Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات, فروری 25, 2016

    کرۂ ارض کی تاریخ کی پانچ اجتماعی معدومیت (Mass Extinctions) یا ناپیدگی میں سب سے بڑی تباہی کا ذمہ دار کون؟





    سال رواں کے مارچ کے مہینے میں ایم آئی ٹی کے محققین کی ایک ٹیم نے شاید وہ ثبوت حاصل کرلیا ہے جس سے مجرم کی شناخت کی جا سکے – تاہم آپ کو قاتل کو دیکھنے کے لئے خردبین کی ضرورت ہوگی۔

    محققین نے اپنی تحقیق کی بنیاد تین آزاد ذرائع سے حاصل ہونے والے ثبوتوں پر رکھی ہے۔ سب سے پہلا ارضی کیمیائی ثبوت بتاتا ہے کہ شارحانہ ([Exponential] یا اس سے بھی تیز شرح سے) سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی سطح خود ساختہ پرمین کے دور کی معدومیت کے اختتام پر بڑھنا شروع ہو گئی تھی۔ دوسرا جنیاتی ثبوت یہ بتاتا ہے کہ اس وقت میتھانوسارچینا (Methanosarcina) میں ہونے والی تبدیلی نے پانی میں جمع شدہ نامیاتی کاربن سے میتھین بنانے میں مدد دی۔ تیسرا اور آخری ثبوت رسوب ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ اسی وقت اچانک سے نکل (Nickel)کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ 


    یہ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والے سیارچے، آتش فشاں یا کوئلے کی برستی آگ نہیں تھی جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا رہا ہے۔ وہ اصل میں خرد بینی جرثومے تھے – بالخصوص میتھین بنانے والے آرکیائی جن کو میتھانوسارچینا کہتے ہیں - جو یکایک سمندر میں عود آئے تھے، اور کرۂ فضائی میں غیر معمولی مقدار میں میتھین کو اگل دیا تھا اور ڈرامائی طور پر انھوں نے ماحول اور سمندر کے کیمیائی خواص کو بدل دیا تھا۔

    آتش فشاں بھی مکمل طور پر اس ذمہ داری سے جان نہیں چھڑا سکتے ؛ نئے منظر نامے کے تحت وہ جرم میں معاونت کی حد تک شریک تھے۔ یکایک ٹڈی دل کی طرح پھیلنے والے ان خرد بینی جرثومے کی نشوونما کی وجہ نئی تحقیق کے مطابق شاید ان کی نامیاتی کاربن سے لبریز وسائل کو استعمال کرنے کی نئی صلاحیت تھی۔ جس میں ان کو اچانک سے ان اجزاء میں اضافے سے مدد مل گئی تھی جو ان کی نشوونما کے لئے درکار تھے ، یعنی نکل کا عنصر اسی وقت بھاری تعداد میں آتش فشانوں نے اگل دیا تھا۔

    اس پہیلی کا حل نیشنل اکیڈمی آف سائنس کی کاروائی میں شایع ہوا۔ یہ تحقیق ایم آئی ٹی کے ارضیاتی طبیعیات کے پروفیسر ڈینیل رتھ مین ، مابعد ڈاکٹر گریگوری فورنیر، اور پانچ دوسرے ایم آئی ٹی اور چین کے محققین نے مل کر کی تھی۔

