شمسی بھی ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔ اس دھندھلی سی تصویر نے اس بات کے دریچے کھول دیے ہیں کہ کس طرح سے نظام ہائے شمسی تشکیل پاتے ہیں۔ اس تصویر نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم وہاں کی تصاویر لے کر یہ جانچ کر سکیں کہ کس طرح سے سیّارے وجود میں آتے ہیں۔ یقینا"ہمیں ان تصاویر سے یہ جاننے کا موقع ملے گا کہ خود ہمارا نظام شمسی کس طرح سے وجود میں آیا۔ سائنس دانوں کو یہ بات تو معلوم تھی کہ ستارے کس طرح پیدا ہوتے ہیں مگر وہ اس بات کی تلاش میں تھے کہ سیّارے کیسے بنتے ہیں۔ اس کا جواب انہوں نے حادثاتی طور پر دریافت کر لیا ۔ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن (International Space Station)میں خلاء نوردڈان پٹیٹ (Don Pettit)اس بات کا تجربہ کررہے تھے کہ قوّت ثقل کے بغیر چینی اور نمک کے ذرّات کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ دوسرے خلاء نورد اسٹینلے لو(Stanley Love) ان کو زمینی مشن کنٹرول سینٹر سے دیکھ رہے تھے جب انہوں نے اتفاقی طور پر یہ بات دریافت کرلی تھی۔ ڈان پٹیٹ نے ایک خالی بیگ میں چینی اور نمک کو ڈالا اور پھلا دیا ۔ جبکہ دوسرے بیگ میں کافی کو ڈالا۔ انہوں نے دیکھا کہ چینی اورنمک کے ذرّات نے ایک دوسرے سے جڑنا شروع کردیا۔ وہ سمجھ گئے کہ انہوں نے ٤٠ سالہ پرانا سیّاروں کی تشکیل کے متعلق سوال کا جواب حاصل کرلیا تھا۔

    خلاء نورد پٹیٹ کی یہ دریافت کافی بڑی تھی۔ قوّت ثقل کے بغیر ذرّات ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتے بلکہ آپس میں جڑنا چاہتے ہیں۔ بڑے سیّاروں نے بھی ایسا ہی کیا ہوگا ۔ گرد کے ذرّات ایک دوسرے سے ٹکرا کر آپس میں جڑ گئے ہوں گے اور بڑھتے بڑھتے چٹانوں کی شکل اختیار کی ہوگی ۔ جتنا بڑا چٹانی ٹکرا ہوگا اس کی اتنی ہی زیادہ قوّت ثقل ہوگی۔ پھر اس نے اپنے آ س پاس موجود چیزوں کو ہضم کرنا شروع کیا ہوگا اور بڑے اور بھاری چٹانی پتھر کی شکل اختیار کر لی ہوگی۔ آخرکار ان میں سے کچھ چٹانوں نے سیّاروں کی شکل حاصل کرلی ہوگی ۔ ہمارے نظام شمسی میں آج سے ٤۔٦ ارب سال پہلے یہ ہی ہوا ہوگا ۔ ہم اپنے مضمون " کرۂ ارض اور اس کے پڑوسی سیارے " میں اس بات پر تفصیل سے روشنی ڈال چکے ہیں کہ کس طرح شروع میں پیدا ہوئے ١٠٠ کے قریب سیّارے آج کے نظر آنے والے ٨ سیاروں، ان کے چاندوں، سیّارچوں اور شہابیوں میں ڈھلے۔ لہٰذا اس کی تفصیل میں دوبارہ نہیں جائیں گے۔

