Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ، 3 جون، 2015

    سورج اور دور دراز کے تارے



    ستارے عظیم الجثہ اور انتہائی گرم کائناتی اجسام ہیں۔ پوری کائنات ان سے جگمگا رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کائنات کے اصل حکمراں یہ ہی ہیں۔ ہمارا نصیب، ان کے نصیب سے جڑا ہوا ہے۔ کائنات میں موجود ہر شئے کی طرح ان کی پیدائش اور موت بھی، دونوں ہی نہایت ہولناک اور ہنگامہ خیز ہوتی ہیں۔ ان کی خاک، کائنات میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ یہ وہی خاک ہے جس سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ ہمارے جسم کا ایک ایک جوہر، ان ہی ستاروں کے آگ اگلتے قلب میں بنا ہے۔ کائنات ان ہی کے دم قدم سے چل رہی ہے۔ زندگی کو انہوں نے ہی پروان چڑھایا ہے۔

    رات کا آسمان، ستاروں کی روشنی سے منور ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں تولگ بھگ تین ہزار تک کی تعداد میں ستارے دیکھ سکتے ہیں۔ مگر یہ تعداد تو بس سمندر میں سے ایک قطرہ ہی ہے۔ صرف ہماری کہکشاں ملکی وے ہی میں ایک کھرب سے زائد ستارے موجود ہیں؛ اور قابلِ مشاہدہ کائنات میں اندازاً دو کھرب (دو سو اَرب) سے بھی زیادہ کہکشائیں ہیں۔ ستاروں کی تعداد، زمین پر موجود ریت کے ذرّوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ ہر ستارہ طاقت و توانائی کا عظیم الشان منبع ہوتا ہے؛ اور ہم سمیت کائنات کی ہر چیز کا بنیادی خام مال اسی کے قلب میں تیار ہوتا ہے۔ یہ ہم سے نہایت فاصلے پر واقع ہیں۔ مگر ایک ستارہ ہم سے بہت نزدیک بھی ہے؛ اور ہمیں اب تک جو کچھ دوسرے ستاروں کے بارے میں معلوم ہوا ہے، وہ اسی پڑوسی ستارے کی بدولت ہے۔ جی ہاں! یہ ہمارا سورج ہے… ہر روز طلوع اور غروب ہونے والا سورج۔

    سورج کی دھوپ جو ہمیں روشنی اور حرارت فراہم کرتی ہے، کچھ اور نہیں بلکہ ستارے ہی کی روشنی ہے۔ ہمارا سورج بھی دوسرے ستاروں کی طرح ایک ستارہ ہے۔ زمین سے دیکھنے پر سورج ایک روشن گیند کی مانند لگتا ہے جس کی روشنی، آنکھوں کو چندھیا دیتی ہے۔ کائنات کا ایک طاقتور ترین جسم ہمارا پڑوسی ہے۔ یہ انتہائی گرم گیس کی ایک گیند ہے جو ہمارے نظام شمسی کو 4.6 ارب سال سے روشن کئے ہوئے ہے۔ زندگی کا سارا دار و مدار اسی پر ہے۔ سورج ہم سے تقریباً ٩ کروڑ میل کی دوری پر ہے۔ اس کا مطلب، درحقیقت بہت ہی زیادہ فاصلہ ہے۔

    دس لاکھ سے بھی زیادہ زمینیں سورج میں سما سکتی ہیں۔ اس کا محیط ٢٧ لاکھ میل پر پھیلا ہوا ہے۔ اس عظیم الشان جسامت کے باوجود، ہمارا سورج کائنات کے دوسرے ستاروں کے مقابلے ایک ننھا سا ستارہ ہے۔ اِیٹا کرینی (ETA Crainee) ہمارے سورج سے پچاس لاکھ گنا بڑا ہے۔ ابط الجوزا (Betelgeuse)، ایٹا کرینی سے بھی ٣٠٠ گنا بڑا ہے۔۔ اگر یہ سورج کی جگہ ہمارے نظام شمسی کا حصّہ ہوتا، تو یہ مشتری کے مدار سے بھی آگے نکل جاتا۔ (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر١ اور ٢)۔ یو وائی اسکوٹی (UY Scuti) اب تک کے دریافت شدہ ستاروں میں سب سے بڑا ہے۔ یہ ہمارے سورج سے لگ بھگ پانچ ارب گنا بڑا ہے!







    ستاروں کی روشنی ہمیں مختلف رنگوں میں نظر آتی ہے۔ کچھ ستارے پیلے، کچھ نیلے اور کچھ لال رنگ کے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ ستارے اکلوتے ہوتے ہیں، کچھ ثنائی نظام میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ کہکشاؤں میں ارب ہا ارب ستارے ہوتے ہیں۔ ہر ستارہ اپنی مثال آپ ہے۔ مگر ان سب کی زندگی ایک ہی طرح سے شروع ہوتی ہے۔ گیس اور گرد کے غبار سحابئے (Nebula) کہلاتے ہیں (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٣)۔


     کئی ارب میل پر پھیلے ہوئے، خلاء میں تیرتے یہ حسین گیسی بادل نہایت خوبصورت لگتے ہیں۔ ہر سحابیہ، ستاروں کا زچہ خانہ ہوتا ہے جہاں لاکھوں ستارے پیدا ہوتے ہیں۔ مگر ان کے پیدا ہونے کی اصل جگہ تو ہم سے چھپی ہوتی ہے۔

    سحابیوں کے کچھ حصے اتنے خوبصورت اور روشن نہیں ہوتے کہ ہم انہیں دیکھ سکیں۔ وہ اندھیرے میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ وہاں گیس اور گرد کے کثیف بادل چھائے ہوتے ہیں… اور یہی ستاروں کی جائے پیدائش ہوتی ہے۔ گرد و غبار کے یہ بادل اتنے کثیف ہوتے ہیں کہ عام دوربین بھی ان کے اندر جھانک نہیں سکتی۔

