Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    منگل, فروری 23, 2016

    انسان بردار مریخی مہم


    ایم آئی ٹی: "انسان بردار مریخی مہم کے لئے چاند کا ایک پھیرا لگانا ضروری ہے"




    اوپر ناسا سے حاصل کردہ تصویر میں ایریز 3 کے اترنے کی جگہ نظر آ رہی ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں دھماکہ خیز فلم "مریخی" (The Martian) میں انسان بردار مریخی مہم کو اترتے ہوئے دکھایا ہے۔ ایم آئی ٹی کی ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ وزن سے بچنے کے لئے مریخ تک جانے کے لئے سب سے بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے چاند کا پھیرا لگایا جائے۔ مریخی انسان بردار مہم کے لئے چاند پر ایندھن بھرنے سے بار برداری میں ٦٨ فیصد تک بہتری آسکتی ہے۔

    پرانی تحقیق بتاتی ہے کہ چاند کے مخصوص شہابی گڑھوں میں موجود چاند کی مٹی اور پانی کی برف کو حاصل کرکے ایندھن میں بدلا جا سکتا ہے۔ فرض کریں کہ اس طرح کی فنیات مریخ پر مہم بھیجتے ہوئے اگر دستیاب ہوتی ہیں تو ایم آئی ٹی کی جماعت کے مطابق ایندھن کو حاصل کرنے کے لئے چاند تک کا پھیرا لگانے سے مہم کی کمیت خلاء میں چھوڑے جانے کے وقت ٦٨ فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

    جماعت نے ایک ایسا نمونہ بنایا ہے جو مریخ تک جانے کے سب سے بہترین راستے کا تعین یہ فرض کرتے ہوئے کرتا ہے کہ چاند پر ایندھن کی فراہمی کے لئے بنیادی ڈھانچہ اور وسائل موجود ہوں گے۔ اپنے لگائے ہوئے حساب کے مطابق انہوں نے مریخ تک جانے کا سب سے بہتر راستے کا تعین کیا تاکہ زمین سے خلاء میں مہم کو چھوڑے جانے کے وقت وزن میں زیادہ سے زیادہ کمی کی جا سکے۔ اکثر خلائی مہمات میں سب سے زیادہ لاگت وزن کو خلاء میں پہنچانے پر آتی ہے۔ 

    اس کام کے دوران انھیں یہ معلوم ہوا کہ زمین سے انسانی عملے کو خلاء میں بھیجنے کا سب سے بہتر طریقہ جس میں وزن کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ عملے کو کسی طرح زمین کے مدار میں بھیج دیا جائے۔ اس کے بعد چاند کی سطح پر موجود ایندھن کو پیدا کرنے والا پلانٹ ایندھن کے ٹینک خلاء میں پھینکے گا جہاں وہ ثقلی مدار میں داخل ہو جائیں گے۔ بعد میں یہ ٹینک بالآخر مریخ پر جانے والا عملہ حاصل کر لے گا اور قریبی موجود ایندھن بھرنے والے اسٹیشن پر ان کو لے جا کر ان سے ایندھن حاصل کرکے مریخ کی طرف روانہ ہو جائے گا۔ 

    اولیور ڈی ویک جو ایم آئی ٹی میں علم جہاز سازی اور خلائیات اور انجینئرنگ نظام کے پروفیسر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ایسا کوئی منصوبہ ناسا کے براہ راست راستے سے ہٹ کر ہوگا۔

    "یہ طریقہ مکمل طور پر مریخ پر جانے کے اس عام فہم معلومہ طریقے کے مخالف ہے جس میں مریخ میں اپنے ساتھ تمام سازو سامان کے کر براہ راست جایا جاتا ہے۔ چاند کے نظام کا پھیرا لگانے کا خیال ۔۔۔ یہ بہت ہی لغو ہے۔ تاہم بہترین جال اور وسیع منظر نامے کو مد نظر رکھتے ہوئے، طویل عرصے کی منصوبہ بندی میں یہ کافی قابل گنجائش ہو سکتا ہے، کیونکہ آپ کو زمین سے ہر چیز ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    یہ نتائج اس مقالہ کی بنیاد پر جریدہ خلائی جہاز و راکٹ (جرنل آف اسپیس کرافٹ اینڈ راکٹس)میں شایع ہوئے ہیں جو تاکوتو ایشی ماٹسو نے لکھا تھا جو اب ایم آئی ٹی میں مابعد ڈاکٹر ہیں۔ 

    ماضی میں خلائی کھوج کے پروگراموں میں عملے کو وسائل مہیا کرنے کے لئے دو اہم حربے استعمال کئے جاتے رہے ہیں: ایک طریقے میں اپنے ساتھ ہر چیز کو لے جانا ہے، جہاں پر تمام گاڑیاں اور وسائل عملے کے ساتھ تمام راستے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں – جیسا کہ چاند پر بھیجی جانی والا اپالو مہم تھی – اور ایک "نئی رسد مہیا کرنے کی ترکیب" ہے جس میں وسائل کو مسلسل بھرا جاتا رہتا ہے، جیسا کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن) پر بھیجے جانے والے خلائی جہاز ہیں۔ 

    تاہم جب انسان زمین کے مدار سے دور کھوج کرنے جائیں گے تو اس طرح کے حربے کارگر نہیں رہیں گے، جیسا کہ ڈی ویک اور ایشی ماٹسو لکھتے ہیں: " کیونکہ بجٹ محدود ہے اور منزل گھر سے کافی دور ہیں، ایک بہتر منصوبے کے حامل نقل و حمل کا حربہ ناگزیر ہے۔"