    سائنس دان اتنا جانتے ہیں کہ سورج کے بیرونی مدار میں موجود یورینس کسی چیز سے ایک طرف سے ٹکرایا۔ یہ بات کافی عرصہ تک معمہ ہی بنا رہا کیونکہ بیرونی مدار میں موجود سیّارے گیس پر مشتمل ہیں اور یہ اس شروع کی ہنگامہ خیزی، جب سیّارے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے، سے بھی کافی حد تک بچے ہوئےاور دور تھے۔گیس ان کے گرد جمع ہورہی تھی اور یہ سب فلکیاتی وقت کے مطابق نہایت تیزی سے ہورہا تھا۔ صرف دس لاکھ سال میں یہ سب کچھ نمٹ گیا تھا اور انہوں نے ان عظیم الجثہ سیّاروں کی شکل لے لی تھی جن کو ہم آج دیکھتے ہیں۔ دو گیسی دیو سیّارے مشتری اور زحل کے بعد یورینس اور نیپچون ہیں۔ یہ دونوں گیس اور برف سے بنے ہوئے ہیں۔ ان کےبعد کائپر کی پٹی(Kuiper Belt) ہے جس میں برفیلی چٹانیں اور بونے سیّارے تیر رہے ہیں۔ پہلے ہم کائپرکی پٹی میں موجود ایک جسم کو سیّارہ پلوٹو کہتے ہیں(ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٦)۔



    مگر پھر ہم نے اس کو بونے سیّارہ کا درجہ دے دیا ۔ اب یہ ان بونوں سیّاروں میں سے ایک ہے جو سورج سے ٣ ارب میل کے فاصلے پر چکر کاٹ رہے ہیں ۔ اس جیسی لاکھوں چیزیں وہاں موجود ہیں ۔ یہ اتنے دور اور اتنے دھندهلے ہیں کہ ان کو تلاش کرنا نہایت مشکل کام ہے ۔ یہ نظام شمسی کے باقی ماندہ حصّے ہیں جو اس کی تشکیل کے بعد بچ گئے تھے۔ کائپر کی پٹی بھی سورج کی سلطنت کا ایک کونا ہے ۔ وہاں نہ زیادہ گرمی ہے نہ زیادہ روشنی ہے ۔ مگر کائپر کی پٹی بھی سورج کی آخری سرحد نہیں ہے۔ ایک خول جو دسیوں کھرب برفیلی چیزوں پر مشتمل ہے اس کا نام اورٹ کے بادل (Oort Cloud) ہے(ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٧) وہ اس سے بھی زیادہ ددور ہے۔




    اورٹ کا بادل سورج سے اتنا دور ہے کہ سورج کی روشنی کو وہاں تک پہنچنے میں پورا ایک سال لگ جاتا ہے۔

    گرم ترین حصّے سے لے کر سرد ترین حصّے تک ہمارا نظام شمسی نہایت منظّم اور اعلیٰ اور ارفع تنظیم کا شہکار نظر آتا ہے ۔ ہر چیز اپنی جگہ پر بالکل صحیح اور درست رکھی ہوئی نظر آتی ہے مگر کچھ تو گڑ بڑ ہے ۔ یورینس اور نیپچون اپنی صحیح جگہ پر نہیں ہیں وہ اپنی جگہ سے کچھ ہٹے ہوئے لگتے ہیں۔ سورج سے اس قدر دور ان کو بنانے کا خام مال دستیاب نہیں تھا ۔ تو پھرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخرکار وہ وہاں کیسے پہنچے ۔سائنس دانوں کے خیال میں یورینس اور نیپچون کی پیدائش سورج سے قریب ہی ہوئی تھی۔مگر پھر کسی چیز نے انہیں دھکیل کر دور کردیا۔سوال یہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنے بڑے سیاروں کو کس نے اٹھا کرکس نے اتنی دور پھینک دیا۔ سائنس دانوں کو یقین ہے کہ ان کو دور دھکیلنے کا سبب کوئی اور نہیں بلکہ مشتری اور زحل ہی ہیں۔پہلے پہل مشتری سورج کے گرد جتنے عرصے میں دو چکر مکمل کرتا تھا اتنے ہی عرصے میں زحل سورج کے گردایک چکر پورے کرلیتا تھا اور یہ ہی بات ان دونوں سیّاروں کو دھکیلنے کا سبب بنی ۔ مشتری اور زحل جیسے ہی ایک دوسرے کے پاس پہنچتے ویسے ہی ایک دوسرے کو دھکیلتے اور ایک دوسرے سے خود کو پرے کرتے تھے۔ اسی دھکم پیل میں انہوں نے پورا نظام درہم برہم کردیا ۔ مشتری اور زحل دونوں کی قوّت نے یورینس اور نیپچون کو کھینچ کر سورج سے پرے دھکیل دیا۔ جب یہ سیّارے سورج کے بیرونی مدار میں گئے تو وہاں موجود سیّارچوں اور باقی بچے ہوئے گرد و غبار کو انہوں نے اربوں چٹانی ٹکڑوں کی صورت میں خلاء میں پھیلا دیا۔ کچھ چٹانوں نے مل کر سیّارچوں کی پٹی تشکیل دی مگر زیادہ تر کائپر کی پٹی کے علاقے میں دھکیل دیئے گئے جہاں انہوں نے کائپر کی پٹی کو بنایا۔

