Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, اگست 17, 2016

    نئی خلائی دوڑ






    اگست 16، 2016


    آج صبح 1:40 پر، چین دنیا کے پہلے کوانٹم سیارچے کے ساتھ ایک نئی خلائی دوڑ کا آغاز کر رہا ہے، جس کا نام حال ہی میں قدیمی چینی فلسفی اور انجنیئر 'می کس' کے اعزاز میں رکھا گیا ہے،۔ میکس نے 2,400 برس پہلے نظریہ پیش کیا تھا کہ روشنی ہمیشہ خط مستقیم میں سفر کرتی ہے اور طبیعیاتی دنیا ذرّات سے مل کر بنی ہے۔ کوانٹم دور دراز منتقلی کی ٹیکنالوجی زمین اور مریخ کے درمیان 20 منٹ کے مواصلاتی تعطل کو بھی ختم کرنے کے قابل ہو گی اور چھوٹے خلائی سیارچے کو بڑے انٹینا کو لادے بغیر ہی کئی نوری برس دور موجود سیاروں کی تصاویر اور ویڈیوز کو واپس زمین پر بھیجنے کے قابل بنائے گی۔ یہ ہمیں اس بات کی بھی جھلک دکھا سکتی ہے کہ ایک بلیک ہول کے اندر کیا موجود ہے۔ 

    چھوٹے سے جسم نے اپنا خلاء میں سفر لانگ مارچ 2 ڈی راکٹ کے اوپر منگولیا کے صحرائے گوبی میں واقع جوقان سیٹلائٹ لاؤنچ سینٹر سے شروع کیا۔کامیابی کے ساتھ 500 کلومیٹر اونچے خلائی مدار میں داخل ہونے والے کوانٹم ایکسپیریمنٹ ایٹ اسپیس اسکیل (کیو یو ای ایس ایس) سیارچے کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ کوانٹمی طاقت کے بیڑے کا پہلا سیارچہ ہے ، جو دوسرے سیارچوں کے ساتھ مل کر ایک بہترین محفوظ مواصلاتی جال بنائے گا، یہ مواصلاتی نظام ممکنہ طور پر دنیا میں کہیں پر بھی موجود لوگوں کو آپس میں جوڑے گا۔ 

    سیارچے جس کا وزن ایک اسمارٹ کار سے بھی کم ہے، کائنات کو آئن سٹائن کی نگاہ سے ہٹ کر دیکھے گا۔ ایک ایسی جگہ جہاں بلی زندہ اور مردہ ایک ساتھ ہو سکتی ہے، جہاں اطلاعات کو ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں روشنی کی رفتار سے بھی تیز "دور دراز منتقل" کیا جا سکتا ہے، جہاں انٹرنیٹ کو ہیک نہیں کیا جا سکتا، اور جہاں ایک کیلکولیٹر مقابلے میں دنیا کے تمام سپر کمپیوٹرز کو مل کر چلنے میں بھی ہرا سکتا ہے ۔ 

    "کیو ایس ایس مہمات ایک ایسی چیز ہیں جس کو اقوام نے کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی، " وانگ کہتے ہیں۔ "چین ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے دوسروں کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ کیو ایس ایس ہمارا وہ پہلا قدم ہو گا جو دوسروں سے آگے ہو گا۔ یہ ایک چھوٹا قدم ہے، تاہم یہ نسل انسانی کے لئے ہے۔ "

    بالآخر، خلاء میں کوانٹم دور دراز منتقلی محققین کو یہاں تک اجازت دے گی کہ سیارچوں سے حاصل کردہ فوٹون کو ملا کر ایک پھیلی ہوئی زبردست ریزولوشن کی دوربین بنائیں جس سے زمین کے حجم جتنا آلہ بن سکے گا۔ "آپ صرف سیارے نہیں دیکھ سکتے، " کوئٹ کہتے ہیں، "بلکہ اصولی طور پر مشتری کے مہتابوں پر موجود ؛ لائسنس پلیٹس تک پڑھ سکتے ہیں۔ "

    کوانٹم خصائص - ذرّات کی حالت - کی پیمائش یا نقل اس وقت تک نہیں کی جا سکتی جب تک ذرّے کی اصل کوانٹم حالت کو تباہ نہ کر دیا جائے، لہٰذا نظری طور پر رمزی کنجی کو چرایا نہیں جا سکتا۔ ایک پیغام ایک منفرد رمزی کنجی سے بیجنگ میں رمز بند کیا جائے گا اور روایتی مواصلاتی جال کے ذریعہ ویانا بھیجا جائے گا۔ اسی وقت کنجی کو کوانٹم سیارچے میں بیجنگ سے فوٹون کی کرن کی صورت میں مختلف حالتوں والے خصائص جیسا کہ گھڑی وار اور ضد گھڑی وار گھماؤ میں پھینکا جائے گا، اور پھر سیارچہ رمزی کنجی کو ویانا میں موجود وصول کنندہ کو نشر کرے گا تاکہ پیغام کی رمز کشائی کی جائے۔ 

