Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 8 فروری، 2016

    زحل کے چاند - بیرونی چاند آیاپیٹس حصّہ دوم

    آیاپیٹس کی کم قوّت ثقل  - برف کے چاند میں کل ٢٠ فیصد چٹان ہے – برف کو چاند پر آزادی کے ساتھ حرکت کرنے کی اجازت دیتی ہے  اور یوں نظام شمسی میں ایک  نہایت ہی شاندار  دیکھنے کی جگہ بن جاتی ہے۔

    لیکن آیاپیٹس میں ایک اور حیرت کا جہاں موجود ہے – ایک عظیم پہاڑی جو استواء کے ساتھ  اس طرح سے کھینچی ہوئی ہے  جیسے کسی ربڑ کی گیند پر کی گئی سلائی۔ یہ پہاڑی کچھ ١٣ کلومیٹر اونچی اور ٢٠ کلومیٹر چوڑی ہے۔ پہاڑ کی چوٹیاں  جو  پہاڑی  کا حصّہ ہیں وہ کسی بھی سیارے یا چاند پر موجود پائے جانے والے پہاڑوں سے اونچی ہیں۔  ایک کنارے پر عظیم پہاڑی تین متوازی  چوٹیوں میں بٹ گئی ہے۔ ان میں سے کچھ حصّے ٢٠٠ کلومیٹر لمبے ہیں جبکہ دوسرے تقسیم زدہ حصّے مزید الگ ہو کر چوٹیوں میں بٹ گئے ہیں۔ شاندار فراز  پر بھاری تعداد میں گڑھے موجود ہیں  جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آیاپیٹس کی بننے کے شروع کے دور کے ہی ہیں۔ یہ پہاڑی پورے نظام شمسی میں موجود پہاڑیوں میں سب سے چکرا دینے والی ہے۔ اس  کے تین خصائص اس کو منفرد بناتے ہیں۔ یہ عین خط استواء پر موجود ہے، یہ صرف خط استوائی علاقوں کے علاوہ کہیں پر بھی نہیں ہے اور اس جیسی کوئی بھی چیز کسی دوسرے سیارے یا چاند پر نہیں موجود ہے۔
     
    خاکہ 6.10 مختصر آیاپیٹس کا آسٹریلیا سے موازنہ

    کچھ کا ماننا ہے کہ پہاڑی آیاپیٹس کی محوری گردش کے آہستہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ لیکن صرف پہاڑی استوائی علاقے میں کیوں بنی ہے، پورے یوروپا اور گینی میڈ  پر پائے جانے والے ٹیکٹونک خاصیت  کی وجہ سے کیوں نہیں؟  جان اسپینسر اس مسئلے سے نمٹنے میں مصروف عمل ہیں۔ " ایک چیز جو آیاپیٹس کو نظام شمسی میں پائے جانے والے دوسرے  چاندوں سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کی  ساتھ ساتھ ہونے والی گردش ہے  لیکن یہ اپنے مرکزی جسم سے کافی دور ہے  یہ فاصلہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ساتھ ساتھ گھومنے والے جسم کو درکار ہوتا ہے۔ اجسام  مرکزی جسم کی مدو جذر کی وجہ سے ساتھ ساتھ گھومتے ہیں  جیسا کہ ہمارا چاند ، لیکن یہ مدو جذر کی قوّت آیاپیٹس جیسے چاند پر نہایت ہی کمزور ہے۔ یہ مجھے کافی معقول بات لگتی ہے کہ  اگر ساتھ ساتھ گھومنا ختم ہوتا ہے تو اس میں کافی وقت لگتا ہے شاید اس میں کروڑ ہا برس کا وقت لگتا ہوگا  اور شاید آپ اب بھی اس  ساتھ ساتھ گھومنے کے عمل  کو ختم ہوتا ہوا دوسرے چاندوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ شاید اسی قوّت کی وجہ سے استواء پر زور لگا جس کی وجہ سے یہ پہاڑی بنی۔ لیکن ارضی طبیعیات دان کہتے ہیں کہ ،' نہیں ایسا نہیں ہے، آپ ابھی نظر آنے والے نمونے سے کہیں زیادہ پیچیدہ نمونہ دیکھتے اگر ایسا ہوتا۔' جب وہ  شلجمی صورت سے کروی صورت میں ڈھلتا تو آپ کو کافی زیادہ بدشکل صورت نظر آتی  لیکن یہ بہت مشکل ہے کہ آپ ان طریقوں پر  نظریں جمائیں  جس سے استواء پر ایسی پہاڑی بن جائے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ شاید ایسا نہیں ہوا ہوگا۔"