    مشتری اور زحل کی ثقلی طاقت اس قدر زوردار تھی کہ انہوں نے ان دونوں سیّاروں کے مدار کو ایک دوسرے کے مدار سے بدل دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یورینس اور نیپچون اپنی موجودہ پوزیشن کے مقابلے میں پیدا ہوتے ہوئے دوسری پوزیشن پر تھے۔نیپچون سورج سے یورینس کے مقابلے میں زیادہ قریب تھا۔ مگر مشتری اور زحل کی ثقلی قوّتوں کی کارستانیوں کی وجہہ سے انہوں نے اپنی پوزیشن ایک دوسرے سے بدل لیں تھیں۔ یہ تو وہ چٹانی ٹکڑے تھے جنہوں نے یورینس اور نیپچون کو مزید آگے جانے سے روکا اور آج وہ اپنے انہی مداروں میں ٹکے ہوئے ہیں۔ سیّارے کے مداروں کی تبدیلی کچھ عجیب سی بات لگتی ہے۔ مگر سائنس دانوں نے اسی چیز کو دوسرے ستاروں کے سیّاروں میں دیکھا ہے اور اسی چیز نے ان کو اس بات کو سمجھنے میں مدد دی ہے کہ نظام شمسی کس طرح سے کام کرتا ہے۔ سائنس دان جب آسمان میں دوسرے ستاروں کو دیکھتے ہیں تو ان کو اس قسم کی وافر شہادتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔کائنات میں ہر جگہ ایسا ہی ہورہا ہے۔

    ہم سے کافی دور سائنس دانوں نے ایک منفرد نظام شمسی دیکھا ہے۔انھوں نے ایک سیّارہ مشتری کے جتنا تلاش کرلیا ہے مگر وہ مشتری جیسا نہیں ہے۔ اس قسم کے سیّارے اپنے ستارے کے قریب مدار میں چکر لگانے کے بہت شوقین ہوتے ہیں اور ان کا ستارے کے مدار میں چکر چند دن ہی میں مکمل ہوجاتا ہے۔ ظاہر سی بات ہی کہ ستارے کے اس قدر نزدیک مدار میں چکر کی وجہہ سے ان کا درجہ حرارت ایک ہزار سے دو ہزار ڈگری تک جا پہنچتا ہے۔ ابھی تک تو کوئی ایسا گیسی دیو ستارے کے اتنے نزدیک بنتے نہیں دیکھا وہاں بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے۔ صرف ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ گیسی دیوہیکل سیّارے سورج کے پاس پیدا تو ہوتے ہیں مگر پھر باہر دھکیل دیے جاتے ہیں۔ بالکل یہ ہی چیز شاید ہمارے نظام شمسی میں بھی ہوئی تھی۔

