Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    اتوار, اگست 21, 2016

    سحابیہ ایک حقیقی نظریہ - حصّہ اوّل




    قدیم یونانیوں اور رومیوں کے لئے زمین کائنات کا مرکز اور اس کا سب سے اہم جز دونوں ہی تھی۔ ہرچند کہ یونانی فلسفیوں کے پاس چاند کے فاصلے کے بارے میں ٹھوس علم تھا، تاہم یہ صرف سترویں صدی میں دوربین کی ایجاد کے بعد ہی ممکن ہوا تھا کہ کوئی بھی ستارے کی دوری کو ٹھیک طرح سے سمجھنا شروع کر سکے۔ گیلیلیو فلکیات کے مشاہدے کے لئے دوربین کا استعمال کرنے والا پہلا شخص تھا، اور وہ یہ دریافت کر کے حیران تھا کہ دوربین کی بڑا کرنے کی طاقت کی مدد کے باوجود بھی ستارے سورج یا سیاروں کے کرہ کی طرح روشنی کے فقط نقطوں کی طرح ظاہر ہو رہے تھے۔ اس کا یہی مطلب ہو سکتا تھا کہ وہ سورج اور سیاروں سے بہت ہی دور تھے۔ اس نے دوربین کی مدد سے کثیر ستاروں کو دیکھا جو ننگی انسانی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے تھے، اور اس کی دوربین نے ملکی وے کو بذات خود انفرادی ستاروں کے مجموعہ سے مل کر بنتا ہوا دیکھا۔ اسی وقت جب سترویں صدی کی ابتداء میں گیلیلیو کائنات کے مشاہدے کے لئے ایک نئی کھڑکی کھول رہا تھا، جوہانس کیپلر ہمارے اپنے پچھواڑے یعنی نظام شمسی کی نظریاتی تفہیم کے لئے بنیاد ڈال رہا تھا۔ اس کی اس دریافت نے جس میں سورج کے گرد مدار میں سیارے ایک مرتبہ چکر مکمل کرنے میں کتنا وقت لیتے ہیں اور سورج سے سیارے کے اوسط فاصلے کی نسبت نے 1670ءمیں زمین سے سورج کے فاصلے کے بارے میں معقول حد تک درست اندازہ لگانے میں مدد دی، اب ہم جانتے ہیں کہ یہ فاصلہ 15 کروڑ کلومیٹر کا ہے۔ کیپلر کے مشاہدے نے نیوٹن کی قوّت ثقل کے مطالعے کی بنیادوں میں سے ایک کو فراہم کیا۔ 

    فلکیات دانوں کو دونوں کے مشاہدات اور نظریات کو بہتر کرنے میں مزید 150 برس لگ گئے اور 1830ء کی دہائی میں پہلی مرتبہ چند ستاروں کے فاصلے کے بارے میں درست اندازہ قائم کیا۔ اس طرح اور بیسویں صدی کے میں لگائے گئے اندازے دور دراز کہکشاؤں تک کے فاصلے کی پیمائش کرنے کے لئے سیڑھی کا پہلا قدم بنے۔ تاہم اس سے پہلے جب سیاروں کا صحیح فاصلہ معلوم تھا تو سترویں صدی کی انقلابی دریافتوں نے کائنات کی ایک نئی تصویر دے دی تھی، یہ تصویر پرانے زمین کے گرد شیشے کے گولے کی تصویر کے مقابلے میں وسیع عظیم پیمانے کی تھی اور یہ زحل کے مدار سے تھوڑی سا اور آگے چلی گئی تھی۔ اٹھارویں صدی میں، چند فلسفیوں نے ان نئی دریافتوں کو تصویر کی صورت میں دیکھنا شروع کیا، ملکی وے کا ایک خیالی نمونہ بنایا اور کائنات میں اس کے مقام کا تعین کیا۔ یہ نمونہ حیرت انگیز طور پر جدید سوچ کے قریب تر ہے، اور اس نے فلسفیوں اور فلکیات دانوں کے درمیان دو صدیوں تک باقی رہنے والے دور میں بحث کو باقی رکھا۔ 

