Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, اکتوبر 21, 2017

    مرغولہ کہکشاں

    ملکی وے 

    کائنات کی سب سے شناسا کہکشاں کے اندر ہمارا کیا مقام ہے؟


    ہماری کہکشاں مرکز نگاہ 


    تمام دریافت شدہ مرغولہ نما کہکشاؤں کی طرح، ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے میں ستاروں کی مرکزی سلاخ ہے۔ مرغولہ بازوں سے گیس یہاں آتی ہے اور دب کر نجمی بچہ خانہ بناتی ہے جہاں نئے ستارے پیدا ہوتے ہیں۔ 

    کہکشانی سلاخ سے دور جاتے ہوئے دو اہم مرغولہ نما بازو (اسکیوٹم-سینٹارس اور پرسیس) اور دو چھوٹے بازو (نورما اور قوسی) ہیں۔ بڑے بازوں میں زیادہ کثافت والے ستارے موجود ہیں – نئے اور پرانے دونوں ہی – جبکہ چھوٹے بازو زیادہ تر گیس سے مل کر بنے ہیں۔ یہاں نئے ستارے چھوٹے سے علاقے میں بن رہے ہیں۔

    ہمارا سورج اورائن اسپر نامی جزوی طور پر بنے ہوئے بازو میں واقع ہے۔ یہ قوس اور پرسیس کے درمیان ہے۔ 

    آئیے جانتے ہیں کہ ہماری کہکشاں سمیت ہماری 70 فیصد قریبی پڑوسی کہکشاؤں کی صورت پھول پھرکی جیسی کیوں ہے

    دسیوں ہزار ہا نوری برس پر پھیلی ہوئی، چکر دار یا مرغولہ کہکشائیں ایک مرکزی قلب کے گرد چکر لگاتی ہیں۔ کہکشاں کے مرکز سے جتنا زیادہ دور ہوں گے تو مادے کو اسی قدر اس مرکز کے گرد چکر لگانے میں وقت لگے گا، اسی وجہ سے جب کہکشاں گھومتی ہے تو یہ مرغولے کی طرح لپٹتی جاتی ہے۔

    چکر دار صورت کی وجہ کثافتی موجیں ہیں۔ یہ امواج یا لہریں کہکشاں کے مرکز سے نکل کر قرص کو بنانے والی دھول و گیس کے بادلوں میں سے گزرتی ہیں۔ یہ لہر جب قرص میں سے گزرتی ہے تو ہائیڈروجن گیس کو بھینچتی ہے، اس سے دھول کی تنگ دریچے بنتے ہیں جس میں نیوکلیائی فیوژن شروع ہو جاتا ہے۔ لہر کی وجہ سے نئے ستارے بنتے ہیں۔ جب مرغولے کے بازوں کی عمر کافی ہو جاتی ہے تو وہ نیلے (نوجوان ستاروں) سے سرخ (بوڑھے ستاروں) میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد پیلے (مرتے ہوئے ستاروں) میں؛ موخرالذکر 'رکازی بازو' کہلاتے ہیں۔

    چکر دار کہکشائیں بہت ہی آہستگی کے ساتھ پیلی ہوتی ہیں اور ایک چکر مکمل کرنے میں یہ کروڑوں برس کا عرصے لیتی ہیں – مثال کے طور پر ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے اپنے مرکزی محور پر پورا چکر مکمل کرنے میں 25 کروڑ برس لیتی ہے۔

    مرغولہ یا چکر دار کہکشاں کے قلب میں ایک کہکشانی گومڑا ہوتا ہے۔ یہ گومڑا ان گنجان آباد ستاروں کی آبادی پر مشتمل ہے جو بوڑھے ہو رہے ہیں لہٰذا یہ سرخ سے سرخ تر ہو رہے ہیں۔ یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ زیادہ تر مرغولہ نما کہکشاؤں کے مرکز میں عظیم ضخامت یعنی سپر ماسیو کے بلیک ہول موجود ہوتے ہیں، جن کا حجم ارب ہا سورجوں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ کہکشاں سے مادے کو کھینچ کر بڑے ہوتے ہیں، یہ اپنے ارد گرد ستاروں کے مدار اور گھماؤ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    چکر دار کہکشاؤں میں اتنا زیادہ ثقلی کھنچاؤ ہوتا ہے کہ یہ ستاروں اور عالمگیری ستاروں کے جھرمٹوں ( ستاروں کا وہ گروہ جو کہکشاں کے گرد سیارچوں کی طرح چکر لگاتا ہے) کو کروی ہالے میں قید کر دیتے ہیں۔ یہ کہکشاں کے اندر بھی بن سکتے ہیں اور دوسری کہکشاں کے ٹکراؤ اور انضمام کے دوران ان سے بھی چرائے جا سکتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اس وقت نمایاں نظر آتے ہیں جب کہکشاؤں کا اطراف سے مشاہدہ کیا جاتا ہے، یہ ایک ایسا دھندلا بادل بناتے ہیں جو مرکزی قرص کو گھیرے میں لئے ہوتا ہے۔ 

    ریاضی اور خلاء 


    کہکشاؤں کے چکر دار بازو لوگارتھمی ہیں؛ گھماؤ ایک دوسرے سے یکساں فاصلے پر نہیں ہے – بلکہ ان کے درمیان فاصلہ شرحاً بڑھتا ہے۔ اس طرح کی ہئیت کہکشاں کو اپنی صورت تبدیل کئے بغیر بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ فیبونیکی سلسلہ میں اعداد کا سلسلہ جِس میں ہر عدد پِچھلے دو عددوں کے مجموعے کے برابر ہو جیسے کہ (0, 1, 1, 2, 3, 5, 8, 13, وغیرہ)۔ کافی عرصے سے معلوم ہے کہ یہ سلسلہ قدرت میں پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ تنے میں پتوں کی ترتیب کی وضاحت ہو یا پھول میں پتیوں کی۔ فیبونیکی سلسلہ کو استعمال کرتے ہوئے حجم کے ٹائلڈ اسکوائر سے مرغولے کو بنایا جا سکتا ہے ( نیچے دیکھئے)۔ تھوڑا بہت آگے پیچھے کرکے اس نسبت کو کچھ کہکشاؤں کے چکر دار بازوں پر منطبق کیا جا سکتا ہے، یوں مرکز کے گرد گھومنے والی دھول کے کوچوں کے خط پرواز کا نقشہ بنایا جا سکتا ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: مرغولہ کہکشاں Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top