Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, اگست 27, 2016

    حیات کا مستقبل





    زمین ہمارا سیاروی گھر ہے۔ ہم اس کو حیات کا پالنا کہتے ہیں۔ اس تصوّر کی جڑیں بہت گہری لیکن غلط ہیں۔ گھر ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں ہم رہتے ہیں ، بڑھتے ہیں اور اس جگہ کو چھوڑ دیتے ہیں ؛ ہم اس کی خریدو فروخت بھی کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی سیارہ حیات کے لئے گھر نہیں ہو سکتا۔ اس کے بجائے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ سیارہ اور اس پر موجود حیات دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ اس بحث کو میں اگر اس جگہ پر چھوڑ دوں گا تو قارئین مجھ پر الزام لگائیں گے کہ میں نے کوئی بہت ہی سطحی بات کی ہے بالکل ان سیاست دانوں کی طرح جو ایک بات کو مختلف پیرائے میں بیان کرکے عوام کا خون مزید ٹیکس لگا کر نچوڑتے ہیں۔ بہرصورت حیات ایک سیاروی مظہر ہے ، اگرچہ یہ ایسی کوئی عارضی چیز نہیں ہے جیسا کہ کوئی طوفان یا کوئی بے ربط چیز جیسا کہ ٹیکٹونک پلیٹ۔ اس کے باوجود ہمارے پاس فرد واحد موجود مثال یہ بتاتی ہے کہ یہ (دوسرے "حیات سے محروم" سیارے پر ) منتقل ہونے کی خاصیت کی حامل ہے۔ یا کم از کم ہم تو ایسا سمجھتے ہیں۔

    ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟جیسا کہ میں نے تمثیلی طور پر تین سیارے کے بارے میں تجویز کیا تھا۔ ہم پہلے ہی اس بات سے خبردار ہیں کہ کیمیائی عمل جس کو ہم حیات کے نام سے جانتے ہیں وہ اتنا طاقتور ہے کہ حیات کو زمین سے چاند کی طرح منتقل کر سکتا ہے۔ اس بات کی بھی کافی امید ہے کہ ہم نے جرثوموں کو اپنے خلائی جہاز میں بیٹھا کر مریخ کی سطح پر مستقل اتار دیا ہو – شاید اس سے بھی آگے چاہئے وہ ٹائٹن ہو جہاں پر ہم نے ہائے گنز بھیجا تھا یا پھر وائیجر جو اب پتا نہیں کہاں تک جا پہنچا ہے۔ لیکن اس قسم کی منتقلی خوردبینی حیات کی تخمک شاید ہمارے خلاء کو کھوجنے سے بہت پہلے ہی لمبے فاصلوں پر ہو گئی تھی۔ جب زمین پر اس کی تاریخ میں سیارچوں کی بارش ہوئی تھی تو اس میں آتا ہوا مادّہ اتنا ہی تھا جتنا خلاء میں جانے والا مادّہ تھا اور اس بات میں کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہئے کہ اس مادّے میں موجود کچھ حیات نے گرد میں پیوستہ رہ کر یا پھر سیارچوں کی صورت میں بین النجمی سفر بھی کر لیا ہوگا یہاں تک کہ وہ کسی نئے گھر یا دوسرے قابل رہائش سیارے پر پہنچ گئے ہوں ۔ اس طرح سے ہم سیارہ زمین کو گھر تصوّر کر سکتے ہیں یا پھر ایک ایسا پالنا جو روایتی طور پر حیات کو پالتا پوستا ہو۔ یہ قدیم نظریہ "عالمگیر انتشار " (Panspermia)کہلاتا ہے۔

    عالمگیر انتشار جس کا مطلب ہے' ہر جگہ بیچ " ہے ایک قدیم خیال ہے جو یونانیوں میں سقراط کے دور تک جاتا ہے۔ سویڈنی کیمیا دان سونتے ارہینیس (Svante Arrhenius) نے اس خیال کو بیسویں صدی میں دوبارہ اٹھایا۔ ١٩٧٠ء کی دہائی میں اس کی موافقت میں مزید دلائل فریڈ هوئیل (Fred Hoyle)اور چندرا وکرم سنگھ (Chandra Wickramasinghe) نے دیئے، جس میں سیارچوں کو بطور تخمک پرداز(Spores) تسلیم کیا گیا تاکہ حیات کو اشعاع کی تابکاری سے بچایا جا سکے۔(ہوئیل اور وکرم سنگھ ابدی دائمی کائنات کے حامیوں میں سے تھے۔ جس میں کسی بھی تخمک نے ہماری کہکشاں میں کافی دفعہ سفر کرکے اس کو ستاروں میں اچھی طرح سے شامل کر دیا تھا۔)