    سائنس دانوں نے سورج کی سطح پر کافی مقدار میں لیتیم پائی ہے۔عام طور سے لیتیم ستاروں میں نہیں ملتی مگر گیسی دیو میں بکثرت پائی جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں کوئی اور گیسی دیو بھی موجود تھا جس کو سورج نے نگل لیا تھا اور یہ ہی وجہہ سورج کی سطح پر لیتیم کے پائی جانے کی ہوسکتی ہے۔ کچھ بہت ہی قیامت انگیز قسم کا واقعہ ہوا ہوگا ۔ شاید کوئی مشتری جیسا گیسی دیو سیّارہ سورج سے ٹکرا گیا ہوگا۔ نظام شمسی کی شروعات میں ہر چیز بےترتیب اور ہنگامہ خیزی و ہلاکت خیزی سے بھرپور تھی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی ۔ مگر اس پائیداری پر مت جائے یہ تو صرف ایک دھوکہ ہی ہے۔ ہمارے نظام شمسی کے ہر ایک سیّارے پر ہر وقت اس کی فنا کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔

    ملکی وے میں ہر قسم کے نظام ہائے شمسی موجود ہیں ۔ زیادہ تر ہمارے نظام شمسی کے مقابلے میں عجیب و غریب لگتے ہیں۔ہمارے سیّاروں کے مدار ان کے مقابلے میں نہایت پائیدار اور منظّم لگتے ہیں۔اس کی وجہہ وہ "حرکت"ہے جو نظام شمسی کے پیدا ہوتے ہوئے ہر سیّارے کو ودیعت ہوئی تھی۔ اسی حرکت کی وجہہ سے ہر ایک سیّارے کی اپنی سمتی رفتار (Velocity)ہے۔ درحقیت ہم ہر وقت سورج کی جانب گر رہے ہوتے ہیں ۔ مگر ہماری رفتار اس قدر تیز ہے کہ ہمیں یہ پتا نہیں چلتا اور انہیں دونوں چیزوں کے باہم میلاپ سے مدار وجود میں آتے ہیں۔ اس ٹکیہ -جس سے سیّاروں کی پیدائش ہوئی ہے –کے گھماؤ نے سیّاروں کو حرکت دی ہے جو آج تک جاری و ساری ہے۔

    ٦٦ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین اپنے مدار میں سورج کی گرد ایک سال میں ایک چکر مکمل کرتی ہے۔ سورج سے دور سیّاروں کے مداراور بڑے ہیں۔ان کی حرکت وہاں ہلکی ہے اور وہ زیادہ وقت ایک چکر کو اپنے مدار میں پورا کرنے میں لیتے ہیں۔زحل سورج کے گرد ٢٩ سال میں ایک چکر مکمل کرتا ہےاور نیپچون ١٦٥ سال میں ۔ ہر ایک سیّارہ سورج سے بالکل مناسب فاصلے پر ہے اور یہ ہی بات ہماری اپنی بقاء کے لئے نہایت ضروری ہے۔ہمارے نظام شمسی میں سیّاروں کے آپس کے درمیان میں جگہ اور ان کے تقریبا" گولائی میں موجود مدار ہماری نہایت ہی خوش قسمتی ہیں اور یہ ہی بات اس شیشے کے محل کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ اگر ہمارے نظام شمسی میں موجود سیّاروں کے مدار تقریبا"گولائی میں صاف ستھرے انداز میں نہ ہوتے تو میں اور آپ آج کارخانہ قدرت کو سمجھنے کے لئے یہاں موجود نہیں ہوتے۔فی الحال تو سیّاروں کے مدار محفوظ مقام پر ہیں مگر سیّارچوں اور شہابیوں کے مدار اتنے محفوظ نہیں ہیں۔اکثر ان میں بھٹکتے ہوئے سورج کے اندرونی حصّے کی طرف آ دھمکتے ہیں۔ زمین پر بھی جا بجا شہابیوں کے ٹکرانے کے نشان آج تک ثبت ہیں۔ کچھ شہابیے کافی بڑے ہوتے ہیں۔ چاند پر نظر ڈالیں تو ہمیں جا بجا وہاں بھی گڑھے نظر آتے ہیں جو انہی شاہبیوں کی کارستانیاں ہیں۔ زمین بھی ان کارستانیوں سے زیادہ محفوظ نہیں ہے۔ مگر زیادہ تر نشان زمین سے مٹ چکے ہیں۔ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ آج سے ٦٥ کروڑ پہلے میکسیکو کے ساحل پر ایک بہت بڑا سیّارچہ ٹکرایا۔ وہ ٤٥ ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے زمین سے ٹکرایا تھا۔ اس کی ٹکر سے جو توانائی پیدا ہوئی تھی وہ اس توانائی سے ١٥ ارب گنا زیادہ تھی جو ہیروشیما کے بم کے پھٹنے سے نکلی تھی۔ اس نے زمین سے ٧٠ فیصد زندگی کو مٹا دیا تھا۔ اس طرح کے کچھ اور ٹکراؤ زمین پر زندگی کو مکمل ختم کر سکتے تھا۔ مگر ہماری خوش قسمتی ہے کہ زمین کو ایک عدد دیو ہیکل باڈی گارڈ قدرت نے عطا کیا ہے۔

