Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    پیر, جون 19, 2017

    اسٹیفن ہاکنگ - گرینڈ ڈیزائن - واٹ از ریالٹی

    حقیقت کی نوعیت

    مترجم : صادقہ خان

    چند  برس قبل  ٭ مونزا ، اٹلی  کی سٹی کاؤنسل نے  گھروں میں جانور پالنے والوں پر یہ پابندی عائد کر دی تھی کہ وہ  گولڈ فش کو ٭شیشے کے بند برتنوں میں  نہیں رکھ سکتے ، اس سکیم کو مالی امداد فراہم کر نے والوں کا کہنا تھا کہ  گولڈ فش کو  پیالے میں رکھنا ایک ظالمانہ عمل ہے  کیو نکہ باہر سے دیکھنے پر گولڈفش اصل  سے  بہت بگڑی ہوئی نظر آ تی ہے ۔ بالکل اسی طرح سچ یہ ہے کہ "ہم نے  حقیقت کی تصویر کو  بہت بگاڑ دیا ہے  ، ایسا تو نہیں کہ ہم سب بھی ایک بڑے گولڈفش باؤل کے اندر ہیں  اور بہت بڑے لینز کے ذریعے ہمارا  وژن بگاڑ دیا گیا ہے ؟؟   "اگرچہ گولڈ فش کی حقیقی تصویر  ہماری اصلیت سے مختلف ہے  لیکن کیا ہم یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ نسبتاً کم حقیقی ہے ؟؟

    حقیقت کی ان تصاویر کی ایک اور مشہور  زمانہ مثال 150 عیسوی کی ہے  ٭ پٹولمی  ( 85-165)  نے فلکیاتی اجسام کی حرکت کو بیان کرنے کے لیئے ایک ماڈل متعارف کروایا ،  اپنے اس کام کو پٹولمی نے 13 کتابوں کے مقالے کی صورت میں شائع کیا  جس کا عربی عنوان  ٭" الماجسٹ "تھا ۔ اس کا آغاز  اس خیال کی وضاحت سے ہوتا ہے کہ  زمین بیضوی ، بے  حرکت  ہے اور  نظام ِ شمسی کا مرکز ہے ، لیکن پوری کا ئنات کے  نسبت بہت چھوٹی ہے ۔

    ٭ ارسٹارچس کے ہیلو سینٹرک (  سورج نظامِ شمسی کا مرکز ہے ) کے بجائے زیادہ تر  تعلیم یافتہ  مصریوں کا یقین   ٭ارسطو   کے زمانے تک اسی ماڈل پر تھا  ، ارسطو کچھ پوشیدہ وجوہات کے سبب  یقین رکھتا تھا کہ  زمین کو نظا مِ شمسی کا مرکز ہونا چا ہیے ۔ پٹولمی کے ماڈل کے مطابق  زمین مرکز میں حالتِ سکون میں ہے ، دیگر سیارے  اور ستارے  اس کے گرد پیچیدہ مداروں میں گردش کرتے ہیں ، جو ایک دوسرے کے اندر اس طرح گردش کرتے ہیں جیسے پہیے گھو متے ہیں ۔

    یہ ماڈل اس لیئے زیادہ قدرتی لگتا ہے  کیو نکہ اپنے قدموں تلے ہمیں ز مین گھو متی ہوئی محسوس نہیں ہوتی ( زلزلے اور جذباتی لمحوں کے  علاوہ )۔  چونکہ یورپیین  علم کی بنیاد  وہ مصری ذرائع تھے جو اب متروک ہو چکے ہیں ، اس لیئے پٹولمی کے  فلکیاتی ماڈل کو کیتھولک چرچ نے  قبول کیا اور تقریباُ چودہ سو سال تک  یہ ان کا سرکاری اصولِ تعلیم رہا ۔ یہاں تک کہ 1543 میں ٭ کوپر نیکس نے ایک بنیادی ماڈل اپنی کتاب ٭( فلکیاتی  اجسام کی گردش ) میں متعارف کروایا   جس پر وہ کئی دہا ئیوں سے کام کر رہا تھا  لیکن یہ  اس کی وفات کے سال شائع ہوئی ۔  اس کتاب میں کوپر نیکس بیان کرتا ہے کہ سورج  ساکت ہے اور  سیارے اس کے گرد ٭ دائروی  مداروں میں  گردش کرتے ہیں  ،  یہ و ہی ماڈل ہے جو ارسٹارچس  صد یوں قبل  پیش کر چکا تھا ۔

     اگر چہ  یہ  آ ئیڈ یا نیا نہیں تھا   پھر بھی اس کی تجدید ِ نو ،پر زور مزاحمت کے بعد ممکن  ہوئی ،  کو پر نیکل ماڈل با ئبل کے بر عکس تھا  جس کا خلا صہ یہ ہے کہ "سیارے زمین کے گرد گردش کرتے ہیں ، اگر چہ بائبل میں کہیں بھی یہ واضح طور پر نہیں  کہا گیا ۔   "کو پر نیکل ماڈل پر ایک غضب ناک بحث چھڑ گئی  اور  1633 میں  ٭گلیلیو پر مقدمہ عا ئد کر دیا گیا  کیو نکہ اس نے اس ماڈل کی حمایت کی تھی ۔  اسے امید تھی کہ کوئی نا کوئی اس  کی حمایت  اور  دفاع ضرور کریگا لیکن  فیصلہ  دے دیا گیا کہ یہ ماڈل بائبل کے بر خلاف ہے لہذا وہ مجرم قرار پایا اور  تا حیات گھر پر نظر بندی کی سزا دیدی گئی ۔ اس کے با وجود وہ زیرِ لب یہی کہتا ہوا پایا گیا ، " میں اب بھی یہی کہوں گا کہ  زمین مسلسل گردش کر رہی ہے " ۔ آخر کار 1992  میں رومن کیتھولک چرچ نے  اپنی غلطی تسلیم کر لی کہ گلیلیو کی مذمت ان کی ایک بڑی بھول تھی ۔ان میں سے کونسا  ما ڈل زیادہ حقیقی ہے پٹولمی کا یا کو پرنیکن سسٹم ؟؟  

    عموماُ یہ کہا جاتا ہے کہ  کو پرنیکل نے پٹولمی کو غلط ثا بت کیا  تھا  لیکن در حقیقت یہ درست نہیں ہے۔  اگر ہمارے  نارمل تصور کا موازنہ  گولڈ فش  ٭ویو  سے کیا جائے تو کوئی بھی تصویر  کائنات کے ماڈل کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے  اپنےدرست مشاہدے کی وضاحت کے لیئے ہم کچھ بھی فرض کر سکتے ہیں کہ سورج یا زمین دونوں میں سے کوئی بھی ساکت ہے ،  لیکن   یہ ماڈل کائنات کی حقیقت کے متعلق ان بحثوں میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر سکا ۔ اس  سسٹم  کا اصل فا ئدہ یہ ہوا  کے جب اس کی مدد سے حرکت کی مساواتوں کو حل کیا گیا تو  نتیجہ انتہا ئی سادہ تھا  جس کے مطابق متعلقہ ٭ فریم آف ریفرنس  میں سورج ساکن حالت میں تھا ۔