    کائنات کے نئے نظریئے - پہلے جدید کائناتی نظرئیے - کا سہرا انگلستان کے رائٹ ڈرہم کو جاتا ہے۔ رائٹ ایک انگریز فلسفی تھے جو 1711ء میں پیدا ہوئے، وہ اپنے دور کے دوسرے فلسفیوں کی طرح مختلف نوع کے موضوع میں دلچسپی لیتے تھے جس میں فلکیات بھی شامل تھی۔ وہ ایک بڑھئی کے بیٹے تھے، اور فلکیات میں ان کی دلچسپی کا سبب بچپن کے ایک استاد تھے۔ تاہم ان کی رسمی تعلیم بولنے میں زبردست لکنت کی وجہ سے کم ہو گئی تھی، اور کچھ عرصے وہ بے لگام رہا، اس نے یہ بات ہمیں اپنے جریدہ کے ذریعہ بتائی ، 'کھیل کا کافی نشہ ہو گیا تھا'۔ تیرہ برس کی عمر میں وہ گھنٹے اور گھڑی سازی میں مبتدی بن گیا جہاں اس نے چار برس کام کیا تاہم وہ اپنی والدہ کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے اپنا فالتو وقت فلکیات کے مطالعہ میں گزارتا، تاہم اس کا والد اس کے سخت خلاف تھا، اور وہ ہر وہ حربہ استعمال کرتا جس سے اس کو اس مطالعہ سے روک سکے، یہاں تک کہ نوجوان تھامس کی کتابوں کو بھی اس نے آگ لگا دی۔ اپنے عہد شباب کے ہنگامہ خیز برسوں کے دوران رائٹ نے ملاح کی زندگی گزارنے کی بھی کوشش کی، تاہم اس زندگی کو اپنے پہلے سفر کے دوران زبردست طوفان کا سامنا کرنے کی وجہ سے چھوڑ دیا، اس کے بعد وہ سندرلینڈ میں اس کی تعیناتی بطور ریاضی کے معلم کی ہوئی ، جہاں اس کو پادری کی بیٹی سے تعلقات قائم کرنے کے الزام کا سامنا کرنا پڑا، پھر اس نے جہاز رانوں کو سمندری راستوں کے متعلق پڑھانا شروع کیا، اور پھر 1730ء میں اس نے (ابتداء میں ایک بد دیانت پبلشر کے ہاتھوں مصیبت اٹھانے اور جنتری بنانے کی ناکام کوشش کے بعد) کامیابی اور خوش اقبالی کو سمیٹنا شروع کیا۔ زبان کی لکنت اگر چہ اب موجود بھی تھی تاہم نوجوان آدمی کی خود اعتمادی اور اعتماد بالنفس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ وہ شاندار گھر (یا کوئی بہتر) کو خریدنے کی نیت سے دیکھ سکتا تھا، فطری فلسفے، ریاضی یا بحری سفر کی نجی بیٹھک لگا سکتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ کامیاب کتابیں اور اعلانات شایع کروا سکتا تھا۔ 1742ء تک اس کی شہرت اس طرح کی ہو گئی تھی کہ رائٹ کو سینٹ پیٹرزبرگ میں واقع امپیریل اکیڈمی میں بحری سفر کے راستوں کا پروفیسر بننے کے لئے 300 پاؤنڈ سالانہ تنخواہ پر مدعو کیا گیا؛ اس نے اس نوکری کو اس وقت رد کر دیا جب انہوں نے اس کی تنخواہ کو 500 پاؤنڈ تک بڑھانے سے انکار کیا۔ لہٰذا وہ کامیاب، تعلیم یافتہ (اگرچہ زیادہ تر خود ہی سے پڑھا تھا) اور اپنے دور کا معقول حد تک جانے جانا والا فلسفی تھا، تھامس رائٹ نے 1750ء میں اپنے کام کو بعنوان اصلی نظریہ یا کائنات کا نیا مفروضہ کے نام سے شایع کیا۔ یہی وہ کام ہے جس کی وجہ سے وہ آج جانا جاتا ہے، سائنس کی تاریخ میں اس کی کتاب کا وہ مقام اور اہمیت ہے جس کی وجہ سے یہ کتاب 1971ء میں دوبارہ فیکس کی صورت میں شایع ہوئی۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: سحابیہ ایک حقیقی نظریہ - حصّہ اوّل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top