    اس قسم کی سوچ نے فرمی کے تناقض کو بہت ہی زیادہ قابل توجہ بنا دیا۔( ایک علاقائی مفروضہ بھی موجود ہے جو بین السیارہ حیات کی منتقلی جیسا کہ مریخ سے زمین کو بیان کرتا ہے۔ اس نظرئیے کا تصوّر کچھ اس طرح سے ہے : ایک بڑے سیارچے نے گیلے مریخ سے ٹکر کھا کر گرد کو خلاء اور کچھ سورج کے گرد خودمختار مداروں میں بھیج دیا تھا۔ ہرچند کہ ان تصادموں کی شکل کچھ ڈرامائی دھماکوں کی صورت میں تھی (جس میں چٹانیں پگھل کر فضا میں تحلیل ہو گئیں تھیں) اس کے باوجود کچھ چٹانوں کی باقیات مکمل طور پر حرارت کے اثر اور ٹوٹنے سے بچ گئی تھی۔ اگر مریخ زندہ تھا ، اور اس کی گہرائی میں چٹانوں کے اندر جرثومے زندہ تھے ، تو جرثوموں کی کئی بستیاں چٹانی پتھروں کے اندر باقی رہ گئی ہوں گی۔ 

    کروڑوں برس گزرنے کے ساتھ چھوٹی چٹانوں کے مداروں میں سیاروں کے بدلتے ہوئے ثقلی کھنچاؤ کی وجہ سے کچھ بے کلی ہوئی۔ اکثر یہ مدار ڈرامائی طور پر بدلتے ہوئے بڑے سیاروں کے مداروں کو پار کرنے لگے۔ ان میں سے کچھ کا سفر بطور شہابیے پڑوسی سیاروں کی سطح پر جا کر ختم ہو گیا۔ زمین پر کئی مریخی شہابیے موجود ہیں ؛ ان کی شناخت آسانی کے ساتھ ان میں موجود معدنیات اور چھوٹے مریخی فضائی بلبلوں سے کی جا سکتی ہے۔ یہ مفروضہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اگر مریخ پر کبھی حیات موجود تھی تو وہ سیارہ زمین پر بھی پہنچ سکتی ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس سلسلے کی مخالفت میں دوسری جانب جانے کا امکان کم ہے کیونکہ باہری نظام شمسی سے آنے والا ٹریفک سورج کی جانب آتا ہے۔ جب مدار بدلتے ہیں تو اجسام سورج کی جانب آنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

    کیا ایسا کبھی ہوا تھا اس سوال کا جواب صرف مشاہدہ ہی بیان کر سکتا ہے کیونکہ اس کا نظام خود کافی قرین قیاس ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کچھ ایسے جرثومے ہیں جو اس قدر ڈھیٹ ہوتے ہیں کہ خلاء میں سفر کرتے ہوئے اونچے اور نچلے دونوں قسم کے درجہ حرارت اور اشعاع ریزی میں سے بھی زندہ بچ جاتے ہیں۔ ایک شہابیے کو مریخ سے زمین تک آنے میں لگ بھگ دس سال سے زائد کا عرصہ لگتا ہے۔ ایسے بین النجم سفر ممکن تو ہیں لیکن ایسے سفر میں درکار عرصہ بہت لمبا ہوگا۔ اگر تخمک ارب ہا برس کے سفر میں زندہ بھی باقی رہ گیا ہو (فی الوقت کوئی بھی ایسا تخمک معلوم نہیں ہے )، تو سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا ہماری کہکشاں کی تاریخ میں اس طرح کے سفر کو مکمل کرنے کے لئے کافی وقت موجود ہے۔ جیسا کہ پچھلے باب میں بیان کیا گیا ہے کہ ہماری کائنات کافی نوخیز ہے ، حیات کے لئے درکار اجزاء اس سے بھی نوخیز تر ہیں۔ جب حیات کے ارتقا اور اس کی نمو کے لئے موجود کائنات میں وقت اتنا نہیں گزر ا ، تو ہماری اتنی بڑی کہکشاں میں موجود دور دراز ستاروں کے لئے درکار تخمک کے سفر کے لئے وقت کہاں سے آیا ہوگا۔ ہرچند کہ آج حیات عالمگیر انتشار کی وجہ سے نہیں پھیلی ہے ، لیکن یقینی طور پر مستقبل میں ایسا ہو سکتا ہے۔

    عالمگیر انتشار ایک لمبے عرصے پر وقوع پذیر ہونے والا مظہر ہے، لہٰذا حیات کا مستقبل کم از کم ہمارے سیارے پر تو کافی تاریک لگتا ہے ایک طرح سے ارتقاء اسی اصول پر انہی اوزاروں مثلاً ڈی این اے آراین اے کے ساتھ جاری رہے گا۔ لیکن میرے خیال میں ایسا کوئی بھی منظر نامہ سچائی سے کہیں زیادہ دور ہوگا۔ در حقیقت ہم اکیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں جی رہے ہیں ، یہ وہ صدی ہے جہاں زمین کی تاریخ نے ایک شاندار موڑ لیا ہے۔ چار ارب سال میں پہلی دفعہ نئی نوع اس عملی طریقے سے نہیں نمودار ہو رہی ہیں جس نے سیارے پر موجود حیات کی بوقلمونی کی تھی۔ اس کے بجائے ایک نوع دوسری نوع کی ترکیب سازی کر رہی ہے - حیات کی شکل منفرد ہے لیکن اس طرح سے نہیں کہ کوئی کتے کی نئی قسم پیدا ہو رہی ہے یا کوئی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بھٹے کا پودا کچھ مختلف آرائشوں سے اپنے جد امجد سے منفرد ہو گیا ہے۔ وہ اس لئے نیا ہے کہ اس کی حیاتی کیمیا منفرد ہے ، ایک حیات کی نئی قسم جس کی جگہ زمین پر موجود شجر حیات میں کہیں بھی نہیں بنتی ، ایک نئی حیات کی شکل ایک نئی حیاتی شجر کی جڑ میں بن رہی ہے۔