    ایک اور بہت  مختلف متبادل حقیقت  ایک سائنس فکشن فلم " ٭ میٹر کس " میں فلمائی گئی ہے ، جس میں انسان کو ایک نقلی غیر حقیقی دنیا میں رہتے  دکھا یا  گیا  ہے ، جو ٭ انٹیلیجنٹ  کمپیو ٹرز  کے ذ ریعے تخلیق   کی گئی ہے ۔  فلم کی کہا نی کچھ یوں ہے کہ  اس دنیا میں لوگ انتہا ئی پر سکون ہیں  جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ٭بایو الیکٹریکل  انرجی  سے  اپنے کام سر انجام دیتے ہیں جو کسی طرح انھیں حاصل ہوتی ہے ، اور جب  تک کمپیو ٹر انہیں یہ انرجی    فراہم کرتا ہے وہ پر سکون رہتے ہیں۔  

    یہ شاید اتنا غیر حقیقی بھی نہیں ہے کیو نکہ موجودہ دور میں زیا دہ تر لوگ ٭ ویب سائٹ  کی دنیا کو اپنی  دوسری ذندگی  کے طور پر گزارنا پسند کرتے ہیں ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ "ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ ہم کمپیو ٹر سے تخلیق کیئے گئے ایک طویل دورانیہ سوپ  کے کردار نہیں ہیں ؟"

    اگر ہم ایک مصنوعی تصوراتی دنیا میں رہتے تو  ارد گرد  رونما ہونے والے وا قعات   کا لازما  کوئی منطق یا وجود نہ ہوتا  اور نہ ہی یہ قوانین ِ قدرت کے تحت رونما ہوتے ۔ بالکل اسی طرح اگر دوسرے سیاروں پر کوئی مخلوق موجود ہے تو اسے ہمارا   رہن سہن یا رنگ ڈھنگ  دلچسپ  اور مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہوگا ۔  اگر   کبھی چاند   کی   چودہ تاریخ کو  آ دھا چاند نمودار ہو ، یا ڈائٹ کرنے والے افراد کو اچانک  کیلے کی کریم پائی  کی نا قبلِ برداشت اشتہا محسوس بے قابو  کر ڈالے تو  یہ عوامل یقیناً معمول سے ہٹ کر تسلیم کیئے جا ئیں گے ۔    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ "کیا دوسرے سیارے کی اجنبی مخلوق پر بھی  یہ قوانین اثر انداز ہوتے ہیں ؟"

    ہمارے پاس اب تک کوئی ایسا طریقۂ کار نہیں  جس کے ذریعے ہم یہ بتا سکیں  کہ بظاہر نظر آنے والی حقیقت کے پس ِ پردہ  کوئی اور بہروپ ہے ۔ یہ کہہ دینا بہت آ سان ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی دنیا  محض ایک فریب ہے اور ٭ ماورائی مخلوق جس دنیا میں رہتی ہے وہی حقیقی ہے ، لیکن  اگر ہماری طرح وہ بھی اپنی دنیا سے باہر دیکھنے سے قاصر ہیں تو  بے شک اپنی  کائنات کو ایک دھوکہ سمجھنے میں وہ بھی اتنے ہی حق بجانب ہیں ، یہ اس تصور کا جدید ٭ وژن ہے کہ " ہم بھی کسی اور کے ذہن کی اختراع ہیں  " ۔

     ان مثالوں سے ہم جس نتیجے پر پہنچتے ہیں وہ اس کتاب کے نفسِ مضمون کے لیئے نہایت اہمیت کا حامل ہے ، اور وہ یہ ہے کہ  "حقیقت کی  کوئی علیحدہ تصویر  یا تھیوری ابھی تک سامنے نہیں آ سکی  لہذا ہم ایک اور تصور اختیار کرتے ہیں جو ٭ " ماڈل ڈیپینڈینٹ  ریئلزم "  ( نمونے یا خا کہ پر مبنی حقیقت کہلا تا ہے )۔  جس کے مطابق ایک ٭ فزیکل پکچر  ( مادی  تصویر کشی )یا ، ٭ ورلڈ  تھیوری ، مستند  نظریہ ( جو حسابی مساواتوں کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے ) ، قوانین کا ایک ایسا سیٹ ہے جو ما ڈل کے تمام اجزاء کو  مشاہدات سے جوڑتا ہے  ، یہ ایک ایسا ٭فریم ورک  (ڈھانچہ )  ہے   جس کے ذریعے جدید سائنس کی تشریح کی جا سکتا ہے ۔

    ٭ پلوٹو اور اس کے بعد آنے والے  فلسفی  ایک طویل عرصے تک " حقیقت کی نو عیت "  کے متعلق بحث کرتے رہے  ،  کلا سیکل سائنس کی بنیاد  اس یقین پر ہے کہ  ایک بیرونی دنیا  اپنا وجود رکھتی ہے ، جس کی خصوصیات متعین ہیں   جو ٭ آبزرور  ( جو اسے دیکھ رہا ہے )  کے وجود سے ما وراء ہے ۔  کلا سیکل سائنس کے مطابق  وہی اجسام وجود رکھتے ہیں جن کی اپنی  مخصوص طبعی خصوصیات ہوتی ہیں  مثلا ُ ماس اور سپیڈ ۔۔۔ ،  اس طرح  ہماری تھیوریز انہی اجسام اور انکی خصوصیات کو بیان کرنے کی کوشش کرتی ہیں   اور ہماری پیمائش   یا مشاہدات  انہی سے متعلقہ ہوتے ہیں ۔ چونکہ آ بزرور اور جسم ( جس کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے )  دونوں مادی وجود رکھتے ہیں اور ایک ہی دنیا کا حصہ ہیں  اس لیئے ان کا درمیان فرق کوئی با معنی حیثیت نہیں رکھتا ۔ با الفاظ ِ دیگر اگر آپ ٭ پارکنگ ایریا میں زیبروں کے ایک غول کو  لڑتے دیکھتے ہیں تو حقیقتاً وہاں ایسا ہو رہا ہوتا ہے ، باقی تمام آبزرور جو اس واقعے   کو دیکھتے ہیں اسی طرح کی خصوصیات کا مشاہدہ کرتے ہیں  اور اصل میں بھی اسکی یہی خصوصیات ہوتی ہیں  ،چاہے کوئی انکا مشاہدہ کر رہا ہو  یا نہیں ،  فلسفے کی زبان میں اسے " ٭ رئیلزم " ( چیزوں    کو اسی طرح بیان کرنا جیسی وہ حقیقت  میں ہیں ) کہلا تا ہے ۔

     اگر چہ رئیلزم ایک دلکش نقطۂ نظر ہے  لیکن جیسا کے ہم  آ گے مشا ہدہ کریں گے جدید طبعیات  نے اس کے دفاع کو قدرے مشکل بنا دیا ہے ۔ مثال کے طور پر  ٭کوانٹم فزکس ( جس کی تھیوریز  حقیقت کو بالکل ٹھیک بیان کرتی ہیں )  کے اصولوں  کے مطابق  "کسی بھی جسم کا اس وقت تک نہ تو کوئی متعین مقام ہو سکتا ہے اور  نہ ہی ولا سٹی جب تک کوئی آبزرور ان مقداروں کا مشاہدہ نہیں کرتا ۔ لہذا یہ کہنا کسی طور بھی درست نہیں  کہ ایک   پیمائش سے یقینی  نتائج حاصل ہو  تے   ہیں  کیو نکہ جس مقدار کی پیمائش کی گئی تھی   اسکی وہ قدر صرف  پیمائش کرتے وقت تھی ۔ در حقیقت کچھ مخصوص صورتحال میں  انفرادی اجسام کا  کوئی آزاد وجود نہیں ہوتا  اس کے بجائے وہ بہت سے اجسام کے  مجموعی اثر کا ایک چھو ٹا سا حصہ ہوتے ہیں ۔ لہذا  ایک تھیوری  جو ٭ ہولو گرافک  ( ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر )   صورت میں  درست ثابت ہو   تو ہم اور ہماری ٭چہار سمتی  دنیا  اس سے کہیں زیادہ بڑی٭ پنچ  سمتی   تصویر بنا سکتے ہیں جس کا تعلق ٭ اسپیس اینڈ ٹائم (  خلا میں وقت کا حساب  تبدیل ہو جاتا ہے ) ۔ اس طرح کائنات  میں ہمارا مقام  باؤل میں بند گولڈ فش سے کافی حد تک مماثل ہو جاتا ہے ۔

