Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ، 7 جون، 2017

    2050ء میں اسکول کیسے ہوں گے؟

    مستقبل میں درس و تدریس کے طریقے کیسے ہوں گے؟ 


    موجودہ جدید دور کے اسکولوں کے کمرہ جماعت اصل میں وکٹورین دور (جس کا آغاز برطانیہ میں ملکہ وکٹوریا کی حکمرانی سے 1837ء میں ہوا اور اس کا اختتام 1901ء میں ہوا تھا)کے کمرہ جماعت سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ استاد دیوار کی طرف پیٹھ کئے طلبہ کے سامنے ساکن کھڑے ہوتے تھے، جبکہ بچے ان کی طرف منہ کئے سوالات کے جوابات اور اہم مندرجات کو ہاتھ سے لکھ رہے ہوتے تھے۔ بس صرف فرق اتنا پڑا ہے کہ اب جماعتوں میں استاد چھڑی (مولا بخش)پکڑے نہیں ہوتے ہیں ، اور اب تختہ سیاہ کی جگہ تختہ سفید ہوتا ہے اور اس پر لکھنے کے لئے چرچرانے والی چاک کی جگہ مارکر پین کا استعمال ہوتا ہے ، البتہ پڑھانے کا طریقہ کار کچھ زیادہ نہیں بدلا ہے۔

    یہ انتہائی حیرت کی بات ہے خاص طور پر جب آپ اس دور سے لے کر دور حاضر میں ہونے والی ترقی کا جائزہ لیں؛ ہم نے زمین کی وسعت کو شکست دے کر چاند پر قدم رکھ لیا ہے، انسانی لونی مادہ (جینوم)کی گتھیاں سلجھا دیں اور ایسے سپر کمپیوٹر بنا لئے جو ہم اپنی جیب میں لے کر گھومتے ہیں۔ لیکن معلوم نہیں کہ نظام تعلیم کیوں 20 ویں صدی کے دور کا ہی چل رہا ہے۔

    البتہ کچھ اسکولوں میں ایسا نہیں ہے؛ تدریس، رابطے اور ٹیکنالوجی میں ترقی نے مکمل طور پر دنیا بھر میں طالب علموں کے کام کرنے کے ماحول و طریقہ کار کو تبدیل کر دیا ہے، اور مستقبل میں مزید پیش رفت اور بہتری کی امید ہے۔ جدید دور کے کمرہ جماعت کو قریب سے دیکھنے سے آپ کو کچھ ایسی تفصیلات حاصل ہوں گی جو آپ نے اپنے دور میں کبھی نہیں دیکھی ہوں گی۔ ہاتھ سے لئے جانے والے اہم مندرجات کو آئی پیڈ میں اسٹائیلس کی مدد سے لیا جاتا ہے، ہاتھ کی لکھائی ٹائپ شدہ متن سے بدل گئی ہے اور کام ختم ہونے کے بعد دستاویزات کو 'کلاؤڈ' پر محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ تختہ انٹرایکٹو ہے، اور اس پر ویب گاہ ، ویڈیوز اور کافی دوسری چیزیں دیکھی جا سکتی ہیں اور اس کو استاد ذہین (اسمارٹ) ریموٹ سے چلاتے(کنٹرول کرتے) ہیں۔

    اصل حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ تدریس کا بنیادی طریقہ بڑی حد تک غیر تبدیل شدہ ہے، البتہ ٹیکنالوجی نے اس بات کو کافی بہتر کر دیا ہے کہ بچے کیسے سیکھیں، کیا سیکھیں، اور کیسے ان کو پڑھایا جائے۔ بلا شبہ درسی کتب، اب بھی اسکول کی پڑھائی کا کافی بڑا حصہ ہیں، تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی برقی کتب اور آن لائن تحقیق روایتی جگہوں میں استعمال کی جا رہی ہیں۔ کچھ اسکولوں میں طلباء کو ایسے آئی پیڈ یا دوسرے ٹیبلیٹس دیئے جا رہے ہیں جس میں پورے برس کی پڑھائی کا نصاب ، نصابی مواد کے ساتھ بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اپنی کمر پر بھاری بستوں کا بوجھ لادنے کے بجائے، طلبہ کو اسکول لے جانے کے لئے صرف ایک آلے کی ضرورت ہو گی۔ اس سے بھی بڑھ کر، وہ صفحات پر مدد گار مندرجات لکھ سکتے ہیں، اور کتاب کو خراب کئے بغیر پورے حصے کی سرخی بنا سکتے ہیں۔ 