    ستاروں سے زیادہ کوئی چیز ہمارے لئے اہم نہیں۔ مگر عرصہ دراز تک ان کی پیدائش ہمارے لئے ایک معما بنی رہی۔ ہم ان کی پیدائش کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتے تھے؛ اور نہ ہم ان کی پیدائش کی پہلی جھلک دیکھ سکتے تھے۔ ٢٠٠٤؁ء میں جب ناسا نے اسپٹزر خلائی دوربین (Spitzer Space Telescope) مدار میں چھوڑی، تو اس راز سے بھی پردہ اٹھ گیا۔ اس خلائی دوربین نے کائناتی ارتقاء کے سربستہ رازوں کو ہم پر آشکار کرنا شروع کردیا۔ اسپٹزر ایک انفرا ریڈ دوربین ہے جو گرمی (حرارت) کو دیکھ سکتی ہے۔ یہ مرئی روشنی کے بجائے زیریں سرخ شعاعیں (انفراریڈ) سے مدد لیتی ہے؛ جو دراصل گرمی کی نمائندہ لہریں ہیں۔ حرارت، سحابئے کے گہرے بادلوں میں سے گزرسکتی ہے، جو اسپٹزر کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ستاروں کی پیدائش ہوتے ہوئے دیکھ سکے۔ سائنس دانوں نے ستاروں کے پیدا ہونے کی نہایت شاندار تصاویر حاصل کرلی ہیں۔ ان تصاویر میں انہوں نے ہائیڈروجن کے گیسی بادلوں کو ستاروں کا روپ دھارتے دیکھ لیا ہے۔ کائنات کہ وہ حصّے جو ہم سے چھپے ہوئے تھے، اب نہایت روشن ہو گئے تھے۔ اب ہم ستاروں کی پیدائش کے بالکل ابتدائی لمحات کو دیکھ سکتےہیں (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٤)۔



    کسی بھی ستارے کو بننے کےلئے تین بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے: ہائیڈروجن، قوّت ثقل اور وقت۔ قوّت ثقل گرد و غبار اور گیس کے بادلوں کو کھینچ کر ایک دیوقامت، بھنور جیسی شکل والی (قیف نما) چوٹی میں ڈھالتی ہے؛ اور مادّے کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ جب مادّہ ایک جمع ہونے لگتا ہے تو وہ اپنے ہی دباؤ سے اور بھی دبنا شروع کردیتا ہے۔ اور یہی دباؤ مزید حرارت پیدا کرنے کا موجب بھی بنتا ہے۔ یہ سائنس کا ایک سادہ اصول ہے کہ آپ جب کسی چیز کو دباتے ہیں تو اس کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ لاکھوں سال تک گیس کے بادلوں کی کثافت بڑھتی رہتی ہے؛ اور یہ ایک دیوہیکل، گھومتی ہوئی ٹکیہ کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ اس ٹکیہ کی جسامت ہمارے نظام شمسی سے بھی بڑی ہوتی ہے۔ اس کے مرکز میں قوّت ثقل، گیس کو زبردست طاقت کے ساتھ بھینچتی ہے جس سے اس کا قلب اور بھی زیادہ کثیف اور گرم ہوجاتا ہے۔ رفتہ رفتہ دباؤ بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ گیس کے فوارے ایک دھماکے کی شکل میں مرکز سے پھوٹ پڑتے ہیں۔ یہ بے حد ڈراؤنا اور ہولناک نظارہ ہوتا ہے۔

    یہ فوارے مادّے کو کئی نوری سال دور تک پھیلا دیتے ہیں۔ کوئی چیز مادّے کو نہایت تیزی سے، ناقابل تصور فاصلے تک پھیلا دیتی ہے۔ قوّت ثقل دباؤ برقرار رکھتے ہوئے، گیس اور گرد و غبار کے بادلوں کو ہڑپ کرتی رہتی ہے۔ یہ بادل ایک دوسرے سے ٹکرا کر پستے رہتے ہیں۔ اگلے پانچ لاکھ سال میں اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل سے گزرتا ہوا ستارہ چھوٹا، روشن اور گرم ہوجاتا ہے۔ اس کے مرکز میں درجہ حرارت 1.5 کروڑ ڈگری تک جاپہنچتا ہے۔ اس درجہ حرارت پر گیسوں کے ایٹم ایک دوسرے میں ضم ہونے لگتے ہیں اور یوں گداخت (فیوژن) کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زبردست توانائی پیدا ہوتی ہے؛ اور یہی ستارے کی پیدائش کی گھڑی بھی ہوتی ہے۔ پیدا ہونے کے بعد اب یہ ستارہ کروڑوں، اربوں بلکہ کھربوں سال تک یونہی چمکتا رہے گا۔

    ستارے زبردست حرارت اور روشنی پیدا کرتے ہیں۔ مگر اس کےلئے انہیں بہت زیادہ ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ ستارے کونسا ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ انیسویں صدی کا سب سے بڑا معما یہی تھا ستارے اپنا ایندھن کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔ تب تک ہمارے پاس کائنات کو جاننے کےلئے معلومات کی قلت تھی۔ ستاروں کے راز سمجھنے کےلئے ہمیں بالکل نئے طریقوں سے سوچنے کی ضرورت تھی۔ ہمیں اس چیز کی تلاش تھی جو ستاروں کو ارب ہا ارب سال تک روشن رکھ سکے۔ آخرکار خدا داد صلاحیتوں کے حامل، البرٹ آئن اسٹائن نے یہ پہیلی حل کر ہی لی۔ اس کے نظریہ اضافیت نے ثابت کردیا کہ ستارے، ایٹموں کے اندر قید توانائی کو اپنا ایندھن بناتے ہیں۔ ستاروں کا راز آئن اسٹائن کی مشہور ترین مساوات E=Mc2 میں پنہاں تھا۔

    دیکھا جائے تو ایک طرح سے ہمارا جسم بھی مرتکز توانائی پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔ توانائی، ایٹموں کی شکل میں ہوتی ہے اور انہی ایٹموں نے ہماری کائنات تشکیل دی ہے۔ آئن اسٹائن نے ثابت کردیا کہ دو ایٹم آپس میں مل کر ایک نیا ایٹم بناتے ہیں اور اس کے نتیجے میں زبردست توانائی خارج ہوتی ہے۔ یہی عمل ‘‘نیوکلیائی گداخت’’ (نیوکلیئر فیوژن) کہلاتا ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو ستاروں کو ایندھن فراہم کرتی ہے۔


    انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ ایٹموں کے ذیلی ذرّات کی طبیعی خصوصیات (physical properties) کسی ستارے کی نوعیت اور ساخت کا تعین کرتی ہیں۔ آئن اسٹائن کے نظریئے سے ہمیں پتا چل چکا ہے کہ ایٹموں میں چھپی توانائی کو باہر نکالا جا سکتا ہے۔ سائنس دانوں نے تجربہ گاہوں میں ستاروں کی نقالی شروع کردی ہے۔ انگلستان میں آکسفورڈ کے قریب ایک تجربہ گاہ میں ایک مشین نصب ہے جس کا نام ‘‘ٹوکامیک’’ (Tokamak) ہے (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٥)۔