    کاربن کے ذخائر بتاتے ہیں کہ کوئی ایسی چیز ہوئی تھی جس نے کاربنی گیسوں - کاربن ڈائی آکسائڈ یا میتھین – کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ کر دیا تھا جو اجتماعی معدومیت کے درمیان پیدا ہوئی تھیں۔ کچھ محققین خیال ظاہر کرتے ہیں کہ یہ گیسیں شاید ان آتش فشانوں نے اگلی ہوں گی جنہوں نے سائبیریا کے پھندے - ایک وسیع آتش فشانی چٹانیں جو زمین کے ارضیاتی نامچے کے مطابق سب سے زیادہ بڑے پیمانے پر پھٹی تھیں - بنائے تھے ۔ تاہم ایم آئی ٹی کی ٹیم کے اعداد و شمار نے یہ بتایا کہ یہ آتش فشانی پھٹاؤ رسوبی چٹانوں میں ملنے والی کاربن ڈائی آکسائڈ کے لئے کافی نہیں تھے۔ بلکہ اہم بات تو یہ تھی کہ گزرتے وقت کے ساتھ کاربن میں ہونے والی مشاہداتی تبدیلی آتش فشانی نمونے پر پوری نہیں اترتی تھی۔

    "آتش فشانوں سے نکلنے والے کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج شروع میں بہت سرعت کے ساتھ تھا تاہم یہ بتدریج سست پڑتا گیا، اور ہم اس کے برعکس تیز رفتاری سے اخراج میں کمی مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس سے خرد بینی پھیلاؤ کا عندیہ ہی ملتا ہے،" فورنیر کہتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کی پیداوار میں تیز رفتاری سے اضافہ بلکہ رفتار میں اسراع پیدا کرنے والے چند مظاہر میں سے ایک خرد بینی جراثیم کی آبادی میں اضافہ ہے۔

    تاہم اگر ان جاندار اجسام نے یہ تمام میتھین اگلی تھی تو وہ کون سے اجسام تھے، اور انھوں نے اسی وقت ایسا کیوں کرنا پسند کیا؟

    یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں لونیت کا تجزیہ کام آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ میتھانوسارچینا نے میتھین بنانے کے لئے کسی تیز رفتار صلاحیت کو ایک دوسرے خرد بینی اجسام سے جنین تبدیل کرکے حاصل کرلیا تھا - اور وہ ٹیم جو اس جاندار کی تاریخ تفصیلات کا نقشہ بنا رہی ہے اب ہمیں بتاتی ہے کہ یہ جنیاتی انتقال پرمین معدومیت کے آخر (end-Permian extinction) میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ ( اس سے پہلے ہونے والی تحقیق میں اس واقعہ کو پچھلے ٤٠ کروڑ برسوں کے درمیان رکھا گیا تھا۔) موزوں ماحول کے ملتے ہی، اس جنیاتی انتقال نے خرد بینی جراثیم کے لئے وہ سیج تیار کی جس میں ان کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا اور انھوں نے سمندروں کی تلچھٹ میں موجود نامیاتی کاربن کے وسیع ذخائر کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔

    تاہم اس معمے کا ایک آخری ٹکڑا بچا تھا۔ وہ اجسام اس تیز رفتاری سے پھیل نہیں سکتے تھے تاوقتیکہ ان کی آبادی کو بڑھانے کے لئے موزوں مقدار میں معدنی اجزاء موجود ہوں۔ اس خاص قسم کے خرد بینی جسم کے لئے وہ معدنی اجزاء نکل تھا –چین میں ہونے والی تلچھٹ (sediment) کے نئے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ڈرامائی اضافہ سائبیریا کے آتش فشانوں پھٹاؤ کے بعد ہوا تھا (یہ آتش فشانی پھٹاؤ پہلے ہی نکل کے سب سے بڑے ذخیرہ بنانے کے لئے جانے جاتے ہیں)۔ اسی چیز نے میتھانوسارچینا کی تیز رفتاری سے بڑھتی ہوئی آبادی کو اسراع دیا۔

    میتھین کی بوچھاڑ نے سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی سطح میں اضافہ کیا ہوگا جس سے وہ تیزابی ہو گئے ہوں گے - جس طرح سے سمندروں کو انسانوں کے ماحولیاتی عمل سے تیزابی ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے – اور انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو جنم دیا ہوگا۔ آزادانہ ثبوت بتاتے ہیں کہ آبی جاندار جن کے بھاری کیلشیم سے بنے ہوئے خول تھے وہ اس پرمین معدومیت کے اختتام پر ختم ہو چکے تھے ، اور یہ بات تیزابی سمندر سے میل کھاتی ہے۔