    بلاشبہ، ان کتب میں ان ویب سائٹ کے ربط بھی موجود ہوتے ہیں جو سیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ڈیجیٹل صفحات میں اضافی پڑھائی یا گھر کے کام کی مفید معلومات موجود ہوتی ہے، بلکہ طلباء آن لائن امتحان بھی دے سکتے ہیں۔ استاد اس کی بھی جانچ کر سکتے ہیں کہ امتحان کون دے رہا ہے، اس نے نمبر کیسے لئے ہیں، اور انہوں نے کتنا وقت کس سوال کے جواب کو دینے پر لیا ہے، اس طرح کی معلومات سمیت استاد ہر شاگرد کے بارے میں مزید معلومات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ 

    انٹرنیٹ ایک قابل قدر تعلیمی وسیلہ بن گیا ہے اور باقاعدگی سے کمرہ جماعت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ وی ایچ ایس کے دور میں ریکارڈ ہونے والی رسمی ویڈیوز کے بجائے، استاد تیزی سے مفید ذرائع تلاش کرکے جماعت میں طلبہ کو دکھا سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ دہائیوں پہلی ویڈیوز سے زیادہ دلچسپ، معلوماتی اور متوجہ کرنے والی ہوتی ہیں، بلکہ یہ بحث کو بھی مزید آگے بڑھاتی ہیں۔

    تیکنیکی ترقی نے اساتذہ کے پڑھانے کے طریقہ کار کو بھی بدل دیا ہے۔ ، طلباء کو چھوٹے گروہ میں کام کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ان کے آپس کے میل جول کو ٹیکنالوجی کی مدد کے ساتھ بہتر کیا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیم و تربیت کی جگہ دوبارہ نئے سرے سے بنائی جا رہی ہیں، اور ان نئی بننے والی جگہوں میں استاد کا کردار تھوڑا زیادہ غیر فعال ہو رہا ہے۔

    اور ٹیکنالوجی جیسے جیسے زیادہ قابل رسائی ہو رہی ہے، اس طریقہ کار سے پڑھانے میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔ سہ جہتی تیکنیک کی طرح پرنٹنگ شاگرد و اساتذہ دونوں کو پڑھائی کا مواد منٹوں میں تیار کرنے کے قابل بناتی ہے۔ سہ جہتی نمونہ جاتی اسباق چند ہی گھنٹوں کے اندر بنانے کے مرحلے سے نکل کر تجرباتی مرحلے میں جانے کے قابل ہو گئے ہیں، جبکہ حیاتیات کے بارے میں اسباق میں اساتذہ قدیمی جانوروں کے ڈھانچوں کے نمونوں کو پرنٹ کرنے کے بعد پوری جماعت کو دکھا سکتے ہیں ۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ اس طرح کے بہانوں کو ختم کر دے گا جیسے، "چھوٹے بھائی بہن نے میرا گھر کا کیا ہوا کام خراب کر دیا'، اس سے طلباء کو یہ موقع حاصل ہوگا کہ وہ استاد کی رہنمائی میں چلنے والے انٹرنیٹ پر موجود بات چیت کرنے والی جگہوں( چیٹ رومز ) کا استعمال کرکے اپنے گھر کے کام (ہوم ورک) پر بات چیت کر سکیں جس سے انہیں منصوبوں پر مل جل کر کام کرنے میں مدد ملے گی۔ پڑھائی میں کھیل کر سیکھنے( گیمنگ) کا استعمال بڑھے گا، اور طلبہ کے کام پر نظر رکھنے والے ٹیکنالوجی کی مدد سے اساتذہ کو یہ تجزیہ کرنے میں مدد ملے گی کہ کیا چیز کمرہ جماعت میں بہتر کام کرتی ہے اور کون سی چیز توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    بلا شبہ جیسے جیسے تدریسی عمل تبدیل ہو رہا ہے ویسے ہی نصاب بھی تبدیل ہوگا۔ مثال کے طور پر کمپیوٹر پر کام کرنے کی صلاحیت ڈیجیٹل دور میں زیادہ اہم بن رہی ہے، کافی طلباء پروگرامنگ کو سیکھ رہے ہیں۔ برطانیہ میں پانچ برس کے بچوں کو سادے کھیلوں کے ساتھ بنیادی چیزیں بتانے کے لئے کوڈنگ سکھائی جا رہی ہے۔