    (ٹوکامیک دراصل وہ ٹیکنالوجی ہے جو سابق سوویت یونین میں ایجاد کی گئی تھی اور جس کا مقصد، نیوکلیائی گداخت کو تجربہ گاہ میں نقل کرنا تھا۔ آج بھی گداخت پر مبنی ایٹمی بجلی گھر بنانے کی جتنی بھی کوششیں ہورہی ہیں، ان میں سے بیشتر کا انحصار اسی ٹوکامیک ٹیکنالوجی ہی پر ہے۔ مترجم) وہاں سائنس دان اینڈی کرک (Andy Kirk) اور ان کی ٹیم روزانہ عمل گداخت کے ذریعہ ستاروں کے توانائی پیدا کرنے کا طریقہ کار سمجھتے ہیں۔ یہ مشین ایک بہت ہی بڑی سی مقناطیسی بوتل ہے۔ ایک ایسا قید خانہ ہے جو بہت ہی گرم پلازما کو اپنے اندر قید رکھتا ہے۔ سائنس دان اس مشین میں ستاروں کے اندر کا ماحول نہایت محدود پیمانے پر پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔


    ٹوکامیک کے اندر ہائیڈروجن ایٹموں کے مرکزے ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں۔ ان ایٹمی مرکزوں کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کےلئے ان کا درجہ حرارت تیس کروڑ ڈگری تک بڑھانا پڑتا ہے۔ اس درجہ حرارت پر توانائی سے بھرپور ہائیڈروجن کے مرکزے، نہایت تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ اب وہ ایک دوسرے میں مدغم ہونے سے خود کو روک نہیں سکتے۔ حرارت اصل میں حرکت ہی کا دوسرا نام ہے۔ ان ذروں کی حرکت اتنی تیز اور توانا ہوتی ہے کہ ہائیڈروجن مرکزوں کے درمیان موجود قوتِ دفع (ایک دوسرے کو دُور دھکیلنے والی قوت) پر غالب آجاتی ہے۔ اگر ہر چیز ٹھیک ٹھیک کام کرے تو نتیجہ ایک بہترین پاور پلانٹ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ایک ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے ٹکراتے ہوئے ہائیڈروجن کے مرکزے، گداخت (Fusion) کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ اس سے ایک نئے عنصر، یعنی ہیلیم کا ایٹمی مرکزہ تشکیل پاتا ہے؛ اور تھوڑی سی خالص توانائی بھی پیدا ہوتی ہے۔ ہائیڈروجن کے خالص مرکزوں کی مجموعی کمیت، ان کے آپس میں مل کر وجود میں آنے والے ہیلیم مرکزے کی کمیت سے تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن کمیت میں یہ فرق کہاں سے آیا؟ دراصل یہی وہ معمولی سی کمیت ہے جس نے توانائی کو جنم دیا ہے۔ بہ الفاظِ دیگر، یہی وہ مادّہ ہے جو توانائی میں تبدیل ہوا ہے: آئن اسٹائن کی مساوات کے عین مطابق!

    ٹوکامیک اس عمل گداخت کو صرف سیکنڈ کے کچھ حصّے تک ہی جاری رکھ پاتا ہے۔ مگر ستارے کے اندر یہی عمل اربوں سال تک جاری و ساری رہتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ ستارے کا عظیم الشان حجم اور زبردست کمیت، اس عمل کو مسلسل جاری رکھنے میں انتہائی مددگار ہوتے ہیں۔ قوّت ثقل کی مادّے کو اتنے بڑےپیمانے پر جمع کرنے کی صلاحیت ہی کی وجہ سے ستارے اتنے عظیم الجثہ ہوتے ہیں۔ عمل گداخت شروع کرنے کےلئےاتنی ثقلی قوّت درکار ہوتی ہے جو مادّے کو زبردست طاقت سے دبا سکے، بھینچ سکے، تاکہ یہ عمل شروع ہوسکے۔

    گداخت کا عمل ہی ستاروں کے چمکنے دمکنے کا راز ہے۔ ستاروں کے قلب میں جاری عمل گداخت سے ہر ایک سیکنڈ کے دوران اتنی زیادہ توانائی خارج ہوتی ہے جتنی ایک ارب ہائیڈروجن بموں کے بیک وقت پھٹ پڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ہر ستارہ ایک عظیم الشان ہائیڈروجن بم کی طرح ہوتا ہے۔ اب یہاں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ پھر وہ ستارہ منتشر کیوں نہیں ہوجاتا؟ وہ دھماکے سے پھٹ کر خلاء میں بکھر کیوں نہیں جاتا؟ اس کی وجہ ہے قوّت ثقل، جو ستارے کی بیرونی پرت کو مسلسل دباتی رہتی ہے۔ ستارے کی پوری زندگی قوّت ثقل اور نیوکلیائی قوت کی ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی میں گزرتی ہے۔ ان دونوں قوتوں ہر وقت ایک دوسرے کو للکارتی رہتی ہیں۔ قوّت ثقل ستارے کو دبا کر پچکانا چاہتی ہے جبکہ نیوکلیائی قوت اسے دھماکے سے اس کے پرخچے اُڑادینے کی کوشش میں مصروف رہتی ہے۔ مگر ان دونوں قوتوں کے مابین اس قدر توازن ہوتا ہے کہ ستارہ اربوں سال تک یونہی قائم و دائم اور روشن رہتا ہے۔ قوتوں کے مابین برتری قائم کرنے کی یہ جنگ، ستارے کی تمام زندگی چلتی رہتی ہے۔ جوں جوں جنگ آگے بڑھتی ہے، ستارہ گرمی اور روشنی کو باہر نکالنے کےلئے بیتاب ہوتا جاتا ہے۔

    روشنی، یعنی توانائی کا ہر ذرّہ (فوٹون) باہر نکلنے کےلئے ایک عظیم سفر طے کرتا ہے۔ روشنی کی رفتارلگ بھگ ٦٧ کروڑ میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد سات چکر مکمل کرسکتی ہے۔ کائنات میں کوئی بھی چیز اس رفتار کو مات نہیں دے سکتی۔ روشنی کی اس رفتار کے باوجود، ستارے ہم سے اس قدر دور ہیں کہ ان سے چلنے والی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں، بلکہ اربوں سال تک لگ جاتے ہیں۔ لہٰذا جب ہبل دوربین، خلاء کے دور دراز گوشوں میں جھانکتی ہے تو وہ دراصل اسی روشنی کو دیکھ پاتی ہے جو کروڑوں اربوں سال پرانی ہوتی ہے۔ ایٹا کرینی ستارے کی وہ روشنی جو ہم تک آج پہنچ رہی ہے، وہ اس ستارے سے تب نکلی ہوگی جب ہمارے آبا و اجداد نے ٨ ہزار سال قبل، یہاں زمین پر، پہلی مرتبہ کاشتکاری شروع کی تھی۔ ابط الجوزا (Betelgeuse) ستارے کی وہ روشنی جو آج کی تاریخ میں ہمیں موصول ہورہی ہے، وہ اس زمانے میں وہاں سے روانہ ہوئی تھی جب آج سے تقریباً پانچ سو سال پہلے کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا۔ ہمارے آنگن کا ستارہ، ہمارا سورج ہم سے نزدیک ترین ہے۔ لیکن اس کی روشنی بھی ہم تک پہنچنے میں آٹھ منٹ اور بیس سیکنڈ لگادیتی ہے… یہ کائنات واقعی بہت، بہت بڑی ہے!