    خلائے بسیط میں مشتری کا نظارہ نہایت ہی شاندار ہوتا ہے۔یہ زمین پر زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اس کی ثقلی قوّت نہایت ہی شاندار ہے اور یہ نظام شمسی میں بالکل صحیح اور مناسب مقام پر موجود ہے۔یہ زمین کو زیادہ تر سیّارچوں اور شہابیوں سے بچاتا ہے۔جو دور خلاء بسیط سے بھٹکتے ہوئے سورج کے اندرونی حصّے کی طرف آ نکلتے ہیں۔ یہ زمین سے ٹکرا سکتے ہیں ۔ مگر مشتری ایک ایسے بلے باز کی طرح ہمارے نظام شمسی میں کردار ادا کرتا ہے جو زیادہ تر انے والے شاہبیوں اور سیّارچوں کو گیند کی طرح بلے پر لے لیتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کو وہ نظام شمسی سے باہر پھینک دیتا ہے۔١٩٩٤؁ء کو شو میکر لیوی ٩ سورج کے اندرونی حصّے کی طرف بھٹکتا ہوا آنکلا ۔ مگر وہ مشتری سے آگے نہیں آپایا ۔ ماہرین فلکیات نے دیکھا کہ مشتری نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور ان ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچ لیا(ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٨)۔



    اس سیّارچے نے مشتری سے ٹکرا کر زمین سے بھی بڑا آگ کا گولہ مشتری پر بنا دیا تھا۔یہ اب تک کادیکھا جانے والا نظام شمسی کا سب سے بڑا ٹکراؤ تھا۔ خدانخوستہ اگر یہ سیّارچہ ہم سے ٹکراتا تو زمین کی پوری سطح کو ڈھانپ لیتا اور یوں زندگی کا خاتمہ ہوجاتا۔ اگرمشتری نہ ہوتا تو زمین سے سیّارچوں اور شہابیوں کے ٹکرانے کا خطرہ ہزار گنا بڑھ جاتا۔یہ ہماری خوش قسمتی کہ زمین کو بالکل مناسب و بہترین مدار ملا جس کی وجہہ سے مشتری ہمیں ان آفات سے بچاتا ہے۔

