Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 29 فروری، 2016

    خلائی مخلوق پانے کی سب سے امید افزا جگہ



    ماورائے شمس گیسی دیو سیاروں کے چاند - -" خلائی مخلوق پانے کا سب سے امید افزا جگہ ہیں" 



    "ہم کائنات میں کہیں پر موجود حیات کو ثابت کرنے سے صرف چند دہائیوں پیچھے ہیں،" یہ بات فلکی طبیعیات دان رینی ہیلر نے کہی، جو مک ماسٹر یونیورسٹی کے اوریجنز انسٹیٹیوٹ میں مابعد ڈاکٹورل فیلو ہیں اور جنہوں نے اوریجنز انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور طبیعیات اور فلکیات کے پروفیسر پڈریٹز کے ساتھ کام کیا ہے۔ "ہم پورے وقت دوسرے سیاروں پر کھوج کرتے رہے ہیں جبکہ جواب کسی بھی چاند پر مل سکتا ہے۔"

    وہ محققین جنہوں نے ہمارے نظام شمسی سے دور کے سیاروی نمونے بنائے ہیں ان کے مطابق مریخ سے بڑے اور ضخیم چاند اس طرح کی کھوج کے لئے سب سے بہتر جگہ ہوں گے۔ ہمارے نظام شمسی کے اعداد و شمار اور کسی بھی دوربین کی بصری پہنچ سے دور دیو ہیکل سیاروں کے مشاہدے کا استعمال کرتے ہوئے، ہیلر اور فلکی طبیعیات دان رالف پڈریٹز نے دکھایا کہ ایسے سیاروں کے کچھ چاند قابل سکونت جگہ ہو سکتے ہیں۔ 


    ان کی تحقیق کے نتائج جون ٢٠١٥ء میں شایع ہوئے ، جس میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نظام شمسی سے دور کچھ ماورائے شمس سیاروں کے چاند مناسب حجم کے ہونے کے ساتھ ساتھ نہ صرف موزوں مقام پر موجود ہیں بلکہ حیات کو پالنے کے لئے ان میں پانی کی بھی کافی مقدار موجود ہے۔

    ماورائے شمس دریافت شدہ سیاروں کی تعداد اس وقت سے ہزاروں میں ہو چکی جب سے ان کی دریافت کے لئے نئے غیر بصری طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان طریقوں کی مدد سے سائنس دان سورج جیسے ستاروں سے آتی ہوئی روشنی کو ناپتے ہیں اور ان کے سیاروں کی دریافت کی تصدیق اس وقت کرتے ہیں جب وہ سیارے اپنے مدار میں چکر لگاتے ہوئے اس ستارے کے سامنے سے گزرتے ہوئے اس کو گہنا دیتے ہیں جس سے ستارے سے آنے والی روشنی ہلکی سے مدھم ہو جاتی ہے۔ 

    ہمارے نظام شمسی سے باہر زیادہ تر دریافت ہونے والے سیارے تو مشتری سے بھی زیادہ ضخیم ہیں، اور وہ اپنے سورج جیسے ستارے کے گرد زمین کے سورج کے فاصلے جتنا دور مدار میں چکر کاٹ رہے ہیں، تاہم یہ دور یہ فوق مشتری اصل میں گیسی دیو ہیکل گیندیں ہیں جو خود سے حیات کو نہیں پال سکتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی سطح ٹھوس نہیں ہے۔ تاہم ان کے چاندوں کی سطح پر مائع پانی کے موجود ہونے کی موزوں صورتحال پائی جاتی ہے لہٰذا ہم قیاس کر سکتے ہیں کہ وہاں حیات کا ظہور ہونے کے بعد اس کا ارتقاء ہو سکتا ہے۔ 

    ہرچند کہ تحقیق کا اصل دائرہ اثر ماورائے شمس سیارے تھے، مک ماسٹر کے مصنفین ان دیو ہیکل مشتری جیسے سیاروں کے چاندوں پر تحقیق کرنے کے زیادہ مشتاق ہیں، جو ان کے مطابق ہجرت کرکے دور دراز تاروں کے معتدل حصّے میں اپنی چاندوں کو اپنے گرد مدار میں لئے ان سمیت پہنچ چکے ہیں۔ 