    مگر اس سے پہلے کہ روشنی اپنا سفر خلاء میں شروع کرے، وہ ہزاروں سال کا سفر کرچکی ہوتی ہے۔ جب سورج اپنے قلب میں ہائیڈروجن مرکزوں کو ایک دوسرے میں ضم کرکے ہیلیم بناتا ہے، تو ساتھ میں فوٹون بھی پیدا ہوتے ہیں۔ فوٹون، روشنی کا ذرّہ ہوتے ہیں۔ روشنی کی کرن کو سورج کی سطح تک پہنچنے کےلئے ابھی بہت سا سفر کرنا ہوتا ہے۔ پورا سورج ہی اس کے راستے میں حائل ہوتا ہے۔ جیسے ہی فوٹون پیدا ہوتے ہیں، ابھی وہ زیادہ دور نہیں جاتے کہ ایٹمی مرکزے کے کسی دوسرے حصے سے ٹکرا جاتے ہیں: کبھی پروٹون سے تو کبھی نیوٹرون سے۔ یہ اسے جذب کرکے کسی دوسری طرف پھینک دیتے ہیں۔ یہ عمل کئی مرتبہ دوہرایا جاتا ہے۔ گویا فوٹون بے چارے، سورج کے اندر مارے مارے پھرتے ہیں۔

    پھرتے ہیں میر خوار، کوئی پوچھتا نہیں!


    بہرحال! انہیں اپنی آزادی کےلئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ سورج کی سطح تک آنا، فوٹون کےلئے انتہائی دقّت طلب سفر ہوتا ہے۔ انہیں سورج سے فرار حاصل کرنے کےلئے ارب ہا ارب مرتبہ گیسی ایٹموں کے مرکزوں سے ٹکرانا، یعنی اپنا سر پھوڑنا پڑتا ہے۔ اس پورے چکر میں جو بات سب سے اہم ہے، وہ یہ ہے کہ فوٹون کو سورج کی سطح پر آنے میں ہزار ہا ہزار سال لگ جاتے ہیں۔ مگر جیسے ہی وہ سورج کی سطح تک پہنچ کر وہاں سے فرار ہوتا ہے، تو اسے ہم تک پہنچنے میں صرف آٹھ منٹ اور چند سیکنڈ لگتے ہیں۔

    فوٹون، روشنی اور حرارت کا منبع ہوتے ہیں مگر یہ اپنے اندر نہایت ہلاکت انگیز چیز پوشیدہ رکھتے ہیں، جو ‘‘شمسی ہوا’’ (Solar Wind) کا باعث بنتی ہے (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٦)


    ۔ جیسے ہی فوٹون، سورج کی سطح تک پہنچتے ہیں وہ اسے شدید گرم کردیتے ہیں۔ نتیجتاً سورج کی بالائی سطح تیزی سے گردش کرنے لگتی ہے جس کی وجہ سے زبردست کھلبلی مچ جاتی ہے؛ اور یوں شدید صدماتی لہریں (Shock Waves) خارج ہونے لگتی ہیں۔ یہ اس قدر ہنگامہ خیز ہوتی ہیں کہ ہم انہیں سن بھی سکتے ہیں۔ سائنس دانوں نے سوہو (SOHO) نامی مصنوعی سیارچے کی مدد سے مدار میں ان آوازوں کو سنا ہے۔

    گیس کے تیز رفتار ذرّات، طاقتور مقناطیسی میدان بناتے ہیں۔ سورج کے گھومنے کے ساتھ ساتھ، یہ مقناطیسی میدان بھی سورج کی سطح سے اور آپس میں ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے حرکت کرتے ہیں؛ اور زبردست جھماکے کی صورت میں پھٹ کر خلاء میں پھیل جاتے ہیں (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر ٧)


    ۔ یہ عظیم الجثہ مقناطیسی میدان، حلقوں کی شکل میں پھیلے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض اس قدر بڑے ہوتے ہیں کہ زمین کو بھی پار کر جاتے ہیں۔ یہ نہایت شاندار مگر مہلک ہوتے ہیں؛ اور برقی ذرّات کوخلاء میں دور دور تک پھینک دیتے ہیں۔ شمسی ہوائیں، خلائی جہازوں اور مصنوعی سیارچوں کو خراب کرسکتی ہیں۔ بلکہ خلاء نوردوں کی زندگی کو ان سے خطرہ ہوسکتا ہے۔ اسے سمجھنے کےلئے کہ کس طرح مقناطیسی حلقے، شمسی ہواؤں کا باعث بنتے ہیں، کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کیلٹیک) میں سائنسدانوں کی ٹیم نے ایک تجربہ گاہ میں ستارے کی مصنوعی سطح بناکر دیکھا۔ ان کےلئے تجربہ گاہ میں ایسا کرنا بہت ہی ہیجان انگیز تھا، کیونکہ نہ تو وہ سورج کی سطح پر پہنچ سکتے تھے اور نہ ہی کوئی کھوجی روبوٹ وہاں جاسکتا تھا۔ لیکن تجربہ گاہ میں وہ یہ کوشش ضرور کرسکتے تھے کہ ستارے کی سطح پر ہوتا کیا ہے۔ اس کام کےلئے انہوں نے ہوا سے خالی ایک چیمبر تیار کیا جو خلاء کے ماحول کی نمائندگی کررہا تھا۔ مقناطیسی حلقے بنانے کےلئے نہایت طاقتور برقی رَو لی گئی۔ تجربہ گاہ میں بنائے ہوئے پلازما کے حلقوں اور سورج میں موجود پلازما کے حلقوں میں صرف حجم ہی کا فرق تھا۔ اس تجربے کے دوران جب مقناطیسی حلقے آپس میں ٹکرائے تو انہوں زبردست توانائی کے جھکڑ پیدا کئے۔ جب عظیم الجثہ مقناطیسی حلقے آپس میں سورج کی سطح پر ٹکراتے ہیں تو زبردست توانائی خارج ہوتی ہے اور درجہ حرارت دس ہزار ڈگری تک جاپہنچتا ہے۔ زبردست حرارت کروڑوں ٹن ذرّات خلاء میں بکھیر دیتی ہے۔ جتنا بڑا ستارہ ہوگا، اس کی شمسی ہوا بھی اتنی ہی زیادہ مہلک ہوگی۔ اگر ہم ایٹا کرینی کے گرد مدار میں اتنے ہی فاصلے سے چکر لگا رہے ہوتے کہ جتنا فاصلہ ہماری زمین کا سورج سے ہے، تو وہ زمین کو جہنم بنادیتا۔ اس کی خارج کردہ توانائی، ہماری زمین کی فضا کو لمحے بھر میں ختم کردیتی۔ سمندر ابل پڑتے، زمین پگھل جاتی۔

