Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ، 16 جنوری، 2016

    بگ بینگ (عظیم دھماکہ )

    متوازی دنیائیں - تیسرا باب

    بگ بینگ (عظیم دھماکہ ) 
     

    کائنات صرف اتنی عجیب نہیں ہے جتنا کہ ہم سمجھتے ہیں ، یہ تو ہماری سوچ سے بھی زیادہ عجیب ہے ۔

    جے بی  ایس  ہیلڈین
     ہم انسان تخلیق کی کہانی میں ایک ایسے دنیا کے تجرباتی راستے کے متلاشی ہیں جو بیک وقت  ہمارے لئے ماورائے ادراک جہاں کھولے اور ہمیں اس کے اندر جگہ دے۔ یہی لوگ چاہتے ہیں ۔ یہی چیز روحیں ہم سے مانگ رہی ہیں۔

    جوزف کمپبل

    ٦ مارچ ١٩٩٥ء میں ٹائمز میگزین کے سرورق پر عظیم مرغولہ نما کہکشاں ایم ١٠٠ کی تصویر چھپی تھی ، اور سرخی تھی " کائنات  افراتفری میں۔" علم فلکیات ایک طوفان میں گھرا  نظر آیا  کیونکہ ہبل خلائی دوربین سے حاصل کردہ تازہ اعداد و شمار اس بات کا عندیہ دے رہے تھے کہ کائنات اپنے پرانے ترین ستارے سے بھی نوعمر ہے ۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو سائنسی بنیاد پر ناممکن تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق کائنات کی عمر آٹھ ارب سے لے کر بارہ ارب سال کے درمیان تھی۔ جبکہ کچھ لوگوں کے خیال میں کائنات میں موجود سب سے عمر رسیدہ ستارے کی حیات بھی چودہ ارب سال کی ہے۔ "آپ اپنی والدہ سے بڑے نہیں ہو سکتے،" یونیورسٹی آف ایریزونا کے کرسٹوفر امپی  مزاقاً کہتے ہیں۔

    لیکن جب آپ صحیح طریقے سے نظر ڈالتے ہیں تو آپ کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا نظریئے کافی صحت مندانہ ہے۔ بگ بینگ کے نظریئے کو رد کرنے کے لئے اکلوتی کہکشاں ایم ١٠٠ کو بنیاد بنا گیا تھا  جو سائنس کی دنیا میں متشکک طریقہ فکر ہے۔ مضمون میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ سقم اتنے زیادہ ہیں کہ " اس میں سے انٹرپرائز نجمی خلائی جہاز بھی آسانی سے گزر سکتا ہے۔" ہبل خلائی دوربین سے حاصل کردہ اعداد و شمار  پر انحصار کرتے ہوئے  کائنات کی عمر ١٠ سے ٢٠ فیصد سے زیادہ درستگی سے نہیں ناپی جا سکتی۔

    میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ بگ بینگ کا نظریہ اندازوں پر قائم نہیں ہے بلکہ اس کی اساس وہ سینکڑوں نقاط ہیں جو مختلف ذرائع سے حاصل کئے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک   مربوط نظریئے کی جانب مائل ہوتا نظر آتا ہے ۔
    (سائنس کے جہاں میں تمام نظریات ایک جیسی بنیادیں نہیں رکھتے۔ ہر کوئی اس بات میں آزاد ہے کہ تخلیق کے متعلق اپنا نقطۂ نظر پیش کرے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کو ان سینکڑوں نقاط کی مدد سے بیان کیا جا سکے  جو ہم نے جمع کیے ہیں اور جو بگ بینگ کے نظریئے سے باہم مربوط ہیں۔)

    بگ بینگ نظریئے کے تین عظیم "ثبوت" ان  عظیم سائنس دانوں کے کام پر انحصار کرتے ہیں جنہوں نے اپنے متعلقہ میدان کار میں سکہ جمایا ہوا تھا۔ ایڈون ہبل، جارج گیمو  اور فریڈ ہوئیل ۔

     
    ہرچند علم کائنات کی بنیادیں آئن سٹائن نے رکھ دی تھیں ۔ لیکن جدید کائناتی مشاہدہ صرف تن تنہا ایڈون ہبل نے کیا تھا ، جو غالباً بیسویں صدی کا سب سے اہم فلکیات دان تھا۔