    اکثر شدت پسند اس بات پر  نکتہ چین رہتے  ہیں کہ  سائنسی  نظریات کی کامیابی کی اصل وجہ  وہ  حقیقت ہوتی ہے جو  وہ بیان کرتے ہیں  لیکن مختلف  نظریات ،  مختلف النوع  تصوراتی فریم ورک کے ذریعے  ایک ہی عمل کی کامیابی سے وضاحت کر سکتی ہیں ، در حقیقت   سائنسی  نظریہ جو ایک دفعہ کامیاب ثابت ہو  بعد میں مزید تحقیق کے بعد کوئی دوسری تھیوری اس کی جگہ لے لیتی ہے ،  مسلسل  کامیاب تھیوری وہی تصور کی جاتی  ہے جو  جدید  سائنسی نظریات کے ساتھ بھی حقیقت کی بالکل ٹھیک وضاحت کرے ۔

    عام رواج ہے کہ جو لوگ رئیلزم پر یقین نہیں رکھتے انھیں  " غیر حقیقت   پسند " کہا جاتا ہے ،   اینٹی رئیلسٹ نے یہ سوچ رکھا ہے کہ  تجرباتی اور نظریاتی علم کے درمیان بہت تفاوت ہے  ،  عموماً وہ جرح کرتے ہیں کہ   بے شک تجربات اور  مشاہدات اہمیت رکھتے ہیں لیکن نظریات محض تجرباتی آلات ہیں  جن کا تعلق ان  گہری سچا ئیوں سے ہر گز نہیں ہے   جو مشاہداتی عمل کے اندر چھپی ہوئی ہیں ، یہاں تک کہ کچھ اینٹی رئیلسٹ چاہتے ہیں  کہ  سائنسی مشاہدات پر پابندی لگا دی جائے ۔   مثلاً  انیسویں صدی میں  ایٹمی نظریے کو اس بنیاد پر رد کر دیا گیا کہ ایٹم کو  دیکھا نہیں جا سکتا ۔ ٭ جارج برکلے (  1753ـ 1685 ) تو اس  معاملے میں  اس حد تک چلا گیا   کہ دماغ اور اس  کے خیا لات / تصورات  سےبعید  کوئی شے وجود
    نہیں رکھتی ۔ ٭  ڈاکٹر  سیمو ئل جانسن ( 1784- 1709 )   جو ایک انگلش مصنف اور ٭کمپا ئلر   (  انگلش ڈکشنری  تصنیف  کرنے والا ) تھا ، اس کی توجہ جب  اس طرف دلا ئی گئی کہ  جارج برکلے کے دعوے کو با آسانی رد نہیں کیا جا سکتا  !!

    جانسن  نے تب بھی ایک بڑے پتھر  کو  ٹھوکر مارتےہوئے  اعلان کیا  "  میں  ہر حال میں اس نظریے کی مخالفت ہی کروں گا "کہ انسانی خیا لات سے  بعید  بھی کوئی شے وجود رکھتی ہے ، یقیناً ٹھوکر مارنے سے جو تکلیف ڈ  اکٹر جانسن  نے محسوس کی وہ بھی اس کے ذہن کی اختراع ہی تھی ۔  اصل میں وہ جارج برکلے  کے آ ئیڈیا کو رد نہیں کر رہا تھا  بلکہ وہ فلسفی ٭ ڈیوڈ ہیوم  ( 1776 ـ 1711 )  کے خیال  کی وضاحت کر رہا تھا  جو رقم طراز ہے کہ  ا گر چہ  مادی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیئے ہمارے پاس کوئی   معقول  بنیاد نہیں ہے  اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی اور انتخاب ہے   لیکن  یہ ظاہر کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ  جیسے یہی کھلا سچ ہے ۔

     ما ڈل ڈ یپینڈنٹ رئیلزم نے   حقیقت پسند اور  غیر حقیقت پسند دونوں طبقۂ فکر کی اس بحث و تمحیص کو مختصر کر کے پیش کیا ہے ، جس کے مطابق یہ سوال پو چھنا بے معنی ہے کہ"  کیا ایک ماڈل  حقیقی ہے   ؟"اصل سوال یہ ہونا چا ہیے  کہ "کیا یہ ماڈل  ہمارے مشاہدات کی تصدیق کرتا ہے یا نہیں ؟" اگر دو علیحدہ ماڈل بیک وقت  ایک ہی مشا ہدے کی تصدیق کرے ، جیسا کہ گولڈ فش  کی حقیقی تصویر  اور کائنات میں  ملا حظہ کی گئی انسان کی  حقیقت، تب بھی یہ کہنا ممکن نہیں  ہے کہ دونوں میں سے کون سا ماڈل حقیقت  سے زیادہ قریب ہے ؟

    لہذا موجودہ صورتحال میں دونوں میں سے جو بھی زیادہ مناسب لگے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔  مثال کے طور پر اگر کوئی   باؤل میں اندر اتر کر  مشاہدہ  کرے تو گولڈ فش  کی حقیقی تصویر نہایت مثبت ہوگی ۔  لیکن دور کسی اور کہکشاں سے  اس فریم  کا مشاہدہ کیا جائے جس میں ماڈل زمین پر موجود   ہو اور اس  واقع کی وضاحت کرنے کی کوشش  کی جائے تو بے شک یہ ایک نا معقول حرکت ہوگی ، کیونکہ  زمین سورج کے گرد اپنے مدار میں مسلسل گردش میں ہے  لہذا دور کسی کہکشاں سے مشاہدہ کرنے پر باؤل بھی حرکت میں ہوگا ۔

      یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ "سائنس میں جو ماڈل بنائے جاتے ہیں  ان کو  روز مرہ زندگی  کے واقعات  کی وضاحت کے لیئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماڈل  ڈیپینڈینٹ رئیلزم  کا اطلاق صرف سائنسی نمونوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ  ان ماڈلز پر بھی  یکساں طور پر ہوتا ہے جو ہم سب نے زندگی کو سمجھنے  اور روزمرہ کے واقعات کی تشریح کرنے کے لئے اپنے تحت الشعور میں بنائے ہوئے ہیں  اور یہی ہمیں بیرونی دنیا سے با خبر رکھتے ہیں  ، کوئی ایسا طریقہ اب تک دریافت نہیں ہو سکا  جس کے ذ ریعے  دنیا کے متعلق  ہمارے تصورات سے آبزرور یعنی انسان کو منہا کر دیا جائے۔ چونکہ  یہ تصورات  ہمارے اعصابی نظام کی  تخلیق   ہوتے ہیں  لہذا وہ مشاہدات جن کی بنیاد پر  نظریات تخلیق کیئے جاتے ہیں براہِ راست نہیں ہوتے  بلکہ ان کے خدوخال ایک  مخصوص عدصے سے مشاہدہ کر کے بنائے  جاتے ہیں  ۔ اور "دماغ ،انسانی جسم کا وہ عضو ہے  جس کے ذریعے  ہم اپنے تصورات  کی تشریح کرتے ہیں ۔"