    ستاروں کے کام کرنے کا طریقہ سمجھ لینا ہمیں اس تباہ کن طاقت سے بچنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ مگر ہم اپنے آپ کو بچانے کےلئے اس وقت کچھ نہیں کرسکتے ستارے اپنی زندگی پوری کرتے ہوئے، موت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں۔ آخری لمحات میں وہ اپنے اردگرد کی ہر چیز فنا کردیتے ہیں۔ پیدا ہونے کے ساتھ ہی ستارہ موت کی منزل کی جانب رواں دواں ہوجاتا ہے۔ جب ایک ستارہ اپنا ایندھن پھونکنے کے بعد اپنی موت کے مرحلے میں، اپنے عالمِ نزع میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت تک قوّت ثقل، نیوکلیائی قوت پر غلبہ پاچکی ہوتی ہے۔ ہمارے سورج کی زندگی کے مدارج بھی دوسرے ستاروں کی طرح کچھ خاص مختلف نہیں۔ ہر گزرتے لمحے وہ ساٹھ کروڑ ٹن ہائیڈروجن کو بطور ایندھن اپنے قلب میں استعمال کررہا ہے۔ (نوٹ: ناسا کی ویب سائٹ کے مطابق، سورج ہر سیکنڈ میں پچاس لاکھ ٹن ہائیڈروجن استعمال کررہا ہے۔ جبکہ ‘‘یونیورس ٹوڈے’’ نامی ویب سائٹ کے مطابق بھی سورج ہر سیکنڈ ساٹھ کروڑ ٹن ہائیڈروجن استعمال کررہا ہے۔ علاوہ ازیں ‘‘ناسا کوسمی کوپیا’’ ویب سائٹ کے مطابق بھی سورج ساٹھ کروڑ ٹن ہائیڈروجن فی سیکنڈ استعمال کررہا ہے۔ مترجم) اس شرح استعمال کے حساب سے سورج اپنے اندر موجود تمام ہائیڈروجن کو آئندہ سات ارب سال تک ختم کردے گا۔

    جیسے ہی ہائیڈروجن ختم ہوگی، گداخت کا عمل بھی سست پڑجائے گا۔ قوّت ثقل غالب آجائے گی اور مزید مادّے کو قلب (مرکز) کی جانب بھینچے گی۔ نیوکلیائی طاقت بھی زور آزمائی شروع کردے گی جس سے ستارے کی بیرونی پرت گرم ہوجائے گی۔ اور کیونکہ حرارت چیزوں کو پھیلاتی ہے، لہٰذا سورج بھی پھولنا شروع ہوجائے گا۔ آج سورج کا قطر لگ بھگ دس لاکھ میل ہے۔ لیکن تب اس کا قطر دس کروڑ میل ہوچکا ہوگا۔ ہمارا سورج ‘‘سرخ دیو’’(Red Giant) بن چکا ہوگا۔


    سات ارب سال بعد سورج کے طلوع ہونے کا منظر تصور میں لائیے۔ وہ آج کی طرح نظر آنے والا ہنستا مسکراتا، ننھا پیلا سورج نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ سوجا ہوا، پھولا ہوا، لال رنگ کا، ہمارے افق پر طلوع ہوتا ہواسورج ہوگا۔ اور جب سورج مکمل طلوع ہوجائے گا توزمین، دہکتی ہوئی بھٹی بن جائے گی۔ اس کا درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری تک جا پہنچے گا۔ سمندر ابل جائیں گے، پہاڑ پگھل جائیں، اور روز محشر بپا ہوگا۔ اس کے بعد یہ پھولا ہوا سورج، زمین کو نگل لے گا۔ سرخ دیو خود بھی تباہ ہورہا ہوگا۔ اس کا قلب غیرمتوازن اور ناہموار ہورہا ہوگا۔ ہائیڈروجن ختم ہوجانے کے بعد، سورج نے ہیلیم میں گداخت سے کاربن بنانا شروع کردیا ہوگا۔

    سورج اب اپنے آپ کو اندر سے باہر کی طرف تباہ کررہا ہوگا، جس سے توانائی کے عظیم جھکڑ نکل رہے ہوں گے۔ توانائی کے یہ عظیم جھکڑ، ستارے کی بیرونی پرت کو دور اڑا کر پھینک دیں گے۔ آہستہ آہستہ سورج ختم ہونا شروع ہوجائے گا۔ اور آخرکار اس کی موت ہوجائے گی۔ سرخ دیو اب ایک سفید بونا بن جائے گا (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر٨)


    ۔ جب ستارہ، سفید بونا بننے کے مرحلے پر پہنچتا ہے تو گداخت کا عمل رک چکا ہوتا ہے۔ ستارے کا قلب آخرکار خاموش ہوجاتا ہے۔


    ہمارا سورج بھی ایک سفید بونا بن کر ہی اپنی زندگی پوری کرے گا۔ اگرچہ سفید بونے کی حیثیت سے اس کا حجم ہماری زمین سے زیادہ نہ ہوگا، لیکن پھر بھی وہ زمین سے لاکھوں گنا زیادہ، ناقابل تصور حد تک کثیف ہوگا۔ اگر آپ چینی کے کیوب (شکر کی چھوٹی ڈلی) جتنا ٹکڑا وہاں سے اٹھا لائیں اور زمین پر ڈال دیں، تو وہ اپنی زبردست کثافت کی وجہ سے زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ سفید بونے کے مرکز میں کاربن کی ایک عظیم و جسیم قلم ہوگی، جو ہزاروں میلوں پر پھیلا ہوا، کونیاتی ہیرا ہوگا۔ یہ خیال ہی نہایت افسوسناک ہے کہ سورج ٹھنڈا، تاریک اور راکھ کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ بچے گا تو بس ایک جناتی حجم والا ہیرا، وہ بھی اس کے قلب میں۔ ذرا تصور کیجئے کہ وہ ایک ہیرا اتنے قیراط کا ہوگا کہ جس کے سامنے کھرب ہا کھرب قیراط بھی نہایت ہی حقیرسی اکائی محسوس ہوں گے۔ مگر ستارے ہیرے سے بھی زیادہ قیمتی چیزیں بناسکتے ہیں۔