    سورج سے زمین کا متناسب فاصلہ پانی کو نا صرف مائع حالت میں رکھتا ہے بلکہ یہ اس کو بخارات بنا کر خلاء میں بھی نہیں اڑاتا ۔ یہ فاصلہ زمین پر حیات کے جاری و ساری رہنے کے لئے بالکل موزوں اور مناسب ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہمارا نظام شمسی زندگی کو پروان چڑھانے کے لئے مناسب ماحول فراہم کر سکتا ہے تو کیا کائنات میں موجود دوسرے نظام ہائے شمسی ایسا کر سکتے ہیں یا نہیں؟ سیّاروں کی کھوج کرنے والوں نے زمین سے ٢٠ نوری سال کی دوری پر ایک نظام شمسی دیکھا ہے جس کے سیّارے اور ان کے مدار اپنے ستارے سے کافی مناسب مقام پر موجود ہیں۔ ٢٠٠٥؁ءمیں خلاء نوردوں نے ایک اور زبردست دریافت کی۔ انہوں نے کچھ چٹانی سیّارے(Rocky Planets) دریافت کرلئے تھے اس سے پہلے تک انہیں صرف گیسی دیو ہی مل پائے تھے۔یہ چٹانی سیّارے ایک ستارا جس کا نام گلیز ٥٨١ (Gliese 581)تھا اس کے گرد مدار میں چکر لگا رہے تھے۔اس ستارے کے چاروں سیّارے ہمارے نظام شمسی کے مقابلے میں نہایت ہی انوکھے اور منفرد ہیں۔یہ چاروں سیّارے اپنے ستارے سے عطارد کے مدار سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ گلیز ٥٨١ ایک چھوٹا ستارا ہے یہ اتنا زیادہ گرم اور روشن نہیں ہے جتنا ہمارا سورج ۔ لہٰذا سیّارے اس کے قریبی مدار میں چکر لگانے کے باوجود بخارات میں تبدیل نہیں ہوں گے۔ان چاروں سیّاروں میں سے کچھ بہت ہی زیادہ دلچسپی کے حامل ہیں۔ ان میں سے ایک زمین سے دگنی کمیت والا سیّارہ بھی ہےاور یہ اپنی میزبان ستارے سے بہت زیادہ قریب بھی ہے۔ یہ یقینی طور پر نہایت گرم ہوگا اتنا گرم کہ زندگی کے لئے یہ جگہ مناسب نہیں ہوگی۔ مگر وہاں ایک اور سیّارہ بھی ہے جو زمین سے آٹھ گنا زیادہ بڑا ہے ، اس کا مدار اپنے میزبان ستارے سے اس قدر فاصلے پر ہے کہ وہاں شاید زندگی پنپ پائے گی۔زمین کی طرح اس سیّارے کا فاصلہ اتنا ہے کہ جہاں پانی مائع حالت میں موجود ہو سکتا ہے اور جہاں پانی ہوگا وہاں سمندر بھی ہوگا اور جہاں سمندر ہوگا وہاں زندگی بھی ہوسکتی ہے۔

    ٢٠٠٩؁ء میں ناسا نے کیپلر خلائی دوربین(Kepler Space Telescope) کو فضا میں چھوڑا ۔ اس کا کام نئے نظام ہائے شمسی کی کھوج کرنا تھا۔سائنس دان پر امید ہیں کہ وہ کچھ ایسے بھی سیّارے تلاش کرسکتے ہیں جن کا ماحول یا جن کی فضا میتھین پر مشتمل ہو یا پھر امونیا پر یا پھر وہ بھاری حیاتیاتی چیزوں سے بھرپور ہوں۔ وہ کوئی پانی سے بھرا سیّارہ بھی تلاش کر سکتے ہیں۔سائنس دان پر امید ہیں کے اگلی دہائی تک وہ شاید زمین جیسے متنوع فیہ قسم کے سیّارے تلاش کر پائیں گے۔ سائنس دان سمجھتے ہیں کہ وہ کیپلر کے ذریعہ سیکڑوں بلکہ ہزاروں نئے نظام ہائے شمسی تلاش کرلیں گے ۔ ہماری اپنی کہکشاں میں موجود کافی سارے ستاروں کے اپنے سیّارے موجود ہوں گے۔ذرا سوچیں کہ کائنات میں کتنی کہکشائیں ہیں۔ہم ابھی تک کہکشاؤں کی اصل تعداد نہیں جان پائے ہیں۔ ہم ٦٠ ارب تک کہکشاؤں کو دیکھ سکتے ہیں ۔ آپ جب نگاہ اٹھا کر آسمانوں کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں ارب ہا ارب ستارے موجود ہیں اگرچہ ہم ان کو خالی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے ۔ ان ستاروں میں کوئی تو ایسا ہوگا جس کے گرد زمین جیسا کوئی سیّارہ گردش کررہا ہوگا اور اگر ایک دفعہ ایسا ہوسکتا ہے تو دوبارہ کیوں نہیں ہوسکتا۔