    میں ایک نئے میدان کے آغاز کو بیان کرنے جا رہا ہوں - تالیفی حیات(Synthetic Biology)۔ زمین پر موجود تمام حیات میں ایک قابل ذکر شراکتی حیاتی کیمیا موجود ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ہم ای کولی (E۔ Coli)، پھل مکھی اور چوہوں کو اپنے نائبین کے طور پر اپنی حیاتیاتی تجربہ گاہ میں استعمال کرتے ہیں۔ خلوی نظام بھی کافی حد تک ایک جیسا ہی ہے۔ تالیفی لونیتی (Synthetic Genomics)] یا عام طور پر حیاتی انجینئرنگ کے طور پر جانے والے ]عمل کے ذریعہ سائنس دان اس وحدت کو استعمال کرتے ہوئے افعال اور اشکال میں بوقلمونی حاصل کر لیتے ہیں۔ ذرا پرانے افزائشی طریقوں کے بارے میں تصوّر کریں یا پھر حالیہ امید افزا مکمل جرثوموں کے لونیہ کی صورت گری سوچیں۔ تالیفی حیاتیات ، جس طرح سے میں اس میدان کا حوالہ یہاں پر دے رہا ہوں ، وہ تالیفی لونیت سے تصوری اور عملی دونوں اطوار پر کہیں زیادہ دور جائے گی۔ یہ صرف کسی لونیہ کی تبدیلی تک یا پھر کسی نئے لونیہ کو بنانے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ تو ایک تالیفی حیاتی نظام کو بنائے گی جو قدرتی طور پر پایا نہیں جاتا اور اس طریقہ استعمال سے یہ حیات کے عمل کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکے گی۔ یہ بنیادی حیاتیاتی کیمیا کو تبدیل کر دے گا اور اسی لئے حیات کی حاصل ہونے والی نئی شکل زمین پر موجود قدرتی شجر حیات سے تعلق نہیں رکھتی ہو گی۔

    تالیفی حیاتیاتی تحقیق اپنی تعریف میں حیات سے زیادہ کیمیا سے قریب ہے، جبکہ جینیاتی انجینئرنگ کیمیا سے زیادہ حیات سے قریب ہے۔[یہی وجہ ہے کہ ٢٠٠٧ء میں پئیر لوگی لوسی(Pier Luigi Luisi) نے "کیمیائی تالیفی حیات "(Chemical Synthetic Biology) کی اصطلاح گڑھی]۔ میں اس کے ایک مرکزی حصّے کی تحقیق کا مقصد مصنوعی خلیہ اصغر کو دیکھتا ہوں جو ایک تھیلی میں ملفوف ایک مفروضی کیمیائی نظام ہو اور حیات کے اہم افعال سرانجام دے سکتا ہو ۔ اس کے یک خلیہ ہونے کی وجہ ایک تھیلی ہے ؛ یہ اصغر اس لئے ہے کہ اس کو چھوٹا کرکے صرف اس میں وہ چیزیں باقی رکھی گئی ہیں جو اپنے وجود کے خود کار دوام اور اس کے ارتقاء کے افعال کو سرانجام دے سکے ، یہ مصنوعی اس لئے ہے کہ ایسا کوئی بھی قدیمی نظام زمین پر پایا نہیں جاتا ، زمین پر سادے سے سادہ جرثومے بھی انتہائی پیچیدہ اور گنجلک خلیوں پر مشتمل ہیں اور ہر قابل تصور جگہ پر یہ پائے جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف لونیاتی انجنیئر اسی طرح کے اونچے درجے کے پیچیدہ اجسام کے ساتھ کام کرتا ہے جس میں نباتات اور جاندار دونوں شامل ہیں اور وہ ان کو تبدیل کرنے میں جتے رہتے ہیں تاکہ وہ ان طریقوں سے کام کر سکیں جو قدرت کی ودیعت کردہ صلاحیتوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہیں۔

    تالیفی حیات ایک ایسی وعید لے کر آئی ہے جس میں ایک متبادل حیاتی کیمیا ممکن ہے جو خودمختار طور پر دوسرے سیاروں (یا زمین پر موجود حیات )سے الگ بنایا جا سکتا ہے۔ اس عمل کی غیر معمولی بات بجائے مادّے کی نئی اقسام یا نئی طاقتوں کو دریافت کئے جانے کے اس میں عام کیمیا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ متوقع دریافتیں قدرت کے نئے بنیادی اصولوں (یا قوانین )کو جاننے میں ہی پنہاں ہیں۔ یہ اس لئے بھی غیر معمولی ہیں کیونکہ یہ ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ہم حیات کے ماخذ سے متعلق اس طرح سوال اٹھا سکیں جو سائنس کو کسی زبردست دریافت کی جانب لے جائے : ابتدائی شرائط کا زمینی حیاتی کیمیا کی اشکال کو وحدت دینے میں کیا کردار رہا ہے ؟ کیا سیاروی ماحول کی بوقلمونی کو متبادل حیاتی کیمیا کی بوقلمونی پر نقش کیا جا سکتا ہے ؟