    ماڈل ڈیپینڈینٹ رئیلزم کا تعلق   دراصل اس طریقۂ کار سے ہے  جس کے ذریعے  ہمارا تخیل کام کرتا ہے  ،   اشیاء کو دیکھنے کے لیئے کسی شخص کی مناظری حس  کے  نیچے لگا تار ٭ سگنلز  موصول ہوتے ہیں  لیکن یہ تمام سگنلز مل کر  وہ  تصویر نہیں بنا سکتے   جو آپ ٹی وی سیٹ کی سکرین سے وصول کرتے ہیں ۔ انسان  کی بصارتی حس اور پر دۂ چشم کے درمیان  ایک ٭  تاریک دھبہ  ہوتا ہے  ہماری تمام تر بصارت کا انحصار   ایک ڈگری کے اس زاویے  پر ہوتا ہے جو پردۂ چشم کے مرکز پر بنتا ہے  جس کی چو ڑ ائی  نہا یت کم ہوتی ہے ،  یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پورے ہاتھ کی لمبائی کا موازنہ  انگو ٹھے سے کیا جائے ۔ لہذا جو خام  مواد دماغ کو سگنلز کی صورت میں بھیجا جاتا ہے  وہ ایک خراب کھینچی گئی تصویر کی طرح ہوتا ہے  جس میں ایک سوراخ بھی موجود ہوتا ہے ۔انسانی  دماغ کامیابی کے ساتھ اس ڈیٹا  ( مواد )کو ٭ پروسس( مخصوص عمل سے گزار کر )    ، اور دونوں آنکھوں کی جانب سے آنے والے بصارتی سگنلز کو مجتمع کر کے ، درمیان کے خلا کو اس طرح پورا کرتا ہے کہ ارد گرد کی تمام  جگہوں کی خصوصیات  شامل ہو جاتی ہیں ، اور پھر ہمیں ایک مکمل تصویر دکھائی دیتی ہے ۔ مزید  براں  دماغ پردۂ چشم  سے ڈیٹا کو  دو سمتی مواد کی صورت میں  وصول کرتا ہے  لیکن جو شبیہ تشکیل پاتی ہے وہ ٭ سہ سمتی  ہوتی ہے، با الفاظِ دیگر  دماغ ایک ذہنی تصویر یا خاکہ تخلیق کرتا ہے۔

    انسانی دماغ اس حد تک کار آمد ہے کہ  اگر کسی کی آنکھ میں  ایسے ٭ عدسے  لگا دیئے جائیں جائیں  جو آ نکھ پر بننے والی شبیہ کو الٹا کر   کے پیش کریں   تب بھی اس کا دماغ  اسی تیزی کے ساتھ  ماڈل کو  منظم کر کے  اس چیز کو ویسا  ہی دکھائے گا  جیسی وہ حقیقتاً تھی ،   یعنی  جب عدسوں کو نکال دیا جائے  تو کچھ لمحوں کے لیئے چیزیں الٹی نظر آ ئیں گی  لیکن پھر فوراً صحیح حالت میں  نظر آنے لگیں گی ۔   اس سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں  ایک  کرسی کو دیکھتا ہوں  یعنی  کرسی پر روشنی پڑنے سے  اس کے ذہن میں   خاکہ تخلیق ہوا ،  اگر کسی خرابی کی بنا پر  یہ خاکہ الٹا بنے تو دماغ  اس کو الٹا  دکھا نےکے بجائے  پہلے  اسکی تصحیح  کریگا  تب ہی وہ شخص کرسی پر بیٹھنے کے قابل ہوگا ۔

     ایک اور مسئلہ جو  ماڈل ڈ یپینڈنٹ رئیلزم نے حل کیا یا کم از کم  اس سے احتراز ہی کیا وہ  " وجود   کا  مفہوم "  ہے ،  مثال کے طور پر میں اگر  کمرے سے باہر چلا جا ؤں تو مجھے کیسے معلوم  ہوگا کہ  "کمرے  کے اندر ایک کرسی رکھی ہوئی ہے ؟"

    سائنس ان چیزوں کے بارے میں کیا کہتی ہے جنھیں ہم دیکھ نہیں سکتے  ؟جیسےالیکٹران یا ٭کوارک  ، کیا یہ وجود رکھتے ہیں ؟  ( کوارک وہ ذرات ہیں جن کا  چارج الیکٹران کے چارج  سے 3/1  اور ماس  10 ہزار گنا زیادہ ہوتا ہے )  اس صورتحال کا ایک ممکنہ خاکہ  یہ ہے کہ  جب میں کمرے سے باہر گیا  تو کرسی غا ئب ہو گئی   اور جب میں واپس آیا  تو وہ واپس آ گئی لیکن یہ خاکہ انتہا ئی نا معقول ہے ۔ کیونکہ ہماری غیر موجودگی میں اگر کمرے کی چھت گر پڑے  تو اس کے متعلق ہم کیا کہیں گے ؟؟

    کیا میں یہ ادراک کر سکتا تھا کہ  اگلی دفعہ جب میں کمرے میں داخل ہوں گا  تو کرسی چھت کے ملبے تلے ٹوٹی  پڑی ہو گی ؟؟   اگر چہ وہ ماڈل جس میں کرسی ساکت ایک مقام پررکھی ہے انتہائی سادہ  ہے اور ہمارے مشاہدات کی تصدیق بھی کرتا ہے  لیکن  "کیا یہ ہمارے تمام سوا لات کا جواب دے سکتا ہے ؟"

     ایٹم کے بنیادی ذرات جیسے کہ الیکٹران  کا اپنا ایک کار آمد  ماڈل ہے  جو ٭ کلا ؤٖڈ چیمبر ،  ٹی وی سکرین پر نظر آ نے والے نقطوں  اور کئی دوسرے عوامل کی  کامیا بی سے وضاحت کرتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ  کہ الیکٹران  کو   برطانوی ماہر ِ طبعیات٭ جے جے تھا مسن نے  1897 میں  ٭ کیمبرج  یو نیورسٹی کی٭ کیو ینڈش  لیبارٹری میں  تجربات کے دوران  دریافت کیا ،   وہ ایک خالی گلاس ٹیوب  ( جس کے اندر ہوا کا دباؤ نہ ہو )   میں الیکٹریسٹی کے کرنٹ پر  تجربات کر رہا تھا  اس عمل کو ٭ کیتھوڈ ریز  بھی کہا جاتا ہے ،  اس تجربے کے ذریعے وہ اس واضح نتیجے پر پہنچا  کہ یہ پوشیدہ شعا عیں  انتہائی  چھو ٹے  ذرات سے ملکر بنی ہیں  جو کہ ایٹم کے  مادی اجزاء ہیں ۔جنھیں اس وقت تک ایٹم کی نا قا بلِ تقسیم اکا ئی  تصور کیا جا تا تھا ۔  تھا مس نے نہ تو الیکٹران کو آنکھ سے دیکھا تھا اور نہ ہی وہ تجربات کے ذ ریعے  اپنے خیا لات کی براہ ِ راست  تصدیق  کے  قابل تھا  ، اس کے با وجود یہ ماڈل بنیادی سائنس سے لیکر انجینئرنگ تک ہر کسوٹی پر  پورا اترا ہے  اورآج ہر فزکسٹ ایٹم کے وجود پر یقین  رکھتا ہے  حالا نکہ اسےجدید ٹیکنا لوجی  کے ذریعے بھی اب تک نہیں دیکھا جا سکا۔