    نظام ہائے شمسی ہمیشہ نہیں رہیں گے ۔سیّارے آپس میں ٹکرائیں گے۔ یہ ہمارے نظام شمسی میں بھی ہوسکتا ہے مگر اگلے ٥ ارب سالوں میں کوئی تصادم نہ بھی ہو تو بھی ہمارا نظام شمسی ختم ہی ہو جائے گا۔یہ بات ہم سب کو اچھی طرح معلوم ہے۔ کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہتی اور نظام شمسی کو بھی اس اصول سے کوئی استثناء حاصل نہیں ہے۔ہمیں نظام شمسی بہت ہی پرسکون لگتا ہے مگر اصل میں ایسا نہیں ہے۔اگر ماضی میں یہ جگہ پرہنگام رہی ہے تو وہ مستقبل میں بھی ایسی رہ سکتی ہے۔ مستقبل بعید میں قوّت ثقل کی طاقت سیّاروں کو ان کےموجودہ مدار سے باہر کردے گی۔شاید آج سے کچھ ارب سال بعد سیّارے اس ثقلی قوّت کے زیر اثر ہو کر ایک دوسرے کے قریب آجائیں گےاور پھر ایک دوسرے کو غیر پائیدار مدار میں دھکیل دیں گے یا پھر کوئی ایک یا دونوں ہی نظام شمسی سے باہر دھکیل دیے جائیں گے۔مریخ نظام شمسی سےنکال دیا جائے گا۔ عطارد شاید زمین سے بغلگیر ہوجائے گا۔ شیشے کا محل چکنا چور ہوجائے گا۔ نظام شمسی کی شروعات تباہی و بربادی سے شروع ہوئی تھی اور یہ منتہج بھی اسی طرح ہوگی۔ مگر فی الحال گبھرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اس سب کو ہونے میں بھی ابھی ارب ہا ارب سال لگیں گے۔مگر نظام ہائے شمسی کی عمر میں یہ تو ہو کر ہی رہیگا ۔ کچھ بھی ہو روز قیامت تو آکر ہی رہےگی ۔ہر نظام شمسی کی طرح خاتمہ اس وقت ہوگا جب سورج کی موت ہوگی۔

    آج سے ٥ ارب سال بعد ہمارے سورج کا ایندھن ختم ہوجائے گا اور وہ سرخ دیو کی شکل اختیار کرلے گا۔وہ گرم ہو کر سوجھ جائے گااور اندرونی مدار کے سیّاروں کو نگل جائے گا۔زمین کی سطح گرم ترین ہو جائی گی ۔سمندر بھاپ بن کر اڑ جائیں گے ،زمین پگھل جائی گی۔ سورج پھیلتے پھیلتے اتنا بڑا ہوجائے گا کہ زمین کے پورے مدار کو گھیر لے گا۔زمین کا خاتمہ سورج کو اس کے نگلنے کے ساتھ ہی شروع ہوجائے گا۔سورج اسے نگلنے سے پہلے بھون کر رکھ دے گااور وہ بھاپ بن جائی گی ۔ آخر کار سرخ دیو بھی مر جائے گا اور اپنے پیچھے سفید بونا ستارہ چھوڑ جائیگا۔اس کا حجم ہماری زمین ہی کے جتنا ہوگا اور اس کو ٹھنڈا ہونے میں کروڑوں یا اربوں سال درکار ہوں گے اور وہی وقت ہمارے نظام شمسی کا وقت آخر ہوگا۔ 