    گھر سے قریب، ہیلر اور پڈریٹز نے مشتری کی شروعاتی زندگی کا نمونہ بھی بنایا، جس سے انھیں مشتری کے چاندوں میں برف کی تقسیم کے متعلق علم ہوا۔ اس سے فائدہ اٹھا کر وہ دوسرے نظام ہائے شمسی میں موجود فوق مشتری کے گرد بننے والے چاندوں کی تخلیق کے بارے میں رائے قائم کر سکتے ہیں۔ یہ چند مریخ سے دو گنا تک زیادہ ضخیم ہو سکتے ہیں۔

    اب تک 4,000 کے لگ بھگ ماورائے شمس سیاروں کو دریافت کیا جا چکا ہے، اور فنیات میں ہوتی بہتری کے ساتھ بس کسی بھی وقت کسی ماورائے شمس چاند کی دریافت ہوئی چاہتی ہے۔ اگر اس طرح کے دیو ہیکل چاند دوسرے دیوہیکل سیاروں کے گرد اپنا وجود رکھتے ہیں، تو وہ ناسا کی کیپلر خلائی دوربین سے حاصل کردہ اعداد و شمار میں پہلے ہی سے موجود ہوں گے، یا پھر یورپین اسپیس ایجنسی کی آنے والی پلاٹو خلائی مہم اور یورپی جنوبی رصدگاہ کی زمینی بہت ہی بڑی دوربین سے ان کا سراغ لگایا جا سکے گا۔

    درج بالا تصویر میں مشتری کا چاند آئی او دکھائی دے رہے ہے ۔ یہ تصویر جنوری ٢٠٠١ء کی کیسینی مدار گرد سے کیسینی ہائی گنز کی مہم کے دوران لی گئی ہے۔ سطح سے اوپر ١٨٦ میل تک مادّے کی دھاروں کے ساتھ، آئی او کو شدید ماورائے ارض حیات کو سہارا دینے والے اہم امیدوار کے طور پر گردانا جاتا ہے۔

    "ہر کوئی مطلقاً آئی او پر حیات کے ممکن ہونے کے امکان کو رد کر دیتا ہے،" واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے فلکی طبیعیات دان ڈرک شولز مکوخ کہتے ہیں۔ آئی او پر موجود حالت اس کو ماضی بعید میں حیات دوست بنا چکے ہیں۔ اگر آئی او پر حیات کبھی پیدا ہوئی ہوگی تو امکان ہے کہ وہ دور حاضر میں بھی اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئی ہوگی، شولز مکوخ کہتے ہیں۔

    "سطح پر تو حیات کا ہونا ممکن نہیں ہے، تاہم اگر آپ چٹانوں میں مزید نیچے اتریں، تو وہ جگہ مسحور کن ہو سکتی ہے،" وہ کہتے ہیں۔ "ہم اس کو ایسے ہی مردہ نہیں گردان سکتے کہ وہاں کا ماحول انتہائی شدید ہے۔" کمپیوٹر سے بنائے گئے نمونے بتاتے ہیں کہ آئی او مشتری کا گرد اس جگہ بنا ہوگا جہاں پانی کی برف کافی مقدار میں موجود تھی۔ آئی او کی حرارت مائع پانی کے وہاں پر موجود ہونے کے امکان کے ساتھ حیات کی موجودگی کے قیاس کو بظاہر کافی معقول بناتی ہے۔ " آئی او کے بننے کے فوراً بعد وہاں پر کافی مائع پانی کے ہونے کا امکان موجود ہے، یہ بات یوروپا اور گینی میڈ پر پانی کی برف کی مقدار کو دیکھتے ہوئے کہی جاتی ہے،" شولز مکوخ کہتے ہیں۔ 



    بشکریہ ڈیلی گلیکسی بذریعہ مک ماسٹر یونیورسٹی
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: خلائی مخلوق پانے کی سب سے امید افزا جگہ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top