    اسی طرح کوارک کا بھی اپنا ماڈل ہے جو نیو کلیئس  میں موجود پروٹان اور نیو ٹران کی  خصوصیات کو بیان کرتا ہے، اگرچہ کہا جاتا ہے کہ پروٹان اور نیوٹران ملکر کوارک بناتے ہیں  لیکن پھر بھی ان کو دیکھا نہیں جا سکتا ۔  کیو نکہ  کوارک کی ٭ با ئنڈنگ فورسز  ( مالیکیولوں کو آپس  میں جوڑنے والی قوتیں )فا صلہ بڑھنے سے زیادہ ہوتی چلی جاتی ہیں اور بلا آخر یہ تحلیل ہو جاتے ہیں ۔ چونکہ آزاد کوارک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتے  اس لیئے یہ تین تین کے گروپس ، یا پھر ایک کوارک اور اینٹی کوارک کے  جوڑے کی صورت  میں پائے جاتے ہیں ۔ جن کو ٭ پائی میسن  کہا جاتا ہے   اور یہ اس طرح عمل کرتے ہیں جیسے  انھیں ٭ ربر بینڈ کے ذریعے جوڑا  گیا ہو (  یعنی کھینچا ؤ بہت ہوتا ہے ٹوٹتے نہیں ) ۔

     کوارک ماڈل پیش کیئے جانے کے کئی سال بعد تک یہ سوال  ایک تنا زعہ بنا رہا  کہ کیا واقعی  کوارک  وجود رکھتے ہیں ؟  حالانکہ  یہ آزادانہ حالت برقرار نہیں رکھ سکتے ؟  یہ آئیڈ یا کہ کچھ ذرات ایٹم  کے بنیادی ذرات کے مختلف النوع  مجموعے  سے وجود میں آتے ہیں  ایک ایسا منظم اصول فرا ہم کرتا ہے  جس کے ذریعے  ان کی خصوصیات کو  با آسانی اور پر کشش طریقے سے بیان کیا جا سکتا ہے ۔  اگرچہ  طبعیات کا دستور رہا ہے کہ  وہ صرف  ان  ذ رات کو قا بل ِ غور سمجھتا ہے ، ذرات کی   ٭سکیٹرینگ  کے ٭اعدا دو  شمار میں  جن کے نتائج  معمول سے ہٹ کر ہوں ۔    تاہم وقت کے بہتے  دھارے  کے ساتھ کوارک    ماڈل کی مخالفت  زائل ہوتی  چلی گئی  کیو نکہ اس کے  ذریعے جو پیشن گو ئیاں کی گئی وہ بالکل درست ثا بت ہوئی ۔  کیا  ایسا ممکن ہے کہ "کوئی ما ورائی مخلوق    اس  کائنات میں  کہیں  وجود رکھتی  ہو ، جس کے  سات ہاتھ ہوں ، آنکھیں بنفشی ہوں اور گا ڑھی   کریم ان کے کا نوں سے نکل کر بہہ رہی ہوں، اور  وہ بھی اسی طرح کے تجربے سے گزرے ہوں ؟"لیکن اسے کسی اور طریقے سے بیان کیا ہو ؟ ( کہنے کا مطلب یہ ایک تجربے کے متعلق ہر طرح کے امکانات ہو سکتے ہیں جن پر غور و فکر ہی سائنس کی بنیاد ہے )  ۔ لیکن  ماڈل ڈیپینڈنٹ رئیلزم کے مطابق  کوارک کا وجود صرف اس  ما ڈل میں ممکن ہے  جو ٭ سب آٹومک   پارٹیکلز   ( ذیلی ایٹمی ذرات )کے لیئے ہمارے مشاہدات کی تصدیق کرتا ہے ۔

      ماڈل ڈیپینڈنٹ ریئلزم ایک ایسا فریم  ورک  فرا ہم کرتا ہے   جس میں ہم ہر طرح کے سوا لات پر بحث کر سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر  "اگر یہ دنیا ایک متناہی وقت پہلے  تخلیق  کی گئی تھی  تو اس کی تخلیق سے پہلے کیا کچھ ہوا تھا ؟  "ایک قدیم ٭کر سچین  فلا سفر سینٹ آ گسٹائن ( 430- 354 ) کا کہنا تھا کہ  اسکا جواب یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا ان لوگوں کے لیئے جہنم تخلیق کر رہا تھا جو ایسے سوال پو چھتے ہیں  بلکہ   وقت کائنات کی  ایک ایسی خصوصیت ہے جس کو خدا نے بنا یا ،اور اس تخلیق سے پہلے  وقت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ اس کے خیال میں کائنات کا وجود میں آ نا کچھ زیادہ پرانی بات نہیں ہے ،  یہ بھی ایک ممکنہ ماڈل ہے  جسکی حمایت اکثر وہی لوگ کرتے ہیں  جو یہ سمجھتے ہیں کہ٭ جینیات  میں موجود خصوصیت مکمل طور پر درست  ہوتی ہیں ۔  حالانکہ دنیا میں قدیم جانوروں کی٭ با قیات دریا فت ہوئی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ  دنیا کا وجود بہت پرانا ہے ۔ (  کیا یہ لوگ ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں ؟؟ ) ۔
    اس کے علاوہ  ایک اور مختلف  ماڈل بھی ہے جس کے مطابق وقت کا آغاز تقریباً ُ  13 ارب سال  قبل  ٭ بگ بینگ  کی صورت میں ہوا ، اور یہی وہ ماڈل ہے جو ہمارے موجودہ مشاہدات کی کثرت سے  تصدیق کرتا ہے ۔  جس میں تاریخی اور زمینی دونوں طرح کے حقائق  مل کر ہمارے ماضی کی  بہترین  تصویر کشی   کرتے ہیں ۔  یہی ماڈل زمین پر  دریافت ہونے والی جانوروں کی باقیات اور ٭ تابکاری ریکارڈ  کی درست وضاحت کر سکتا ہے اور اس امر کی بھی کہ  ان کہکشاؤں کی روشنی بھی ہم تک پہنچتی ہے جو  زمین سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر ہیں ۔

    لہذا " بگ بینگ تھیوری " ہی تمام ماڈلز میں سب سے زیادہ کا آمد ثابت ہوا ہے  ۔  لیکن پھر بھی اب تک یہ کہنا ممکن نہیں کہ دونوں میں سے کون سا ماڈل  حقیقت سے زیادہ قریب ہے ۔

     کچھ لوگ اس ماڈل کی بھی حمایت کرتے ہیں  جس کے مطابق  وقت بگ بینگ  سے بھی کہیں زیادہ  قدیم ہے۔  تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ  اس کے ذریعے کائنات کے متعلق ہمارے موجودہ مشاہدات کی وضاحت ممکن ہے یا نہیں ۔  بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ  کائنات کا ٭ "ارتقائی نظریہ "بگ بینگ تھیوری کے سامنے دم توڑ دیتا ہے ،  اگر واقعی ایسا  ہے تو کوئی ایسا ماڈل بنانے کے قطعاً ُ ضرورت نہیں جو وقت کو بگ بینگ سے پہلے کے عرصہ میں محصور کر دے۔ کیو نکہ اس وقت  جو شے بھی وجود رکھتی تھی  ، زما نۂ حال میں اس کا کوئی مشاہداتی تسلسل نہیں ملتا ۔ اور ہم  پھر اسی پرانے تصور پر آکر ٹھہر جاتے  ہیں کہ  بگ بینگ  ہی کا ئنات کے وجود کا آغاز تھا  ۔!

