Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ، 5 نومبر، 2016

    کثیر کائناتوں کا مفہوم



    یہ کافی آسان ہے کہ لامحدود کائناتوں کی تعداد کثیر جہاں میں آسانی کے ساتھ غرق ہو جایا جائے۔ ان متوازی کائناتوں کے اخلاقی مضمرات کو ایک مختصر کہانی "تمام ہزارہا راستے" میں لیری نیون نے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہانی میں، سراغ رساں لیفٹیننٹ جین ٹریمبل ناعاقبت اندیشی سے کی گئی پراسرار خود کشی کی تفتیش کرتے ہیں۔ اچانک سے پورے قصبے میں وہ لوگ جن کو کسی قسم کی ذہنی بیماری نہیں تھی وہ پل پر سے کودنے لگتے ہیں اور اپنا دماغ پھاڑ لیتے ہیں یا اجتماعی قتل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسراریت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب کراس ٹائم کارپوریشن کا ارب پتی بانی ایمبروز ہارمن جوئے میں پانچ سو ڈالر جیتنے کے بعد اپنے آسائشی فلیٹ کی چھتیسویں منزل سے کود جاتا ہے ۔ امیر، طاقتور اور تعلقات اس کے پاس زندہ رہنے کے لئے کسی چیز کی کمی نہیں تھی اس کی خود کشی کا کوئی مقصد نہیں تھا۔ بالآخر ٹریمبل نے ایک چیز دریافت کر ہی لی۔ کراس ٹائم کے بیس فیصد پائلٹوں نے خود کشی کی؛ حقیقت میں خودکشیاں کراس ٹائم کے بننے کے ایک مہینے بعد سے شروع ہو جاتی ہیں۔

    مزید گہرائی میں جا کراس کو یہ معلوم ہوا کہ ہارمن کو زیادہ تر دولت ترکے میں اپنے دادا سے ملی تھی اور اس نے لاپرواہی سے اس کو اڑا دیا تھا۔ وہ اپنی کل جائیداد سے ہاتھ دھو سکتا تھا تاہم صرف ایک ایسا جوا تھا جس کی جیت سے اس ہار سے بچا جا سکتا تھا۔ اس نے اچھی خاصی تعداد میں طبیعیات دان، انجنیئر اور فلسفیوں کو جمع کیا تاکہ وہ متوازی وقت کے راستوں کے امکان کا سراغ لگا سکیں۔ بالآخر انہوں نے ایک ایسی گاڑی بنا لی جو نئے وقت میں داخل ہو سکتی تھی اور پائلٹ فوراً ایک نئی دریافت کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں لے آتا تھا۔ کراس ٹائم نے پھر سینکڑوں مہمات کو اس متوازی وقت میں بھیجا جہاں سے وہ نئی دریافتوں کو ڈھونڈ کر لاتے اور اس کو یہاں پیٹنٹ کرواتے۔ جلد ہی کراس ٹائم ارب ہا ڈالر کی کمپنی بن گئی جس کے پاس ہمارے دور کے سب سے اعلیٰ درجے کے ایجادات کے حقوق موجود تھے۔ یہ لگنے لگا تھا کہ کراس ٹائم اپنے وقت کی سب سے کامیاب کمپنی ہے جس کو ہارمن چلا رہا ہے۔

    ہر مرتبہ وہ ایک الگ دنیا پاتے۔ انہوں نے کیتھولک سلطنت دیکھی، امیر انڈین امریکہ دیکھا، شاہی روس دیکھا اور کئی مردہ تابکار جہاں دیکھے جن کا خاتمہ نیوکلیائی جنگ میں ہو گیا تھا۔ تاہم آخر میں انہوں نے کچھ بہت ہی پریشان کن چیز دیکھی، اپنی نقول جو بالکل اپنے جیسی دنیا میں رہ رہی تھیں لیکن وہاں ان کی زندگی میں کچھ عجیب موڑ تھے۔ ان جہانوں میں چاہئے وہ کچھ بھی کر لیتے کچھ بھی وقوع پذیر ہو جاتا تھا، چاہئے وہ جتنی بھی محنت کرتے ان کو ان کا سب سے چاہت بھرا خواب مل جاتا یا پھر وہ انتہائی ہولناک ڈراؤنی دنیا میں پہنچ جاتے۔ کچھ کائناتوں میں وہ جو کرتے وہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا جب کہ دوسری کائناتوں میں ناکامی سے دوچار ہوتے۔ وہ جو بھی کرتے ان کی لامحدود نقول اس کا الٹ کر دیتیں اور اس طرح تمام ممکنہ امکانات کا وہ فائدہ اٹھا لیتے۔ اگر آپ کو پکڑے جانے کا ڈرنہ ہو تو کیوں نہ کسی بینک میں ڈاکہ نہ ڈالا جائے اور مزے سے واپس اپنے جہاں میں لوٹ آیا جائے؟

    ٹریمبل نے سوچا، "قسمت کہیں پر نہیں ہے۔ ہر فیصلے کے نتائج دو طرح کے ہو سکتے ہیں۔ ہر حکمت بھری پسند سے آپ کا جی خوش ہوگا تاہم آپ اس کے خلاف بھی پسند کر رہے ہوں گے۔ اور اس طرح سے یہ تمام تاریخ میں چلتا رہے گا۔" گہری مایوسی نے ٹریمبل کواس وقت گھیر لیا جب وہ روح کو کاٹ ڈالنے والے اس احساس سے روشناس ہوا۔ ایک ایسی کائنات جہاں ہر چیز ممکن ہے، تو وہاں کوئی بھی اخلاقی قید نہیں ہوگی۔ اس کو احساس ہو گیا کہ ہمارے پاس اپنے مقدر کو بدلنے کا اختیار نہیں ہوگا چاہئے ہم کوئی بھی فیصلہ کریں، نتیجے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