    سورج سے بڑے ستاروں کی موت اس قدر سکون سے نہیں ہوتی۔ وہ مرتے ہوئے بھی زندگی کے بنیادی اجزاء بنا جاتے ہیں۔ بڑے ستاروں کا عرصہ حیات کم ہوتا ہے۔ وہ زیادہ روشن ہوتے ہیں اور اپنی زندگی جلدی جلدی گزارتے ہوئے، موت کی دہلیز پر قدم رکھ دیتے ہیں۔ مگر ان کی بے وقت کی موت ہی کائنات میں زندگی کو دوام بخشتی ہے۔ بڑے ستاروں کی موت ہی زندگی پنپنے کےلئے بنیادی خام مال تیار کرتی ہے۔ ان کی موت ہی سے زندگی کا بیج تیار ہوپاتا ہے۔


    لگ بھگ چھ سو نوری سال دور، ابط الجوزا نامی ستارہ اپنی زندگی پوری کرنے کے قریب ہے (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر٩)


    ۔ یہ ہمارے سورج سے بہت کم عمر ہے۔ اس کی عمر محض کروڑوں برسوں میں ہے۔ عمل گداخت اس کے قلب میں بہت تیزی سے جاری ہے۔ ابط الجوزا، ہمارے سورج سے بالکل مختلف، ایک الگ قسم کا ستارہ ہے۔ یہ ایک بڑا سرخ دیو (Red Supergiant) ہے۔ اس کے بڑے سرخ دیو ہونے کی وجہ اس کی بہت زیادہ کمیت ہے، جو سورج کے مقابلے میں بیس گنا زیادہ ہے۔ اس کے مرکز میں جاری عمل گداخت، سورج کے قلب سے ہونے والے عمل سے خاصا مختلف ہے۔ عموماً بڑے ستارے انتہائی درجہ کا دباؤ اور حرارت پیدا کرتے ہیں۔ ابط الجوزا کی قوّت ثقل اس قدر شدید ہے کہ وہ گداخت کے عمل سے کاربن سے بھی بھاری عناصر تخلیق کردیتی ہے۔ ستارے کا قلب ایک طرح سے بھاری عناصر بنانے کا کارخانہ ہوتا ہے؛ اور اسی وجہ سےاس کی موت بھی ہوتی ہے۔ ستارے کا قلب جب لوہے کا عنصر بنانے کے قریب پہنچتا ہے، تو بس وہی اس کی موت کا پروانہ ثابت ہوتا ہے۔


    سائنس فکشن فلموں میں ستاروں کو تباہ کرنے کےلئے بہت ہی عجیب و غریب مشینوں کے خیالات ملتے ہیں۔ لیکن درحقیقت ستارے کی موت تو لوہے کا عنصر تشکیل دینے ہی سے ہوتی ہے۔ کسی بھی ستارے کےلئے لوہا سب سے خطرناک عنصر ہوتا ہے۔ وہ ستارے کےلئے زہر قاتل کا کام کرتا ہے۔ (نیوکلیائی گداخت کے ذریعے) لوہے کا عنصر بنتے دوران زیادہ توانائی جذب کرلیتا ہے۔ لہٰذا اس لمحے کہ جب کوئی ستارہ، لوہا بنانا شروع کرتا ہے تو اس کی زندگی کے لمحے گنے جاچکے ہوتے ہیں۔


    ستارہ پوری کوشش کرتا ہے کے کسی طرح لوہے کے مرکزوں میں بھی عمل گداخت (فیوژن) شروع ہوجائے؛ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ اور لوہے کی گیند، ستارے کی توانائی جذب کرنا شروع کردیتی ہے۔ یہی وہ توانائی ہوتی ہے جس نے ستارے کا وجود برقرار رکھنے کےلئے سہارا دیا ہوتا ہے۔ ستارے کے قلب میں جیسے ہی لوہا بننا شروع ہوتا ہے، ویسے ہی ستارے کی زندگی کا پروانہ اجل لکھ دیا جاتا ہے۔ قوّت ثقل اور نیوکلیائی قوت کے مابین جنگ ختم ہوجاتی ہے۔ لوہے کی تشکیل کے ساتھ ہی نیوکلیائی طاقت اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ قوّت ثقل کی جیت ہو جاتی ہے۔ ستارے کا قلب تیزی سے منہدم ہوتا ہے… اور ستارے کی بیرونی پرت، پوری رفتار سے اس پر آن گرتی ہے۔ ستارہ ایک زبردست دھماکے سے پھٹ جاتا ہے۔ سائنس دانوں نے اس دھماکے کا نام ‘‘سپرنووا’’ رکھا ہے (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر١٠)


    ۔ صرف چند سیکنڈوں میں سپرنووا اتنی توانائی پیدا کرتا ہے کہ جتنی توانائی ہمارا سورج، اپنی پوری زندگی میں شاید ہی پیدا کرپائے۔


    لوہے کی گداخت شروع ہونے کے صرف چند سیکنڈ بعد ہی ستارہ، سپرنووا بن کر پھٹ جاتا ہے۔ آئندہ جب آپ لوہے کی کوئی چیز دیکھیں یا استعمال کریں، تو ضرور یاد رکھئے گا کہ یہ وہی لوہا ہے جس نے کسی ستارے کی جان لی ہوگی۔ یاد کیجئے گا کہ لوہے کی تخلیق کے چند سیکنڈوں میں ہی ستارہ، سپرنووا میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

    پوری دنیا کی دوربینیں سپرنووا کی تلاش میں آسمان کی خاک چھانتی رہتی ہیں۔ ١٩٨٧ء میں آسمان پر ایک شاندار روشنی ابھری۔ یہ روشنی ایک قریبی کہکشاں سے آرہی تھی، جو زمین سے ایک لاکھ ستّر ہزار نوری سال کی مسافت پر ہے۔ سائنس دانوں نے سپرنووا کے پھٹنے کے بعد کی تصویر تو حاصل کرلی تھی (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر١١) مگر ابھی تک اُس وقت کی کوئی تصویر حاصل نہ کرپائے تھے جب سپرنووا پھٹنے کے بالکل قریب ہو۔ کسی بھی ستارے کی موت کا ہمیں اسی وقت پتا چل پاتا


    ہے کہ جب وہ سپرنووا کی شکل میں پھٹ چکا ہو۔


    سائنس دان یہ جاننے کےلئے بیتاب ہیں کہ جب ستارہ پھٹنے کے قریب ہوتا ہے تو وہاں کی صورتحال کیا ہوتی ہے۔ ان کے پاس یہ سب جاننے کا ابھی تو صرف ایک ہی طریقہ ہے: ایسا ماحول کسی تجربہ گاہ میں دوہرایا جائے۔ سائنس دانوں کےلئے یہ جاننا انتہائی اہم ہے کہ ستارے کے قلب (مرکز) میں موجود مادّہ کیسے باہر نکلتا ہے۔ سائنس دان امریکی ریاست نیویارک کے شہر روچیسٹر (Rochester) میں، دیوقامت لیزر کی مدد سے، تجربہ گاہ میں ایک سپرنووا کی نقل بنانے میں مصروف ہیں۔