    یہ عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ اس کتاب میں جگہ جگہ پروائے گئے ان تمام دھاگوں کو ایک ساتھ کھینچ کر ایک ایسی ترکیب میں بنے گا جو بمشکل اب جا کر ممکن ہوا ہے۔ تجربہ گاہ میں ہونے والے کام کے براہ راست مضمرات دور دراز سیاروں پر ہونے والی فلکیاتی حیات کی تلاش پر بالعکس پڑے ہیں: ان دور دراز پائی جانے والی چیزوں نے تجربہ گاہ میں ہونے والی متبادل حیاتی کیمیا کی تلاش کو بڑھاوا دیا ہے۔ اس بات کی کھوج کرنے کے لئے کہ ہم کائنات میں اکیلے نہیں ہیں ہمیں حیات کو سمجھنا ہوگا ، اور حیات کو سمجھنے کے لئے ہمیں یہ بات جاننی ہو گئی کہ اس کی کیمیا کو کیسے بنایا جائے۔

    جب ہم ان مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ارضی حیاتی کیمیا کی وحدت ہمیں اہم اور مدد گار معلومات فراہم کرتی ہے۔ تمام کیمیا کے بارے میں - اس کے کروڑوں سالمات اور ان تعاملات کے بارے میں جو ان کے درمیان مختلف ماحول میں وقوع پذیر ہوتے ہیں – بڑے پیمانے پر سوچیں۔ ریاضی کی زبان میں بات کریں تو خلاء کی کافی جہتیں ہیں جو انسانی فہم و ادراک سے بالا تر ہیں ، لیکن اگر ہم کچھ معلوم چیزوں کو چن لیں اور کئی جہتوں کو صرف دو یا تین جہتوں تک کم کر لیں، تو ہم کچھ نمونوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اکثر و بیشتر پہاڑوں اور وادیوں کے جغرافیائی نقشے جیسے دکھائی دیں گے۔ سائنس دان اکثر ایسی خلاء کو "ارضی منظر"(Landscape) کہتے ہیں۔ کیمیائی ارضی منظر خاکہ نمبر 12.1میں دکھایا گیا ہے۔
    12.1 by Zonnee, on Flickr

    12.1یہاں پر پیش کیا جانے والا کیمیا میدان ایک تمثیل ہے جو تمام سالمات کی جگہ اور ان کے کیمیائی تعاملات کو مثال کے طور پر سالماتی تعاملیت کی صورت میں پیش کر رہی ہے ۔ خالی جگہ کے ارد گرد سالماتی ترتیب (جوہروں سے پائی گئی ) کے داخلی راستے مختلف ماحول میں گھرے ہوئے ہیں ۔ ہم ان کو "ابتدائی شرائط " کہتے ہیں ۔ ایسی ابتدائی حالت جیسی کہ زمین پر شروع میں تھی اکثر قدرتی طور پر نمودار ہو سکتی ہے؛ اکثر اس کو تجربہ گاہ میں بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ میدانی منظر میں دکھائی جانے والی سب سے اونچی چوٹی کرۂ ارض کی حیات کی حیاتیاتی کرہ کو بیان کرتی ہے ؛ابتدائی ارضی صورتحال سے ایک راستہ اس طرف جاتا ہے ۔ ہمیں نہیں معلوم اگر دوسری حیاتیاتی کیمیا اپنا وجود رکھتی ہیں نہ ہی ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ ان کی جانب یا زمین کی حیاتیاتی کیمیا (یا اس کے عکسی ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ استعمال کرنے کی نسبت رجحان کا ورژن : دوسری قریبی چوٹی ) کے استعمال کی جانب ایک سے زیادہ راستے جاتے ہیں۔ 

    کیمیائی ارضی منظر کی سب سے غیر معمولی خاصیت اس کی اونچی چوٹی ہے - تنگ اور اچھی طرح سے بیان کردہ - جو تمام ارضی حیات کی حیاتی کیمیا کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ چوٹی اونچی اس لئے ہے کیونکہ آج حیات بہت زیادہ پر اثر کیمیائی نظام ہے ؛ ارتقاء نے اپنا جوبن گزرتے وقت کے ساتھ حاصل کیا ہے۔ دوسری طرح اس کی تنگ بنیاد یہ بتاتی ہے کہ حیات اپنی کیمیائی پسند میں کس طرح سے چناؤ کرتی ہے۔ وسیع کیمیائی ارضی منظر میں دستیاب کروڑوں میں سے یہ چن کر صرف بیس امینو ایسڈ ، صرف الٹے ہاتھ والے ، صرف چند پروٹین ، صرف آر این اے اور ڈی این اے اور اسی طرح دیگرے کا استعمال کرتی ہے۔ کیا ارضی منظر میں دوسری اونچی چوٹیاں بھی موجود ہیں؟ اگر ہیں تو ان میں سے کون سی ایسی ہیں جو حیاتی کیمیا ("دوسری حیات")کے متبادل کے طور پر استعمال ہو سکتی ہیں؟ کیا ان میں سے کچھ کی رسائی مناسب سیاروی ماحول تک ہو سکتی ہے ؟