    بالآخر وہ ہارمن کی طرح فیصلہ کرتا ہے۔ وہ پستول نکالتا ہے اوراس کو اپنی کنپٹی پر رکھ کر لبلبی دبا دیتا ہے۔ تاہم وہ جیسے ہی لبلبی دباتا ہے تو لامحدود تعداد میں متوازی کائناتیں موجود ہوتی ہیں جہاں پر فائر ٹھیک سے نہیں ہوتا، کہیں گولی چھت میں لگتی ہے تو کہیں سراغ رساں کو مار ڈالتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ٹریمبل کا حتمی فیصلہ لامحدود طرح سے لامحدود کائناتوں میں ادا ہوتا ہے۔

    جب ہم کوانٹم کثیر کائناتوں کا تصوّر کرتے ہیں تو ہم کہانی میں ٹریمبل کی طرح کی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں، اس امکان کے ساتھ کہ ہرچند ہو سکتا ہے کہ ہم متوازی مختلف قسم کی کوانٹم کائناتوں میں رہتے ہوئے غالباً اپنی جیسی جین کے حامل تو ہوں تاہم زندگی کے اہم موڑ پر ہمارے مواقع، ہمارے مربی، اور ہمارے خواب ہمیں مختلف راستوں پر لے جائیں، جس سے ہم مختلف زندگی گزاریں، ہمارا ماضی مختلف ہو اور منزل بھی۔

    اس طرح کی گوں نہ گوں صورتحال حقیقت میں ہمارے اوپر نازل ہو گئی ہے۔ صرف یہ کچھ وقت کی بات ہے شاید کچھ عشروں کی جب انسانی جینیاتی کلوننگ ہماری زندگی میں روز مرہ کی بات ہو۔ ہر چند انسانی کلوننگ بہت ہی مشکل ہے (اصل میں کسی نے ابھی پوری طرح بندر کی کلوننگ ہی نہیں کی انسانوں کی تو بات ہی چھوڑ دیں) اور اخلاقی سوال تو بہت ہی زیادہ پریشان کر دینے والا ہے، یہ لازمی ہے کہ کسی وقت میں ایسا ہو کر رہے گا۔ اور جب یہ ہوگا تو اس وقت سوال اٹھے گا کہ آیا ہمارے کلون میں روح ہے؟ کیا ہم اپنے کلون کے اقدام کے ذمے دار ہوں گے؟ کوانٹم کائنات میں ہمارے لامحدود کوانٹم کلون ہوں گے۔ کیونکہ ہمارے کچھ کلون برائی کے آلہ کار ہو سکتے ہیں تو کیا ہم ان کے عمل کے ذمہ دار ہوں گے؟ کیا ہماری روحیں ہمارے کوانٹم کلون کے گناہوں کی جواب دہ ہوں گی؟

    کوانٹم وجودیت کے مسئلہ کا ایک حل موجود ہے۔ اگر ہم کثیر کائناتوں کے لامحدود جہانوں پر نظر ڈالیں، تو ہمیں اپنے مقدر کے اٹکل پچو ہونے کا احساس ہوگا تاہم ہر دنیا میں سانحات کے قوانین جو عقل عامہ سے میل کھاتے ہوں گے موجود ہوں گے۔ طبیعیات دانوں کی بیان کردہ کثیر کائناتوں کے تصوّر میں ہر مختلف کائنات نیوٹنی قوانین کی اطاعت پڑے پیمانے پر کر رہی ہوگی، تاکہ ہم اپنی زندگی کو آسانی کے ساتھ گزار سکیں، کیونکہ ہمیں اپنے تمام اقدام کے نتائج کا پہلے سے اندازہ ہوگا۔ ہر کائنات میں اوسطاً سانحات کے قوانین سختی کے ساتھ لاگو ہوں گے۔ ہر کائنات میں اگر ہم کوئی جرم کریں گے تو لامحالہ ہمیں جیل میں جانا ہوگا۔ ہم اپنی زندگی کو اس طرح گزار رہے ہوں گے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوگا ہ دوسری حقیقی متوازی کائناتیں ہمارے ساتھ وجود رکھتی ہیں۔

    اس سے مجھے وہ وضعی کہانی یاد آتی ہے جو طبیعت دان اکثر ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ ایک دن روس کا ایک طبیعیات دان لاس ویگاس لایا گیا۔ وہ سرمایہ داری امارت اور فسق و فجور سے حیران و پریشان تھا جو اس گناہ گار شہر میں جاری تھا۔ وہ فوری طور پر ایک جوئے خانے گیا اور اپنی تمام دولت کو پہلی ہی شرط میں لگا دی۔ جب اس کو بتایا گیا کہ اس نے انتہائی احمقانہ طریقہ استعمال کیا ہے کیونکہ اس کا طریقہ قوانین ریاضی اور امکانات سے متصادم ہے، تو وہ جواب دیتا ہے، "ہاں، یہ صحیح بات ہے، تاہم کسی ایک کوانٹم کی دنیا میں ، میں امیر ہو جاؤں گا!" روسی سائنس دان درست ہو سکتا ہے اور کچھ متوازی جہانوں میں وہ اپنے تصوّر سے بھی زیادہ دولت میں کھیل رہا ہوگا۔ تاہم اس مخصوص کائنات میں وہ ہار گیا ہوگا۔ اور اس کو اس کے نتائج کو بھگتنا ہوگا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کثیر کائناتوں کا مفہوم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top