Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 16 اکتوبر، 2017

    ہمارے پٹھوں میں درد کیوں ہوتا ہے؟


    جانئے کہ کیوں ورزش کرنے کے بعد کئی دن تک پٹھوں کا کھینچنا اور ان میں درد رہنا جاری رہتا ہے 


    لیپٹن عام طور طور پر 'چربیلے ہارمون' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی کام ہمارے اندرونی ایندھن کی پیمائش کرنا ہوتا ہے۔"

    عام طور جب ہمارے پٹھے سکڑتے ہیں تو یہ چھوٹے ہو کر پھول جاتے ہیں جس طرح کے کسرت کرنے والوں کی مچھلیاں ہوتی ہیں۔ تاہم اگر پٹھے سکڑتے وقت کھینچ جائیں تو ان کو نہ دکھائی دینے والی نقصان پہنچتا ہے۔

    جانگ میں واقع چوسری عضلاتی گروپ گھٹنے کے جوڑ تک آتا ہے، اور عام طور پر اس کا کام ٹانگ کو سکیڑنا اور سیدھا کرنا ہوتا ہے۔ بہرحال جب کسی کھڑی ڈھلان جیسی جگہ پر چلتے ہیں تو چوسری عضلہ آپ کے جسم کو اس وقت مدد دیتا ہے جب آپ آگے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، ایسا کرتے ہوئے جب گھٹنا مڑتا ہے، تو عضلات اس کے مخالف کھنچتے ہیں۔

    اس تناؤ کی وجہ سے عضلات میں ننھے ننھے چیرے لگتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ڈھلان سے اترتے ہوئے بھاگنے میں تھوڑی دیر بعد زبردست درد کا حملہ ہوتا ہے۔

    انتہائی ننھے پیمانے پر دیکھا جائے تو پٹھے ارب ہا سرکومیئر – sarcomere کی تھپیوں سے مل کر بنتے ہیں۔ ان میں سالماتی کھٹکے لگے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں تاکہ میکانیکی قوت پیدا ہو۔ اگر پٹھا سکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے تناؤ کی کیفیت میں ہوگا تو سرکومیئر قطار سے باہر نکل جائیں گے جس سے پٹھے کو نہ دکھائی دینے والا نقصان پہنچے گا۔ پٹھے سوج جائیں گے اور ان میں سیال بھر جائے گا جس کی وجہ سے یہ اکڑ کر درد محسوس کرنے والے آخذوں – receptors کو متحرک کر دے گا – یہی وجہ ہے کہ کسی بھی نئی ورزش کرنے کے بعد آپ کو اس طرح کا درد محسوس ہوتا ہے۔ 


    چربیلا ہارمون 


    جانئے کہ کس طرح سے جسم اپنے توانائی کے ذخیرے کا حساب کتاب رکھتا ہے 

    لیپٹن (ایل ای پی) جین کو سب سے پہلے اس وقت دریافت کیا گیا جب چوہوں میں اٹکل بچو ہونے والی تبدیلی ان کو موٹا کر رہی تھی۔

    انسانی جسم کو خوراک کو حاصل کرنے کی ضرورت کو جاننے کے لئے یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ اس کے پاس فی الوقت کتنی توانائی کا ذخیرہ موجود ہے۔ لیپٹن جو عام طور پر 'چربیلے ہارمون' کے نام سے جانا جاتا ہے اس کا بنیادی کام ہمارے اندرونی ایندھن کی پیمائش ہوتا ہے۔ یہ چربی کے خلیات سے بنتا ہے اور ہمارے دماغ کو بتاتا ہے کہ جسم کو کتنی چربی درکار ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایندھن کے اضافے اور کمی کی اطلاعات بھی فراہم کرتا ہے۔ 

    خوراک کی مقدار دماغ میں موجود ہائپوتھیلامس کہلانے والے چھوٹے سے حصے سے منضبط ہوتی ہے۔ دماغ کا یہ چھوٹا سا حصہ ہمارے کئی ہارمونز کی تنظیم کرتا ہے۔ جب چربی کا ذخیرہ کم ہوتا ہے اور لیپٹن کی سطح گر جاتی ہے، تو ہائپوتھیلامس خوراک کی طلب کو جگانے کے لئے اشتہاء پیدا کرتا ہے تاکہ ضائع شدہ توانائی کی مقدار کو دوبارہ حاصل کرلے۔ جب لیپٹن کی سطح بلند ہوتی ہے تو بھوک نہیں لگتی، یوں کھانا کم کھایا جاتا ہے اور جسم اپنا ایندھن جلاتا رہتا ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ لیپٹن کو موٹاپے کے علاج کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال اگرچہ یہ خوراک کی مقدار کو قابو کرنے کے لئے اہم ہے، انفرادی لوگوں کی جذباتی حالت سے لے کر ان کی پسندیدہ خوراک تک معدے کیسے بھرتا ہے اس کا انحصار ہماری کھانے کی اشتہاء ان جیسے دوسرے کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لیپٹن کے پیغام کو نظر انداز کرکے اس وقت بھی وزن بڑھایا جا سکتا ہے جب جسم میں کافی چربی موجود ہو۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ہمارے پٹھوں میں درد کیوں ہوتا ہے؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top