     ایک اسی طرح کا ملتا جلتا تصوّر کہتا ہے کہ جب یہ بنا ہوگا تو آیاپیٹس اس قدر تیزی سے گھوم رہا ہوگا کہ اس کی مرکز گریز قوّت نے اس کو استواء پر دھکیلا ہوگا۔ جب سیارہ یا چاند مادّے کے بادلوں سے تکثیف ہوتا ہوا بنتا ہے تو  گھومتا ہے۔ قیاس ہے کہ آیاپیٹس   جب اپنی حالیہ صورت میں ڈھل رہا ہوگا تو وہ بہت تیزی کے ساتھ گھوم رہا ہوگا۔ لیکن کوئی بھی جسم جو آیاپیٹس کے حجم کا ہو اسے  اس طرح کی صورتحال  میں لمبوتری شکل کا ہونا چاہئے   اور جب وہ  اپنے گھومنے کے ١٧ گھنٹے کے دورانیے  کے ساتھ  حالیہ صورت میں منجمد ہوا تھا تو اس کو اب بھی وقت بھی اسی شرح سے گھومنا چاہئے تھا۔ ایک منجمد آیاپیٹس کے اندرون  میں اتنی رگڑ کی قوّت نہیں ہوگی کہ وہ اس کی گھومنے کی رفتار کو کم کرکے آج کی رفتار کی شرح پر لے آئے۔
     
    خاکہ 6.11 آیاپیٹس کی پراسرار پہاڑیوں کی نظام شمسی میں کوئی معلوم نظیر نہیں ہے۔  

    دوسروں کے مطابق یہ پہاڑیاں نیچے سے دھکیل کر اوپر آئی ہیں  لیکن اس کے لئے آیاپیٹس  کی باہری سخت قشر کو  کافی مہین ہونا ہوگا۔ اصل میں چاند کی قشر اس قدر موٹی ہے کہ  وہ ان لمبے پہاڑوں کو ان کی شکل بگاڑے بغیر سنبھالے ہوئے ہے۔ مہین پرت کی صورت میں ان کی شکل بگڑ جاتی۔ بھاری ساخت کے ارد گرد  ڈوبتی ہوئی قشر  جھکی ہوئی بد ہئیت کہلاتی ہے۔ یہ مظہر ان  تمام ارضی سیاروں اور کافی مہتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے جن کی قشر ٹھوس ہوتی ہے۔


    چاہئے تبدیل ہوتے ہوئے درجہ حرارت ہوں، اتار چڑھاؤ والے ہوا کے دباؤ ہوں یا مائع کا بہاؤ پست ترین نقطے کی طرف ہو ، قدرتی طاقتیں مستقل حالت توازن میں آنے کے لئے ایک دوسرے سے برسر پیکار رہتی ہیں۔ اس توازن یا میزان کو قشر ارض کا توازن کہتے ہیں۔ زمین پر قشر کی موٹائی (مثال کے طور پر پہاڑ) نیچے موجود سیال قشر کے اوپر   بوجھ کے ساتھ وزن رکھے ہوئے ہیں۔ اپنے اوپر لگنے والے دباؤ کو قشر دور منتقل کر دیتا ہے، اس طرح سے بھاری اجسام   ہم توازنیت میں آ جاتے ہیں۔ جسم کے ارد گرد موجود قشر اس کی اندرونی طرف مڑ جاتی ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: زحل کے چاند - بیرونی چاند آیاپیٹس حصّہ دوم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top