    کوئی بھی خاکہ اس وقت ایک ہی ایک اچھا ماڈل تسلیم کیا جاتا ہے  جب اس میں مندرجہ ذیل خصوصیت ہوں ۔
    1٭یہ خوش نما ہوں ۔
    2٭ جس میں چند  خود مختار یا با قا عدہ عناصر  شامل ہوں۔
    3٭ تجربات سے حاصل شدہ تمام مشاہدات کی  تصدیق و توثیق  کرے ۔
    4٭مستقبل  میں کیئے  جانے والے مشاہدات کے متعلق  فصیح البیان  پیشن گو ئی کر سکے اور اگر وہ  درست ثابت نہ ہو تو انھیں  غیر  تصدیق شدہ یا  غلط قرار دے سکے ۔

    مثال کے طور پر ارسطو کا  نظریہ  تھا کہ دنیا چار  عناصر  ہوا ، آگ ، مٹی اور پانی سے  پر مشتمل ہے اور اجسام بہت نفیس طریقے سے   اپنے کام سر انجام دیتے ہیں  اور انکی تشکیل  میں ان با قا عدہ  عنا صر کے ملاپ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔  لیکن یہ دیکھا گیا کہ بہت سے معاملات میں اس نظریے کے ذریعے وضاحت ممکن نہ تھی  اور نہ ہی مشاہدات ان کی توثیق کرتے تھے ۔  اس کے ذریعے کی جانے والی پیشن گوئی   میں سے ایک یہ تھی کہ بھاری اجسام تیزی سے نیچے کی طرف گرتے ہیں  کیو نکہ ان کے پاس گرنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن یہ نہیں ہوتا ۔ لیکن گلیلیو کے زمانے تک کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ  تجربات کے ذریعے اسکی تصدیق کی جائے ۔ گلیلیو کے تجربات کے متعلق  ایک قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ  اس نے پیرس کے بلند و بالا٭ پیسا ٹاور  سے مختلف اجسام کو نیچے پھینک کر ان کے گرنے اور سپیڈ کا مشاہدہ کیا ، یہ ایک غیر یقینی کہانی ہے ۔

    دراصل  گلیلیو نے ایک ٭ انکلا ئینڈ پلین( ہموار سطح  جس کا ایک سرا بلندی پر اور دوسرا زمین پر ہوتا ہے ) سے مختلف وزن  والے اجسام کو گزار کر مشاہدہ کیا کہ یہ تمام ایک ہی سپیڈ سے  گھو متےہوئے  نیچے کی طرف آ تے ہیں  ، یہ نتیجہ ارسطو کی پیشن گوئی کے بالکل الٹ تھا ۔

      مندرجہ بالا  تمام  بحث  کے نتائج نہایت اہمیت کے حامل ہیں ، مثلاً نفاست  ایک ایسی شے ہے جو با آسانی  پیمائش نہیں کی جا سکتی  لیکن سائنس میں اسے بہت اہمیت حاصل ہے ،  کیو نکہ قوا نین ِ قدرت کا اصل مفہوم  ہی یہی ہے کہ  خاص معاملات کو ٭کفا یت شعاری   سے    چھو ٹا کر کے ایک فارمولے کی صورت  میں پیش کیا جائے  ۔ نفاست کسی تھیوری کے اصل خدو خال کو ظاہر کرتی ہے اور اس کا بنیا دی تعلق با قا عدہ عناصر کی کم تعداد سے ہے ۔ ایک تھیوری جو پر فریب نکات سے لتھڑی ہوئی ہو کبھی بھی  ایک نفیس قانون نہیں بن سکتی ۔  آ ئن سٹائن نے اس کی تشریح کچھ یوں کی تھی کہ  " ایک تھیوری کو ممکنہ حد تک سادہ ہونا چا ہیے لیکن  سادہ ترین نہیں "

    پٹولمی نے اپنے ماڈل میں فلکیا تی اجسام کی گردش  کو زیادہ احسن طور پر  بیان کرنے کے لیئے  ٭ دائروی مداروں  (  بڑا دائرہ  جس کے اندر ایک اور  چھوٹا  دائرہ ہوا)کا  اضافہ کیا ، اس ماڈل کی مزید  تصحیح کچھ یوں ممکن ہے کہ ان مداروں میں مزید ایسے ہی دائروں کا اضافہ کر دیا جائے ، جی ہاں ہم نوٹ کرتےہیں کہ اضافی  پیچیدگی  نے ماڈل کی مزید اصلاح کر دی ، لہذا سا ئنسدان  ایسے ہی خاکہ کو تر جیح دیتے ہیں  جو مشا ہدات کے ایک مخصوص  سیٹ کو بگاڑ  کر اس طرح غیر  منظم  بنا دیتا ہے کہ  وہ ایک تھیو ری کے بجائے  مشا ہدات کی فہرست  معلوم  ہوتی ہے ۔  تا کہ کا ر آ مد اصولوں کا انتخاب کیا جا سکے ۔

    باب 5 میں ہم جا ئزہ لیں گے کہ بہت سے لوگ   ٭ " اسٹینڈرڈ " بنیادی  ماڈل پر یقین رکھتے ہیں  جو  ایٹم کے بنیادی ذرات کے تعلق کو   بد وضع  طریقے سے   بیان کرتا ہے۔  لیکن پھر بھی یہ پٹولمی کے دائروی مداروں والے ماڈل سے کہیں زیادہ کا میاب ثابت  ہوا ہے ،  اس  ماڈل کے ذ ریعے مشاہدے سےپہلے ہی پیشن گوئی کر دی گئی تھی کہ  تین بنیادی ذ رات کے علاوہ کچھ اور ذرات  بھی وجود رکھتے ہیں ۔  اگر چہ یہ ما ڈل صدیو ں تک بے شمار تجربات کی   بالکل صحیح وضاحت  کرتا رہا ہے لیکن اس میں درجنوں با قاعدہ مقداریں شامل کر دی گئی ہیں جن کی قیمتیں ٭ مستقل  ہیں ۔

    حالانکہ ان  متعین مقداروں کو  تھیوری سے براہِ راست بھی معلوم کیا جا سکتا ہے ۔
     جہاں تک  مندرجہ بالا  چو تھے نکتے کا تعلق ہے  سائنسدان ہمیشہ نئی اور شاندار پیشن گو ئیوں سے متاثر ہوتے ہیں جو عموماً صحیح ثابت ہوتی ہیں ، دوسری جانب جب کسی ماڈل میں کوئی کمی یا خامی رہ جاتی ہے تو عام تاثر  یہ لیا جاتا ہے کہ  تجربہ  غلط تھا ۔  اگر کوئی خاکہ کسی مخصوص صو رتحال میں درست ثا بت نہیں ہوتا تو اس سے  دست بردار ہونے کے بجائے  کو شش کرنی چاہیے کہ اس میں تبدیلی کر کےجدت پیدا کی جائے    ،   اسی لیئے سائنسدان  اپنی کوششوں میں ا نتہائی سرکش  ہوتے ہیں کہ جس تھیوری کی وہ  انہوں نے کبھی تعریف کی ہو  اس کو ترک کرنے کے بجائے اس پر تحقیق کر کے اسکا دفاع کیا جا سکے۔  اگر کسی تھیوری میں  مصنوعی یا بوجھل طریقے سے ترمیم کی جائے  تو لازما ُ وہ بد وضع تصور کی جائے گی۔لیکن اگر اصلاح کے لیئے  نئے  سرے سے مشاہدات کی ضرورت محسوس کی جا ئے تو یہ ایک اشارہ سمجھا جاتا ہے کہ    ایک نئے ماڈل کی ضرورت ہے۔ مثال کےطور پر    زمین کے متعلق اولین ماڈل یہ تھا کہ یہ حالت ِ سکون میں ہے  اور 1920  تک  فزکسٹ  اس پر یقین رکھتے تھے  کہ ز مین کا سائز  نا قا بل ِ  تغیر  ہے ،لیکن نئے مشاہدات  کیئے جانے سے یہ  تصور اب معدوم ہو چکا ہے ۔  1920  میں ٭ ایڈون  ہبل  نے  اپنے مشاہدات شائع کیے   ، جن کے مطابق زمین پھیل رہی ہے اگر چہ ہبل نے اس پھیلاؤ کا با قا عدہ مشا ہدہ نہیں کیا تھا  لیکن اس نے  کہکشا ؤں سے خارج  ہونے والی روشنی  کو آبزرو کیا تھا ۔ یہ روشنی اپنے ساتھ مخصوص خصوصیت والا ٭ سپیکٹرم  بناتی ہے  جس کا انحصار کہکشاؤں کی بناوٹ پر ہوتا ہے ۔ چونکہ ہر کہکشاں زمین کی اپنی گردش کے ساتھ ایک خاص نسبت سے گردش کر رہی ہے لہذا  یہ روشنی ایک معلوم مقدار کے مطابق تبدیل ہوگی ۔ مختلف کہکشاؤں کے ٭ سپیکٹرا ( رنگوں کے پٹی )کا   جائزہ لینے کے بعد   ہبل  ان کی ولا سٹی  با آ سانی معلوم کر سکتا تھا ۔