    جماعت نے تجویز ڈی ہے کہ مریخ اور دوسرے دور دراز منازل کی مہمات میں اس رسدی حربے کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جو "برمحل وسائل کے استعمال" کو حاصل کرنے کے قابل ہوں—یعنی کہ خیال یہ ہے کہ وسائل جیسا کہ ایندھن، اور پانی اور آکسیجن جیسی ضروری چیزیں، خلائی کھوج کے دوران راستے میں سے حاصل کی جا سکیں۔ خلاء میں بنائی جانے والی چیزیں زمین سے بھیجی جانے والی چیزوں کا متبادل ہو سکتی ہیں۔ 

    مثال کے طور پر پانی کی برف – جس کو ممکنہ طور پر حاصل کرکے راکٹ کے ایندھن میں ڈھالا جا سکتا ہے – مریخ اور چاند دونوں پر پائی جاتی ہے۔

    "اس وسائل کی دستیابی کے لئے کافی اعتماد موجود ہے۔ فرض کریں کہ آپ اس طرح کے وسائل کو حاصل کر لیں گے، تو آپ اس کے ساتھ کیا کریں گے؟ کسی نے بھی یہ نہیں سوچا۔" ڈی ویک کہتے ہیں۔

    اس بات کی جانچ کے لئے کہ آیا خلاء میں موجود ایندھن اور بنیادی ضرورت کی چیزیں انسانی بردار مریخی مہم کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے یا نہیں، ایشی ماٹسو نے مریخ جانے تک مختلف راستوں کے جالی بہاؤ والے نمونے کو بنایا – جس میں براہ راست سازو سامان کو ساتھ لے جانے سے لے کر راستے میں موجود مختلف ایندھن کے اسٹیشنوں پر رکتے ہوئے ایندھن بھروانے والے راستے شامل ہیں۔ اس کا اہم مقصد یہ ہے کہ زمین سے خلاء میں چھوڑے جانے کے وقت وزن میں زیادہ سے زیادہ کمی کی جائے۔ اس نمونے میں انہوں نے ایندھن بنانے والے پلانٹ اور اس کے پرزوں کو بھی شامل کیا ہے جن کو مہم سے پہلے خلاء میں چھوڑا جانا ہے۔ 

    اس طریقے میں بار بردار جہاز اور اس میں موجود رسد جیسا کہ ایندھن ہے اس کی حرکت کو نمونے میں جانچا گیا ہے۔ ایشی ماٹسو نے ایک نیا ریاضیاتی نمونہ بنایا ہے جو گاڑیوں کو بھیجنے کے روایتی نمونے کو بہتر کرتا ہے۔ اس نے لمبے عرصے کی منصوبہ بندی والی خلائی مہمات کے پیچیدہ منظر ناموں کو اختیار کیا ہے – جس میں خلائی سفر کی مخصوص رکاوٹوں کا خیال رکھا گیا ہے۔

    نمونے نے ایک مستقبل کا منظرنامہ فرض کیا ہے جس میں ایندھن کو بنایا جا سکے گا اور اس کو چاند سے خلاء میں کچھ مخصوص جگہوں پر منتقل کیا جائے گا۔ اسی طرح نمونے نے فرض کیا ہے کہ ایندھن کے ذخیرے خلاء میں کچھ مخصوص ثقلی قید والی جگہوں پر واقع ہوں گے جن کو لارج رینج پوائنٹس کہا جاتا ہے۔ مہم کے مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے جیسا کہ وزن کی قیود ہیں نمونے نے رسد کی فراہمی کے جال میں سب سے بہتر راستہ شناخت کیا ۔ ساتھ ساتھ اس نے تمام بنیادی طبیعیاتی حدود کا بھی خیال رکھا۔

    ایشی ماٹسو کہتے ہیں کہ تحقیق نے خلاء میں وسائل مہیا کرنے والی بنیادی ضرورتوں کی اہمیت کو جتایا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کی بنیادی ضرورتیں مریخ کے پہلے دورے کے لئے ضروری نہیں ہیں۔ تاہم خلاء میں وسائل کا جال انسانوں کو اس قابل کر سکے گا کہ وہ بار بار بغیر کسی تعطل کے خلاء میں سفر کر سکیں۔

    "ہماری اصل مقصد مریخ کو آباد کرنا ہے اور وہاں ایک مستقل بستی بسانا ہے، ایک ایسی بستی جو خود سے انسانی موجودگی کو وہاں پر قائم رکھ سکے۔ بہرحال میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ یہ بھی اتنی ہی اہم بات ہے کہ ہمیں خلاء میں "راستے کو ہموار" کرنا ہوگا تاکہ ہم سیاروی اجسام کے درمیان قابل برداشت خرچوں کے ساتھ سفر کر سکیں۔"

    "بہتری کے اس طریقے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں بار بار بغیر کسی تعطل کے مریخ تک کا سفر کرنے کے لئے چاند ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ لوگوں نے اس کا اشارہ پہلے ہی سے دے دیا تھا تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وہ پہلا مقالہ ہے جو ریاضیاتی طور پر یہ بتاتا ہے کہ یہ بات کیوں درست ہے۔" ڈی ویک کہتے ہیں۔


    ڈیلی گیلکسی بذریعہ MIT.edu
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: انسان بردار مریخی مہم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top