    کوئی بھی دوربین کسی بھی ستارے کے اندر نہیں جھانک سکتی۔ لہٰذا، یہ سراغ لگانے کےلئے کہ اس وقت جب ستارہ پھٹنے کے بالکل قریب ہوتا ہے تو وہاں کا ماحول کیسا ہوتا ہے، سائنس دانوں نے تجربہ گاہ میں لیزر شعاعوں کی مدد لی ہے۔ اس زبردست مشین کے ذریعے لیزر کی طاقت، دس لاکھ کھرب گنا بڑھائی جاتی ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی توانائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ڈیٹرائٹ (Detroit) جیسے تیس شہروں میں توانائی کی ضرورت پوری کرنے کےلئے کافی ہے۔ توانائی کی اتنی بڑی مقدار کو سوئی کے سرے جتنے حصّے پر مرتکز کیا جاتا ہے۔ لیزر کے ذریعے ہم کائنات کے اُس زوردار دھماکے کی نقل کرسکتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ انتہائی خطرناک عمل ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان اس کی زد میں آجائے تو یہ آناً فاناً اس میں سوراخ کردے گی۔ اس دھماکے کا دورانیہ انتہائی مختصر ہوتا ہے۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ یہ ایک سیکنڈ کے ایک لاکھویں حصّے تک ہی برقرار رہ پاتا ہے۔ مگر وقت کے اس قلیل دورانئے کی منظر کشی، انتہائی تیز رفتار کیمروں کی مدد سے کی جاتی ہے (جنہیں خاص اسی مقصد کےلئے بنایا گیا ہے)۔ اس تجربے سے سائنس دانوں نے ستارے کے قلب سے نکلنے والی صدماتی لہروں (کی نقل کا) مشاہدہ کیا۔ 

    سائنس دانوں نے دیکھا کہ ستارے کا اندرونی مادّہ کس طرح باہر نکلتا ہے جبکہ بیرونی مادّہ کیسے اندر جاگرتا ہے… بالکل اسی طرح جیسے سپرنووا کے پھٹتے دوران ہوتا ہے۔ ستارے کے قلب میں دفن مادّہ جب باہر نکلتا ہے تو اس سے صدماتی لہریں باہر نکلتی ہیں اور دور دور تک خلاء میں پھیل جاتی ہیں۔ دھماکے سے پیدا ہونے والی اس زبردست گرمی اور توانائی کے پُرہنگام لیکن مختصر وقفے میں لوہے سے بھاری عناصر تشکیل پاتے ہیں۔ ان میں سونا، چاندی، پلاٹینم شامل ہیں۔ اور چونکہ ان عناصر کو بننے کےلئے بہت ہی قلیل وقت ملتا ہے، اسی لئے یہ کائنات کے سب سے کمیاب اور قیمتی عناصر بھی خیال کئے جاتے ہیں۔ سونے، چاندی اور پلاٹینم سمیت، لوہے سے بھاری تمام عناصر اسی دھماکے کی پیداوار ہیں۔ اور یہ زمین پر بھی وہیں سے پہنچے ہیں۔

    کائنات کے اس خطرناک ترین حادثے کے بعد بھی کچھ بچ جاتا ہے۔ پہلے سائنس دان سمجھتے تھے کہ سپرنووا میں ستارہ ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اور اپنے پیچھے کچھ بھی نہیں چھوڑتا۔ مگر ان کی یہ غلط فہمی جلد ہی دور ہوگئی۔ سپرنووا دھماکے اور مادّے کے خلاء میں بکھر جانے کے بعد بھی ستارے کا کچھ بچا کچھا حصّہ باقی رہ جاتا ہے۔ اسے سائنس دانوں نے ‘‘نیوٹرون ستارے’’ کا نام دیا ہے (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر١٢)


    ۔ نیوٹرون ستارہ اتنا زیادہ کثیف ہوتا ہے کہ جس کا تصور کرنا بھی ہمارے لئے محال ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، یہ ایٹمی مرکزے میں پائے جانے والے ذرّات ‘‘نیوٹرون’’ ہی پر مشتمل ہوتا ہے۔ کشش ثقل نے ان ذرّات کو اس قدر شدت سے بھینچ رکھا ہوتا ہے کہ وہ انتہائی عجیب و غریب قسم کا مادّہ تشکیل دیتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ ٹھوس (solid) ہوتا ہے، لیکن ہماری روزمرہ زندگی میں جس زیادہ سے زیادہ ٹھوس شئے کے بارے میں ہم سوچ سکتے ہیں، نیوٹرون ستارے کا مادّہ اس سے بھی کہیں زیادہ ٹھوس ہوتا ہے۔ اپنی آسانی کےلئے یوں سمجھ لیجئے کہ نیوٹرون ستارے پر مادّہ اس قدر ٹھوس اور کثیف ہوتا ہے کہ اگر صرف ایک چمچے جتنا مادّہ، نیوٹرون ستارے سے لے لیا جائے تو اس کی کمیت، پورے ماؤنٹ ایورسٹ پہاڑ سے بھی زیادہ نکلے گی!

    مرتا ہوا ستارہ اپنی باقیات میں صرف نیوٹرون ستارہ ہی پیچھے نہیں چھوڑتا، بلکہ بھاری عناصر بھی کائنات میں دور دور تک پھیلا دیتا ہے۔ اور یہی بھاری عناصر، زندگی کی بنیاد اور اسے پروان چڑھنے کیلئے خام مال فراہم کرتے ہیں۔ ہر وہ چیز جس سے ہمیں انسیت ہے، اور وہ جو ہمیں محبوب ہے، وہ انہی ستاروں کی خاک سے بنی ہے۔ لوہے سے بھاری عناصر تخلیق کرنے کیلئے جتنی توانائی درکار ہوتی ہے، وہ کائنات میں سپرنووا کے پھٹنے کے علاوہ ابھی تک کہیں بھی دریافت نہیں ہوسکی۔ زندگی کے وجود، ارتقاء اور بقاء، سب کےلئے یہ عناصر نہایت ضروری ہیں۔ سپرنووا کے بغیر زندگی پنپ ہی نہیں سکتی تھی۔ یہ نہ ہوتے تو نہ میں ان کی مدح سرائی کےلئے ہوتا، اور نہ آپ ہی ان سطروں کو پڑھ کر سر دُھن رہے ہوتے۔