    اگر اس وقت ہم اس زمین پر موجود ہوتے جہاں کبھی شاندار تہذیب ہوا کرتی تھی اور وہاں سے سورج کو دیکھتے تو ہمیں ایک دھندلہ سا ایک نقطہ نظر آتا جو درحقیقت ہمارا سورج ہوتا جو اب سفید بونا مرتا ہوا ستارا ہوگا ۔ اندرونی سیّاروں کی باقیات اب بھی اس کے گرد چکر کاٹ رہی ہوں گی۔ بیرونی مدار میں واقع سیّارے صحیح سلامت بچ گئے ہوں گے ۔ وہ سرخ دیو والے دور میں گرم تو ہوگئے ہوں گے ۔ مگر ایک دفعہ سورج بونا ستارا بن جائے گا تو وہ صرف اپنی ہائیڈروجن اور ہیلیم پر ہی زندہ رہے ہوں گے۔کیونکہ سفید بونا ستارہ اب ان کو گرمی اور روشنی نہیں مہیا کر رہا ہوگا لہٰذا وہ اب پہلے سے بھی زیادہ سرد ہوچکے ہوں گے۔ اگرچہ یہ حادثہ ہمارے سورج کے ساتھ اگلے ٥ ارب سال میں ہوگا مگر کائنات میں موجود دوسرے نظام ہائے شمسی میں یہ سب کچھ تو کئی دفعہ دہرایا جا چکا ہوگا۔ ہمارے نظام شمسی نے بدنظمی سے شروعات کی مگر پھر زندگی کوبھی دوام بخشا ۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے نظام شمسی میں بالکل ٹھیک تعداد میں سیّارے موجود ہیں جو بالکل مناسب فاصلے پر نا صرف ایک دوسرے سے دور موجود ہیں بلکہ بالکل متناسب فاصلے سے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارا سورج زندگی کو پروان چڑھانے کے لئے بالکل صحیح تارہ ہے۔ نظام شمسی کی شروعات سے، سورج کی پیدائش سے لے کر زندگی کی شروعات تک خوش قسمتی ہم پر سایہ فگن رہی ہے۔ سورج ایک نہایت متوازن اور سہل ستارہ ہے جو زندگی کے ارتقاء کے لئے مکمل ماحول فراہم کرتا ہے۔ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہم یہاں اس جگہ ایسے ہی موجود ہوں۔ غیر معمولی اتفاقات ارب ہا سال میں پے در پےواقع ہونے کی ہی وجہہ سےہمارا نظام شمسی وجود میں آیا جو زندگی کے لئے بالکل مناسب اور مکمل جگہ تھی۔ اگرچہ یہ سب کچھ ہمیشہ سے ایسا ہی نہیں تھااور نہ ہی یہ ہمیشہ ایسا رہے گا۔

    ہم منفرد نہیں ہیں مگر خوش قسمت ضرور ہیں ۔ زمین کو بالکل مناسب فاصلہ پر ہونا تھا، سیّاروں کو بالکل اسی طرح قاعدے سے ایک ترتیب میں ہونا تھا، دیو ہیکل سیّاروں کو بالکل ٹھیک جگہ پر ہونا تھا تاکہ وہ ہمیں شہابی تصادموں سے بچا سکیں۔ ہر چیز کو ایسے ہی ہونا تھا جیسا کہ وہ وقوع پزیر ہوئی تاکہ زندگی کی شروعات کے لئے مدد گار ثابت ہو سکے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے نظام شمسی نے ہمیں کائنات میں کوئی غیر معمولی یا انوکھامقام دیا ہے مگر ہر گزرتے دن ہم نئے نظام ہائے شمسیاور ان کے سیاروں کو دریافت کر رہے ہیں ۔ اب یہ کچھ ہی عرصہ کی بات ہے جب ہم یہ جان سکیں گے کہ کائنات میں ہم تنہا نہیں ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: نظام شمسی اور پردیسی نظام ہائے شمسی Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top