    ١٨٨٩ء میں مرشفیلڈ ، مسوری  کے دور افتادہ علاقے میں پیدا ہوا ۔ ہبل ایک شرمیلا دیہاتی لڑکا تھا  جس کے ارادے چٹانوں جیسے مضبوط تھے۔ اس کا باپ ایک وکیل اور انشورنس ایجنٹ تھا  اور اس کی دیرینہ خواہش تھی کہ ہبل قانون میں اپنا مستقبل بنائے۔ ہبل بہرحال جولیس ورن کی کتابوں اور ستاروں کے سحر میں گم تھا۔ اس کو سائنسی قصص جیسا کہ " ٹوئنٹی تھاوزنڈ لیگ انڈر دا سی " اور " فرام د ا ارتھ ٹو دا مون" پسند تھے۔ وہ ایک باکسر بھی تھا،  اس کے موید  چاہتے تھے کہ وہ باکسنگ کو بطور پیشہ اختیار کر لے تاکہ دنیا میں ہونے والے  ہیوی ویٹ باکسنگ کے مقابلوں میں حصّہ لے سکے ۔

    اس نے آکسفورڈ میں قانون پڑھنے کے لئے  رہوڈ ز کا  با وقار  وظیفہ حاصل کیا جہاں اس نے برطانیہ کی  اشرفیہ کے رسم و رواج کو سیکھنا شروع کیا۔ (اس نے سوٹ پہننا ، پائپ پینا ، برطانیہ کا ممتاز لہجہ اختیار کرنا اور لڑائی کے زخموں کے بارے میں بولنا  شروع کر دیا تھا ۔)

    ہبل بہرحال خوش نہیں تھا۔ اس کو وکیلوں کی کالی ٹائی اور سوٹ پہننا اچھا نہیں لگتا تھا ، اس کی محبت تو ستارے تھے یہ محبت تو اس کے لڑکپن سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ اس نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا تعلیمی مستقبل بدل لیا  اور یونیورسٹی آف شکاگو اور ماؤنٹ ولسن کی رصدگاہ  کی جانب رخت سفر باندھ لیا  جہاں زمین پر اس وقت کی سب سے بڑی دوربین جس کے آئینے کا قطر ١٠٠ انچ کا تھا  نصب تھی۔ اس میدان میں اس کی آمد کافی دیر سے تھی  لہٰذا وہ کافی جلدی میں تھا۔ وقت کے زیاں کو پورا کرنے کے لئے  اس نے نہایت برق رفتاری سے کچھ سب سے گہرے  اور  فلکیات کی دنیا میں لمبے عرصے سے چلنے والے اسراروں کا جواب دینا شروع کیا۔

    ١٩٢٠ء کے عشرے میں کائنات ایک نہایت آرام دہ جگہ سمجھی جاتی تھی ؛ سب کا یہ ماننا تھا کہ پوری کائنات صرف ملکی وے کہکشاں پر ہی مشتمل ہے۔ دھند کی وہ لکیر  جو پورے آسمان پر ایسے پھیلی ہوئی ہے جیسے کسی نے آسمان پر دودھ بکھیر دیا ہو۔( لفظ "کہکشاں" اصل میں یونانی لفظ دودھ سے نکلا ہے ۔) ١٩٢٠ء میں ایک عظیم بحث ہارورڈ کے ہارلو شیپلی اور لک رصدگاہ کے  ہیبر کرٹس کے درمیان ہوئی۔ اس کا عنوان تھا " کائنات کا درجہ" جو ملکی وے کہکشاں اور کائنات کے حجم سے متعلق تھا۔ شیپلی کا کہنا تھا کہ تمام قابل مشاہدہ کائنات ملکی وے کہکشاں  پر مشتمل  ہے۔ کرٹس کا ماننا تھا کہ ملکی وے  سے پرے  "مرغولہ نما سحابیہ " موجود ہے  جو  بہت ہی عجیب  لیکن  پھولا ہوا دھند کا بھنور ہے ۔( ١٧٠٠ء کی دہائی میں فلسفی ایمانو یل کانٹ  نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ سحابیہ  "جزیرہ نما کائنات " ہیں ۔)

    ہبل اس بحث سے کافی حیرت زدہ تھا۔ اہم مسئلہ ستاروں کے  فاصلوں کا تعین  کرنا تھا (یہ مسئلہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہے) فلکیات میں یہ کام سب سے جان لیوا  ہوتا ہے۔ ایک روشن ستارہ جو کافی فاصلہ پر واقع ہو وہ ایک مدھم ستارے جیسا ہی نظر آتا ہے اگر مدھم ستارہ ہم سے قریب ہو ۔ یہ پریشانی ہی فلکیات کی دنیا میں کافی تنازعات اور دیرینہ دشمنیوں کا سبب بنی ہے ۔