    سپرنووا بن کر پھٹتے ہوئے ستارے سے کائنات میں پھیلتی ہوئی خاک ہائیڈروجن، کاربن، آکسیجن ، سلیکان اور لوہے سے پھرپور ہوتی ہے۔ یہ خام مال نئے بننے والے ستاروں اور ان کے سیاروں کے کام آتا ہے۔ لوہے سے بھاری عناصر سے بنی ہوئی ہر چیز سپرنووا کے دھماکے میں ہی پیدا ہوئی اور پھیلی ہے۔ ایک مرتبہ یہ خاک، کائنات میں پھیل جائے تو پھر یہ نئے ستاروں کا خام مال بن جاتی ہے۔ آپ کو یقیناً یہ جان کر حیرت ہوگی کہ میں اور آپ بھی اسی خاک سے پیدا ہوئے ہیں۔ ہم ستاروں کی خاک ہی تو ہیں۔ ہمارے جسموں کا ہر ایک ایٹم، ستاروں کے قلب میں ہی تو پیدا ہوا ہے۔ شاید ہمارے سیدھے ہاتھ کے ایٹم کسی ایک ستارے کی خاک ہوں جبکہ الٹے ہاتھ کے ایٹم کسی دوسرے ستارے میں پیدا ہوئے ہوں۔ دیکھا جائے تو ہم ستاروں ہی کے بچے تو ہیں… بہت پہلے مرتے ہوئے ستاروں نے اپنی خاک ہمیں فراہم کی؛ جس سے ہمارا نظام شمسی، سیارے اور ہر وہ چیز جو ان کے درمیان موجود ہے، پیدا ہوئی۔ ہمارے جسم میں کاربن اور آکسیجن سب سے زیادہ ہیں؛ ہماری رگوں میں دوڑتے پھرنے والے خون کا اہم ترین جزو، لوہا ہے۔ یہ تمام چیزیں کہیں اور پیدا ہو ہی نہیں ہوسکتیں۔ اور اگر ہوسکتی ہیں تو صرف اور صرف ستاروں کے قلب ہی میں پیدا ہوسکتی ہیں۔ تو اگلی بار جب آپ ستاروں کو دیکھ کر متحیر ہوں تو ذرا اپنے آپ پر اور ارد گرد موجود چیزوں پر بھی نظر دوڑا لیجئے گا۔ ہر چیز جو ہمارے آس پاس موجود ہے (بشمول ہمارے خود کے) وہ ان ہی ستاروں کی کوکھ سے نکلی ہے جو لمبے عرصے پہلے اپنی حیات پوری کرچکے تھے۔

    حتیٰ کہ سورج میں موجود بیشتر ایٹم بھی بازیافت شدہ ہیں۔ یہ ایٹم شاید تیسری یا چوتھی نسل کے ہیں۔ یہ ان ستاروں کی باقیات ہیں جو عرصہ دراز پہلے مرتے ہوئے اپنی خاک اس کائنات میں پھیلا گئے تھے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سورج ہماری سوتیلی ماں ہے۔ ہماری اصل سگی ماں تو وہ ستارے تھے جو سورج کو ان بھاری عناصر سے بھرپور، اپنی خاک دیتے ہوئے اس جہان سے گزر گئے… وہ خاک جو زندگی کو پروان چڑھانے کیلئے نہایت ضروری تھی۔ کاش کہ غالب اور میر انیس کے دور میں یہ طبیعیاتی معلومات دستیاب ہوتیں تو وہ ضرور ان ستاروں کی مدح سرائی یا غم میں کوئی غزل یا نوحہ و مرثیہ ضرور لکھ دیتے۔

    ہم ستاروں کے سنہری عہد میں جی رہے ہیں۔ لیکن ہر فانی چیز کی طرح یہ عہد بھی ختم ہوجائے گا۔ کائنات میں جتنی بھی ہائیڈروجن ہے، وہ کھرب ہا کھرب سال گزرنے کے بعد، بالآخر ختم ہوجائے گی۔ اور ستارے جب ساری ہائیڈروجن پھونک دیں گے تو نئے ستارے پیدا ہونا بند ہوجائیں گے۔ ہماری زندگی کا عرصہ، کائنات کی تاریخ میں بہت ہی حقیر ہے۔ خیر ابھی سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ابھی تو وہ ستارے جو زندگی کو جنم دیتے ہیں، آسمان کو روشن کئے ہوئے ہیں۔ مگر ان کی یہ روشنی، یہ جگمگاہٹ ہمیشہ کیلئے تو نہیں۔ جلد یا بدیر ستارے بجھنے شروع ہوجائیں گے۔ سب سے پہلے بڑے ستارے اپنا ایندھن پھونک کر بجھ جائیں گے۔ ان کے بعد درمیانے حجم کے ستاروں کی، جیسا کہ ہمارا سورج ہے، باری آئےگی۔ آخرکار چھوٹے ستاروں کی بھی باری آ ہی جائے گی۔ کھربوں سال گزرنے کے بعد وہ بھی غائب ہوجائیں گے۔ آہستہ آہستہ کائنات تاریک اور ٹھنڈی ہوجائے گی ۔ یہاں تک کہ اس کا آخری ستارہ بھی بجھ جائے گا۔ ستاروں کا عظیم الشان دور ختم ہوجائے گا۔

    ایمانداری کی بات ہے کہ کائنات کا انجام بہت ہی افسوسناک ہوگا۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ ہمارا دور جینے کے لحاظ سے بہترین ہے۔ یہ وقت زندگی کے پنپنے کےلئے مثالی دور ہے۔ نئے ستارے پیدا ہورہے ہیں۔ ہم کائنات کے سنہری دور میں جی رہے ہیں۔ ہم کائنات کے اُس عہد میں زندہ ہیں جب وہ زندگی کیلئے نہایت سازگار اور موزوں ہے۔ اور یہ دور مزید کئی اَرب سال تک یونہی جاری رہے گا۔

    ہر چیز کو زوال ہے۔ کوئی بھی چیز ہمیشہ سے ہے نہ ہمیشہ رہے گی۔ ہمیں اس بات پر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں اس دور میں پیدا کیا جب رات کو ستارے آسمان کو جگمگا رہے ہیں۔ فی الحال تو ستارے کائنات کے ارتقاء میں یوں ہی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے رہیں گے اور زندگی کو پروان چڑھانے کیلئے خام مال تیار کرتے رہیں گے۔ نئے ستارے کائنات کی تاریکی کو یوں ہی دور کرتے رہیں گے۔


    ختم شد 

    ترجمہ: زہیر عبّاس 

    ترمیم و ادارت: علیم احمد
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: سورج اور دور دراز کے تارے Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top