    درسی کتب کے بجائے ٹیبلیٹس 

    آنے والے برسوں میں، ہر روز اسکول میں بھاری کتابوں کے ڈھیر کے ڈھیر کو لاد کر لے جانا ماضی کا شاخسانہ ہوگا۔ چاہئے اسکول خود سے شاگردوں کو ٹیبلیٹس فراہم کریں، یا طلباء اپنے ذاتی کمپیوٹر آلات لے کر آئیں، درسی کتب کا مستقبل واضح طور پر ٹچ اسکرین ڈسپلے ہی ہوگا۔ ایک واحد ٹیبلٹ میں نہ صرف پورے برس کا سیکھنے کا مواد موجود ہوگا بلکہ یہ طلباء کو انٹرایکٹو ٹیسٹ، ویڈیوز اور اطلاقیہ بھی مہیا کریں گے جس پر اسکول کا کنٹرول ہوگا۔ امریکہ میں کچھ اسکولوں میں، ایسا پہلے ہی ہو رہا ہے، اور بلا مبالغہ یہ تدریسی عمل کے انقلاب کی طرف اٹھانے والا پہلا قدم ہے۔


    گیمنگ اور استعداد علمی 

    کئی اساتذہ اور والدین سمجھتے ہیں کہ ویڈیو گیمز غیر ضروری، متشدد اور لت لگانے والے ہیں اور ان کا بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں گیمز نے اپنا راستہ اسکولوں کے کمرہ جماعت میں طلباء کو چیزیں سکھانے والے اطلاقیے کے طور پر بنا لیا ہے۔ مائن کرافٹ جیسے گیمز، جس کا اب ایک معنون تعلیمی نسخہ بھی موجود ہے، بچوں کو کھیل کے ذریعہ سکھا سکتے ہیں۔ اور وہ بچے جو عام طور پر گھر جاتے اور گھنٹوں اپنا فارغ وقت اس طرح کے کھیلوں پر لگاتے ہیں وہ پہلے سے کہیں زیادہ پڑھائی کا مزہ لے سکتے ہیں۔ کمرہ جماعت میں گیمز کا استعمال بطور سافٹ ویئر کوڈنگ سکھانے کے بڑھتا ہوا ہی نظر آتا ہے اور مستقل قریب میں یہ اسکولوں میں عام ہوگا۔



    مجازی حقیقی اسباق (ورچوئل ریالٹی لیسن)

    جلد ہی طلباء کو عملی چیزیں سیکھنے کے لئے اسکول سے باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ مجازی حقیقی ہیڈ سیٹ نہ صرف کمرے سے نکلے بغیر ہی طلباء کو پوری دنیا کے سفر کرنے، بلکہ سمندر کی لہروں کے نیچے غوطہ لگانے یا فضا میں تیرنے میں مدد دے گا۔ یہ ٹیکنالوجی جوں جوں سستی ہو رہی ہے ویسے ویسے سافٹ ویئر ڈویلپرز نے مجازی سیکھنے کی جگہوں کو تیزی سے بنانا شروع کر دیا ہے، اسباق پہلے سے کہیں زیادہ مصروف کر دینے والے اور عمیق بن گئے ہیں۔ ورچوئل ریالٹی (مجازی حقیقت) کی بدولت طلباء جلد ہی اپنے آپ کو ماؤنٹ ایٹنا کے کنارے پر آتش فشانوں کے بارے میں جانتے ہوئے پائیں گے ، یا پھر وہ مصر میں قدیمی جگہوں کی کھود کر کھوج کر رہے ہوں گے ، یا تشریح الاعضاء کے مطالعہ کے دوران انسانی جسم کے اندر سفر کر رہے ہوں گے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: 2050ء میں اسکول کیسے ہوں گے؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top