    ہم متبادل حیاتی کیمیا کے سوال کا جواب مثبت دے سکتے ہیں کیونکہ جڑواں چوٹیاں "عکسی حیات " کے مطابق ہوتی ہیں - حیاتیاتی سالمات کا وہی چناؤ لیکن متضاد تشاکل کے ساتھ [(ایک ہاتھ کو دُوسرے ہاتھ کی نِسبَت زیادہ اِستعمال کرنے کا رجحان ) خاکہ نمبر 12.1 ملاحظہ کیجئے ]ہوگا۔ اس بات کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ عکسی حیاتیاتی کیمیا تجربہ گاہ میں یا دوسرے سیارے پر مختلف برتاؤ کرے گی۔ اس دوران جب سائنس دان اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں آیا کیوں حیاتیاتی کیمیا کے مختلف آمیزے ناکام ہو جاتے ہیں ، سیدھے اور الٹے ہاتھ کا تشاکل ہو سکتا ہے کہ صرف اتفاق کی بات ہو۔ اس لحاظ سے بالعکس حیاتیاتی کیمیا غیر اہم ہے - اصل متبادل حیاتی کیمیا ممکن ہے یا نہیں اس بارے میں یہ کوئی براہ راست بصیرت فراہم نہیں کرتا ہے۔ بہرصورت اگر اس کو تجربہ گاہ میں بنایا جا سکتا ہے تو ایسا کوئی بھی حیاتیاتی کیمیائی نظام حیات کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کے لئے ایک طاقتور وسیلہ فراہم کرے گا۔ ایک طرح سے یہ کامیاب اجتماع اور اصغر خلیے کی پرورش کرے گا جو انگنت جہانوں کے دریچے وا کر دے گا۔ عکسی فعال نظام کم از کم ابتدائی شرائط(مثلاً مختلف سیاروی ماحول ) کی اہمیت کو جانچ لے گا ۔ 

    عصر حاضر کے کیمیا دانوں کے پاس استعمال کے لئے وہ تجزیاتی آلات ہیں جس سے وہ غیر مانوس داخلی کیمیائی میدان کے علاقے کے ڈھیر کی تلاش کر سکیں۔ اسی طرح سے تاریخ میں پہلی بار ، فلکیات دانوں کے پاس وہ آلات موجود ہیں جس سے وہ زمین سے کہیں مختلف بلکہ نظام شمسی میں موجود دوسرے سیاروں کے ماحول سے بھی الگ دوسرے ماورائے شمس سیاروں پر موجود ماحول کو دیکھ سکتے ہیں ۔ امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی وہ کوئی زمین کے کاربونیٹ سلیکیٹ عالمگیر چکر جیسے دوسرے ماورائے شمس سیاروں پر جو دیگر ستاروں کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں، کوئی متبادل نظام ڈھونڈ لیں گے (ملاحظہ کیجئے باب دہم ) یہاں تک کہ وہ اب تک کے نامعلوم کیمیائی میدان کو گھیرے ہوئے ان علاقوں کی نقشہ سازی کر لیں گے جہاں پر ابتدائی شرائط موجود تھیں۔ اجتماعی طور پر کام کرتے ہوئے ، کیمیا دانوں کے پاس وہ معلومات موجود ہیں جو انھیں سیاروی ماہرین فلکیات نے مہیا کی ہیں ۔ ان معلومات کے بل بوتے پر کیمیا دان بلند چوٹیوں(متبادل حیاتی کیمیا ) کے اندرون کی تلاش کر سکتے ہیں ۔ کیا کوئی بھی فوق ارضی سیارہ جہاں سلفر ((SO2 کے چکر کا غلبہ ہو ان کو ایک نئے سلفر کے حیرت انگیز حیاتی کیمیا کی دنیا میں لے جا سکتا ہے ؟ یا وہ کوئی متبادل راستہ ہماری اپنی ارضی حیاتی کیمیا کا حاصل کر سکتے ہیں ۔ جو بھی انھیں ملے گا وہ یقینی طور پر یادگار چیز ہوگی! شاید سب سے اہم چیز وہ یہ علم حاصل ہوگا کہ کس طرح سے دور دراز سیاروں پر موجود حیات کی شہادتوں کو ذہانت سے پرکھا جا سکتا ہے بجائے اس کے کہ ہم بھولے پن سے زمین کی حیاتی کرہ کی کاربنی حیات کی نقل کو تلاش کریں ۔