    ہبل کو ایک  "معیاری شمع" کی ضرورت تھی  ۔ ایک ایسا جسم جو کائنات میں کہیں بھی ایک جیسی روشنی کی مقدار خارج کرے تاکہ اس مسئلہ سے جان چھوٹ سکے۔ (علم فلکیات میں آج بھی زیادہ تر حصّہ اس بات کی کوشش میں لگتا ہے کہ  کوئی ایسی چیز مل جائے یاایسی کسی معیاری شمع  کی پیمانہ بندی کی جا سکے۔ فلکیات کی دنیا میں زیادہ تر ہونے والے مباحثے  اس بات کے ارد گرد ہی گھومتے نظر آتے ہیں  کہ یہ معیاری شمعیں کس قدر قابل بھروسہ ہیں۔) اگر ہمارے پاس معیاری شمع  موجود ہو جو کائنات میں ہر جگہ ایک جیسا ہی طرح سے جل سکے تو ستارے جو عام ستاروں سے چار گنا زیادہ مدھم ہوتے ہیں  وہ زمین سے دوگنا زیادہ فاصلے پر موجود ہوں گے ۔

    ایک رات   وہ اینڈرومیڈا سحابیہ کی تصویر کا تجزیہ کر رہا تھا ،  اس لمحہ کی  ہبل کے  لئے وہی اہمیت تھی جب ارشمیدس  یوریکا کہہ کر بھاگا تھا ۔ اس نے اینڈرومیڈا کے اندر ایک  متغیر ستارے کی قسم کو تلاش کرلیا ( جن کو قیقاؤسی  متغیر کہتے ہیں )۔ ان کا پہلا مطالعہ ہنریٹا  لیوٹ  نے کیا تھا۔ یہ معلوم تھا کہ یہ ستارے برابر روشن ہوتے اور وقت کے ساتھ مدھم ہوتے رہتے ہیں  اور ایک پورے مکمل چکر کا وقت اس کی تابانی کے ساتھ  مربوط ہوتا ہے ۔ جتنا زیادہ ستارہ روشن ہوگا  اتنا ہی زیادہ لمبا اس کے مرتعش ہونے کا ہوگا۔ لہٰذا سادے طور پر اگر ہم اس چکر کے دورانیہ کو ناپ لیں  تو کوئی بھی اس کی تابانی کی پیمانہ بندی کر سکتا ہے  اور اس طرح سے فاصلہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ہبل نے یہ بات معلوم کر لی کہ اس کا دورانیہ 31.4 دن کا ہوتا ہے ۔ اس بات کا مطلب  یہ تھا کہ ان کا فاصلہ ملکی وے سے بھی باہر دسیوں لاکھ برس دور  تھا  جو ہبل کی امید کے برخلاف تھا۔ (ملکی وے کہکشاں کی تاباں قرص صرف ایک لاکھ نوری برس پر پھیلی ہوئی ہے ۔ بعد کے حسابات نے اس بات کو ثابت کیا کہ ہبل نے اینڈرومیڈا تک کے فاصلے کو ہیچ سمجھا ، اصل میں اینڈرومیڈا کا فاصلہ بیس لاکھ نوری برس کے آس پاس تھا۔)

    جب اس نے یہی تجربہ دوسری مرغولہ نما سحابیوں  پر کیا تو  اس کو وہ بھی ملکی وے سے باہر دور بہت دور نظر آئے۔ بالفاظ دیگر  یہ بات واضح تھی کہ  یہ مرغولہ نما سحابیہ اپنی ذات  میں خود جزیرہ نما کائنات تھے  اور ملکی وے  گنبد افلاک کی کہکشاؤں میں سے صرف ایک کہکشاں تھی۔

    ایک ہی ہلے میں کائنات کا حجم بہت ہی زیادہ بڑا ہو گیا تھا ۔ ایک کہکشاں سے اچانک ہی کائنات کروڑوں کہکشاؤں پر  یا شاید ارب ہا کہکشاؤں پر مشتمل  ہو گئی تھی۔ صرف ایک لاکھ نوری برس سے کائنات شاید ارب ہا نوری برس تک پھیل گئی تھی۔


    یہ دریافت ہی اس بات کی گارنٹی دے رہی تھی کہ ہبل نے فلکیات دانوں کی  نامور جماعت میں جگہ بنا لی تھی ۔ لیکن اس نے تو اس سے بھی بڑھ کر دریافت کر لی تھی۔ نہ صرف اس نے کہکشاؤں کا فاصلہ معلوم کیا تھا  بلکہ اس نے یہ حساب بھی لگا لیا تھا کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہی ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: بگ بینگ (عظیم دھماکہ ) Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top