Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 7 نومبر، 2016

    آواز کی لہریں (صوتی امواج)

    اس شور کی طبیعیات کے بارے میں جانئے جو آپ کے کان سنتے ہیں 


    پس منظر

    آواز ٹھوس، مائعات اور گیسوں میں ذرّات میں سے گزرنے والے ارتعاش کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ ارتعاش آواز کی لہریں پیدا کرتا ہے اور جب یہ آپ کے کان تک پہنچتی ہیں، تب آپ کا دماغ ان کو بطور آواز کے سمجھتا ہے۔ 

    آواز کی لہریں طول بلدی ہوتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ سفر کرتے وقت ایک ہی سمت میں مرتعش ہوتی ہیں، اور کئی سطحوں سے منعکس ہو کر گونج پیدا ہوتی ہے۔ آواز کی لہروں کی صورت کو بصری آلہ سے دیکھا جا سکتا ہے اور یہ پیدا ہوئی آواز کی قسم کے بارے میں کافی کچھ بتاتا ہے۔ 

    مختصراً 

    آواز کی لہروں کا تعدد ارتعاش ہرٹز میں ناپا جاتا ہے۔ انسان صرف 20 اور 20,000 ہرٹز کے درمیان کی آوازوں کو سن سکتے ہیں، کیونکہ ہمارے کانوں کو جاننے کے لئے اس سے اوپر کی بہت زیادہ ہائی پچڈ (صوتی لہر کے تعدّد سے انتہائی متعلقہ مقدار کی )ہوتی ہیں۔ تاہم، اس اعلی تعدد کی آواز کو ، جو الٹراساؤنڈ کے طور پر جانی جاتی ہیں، کتوں اور بلیوں سمیت بعض جانوروں سن سکتے ہیں اور ادویات میں ان کا بہت مفید استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

    خلاصہ

    جب الٹرا ساؤنڈ کی لہریں دو مختلف کثافتوں کی چیزوں کے درمیان کی حد میں پہنچتی ہیں، ان میں سے کچھ واپس تھوڑا گونج کی طرح منعکس ہو جاتی ہیں۔ دو لہروں کو واپس پہنچنے کے وقت کی پیمائش کر کے، حدود کے فاصلے کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ اس کا استعمال رحم مادر میں بچوں کے لئے کیا جاتا ہے، کیونکہ رحم کے سیال کے درمیان حد اور بچے کے نرم بافتوں کو پیٹ میں موجود بچے کی تصویر بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آواز ہوا، پانی یا ٹھوس کے ذریعہ مرتعش ہوتی ہے اور آپ کا دماغ اس کو برقی اشاروں میں تبدیل کرتا ہے۔ آواز کی صورت آواز کی مقدار اور پچ کا تعین کرتی ہے۔ 


    کیا آپ جانتے ہیں؟

    وہیل، ڈالفن اور چمگادڑ آواز کی لہروں کے عکس کو راستہ تلاش کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں، ایک تیکنیک جو ایکو لوکیشن سے جانی جاتی ہے۔ 



    آواز کی رفتار

    آواز کی رفتار کا انحصار اس ذریعے پر ہوتا ہے جس میں سے وہ گزرتی ہے۔ یہ ہوا میں لگ بھگ 340 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے، تاہم پانی میں اس کی رفتار اس سے چار گنا زیادہ ہوتی ہے اور کچھ مخصوص ٹھوس چیزوں میں اس سے بھی تیز۔ تاہم اس کی رفتار روشنی جتنی تیز نہیں ہوتی جو ہوا میں 300,000,000 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھار آپ آواز کے ماخذ کو اس کی آواز سننے سے پہلے ہی دیکھ لیتے ہیں۔ اگر کوئی جسم آواز کی رفتار سے تیز سفر کرے، تو یہ اپنی پیدا کردہ آواز کی لہروں کو ایک صدماتی لہر میں زور لگاتا ہے۔ آپ اس کو اپنے دماغ میں ایک زور دار گونج کی صورت میں سنتے ہیں اور یہ وہی آواز ہے جب ہوائی جہاز آواز کی رفتار سے تیز سفر کرتا ہے، یا جب کوڑا لہرایا جاتا ہے یا جب غبارہ پھٹتا ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: آواز کی لہریں (صوتی امواج) Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top