    بنی نوع انسان کی تاریخ میں کافی اہم سنگ میل آئے ہیں۔ زیادہ تر کو ہم جانتے ہیں جبکہ کچھ کو اب بھی تلاش کرنا باقی ہے ۔ ایک بات تو یقینی ہے : تمام سنگ میل ہماری اور حیات کی تاریخ میں اہم ہیں۔ بہرصورت جس سنگ میل کی میں امید کر رہا ہوں - تالیفی حیات - اس کے خصائص مختلف ہیں اور یہ سیارہ زمین اور اس پر بسنے والی بنی نوع انسان کی خصوصی صورت سے کہیں زیادہ آگے کی چیز ہوگی ۔ کیونکہ یہ ان واقعات کی کڑی کے سلسلے میں اہم ہے جو کائنات میں عام مادّے کی تشکیل کے بعد ہونا شروع ہوئے ہیں ۔زمین پر حیات پیچیدہ کیمیا کی ایک اکلوتی مثال ہے جس کو حیاتیات کہتے ہیں ، جو امکان پذیری کا ثبوت ہے ۔ حیات کا وقوع پذیر ہونا ممکن ہے لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس کے وقوع پذیر ہونے کا امکان کتنا ہے ۔ ایک دفعہ تالیفی حیاتیات کی ضمن میں تحقیق مکمل کامیاب ہو جائے تو پھر وہ اس بات کو ثابت کر سکتی ہے کہ مادّے میں خود کو ترتیب دینے اور اکلوتی حیاتی کیمیا سے مختلف اقسام کو پیدا کرنے کی جبلّت یا تخلیقی صلاحیت موجود ہے ۔(جو بات ہم نہیں جانتے وہ اس وسعت کی افزونی ہے ۔)

    آخری حصّہ تاریخ کا اہم موڑ ہوگا : ایک شجر حیات دوسرے شجروں کا بانی ہوگا (یا دوسرے شجروں کی جڑیں بنے گا )۔ یہ اہم موڑ اس لئے ہوگا کیونکہ یہ بوقلمونی کو افزوں کرنے کی ترکیب کہکشانی پیمانے پر لمبے عرصے (ارب ہا سال ) کے لئے ہو سکتی ہے اور کیونکہ یہ حیات کی نئی نسل کے وجود (حال یا مستقبل ) کی جانب اشارہ کرتی ہے ۔ ہم اپنی آسانی کی خاطر اس کو حیات کی نسل دوم کہے دیتے ہیں ۔ اس کو بیان کرنے کی خاصیت یہ ہے کہ اس شجر کی جڑیں حیاتیاتی کیمیا سے پہلے نہیں جڑی ہوئی ہیں بلکہ حیات کی نسل اوّل اس کا ماخذ ہے ۔ زمین پر حیات کی نسل اوّل ہے ، اور "نسل " کی اصطلاح بالکل ایسے ہی استعمال کی گئی ہے جیسے کہ انسانی سماج میں استعمال ہوتی ہے ۔ یہ ہم پلہ قبیلے پر دلالت کرتے ہوئے ایک مرحلے کو اپنے اجداد کے سلسلے میں بناتے ہوئے آگے بڑھاتا ہے ہرچند اس کے لئے اسی وقت پیدا ہونا ضروری نہیں ہے ۔نسل اوّل حیاتیاتی کیمیا کے مجموعہ پر مشتمل ہو سکتی ہے بشرطیکہ اس کا کوئی وجود ہو۔

    ہم نہیں جانتے کہ ہماری اپنی حیاتیاتی کیمیا سے کتنی دوسری اقسام کی حیاتیاتی کیمیا (یا دوسرے حیات کے ماخذ ) بن سکتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ہم یہ بات دریافت کر لیں کہ حیاتیاتی کیمیا کا میدان محدود حیات کے ماخذ اور شاید حیاتیاتی سالمات اور حیاتیاتی کیمیا کے ایک جیسے خاندان بنانے کی اجازت دیتا ہو ۔ اگر ایسا ہوا تو افزود گی والا امکان جو تالیفی حیاتیات سے حاصل ہوگا وہ محدود سمجھا جائے گا لیکن تب بھی یہ ایک افزودہ عامل رہے گا ۔ اس بات کا مطلب ہوگا کہ کائنات کے دور دراز مستقبل میں عام مادّے کی تقسیم میں اس کا کردار بڑھے گا ۔ اس بات کے پیش نظر کہ سیارے کیسے ہو سکتے ہیں یا کیسے ہوں گے - جب کاربائیڈ سیارے زمین جیسے سیلیکٹ سیاروں کو تعداد میں پیچھے چھوڑ دیں گے اس وقت کیمیائی میدان میں حیاتیاتی کیمیا کے لئے کافی گنجائش اور وسعت ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ نسل دوم کہکشاں میں پہلے ہی سے موجود ہو ۔

    میری سوچ کے مطابق تالیفی حیات کے تین سنگ میلوں میں سے ایک سنگ میل کی طرف ہمارا سفر جاری ہے ۔ وہ بظاہر ایک دوسرے سے الگ اور اتفاقی طور پر ایک ساتھ بھی وقوع پذیر ہو سکتے ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک انتہائی سرعت رفتار کی شرح سے پچھلی نصف صدی میں ہونے والی ہماری ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت کا حاصل ہو سکتی ہے ۔ دوسرے دو، کوپرنیکن انقلاب کی تکمیل اور عالمگیریت کا حیرت انگیز عمل ہو سکتے ہیں ، پورے سیارے پر موجود انسان نہ صرف ایک دوسرے سے حیاتیاتی طور پر جڑے ہوئے ہیں بلکہ عملی طور پر اور شعوری طور پر عام زندگی میں بھی وہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ہیں۔

