Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, مارچ 22, 2017

    فرائیڈمین اور علم کائنات میں اس کا حصہ


    بگ بینگ مکمل طور پر قابل تعظیم صرف 1940ء کی دہائی میں ہی ہوا تھا؛ اور 1960ء تک یہ علم کائنات کا غالب نظریہ نہیں بنا تھا۔الیگزینڈر فرائیڈمین یہ دیکھنے کے لئے زندہ نہیں رہا کہ بیسویں صدی میں علم کائنات میں ایک اہم حصّہ اس کے کام کا تھا۔ آئن سٹائن نے اپنے مساوات کو مجبور کیا کہ وہ ایک ساکن کائنات کو بیان کرے؛ ڈی سٹر نے بھی ایک مساوات کو ساکن تاہم خالی کائنات کے لئے بنایا، صرف اس میں یہ دیکھا کہ مادّے کے ساتھ کائنات پھیلے گی۔ اس نے اتفاق سے ایک پھیلتی ہوئی کائنات کو پایا۔ تاہم فرائیڈ مین وہ پہلا انسان تھا جس نے اس بات کا احساس کیا کہ پھیلاؤ حقیقت کا ناگزیر طور پر اضافیانہ حصّہ ہے اور اس کو ابتداء میں ہی کائناتی نمونوں کے اندر شامل کرنا چاہئے۔ اگرچہ فرائیڈ مین کی حیات مختصر تھی تاہم وہ اتفاقات سے لبریز تھی۔ وہ 1888ء میں اس وقت کے سینٹ پیٹرز برگ میں پیدا ہوا اور اس نے 1906ء سے 1910ء سے شہر کی یونیورسٹی سے ریاضی کی تعلیم حاصل کی ۔وہ یونیورسٹی کے ریاضیات کے شعبے کا رکن بنا اور پہلی جنگ عظیم کے دوران روسی فضائیہ میں خدمات انجام دیں اور 1917ء کے انقلاب کو دیکھا اور بعد ازاں پیرم یونیورسٹی میں مکمل پروفیسر بن گیا اور پھر 1920ء میں واپس پیٹرز برگ آیا تاکہ اکیڈمی آف سائنسز میں تحقیق کر سکے۔ 1925ء میں اپنی موت تک شہر لینن گارڈ بن چکا تھا۔

    فرائیڈ مین کی تحقیق کی دلچسپی اصل میں ارضی سائنسز - ارض مقناطیسیت، مائع حرکیات اور موسمیات کے گرد تھی۔ تاہم ایک لائق ریاضی دان کے طور پر اس کی آئن سٹائن کے کام میں دلچسپی تھی اور 1922ء میں اس نے عمومی اضافیت کی کائناتی مساوات کے اپنے حل شائع کئے۔ اس کے کام کی دو ایسی چیزیں ہیں جو جدید علم کائنات کی بنیاد کا حصّہ بنی ہوئی ہیں۔ پہلے ابتداء میں ہی فرائیڈ مین نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ مساوات کے حل کے خاندان سے نپٹ رہا ہے۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ مساوات کا کوئی ایسا منفرد حل موجود نہیں تھا جیسا کہ آئن سٹائن نے امید کی تھی تاہم مختلف تغیرات کے جوڑوں کے بجائے ہر حل ایک مختلف کائنات کو بیان کر رہا تھا۔ دوسرے فرائیڈ میں نے اپنے نمونوں میں پھیلاؤ کو شروع میں ہی شامل کر لیا تھا۔ ایک طرح سے یہ 1880ء کے عشرے میں کلفرڈ کے کام کی ہی گونج تھی، یعنی یہ تصور کہ خلاء یکساں طور پر خمدار ہو گی کسی جھاگ کے بلبلے کی کروی سطح کی طرح تاہم یہ خمیدگی وقت کے ساتھ بدل رہی ہو گی - کم ہو رہی ہو گی شاید - جس طرح بلبلہ پھیلتا ہے۔ فرائیڈ میں کے نمونے کئی موضوع کے تغیرات پیش کرتے ہیں۔ کچھ نسخوں میں بلبلہ ہمیشہ پھیلتا رہتا ہے اور دوسروں میں یہ ایک مخصوص حد کے حجم تک پھیلتا ہے اور اس کے بعد اپنے آپ پر واپس منہدم ہو جاتا ہے کیونکہ قوت ثقل پھیلاؤ کی قوت پر غالب آ جاتی ہے۔ نسخوں کے ساتھ کونیاتی مستقل اور متبادل تھے - آج ترجیح دیئے ہوئے متبادل - جس میں کائناتی مستقل کو صفر رکھا ہوا ہے۔ تاہم تمام نمونوں میں کم از کم ایک ایسی مدت - وقت کا دورانیہ - تھی جس کے دوران پوری کائنات اس طرح سے پھیل رہی تھی کہ اس سے جو رجعت پیدا ہوتی ہے وہ سمتی رفتار فاصلے کی نسبت سے ہوتی ہے۔