    اسے توقع تھی کہ  جتنی کہکشا ئیں ہم سے دور جا رہی ہیں  اتنی ہی ہماری طرف حرکت کر رہی ہیں ، لیکن اس نے مشاہدہ کیا کہ تمام کہکشا ئیں ہم سے دور جا رہی ہیں  اور جتنی تیزی سے یہ حرکت کرتی ہیں  تو یہ فاصلہ روز بروز  بڑ ھتا جا رہا ہے ، لہذا اس نے نتیجہ پیش کیا کہ  کا ئنات مسلسل پھیل رہی ہے ۔ تاہم  دیگر افراد جو  دوسرے ماڈل پر یقین رکھتے تھے  ،ان لو گوں نے  ہبل کے مشا ہدات کی وضاحت  زمین کی ساکن حالت  کے سیاق وسباق کے ساتھ ہی کی۔  مثال کے طور پر ٭ کیلٹیک  فزکسٹ  رٹز  زیوکی  نے یہ مشورہ دیا  کہ کچھ نا معلوم    وجو ہات کی بنا پر روشنی کی مقدار کم ہو گئی ہو گی   کیو نکہ یہ بہت زیادہ فاصلہ طے کر کے ہم تک پہنچتی ہے  اور مسلسل اس سے انرجی کا اخراج ہوتا رہتا ہے  اور توانائی میں یہ کمی لازم اس کے اسپیکٹرم پر اثر انداز ہوئی ہوگی ۔  جو کچھ زیوکی نے  پیش کیا وہ ہبل کے مشاہدات کی ایک نقل ہی ہے ۔  ہبل کے بعد کئی دہا ئیوں تک  سائنسدان ان سیدھی سادی تھیوری پر  کام کرتے رہے  لیکن ان سب میں  سب سے زیادہ  قدرتی ماڈل  ہبل کا ہی ہے جس کے مطابق  کا ئنات مستقل پھیل رہی ہے اور اب موجودہ ٹیکنا لوجی  کے ساتھ اس ماڈل کو پوری طرح قبول کیا جا چکا ہے ۔٭٭٭٭

    ہم نے اپنی اس نئی جہت کے لیئے  کئی ماڈلز اور تھیو ریز  تخلیق کی  تا کہ کوئی ایسا قانون دریا فت کیا جا سکے  جس کے تحت کا ئنات کا نظام چل رہا ہے ۔ جیسے کہ چار عناصر والا ماڈل  ، پٹولمی ماڈل ، ٭ فلو جسٹن  ماڈل ، بگ بینگ تھیوری اور مزید کئی ماڈلز ۔۔۔، لیکن یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ   ہر تھیوری یاخاکے میں حقیقت کے متعلق  ہمارے خیالات  اور کائنات کے بنیادی اجزاء کی نوعیت تبدیل شدہ ہے ۔  مثال کے طور پر ٭ قانو ن ِ روشنی کو ہی لیجیےجس کے مطابق روشنی انتہا ئی چھوٹے ذرات پر مشتمل ہے  اور خط ِ  مستقیم میں  سفر کرتی ہے ۔  نیو ٹن نے اسی قا نون کو استعمال کرتے ہوئے  رو شنی کےانعطاف اور انعکاس کی وضاحت کی  جس کے مطابق روشنی اب ایک واسطے سے دوسرے واسطے میں داخل ہوتی ہے تو اپنے راستے سے  تھوڑا منحرف ہو جاتی ہے  یہ میڈیمز  ہوا ، پانی یا گلاس کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔

    حا لانکہ ٭مٹیریل  نیچر والی تھیوری کے ذ ریعے ٭ نیو ٹنز رینگز جیسے عوامل کی وضاحت نہیں کی جاسکتی ، جس کا مشاہدہ خود نیوٹن نے کیا تھا ۔  نیوٹن رنگز کا تجربہ کرنے کے لیئے ایک٭  عدسے  اور ایک ہموار  انعکاسی پلیٹ  کی ضرورت ہوگی  جس کو ایک ہی ٭رنگ  والی روشنی سے منور  کیا گیا ہو ۔   جس جگہ پر عدسہ پلیٹ کی سطح کو چھوئے گا وہاں اوپر سے نیچے کی جانب  گہرے اور ہلکے رنگز کا مشاہدہ با آ سانی کیا جا سکتا ہے ۔  اس طرح کے عمل کی وضاحت  نیوٹن کی پارٹیکل تھیوری کے ذریعے نہیں کی جا سکتی ، لیکن جدید ٭ ویو تھیوری سے اسے با آسانی واضح کیا جا سکتا ہے  جس کے مطابق ہلکے اور گہرے رنگز  ٭انٹر فیرنس کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ایک پانی کی موج  ٭ فراز اور ٭ نشیب  کے ایک سلسلے پر مشتمل ہوتی ہے ، اگر موجوں کا آپس میں ٹکراؤ اس طرح ہو کہ ایک ویو کا ٹرف دوسری ویو  کے متعلقہ کریسٹ کے  ساتھ اور   ملے  تو وہ ایک  دوسرے پر دباؤڈ التے ہیں اور اسطرح آؤٹ پٹ میں ایک بڑی موج بنتی ہے جس میں  تمام ویوز کے ٭ فیزز ایک جیسے ہوتے ہیں یہ ٭ کونسٹرکٹو  انٹرفیرنس  کہلاتا ہے ۔  جب کہ دوسری جانب اگر موجوں کا ٹکراؤ اس طرح ہو کہ ایک ویو کا ٹرف   دوسری کے متعلقہ ٹرف کے ساتھ اور کر یسٹ متعلقہ کریسٹ کے ساتھ ملے  تو دونوں موجیں ایک دوسرے کے اثر کو زائل کر دیں گی  اور آؤٹ پٹ میں ویوز کے فیزز بلکل مختلف ہوں گے  جسے ٭ ڈیسٹرکٹو انٹر فیرنس کہا جاتا ہے ۔