    عالمگیریت کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور یہاں اس پر بحث کرنا غیر اہم بات ہوگی ، لیکن اس کا براہ راست تعلق جو کوپرنیکن انقلاب کی تکمیل سے ہے (اول الذکر کی مدد سے بعد الذکر کو ممکن کیا جا سکتا ہے ) اس کا اثر زمین کی تمام حیاتیاتی کرہ پر مکمل طور پر مثبت نہیں پڑا ہے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ کوپرنیکن انقلاب کی تکمیل ہمیں یہ دکھا کر کہ زمین ان دوسرے سیاروں میں سے صرف ایک سیارہ ہے جو حیات کے لئے مسکن ثابت ہو سکتے ہیں، ہمیں اس بات کو سوچنے میں مددگار ثابت ہوگی کہ ہم کوئی خاص نہیں ہیں ۔کسریٰ نفسی ہمارے لئے بہتر ثابت ہوگی ۔ حیات کو بطور سیاروی مظہر دیکھنے کے جس کی بنیاد میں حیاتیاتی کیمیا خود سیارے سے گہرائی میں پیوستہ ہے ، ہمیں اس آگاہی دینے میں مدد کرے گی جس میں ہم اپنی زمین کے ساتھ ایک ایسی منفرد حیاتیاتی کیمیا کا خلاصہ ہیں جو آج سے چار ارب سال پہلے نمودار ہوئی تھی اور قطعی طور پر زمینی ہے ۔ ہم یہاں پر موجود ایک اچھی چیز کا حصّہ ہیں اور شاید اس کے بارے میں سیکھ رہے ہیں اور یہ بات ہمیں خراب کرنے کے بجائے شاید تحریک دے گی ۔

    تالیفی حیات کا سورج ایک بہت ہی خوش نصیب وقت میں طلوع ہو رہا ہے : یہ ہمارے اس سوال کا جواب دے گا کہ آگے کیا ہے ؟ یہ کوپرنیکن انقلاب کی تکمیل کے بعد نمودار ہوگا ۔ یہ دنیا سے متعلق انسانی آگاہی کے سبق پر ختم ہوگا جہاں سے دنیا میں انسان کے مقام کا سبق شروع ہوگا ۔ 

    اس صفحات پر میں نے بہت ہی رجائیت پسندانہ تصویر کا رخ دکھایا ہے جہاں حیات بہت ہی طاقتور ہے اور آسانی کے ساتھ کائنات میں نمودار ہو جاتی ہے جو ایسی جگہوں سے لبریز ہے جہاں یہ پروان چڑھ سکے ۔ ہم اصل میں نہیں جانتے کہ حیات آسانی کے ساتھ ظہور پذیر ہو سکتی ہے یا نہیں ۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ اس نے یہاں پر زمین پر ایسا کیا ہے ۔ صرف ایک مثال سے نتیجوں کو اخذ کرنا کافی نہیں ہوگا ۔

    میں نے عالمگیر انتشار کی جانب بھی اشارہ کیا تھا جس میں چاہئے جان بوجھ کر یا اتفاقی طور پر ، بذریعہ پتھر ، شہابیے یا بین السیارہ کھوجیوں کے حیات کا منتشر ہونا بھی ممکن ہے ۔ یہی ایک وہ وجہ ہے جو یہ بیان کرتی ہے کہ حیات ایک عمل ہے ، ایک دفعہ یہ نمودار ہو گئی تو پھر لامحدود طور پر جاری رہ سکتی ہے ، یہ کبھی بھی اپنے ماحول کے ساتھ نجمی پیمانے پر یا بین النجم پیمانے پر میزان نہیں بنا پائے گی۔ اس بات کے ثبوتوں میں سے ایک ثبوت تو ہم ہی ہیں - ہم جانتے ہیں کہ ہم حیات کی شکل ہیں ، ہم اس قابل ہیں کہ اپنا اصلی سیارہ چھوڑ کر دوسرے جگہوں کو کھوجنے نکل سکیں ۔ اگر ہم مستقل طور پر بھی اپنا سیارہ نہ چھوڑیں ، تب بھی یہ حقیقت اپنی جگہ رہے گی کہ حیات ایک ایسا مظہر ہے جو کسی عام ستارے مثلاً سورج کے دور حیات میں رفعت حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہے۔

    ایک اچھی بات بھی ہے ! اپنے سورج کو آج سے پانچ ارب سال بعد چشم تصوّر سے دیکھیں ۔ سورج ہمارا مورث ستارہ ، روشنی کا منبع ، زندہ چیزوں کو حرارت اور توانائی فراہم کرنے والا ، ہمارے سیارہ کو حیات کے لئے تبدیل کرنے والا اپنے بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہوگا اور اس کا بڑھاپے کا سفر بہت ہی تیز رفتار ہوگا اور زمین ؟ زمین کو تو جانا ہوگا ۔ زہرہ اور عطارد بھی نہیں بچیں گے - سورج کے غلاف میں ڈھکے یہ پگھل کر سرخ دیو کی بتدریج پھیلتی ہوئی گیسی کرہ کی شکل میں تحلیل ہو جائیں گے ہمارا سورج اب متقاعد(Emeritus) بن چکا ہوگا۔ سیارہ ارض اور اس کا نو ارب سال پرانا حیاتیاتی کرہ مستقل طور پر ختم ہو چکا ہوگا! خرد بینی حیات کے پاس فرار کا کوئی منصوبہ نہیں ہوگا۔

    پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ پانچ ارب سال ایک ایسا عرصہ ہے جس میں ہم میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ۔ اس بات سے قطع نظر ، سورج کی موت ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ہم اچھی طرح سے پہلے ہی سے منصوبہ بنا سکتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ جبلّی طور پر بنی نوع انسان اس راستہ پر پہلے ہی گامزن ہو چکی ہو ۔زمین پر موجود حیات کی روح کو سمجھنا ہمیں کائنات میں دوسری جگہوں پر موجود حیات کے ماخذوں کو سمجھنے میں مدد دے گا ۔ اپنے اس علم کے ذریعہ ہم دوستانہ ٹھکانے تلاش کر سکیں گے ۔ اور ایک دن ہم وہاں لنگر انداز بھی ہو جائیں گے ۔ یہ انسانیت اور کرہ ارض پر موجود حیات کے لئے اپنے آپ کو آسمانی آفات اور سورج سے آزادی دلانے کا یوم آزادی کا دن ہوگا۔

    ہم انسان اپنی مختصر تاریخ میں اس قسم کے کافی سفر کر چکے ہیں۔ یہاں پر صرف ایک مثال دی جا رہی ہے۔ لگ بھگ چار ہزار برس قبل جنوبی وسطی یورپ میں قبیلوں نے گھوڑوں کو پالنا شروع کیا اور گھوڑا گاڑی ایجاد کی ۔ اس کی مدد سے ان کے پورے کے پورے گاؤں ایک جگہ سے دور دراز – ہزار میل یا اس سے بھی زیادہ فاصلے پر منتقل ہو سکتے تھے ۔ کئی نسلوں کے بعد یورپی دشتوں میں قابل رہائش ماحول باقی نہیں رہا لہذا ایک دن انہوں نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور مشرق کی سمت رخت سفر باندھ لیا جہاں پر کم آبادی والی جگہوں نے ان کا استقبال کیا ۔ اگلی ایک صدی تک مزید یا شاید اس سے بھی زیادہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ کتنے عرصے تک یہ لوگ مشرق کی طرف چلتے رہے یہاں تک کہ وہ آسمان سے باتیں کرتے ہوئے وسطی ایشیاء کے پہاڑوں تک جا پہنچے ۔ مقامی قبیلوں کے ذریعہ انہوں نے زرخیز وادی کے بارے میں جانا جو پامیر اور تیان شان کی پہاڑیوں کے جنوب مشرق میں واقع تھی جہاں پہنچنا تو بڑا کٹھن تھا لیکن اس کو بغیر کسی پریشانی کے حاصل کیا جا سکتا تھا ۔ میدانی علاقے کے ان لوگوں کو اونچے پہاڑوں جس میں سے کچھ دس ہزار فٹ سے بھی بلند تھے سے گزرنے کا علم بھی تھا اور ان کے پاس فنی مہارت بھی تھی۔ یہ دوسری جانب ان لوگوں کے لئے بالکل ایسی ہی تھی جیسے وہ اس دنیا کے باہر کی جگہ ہو ۔ آج ایشیاء کے قلب میں موجود یہ خشکی سے محصور طارم طاس زیادہ تر نمکین ریتی صحرا - صحرائے تکلا مکان ہے ۔ لیکن ارضی ثبوت اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کم از کم دو ہزار برس سے پہلے طارم میں پانی اور نباتات کی کثرت تھی ۔ یورپ کے قبیلے نہ صرف زندہ بچے رہے بلکہ پھل پھول بھی گئے۔ دور حاضر میں آج ہم ان کے نفیس لباسوں ، خوبصورت دستکاریوں اور بھرپور ثقافت کی تعریف کرتے ہیں جو ہم نے حیرت انگیز مدفون کی صورت میں بے آب و گیا طارم کے صحرا میں پچھلی عشروں میں دریافت کی ہیں ۔

    یہ تو صرف ایک کہانی ہے ۔کرہ ارض پر اس طرح کی نقل مکانی اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے ۔ آج سیارہ زمین کافی آباد اور عالمگیر ہو گیا ہے ۔ ہمارا سیارہ ایک خوبصورت جگہ ہے اور ہم اگلے آنے والے ہزار ہا برسوں میں یہاں پر خوشی خوشی زندگی گزر بسر کریں گے ۔ لیکن ہم یہ بات پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ ایک دن ہماری نوع کو ایک دفعہ پھر سے ویسا ہی سامنا کرنا پڑے گا جس کا سامنا طارم کے تارک وطن نے کافی برسوں پہلے کیا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے مستقبل کے رشتے داروں کے پاس وہ علم اور فنی مہارت ہوگی کہ یہ ایسے کسی سفر کو بخیر خوبی انجام دے سکیں؟
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: حیات کا مستقبل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top