    "اس کام کے نتائج کافی حد تک کاربن ہم جاؤں کے تجزیہ پر انحصار کرتے ہیں،" رتھ مین کہتے ہیں، جو اس دور کے ارضیاتی نامچے میں کافی مضبوط اور واضح ہوں گے۔ " اگر یہ کوئی غیر معمولی اشارہ نہیں ہوتا، تو دوسرے امکانات کو الگ کرنا کافی مشکل کام ہوتا۔"

    جان ہیز جو ووڈز ہول اوشین گرافک انسٹیٹیوٹ کے ایک محقق اور اس تحقیق میں شامل نہیں تھے ، کہتے ہیں کہ "یہ کام طبیعیات، خرد حیاتیات اور ارضی کیمیا کا ایک غیر معمولی امتزاج ہے۔ برسوں کی محنت اور عرق ریزی کے بعد اس کام نے ہمیں بہتر وقت کا پیمانہ اس واقعہ کے لئے مہیا کیا جو زمین کی سب سے بڑی اجتماعی معدومیت کے سنگ تھا۔"

    ہیز مزید اضافہ کرتے ہیں کہ ٹیم کی اس ایک جرثومے کی شناخت جو زیادہ تر تبدیلیوں کے لئے ذمہ دار تھا وہ "پہلی مرتبہ جانے جانا والا واقعہ ہے جب کسی عمل کے لئے واحد دھماکے دار حملے کو اس طرح سے شناخت کیا گیا ہے، اور اس نے معدومیت سے متعلق ہمارے علم میں کافی اہم باتوں کا اضافہ کیا ہے۔"

    ہرچند کہ کوئی ایک ثبوت یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ قدیمی معدومیت کے وقت کیا ہوا تھا، ان چیزوں کا اجتماعی اثر کسی انفرادی چیز سے کہیں زیادہ ہے ،" رتھ مین جو ایم آئی ٹی لورینز سینٹر کے شریک ڈائریکٹر بھی ہیں کہتے ہیں۔ ہرچند کہ حتمی طور پر تو یہ بات ثابت نہیں کرتی کہ جرثوموں نے ایسا کیا ہوگا، تاہم یہ کچھ متبادل نظریات کو رد کر دیتی ہے اور ایک مضبوط اور پائیدار صورت ان کے لئے بناتی ہے، وہ کہتے ہیں ۔ 


    یہ تحقیق ناسا، نیشنل سائنس فاؤنڈیشن ، نیچرل سائنس فاؤنڈیشن آف چائنا اور نیشنل بیسک ریسرچ پروگرام آف چائنا کے تعاون سے انجام پائی۔















    ایم آئی ٹی:"پانچ اجتماعی معدومیت (Mass Extinctions)میں سب سے بڑی معدومیت کا ذمہ دار خرد بینی جراثیم (Microbes)تھے "

    تصویر کا ٹائٹل:وقوعہ پر موجود ثبوت فراواں اور عالمگیری ہیں: ركاز بتاتے ہیں کہ کچھ ٢٥ کروڑ ٢٠ لاکھ برس پہلے زمین پر موجود ٩٥ فیصد انواع(Species) یکایک غائب ہو گئیں - اب تک کی اس سیارے کی پانچ معلوم معدومیت میں سے یہ سب سے بڑی اجتماعی معدومیت ہے۔ تاہم اس معدومیت کے مجرم کو ڈھونڈنا مشکل اور متنازع رہا ہے۔


    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کرۂ ارض کی تاریخ کی پانچ اجتماعی معدومیت (Mass Extinctions) یا ناپیدگی میں سب سے بڑی تباہی کا ذمہ دار کون؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top