     نیو ٹنز رنگ کے عمل میں گہرے رینگز  مرکز سے قدرے فاصلے پر  اس مقام پر بنتے ہیں  جہاں دونوں ان پٹ ویوز  ( ایک جو لینز سے منعکس ہوتی ہے اور  دوسری  جو پلیٹ سے منعکس ہوتی ہے ) کا ٭ ویو لینگتھ   ۔۔۔، 1،2،3  کا ٭ جزوِ ضربی  ہو  اس لیئے  کنسٹرکٹو  انٹر فیرنس بنتا ہے ۔  اسیطرح  ہلکے ر نگز   مرکز سے  فاصلے پر اس مقام پر بنتے ہیں  جہاں دونوں ویوز کا ویو لینگتھ۔۔۔۔ 2/5 ، 2/3، 2/1 کا جزوِ ضربی ہو اس صورت میں ڈیسٹر کٹو انٹرفیرنس  بنے گا جس میں ویوز ایک دوسرے کے اثر کو زائل کر دیتی ہیں ۔

    19ویں صدی میں یہ سمجھا گیا کہ    انٹرفیرنس  روشنی کی ما ہیت کے متعلق ویو تھیوری کی تصدیق کرتا ہے لہذا  نیو ٹن کی پارٹیکل تھیوری کو غلط قرار دے دیا گیا  ،تاہم 20 ویں صدی میں آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ کچھ عوامل  جیسے  ٭ فو ٹو الیکٹر ک افیکٹ ( جو آجکل ٹی وی سیٹ اور ڈیجیٹل کیمرا میں استعمال کیا جاتا ہے ) کی وضاحت  پارٹیکل تھیوری ہی کے ذریعے کی جا سکتی ہے ، اس کے مطابق روشنی جب کسی عنصر کے ایٹم کے ساتھ ٹکراتی ہے تو  اس سے الیکٹران  کا اخراج ہوتا ہے  جنھیں روشنی کے پیکٹس یا ٭ فوٹان  کہا جاتا ہے  ۔ لہذا یہ ثابت ہوا کہ روشنی  دوہری نیچر رکھتی ہے  یعنی کبھی ویو اور کبھی پارٹیکل کی طرح عمل کرتی ہے ۔

     ہم یہ بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ انسانی دماغ میں ویو کا نظریہ پہلے سے موجود تھا  ، کیو نکہ ہم سمندر کی موجوں کو دیکھتے ہیں  ۔ اسی طرح جب ایک حوض  میں پتھر پھینکا جائے تب بھی  ویوز پیدا ہوتی ہیں ۔ اگر کبھی پانی میں بیک وقت دو پتھر پھینکے  جائیں تو با آسانی انٹر فیرنس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ، پانی کی طرح دیگر ما  ئعات میں بھی اسی طرح موجیں پیدا ہوتی ہیں ما سوائے شراب کے ، اگر آپ کے پاس اتنی مقدار میں شراب دستیاب ہے تو آپ یہ تجربہ کر کے دیکھ سکتے ہیں ۔ پارٹیکل نیچر والا ماڈل  پہاڑی چٹانوں، کنکر  اور مٹی سے کافی مماثل ہے ۔ لیکن  روشنی  کی دوہری  ویو – پارٹیکل نیچر والا آ ئیڈیا روزمرہ کے معاملات سے  اتنا ہی بعید ہے  جیسے کہ  ایک بھر بھرے پتھر کا ایک بڑا سا ٹکڑا آپ کے منہ میں  ڈال دیا جائے ۔

      ایک ایسی صورتحال جس میں دو مختلف تھیوریز  ایک ہی عمل کی بلکل ٹھیک وضاحت کریں  ، ٭ دوہریت کہلاتی ہے  جو ماڈل ڈیپینڈینٹ رئیلزم سے بہت حد تک مماثل ہے ۔  جس میں موجود ہر تھیوری  کائنات کے متعلق مخصوص  خصوصیات کو بیان اور واضح کرتی ہے ۔  لیکن ان میں سے کوئی بھی تھیوری دوسری کی نسبت زیادہ حقیقی قرار نہیں دی جاسکتی ۔   وہ قوانین جن کے تحت اس کائنات کا نظام چل رہا ہے ہم ان  کے بارے میں صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ  اب تک کوئی ایسی واحد میتھمیٹیکل تھیوری یا ماڈل تخلیق نہیں کیا جا سکا جو کائنات کے تمام پہلو ؤں پر روشنی ڈال سکے ۔ جیسا کہ باب اول میں بیان کیا جا چکا ہے  کہ ایک واحد ماڈل کے بجائے تھیو ریز کا پورا ایک نیٹ ورک ہے جو ٭ ایم تھیوری کہلاتا ہے ۔ اس نیٹ ورک میں  موجود ہر تھیوری  کچھ مخصوص عوامل کی ایک خاص حد تک  بہترین وضاحت کرتی ہے ۔ اور جب کبھی ان تھیوریز کی حدود آپس میں ٹکرا جا ئیں  تو یہ علا مت ہے کہ مختلف تھیوریز کے نتائج ایک ہی ہیں ۔ ایسی صورتحال میں یہ ایک تھیوری کے علیحدہ حصے کہے جا سکتے ہیں ۔

     لیکن اس نیٹ ورک میں  کوئی واحد تھیوری ایسی نہیں ہے جو کا ئنات کے تمام پہلو ؤں  اور تمام عامل قوتوں کی مکمل وضاحت کر سکے ، ( ان پارٹیکلز کی بھی جو ان قوتوں سے اثر انداز ہوتے ہیں ) ۔ مزید یہ کہ ٭ سپیس اینڈ ٹائم کا پورا ڈھانچہ جو ابھی تک  ابہام کے گہرے بادلوں  میں چھپا ہوا ہے اس کی بھی کوئی تشریح نہیں کی جاسکی ۔ اگرچہ یہ صورتحال فزکسٹ کے اس روایتی خواب کی تعبیر ہر گز نہیں ہے  جو انہوں نے ایک واحد بنیادی تھیوری کے لیئے دیکھ رکھا ہے ، کہ وہ  ماڈل ڈیپینڈینٹ رئیلزم کے فریم ورک میں پوری طرح سما سکے  لیکن پھر بھی ان کے حوصلے بلند  ہیں۔

     دوہریت  اور ایم تھیوری کے بارے میں مزید باب 5 میں بحث کی جائیگی ، اس سے قبل ہم  کوانٹم تھیوری کی طرف واپس پلٹتے ہیں  جو کائنات کے متعلق ہمارے جدید تصور کی بنیاد ہے اور جہاں تک یہ تھیوری دسترس رکھتی ہے وہ فزکس  میں  انھیں ٭ " ترمیم شدہ  تا ریخیں "  کہا جا تاہے ۔  جس کے مطابق کائنات کا کوئی واحد   وجود یا تاریخ نہیں ہے بلکہ تمام  ممکنہ ورژنز ایک ہی عہد میں وجود رکھتے ہیں ، جو ٭ کوانٹم سپر پوزیشن کہلاتا ہے۔


    وہ تھیوری  جس میں کمرے سے باہر جانے پر کرسی منظر سے غائب ہو جاتی ہے    کچھ احمقانہ سی معلوم پڑتی ہے ، لیکن کوانٹم تھیوری نے یہ تمام  تجرباتی مراحل کامیابی سے طے کیئے ہیں  اسی لیئے یہ ہمیشہ سے فزکسٹ کی موزوں ترین تھیوری رہی ہے ۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: اسٹیفن ہاکنگ - گرینڈ ڈیزائن - واٹ از ریالٹی Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top