    فرائیڈ مین نے اس نکتے کو بھی سمجھ لیا تھا کہ اس بات پر زیادہ زور نہیں دیا جا سکتا تھا اگرچہ یہ بات دہرانے کے قابل تھی۔ پھیلتی ہوئی کائنات (یا کائنات) میں سرخ منتقلی خلاء میں ایک دوسرے سے دور جاتی ہوئی کہکشاؤں کی وجہ سے نہیں تھی۔ اس کی وجہ کہکشاؤں کے درمیان خلاء کا خود سے کھنچنا تھا جس طرح سے ربڑ کی چادر کھنچتی ہے۔ خلاء - یا بہتر - مکان و زمان - پھیلتا ہے اور اپنے ساتھ کہکشاؤں کو جھولے پر لے جاتا ہے۔

    یہ ایک معمہ ہی رہا کہ آیا کیوں فرائیڈ مین کے کام کو نظر انداز کیا گیا جبکہ وہ بہت مشہور اور بہت زیادہ پڑھے جانے والے جرائد میں چھپا تھا۔ آئن سٹائن کے برلن کے دورے کے دوران فرائیڈ مین کے ایک رفیق نے اس کی توجہ اس پر دلائی اور اس نے فرائیڈ مین کو لکھے ہوئے ایک مختصر اندرج میں اس کی صحت کو تسلیم بھی کیا تھا تاہم اس کے باوجود آئن سٹائن اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام رہا کہ یہ اصل کائنات کے بارے میں کچھ بتا رہی ہے۔1920ء میں ریاضی دانوں کا فلکیات دانوں سے بہت ہی کم رابطہ رہتا تھا؛ فلکیات دان شاذونادر ہی ریاضی میں ہونے والی پیش رفت میں دلچسپی لیتے تھے؛ اور یورپ اور امریکہ آج کے دور کے مقابلے میں کافی الگ سائنسی جہاں تھے۔ لہٰذا یورپ میں نئے ریاضی کے تصورات کو فوری طور پر ریاست ہائے متحدہ میں ہونے والے نئے فلکیاتی مشاہدات سے ملایا نہیں جاتا تھا۔ اور ہو سکتا ہے کہ نظریوں کے درمیان تعصب کا عنصر بھی اس روسی ریاضی دان کے خلاف موجود رہا جو اپنے موسمیات کے کام کی وجہ سے بہتر طور پر جانا جاتا تھا؟ وجوہات جو بھی ہوں فرائیڈ میں گمنامی کی زندگی میں 1925ء میں وفات پا گیا اور حیرت انگیز طور پر یہ اس کی موسمیات میں دلچسپی ہی تھی جو اس کی موت کا سبب بنی۔ کئی رسمی سوانح نگاریوں میں اس کی موت کی وجہ کو ٹائیفائڈ بتایا گیا۔ تاہم ماہر تکوینیات جارج گیمو کے مطابق اس کی موت کی وجہ نمونیہ تھی جس نے اس کو اس وقت پکڑ لیا تھا جب وہ موسمی غبارے میں اڑ رہا تھا۔ گیمو جو اگلی نسل کے ماہرین تکوینیات کی اہم شخصیت بن گیا تھا اس کو یہ معلوم ہونا ہی تھا کیونکہ وہ فرائیڈ میں کے طالبعلموں میں سے ایک تھا اور ریاست ہائے متحدہ میں 1930 کے عشرے کے درمیان آیا تھا۔

    تو اس طرح آئن سٹائن کی مساوات کو حل کرنے کے لئے بعینہ فرائیڈ مین کی طرح اگلے شخص پر چھوڑ دیا گیا - تاہم بالکل خودمختار طور پر جس کو فرائیڈ مین کے کام کا کوئی علم نہیں تھا - کہ وہ مساوات کے قبول کردہ حل میں ایسی پیش رفت حاصل کر لے جو ماہرین تکوینیات کے لئے اس قدر قابل قدر ہو کہ وہ کائنات کی ماہیت کے بارے میں جستجو کر سکیں۔ یہ پیش رفت ایک بیلجین عالم تکوینیات جارج لیمیترے نے کی۔ اس کی اصل اشاعت 1927ء میں بیلجین کے ایک گمنام جریدے میں شائع ہوئی اور کوئی خاص توجہ حاصل نہ کر سکی۔ تاہم سرخ منتقلی و فاصلے کی نسبت کے اعلان کے بعد ہر فن مولا ایڈنگٹن کو لیمیترے کے مقالے کے بارے میں معلوم ہوا اور اس نے اس کا انگریزی ترجمہ کروایا جو 1936ء میں رائل ایسٹرونامیکل سوسائٹی کے ماہانہ نوٹسز میں شائع ہوئے۔ اگر کوئی 'بابائے بگ بینگ' کے خطاب کا سزاوار ہے تو وہ لیمیترے ہے - جس نے برسوں تک کچھ شدید قسم کے مذاق کا سامنا کیا کیونکہ عالم تکوینیات اور ریاضی دان ہونے کے علاوہ وہ ایک راہب بھی تھا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: فرائیڈمین اور علم کائنات میں اس کا حصہ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top