    "کوانٹم سیارچہ پہلی مرتبہ ثابت کرے گا کہ آفاقی پیمانے پر کوانٹم مواصلات کا ہونا ممکن ہے، " وانگ نے کہا۔ "یہ مستقبل کے کوانٹم انٹرنیٹ کے لئے بہت اہم قدم ہے۔ "

    آٹھ برس پہلے، کوانٹم طبیعیات دان پین جیانوی، منصوبے کے چیف سائنٹسٹ اور خلائی انجنیئر وانگ جیانیو نے دنیا کے پہلے کوانٹم سیارچے کو بنانے کے لئے اس امید پر ٹیم بنائی کہ وہ ایک پوری نئی کائنات کی تلاش کے لئے کھڑکی ڈھونڈ نکالیں گے۔ "پان کے پاس کچھ بڑے خیالات موجود تھے، میرا کام ان کے نچوڑ کو سیارچے میں ڈالنا تھا، " یہ بات پروفیسر وانگ، چین کے کوانٹم سائنس سیٹلائٹ کے کمانڈر ان چیف، نے ساؤتھ چین مارننگ پوسٹ کا ایک خصوصی انٹرویو میں بتائی۔ 

    "قطعی، میں سمجھتا ہوں کہ ایک دوڑ ہو گی، چاؤیانگ لو، ہیفی میں واقع یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف چین کے ایک طبیعیات دان نے کہا، جنہوں نے چینی سیارچے کے اوپر کام کرنے والی جماعت کے ساتھ کام کیا ہے۔ 

    "اصل میں، فوج [کوانٹم ٹیکنالوجی کو خلاء میں لے جانے کی ] ذمہ داری لینا چاہتی تھی، "پان نے نیچر جریدے کو جنوری میں بتایا۔ "سی اے ایس میں موجود ہم لوگوں نے اپنی حکومت کو قائل کرنے کے لئے شدید محنت کی کہ ہمارے پاس سائنسی سیارچوں کو چھوڑنے کے طریقے کا ہونا بہت اہم ہے۔ ۔ ۔ آخر میں طے ہوا کہ سی ایے ایس اس کام کے لئے موزوں ادارہ ہے۔ "

    مواصلات کو ہیکنگ سے محفوظ بنانے کے لئے بھی، یہ سیارچوں کے نظام 'کوانٹم انٹرنیٹ' کی طرف ایک اہم قدم ہوں گے، جو پوری دنیا میں کوانٹم کمپیوٹرز یا کوانٹم کمپیوٹنگ کلاؤڈ سے مل کر بنے ہوں گے، پال کوئٹ نے کہا، جواربنا- چمپئن میں واقع یونیورسٹی آف ایلی نوائے کے ایک طبیعیات دان، جو ناسا کے ساتھ آئی ایس ایس منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ 

    اب تک سائنس دانوں نے 300 کلومیٹر تک کوانٹم مواصلات کا مظاہرہ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ فوٹون جو آپٹیکل فائبر کے اندر اور ہوا میں سفر کرتے ہیں وہ منتشر یا جذب ہو سکتے ہیں، اور اشارے کو ایک فوٹون کی نازک کوانٹم حالت کو برقرار رکھتے ہوئے افزودہ کرنا انتہائی مشکل ہے۔ 

    'می کس' کے قلب میں ایک قلم ہے جو الجھے ہوئے فوٹون کے جوڑے بنائے گی، جن کی خصوصیات ایک دوسرے سے مربوط رہیں گی بہرحال دور جا کر وہ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گی۔ چینی محققین امید کرتے ہیں کہ خلاء کے ذریعہ فوٹون کی ترسیل، جہاں وہ زیادہ ہموار طریقے سے سفر کرتے ہیں، ان کو اس قابل بنائے گی کہ وہ طویل فاصلوں تک ربط پیدا کر سکیں گے۔ خلائی جہاز کا پہلا کام شراکت داروں کو ان جوڑوں کی صورت میں بیجنگ اور ویانا میں زمینی اسٹیشن پر پھینکنا ہو گا، اور اس کو استعمال کر کے ایک مخفی کنجی بنانا ہو گی۔ 

    دو سالہ مشن کے دوران، جماعت نے ایک بیل جانچ ادا کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے تاکہ ثابت کر سکیں کہ الجھاؤ ان ذرّات کے درمیان موجود ہو سکتا ہے جو ایک دوسرے سے 1,200 کلومیٹر دور ہیں۔ چینی محققین امید کرتے ہیں کہ خلاء کے ذریعہ فوٹون کی ترسیل، جہاں وہ زیادہ ہموار طریقے سے سفر کرتے ہیں، ان کو اس قابل بنائے گی کہ وہ طویل فاصلوں تک ربط پیدا کر سکیں گے، اور کوشش کریں گے کہ فوٹون کے ایک الجھے ہوئے جوڑے کو استعمال کر کے کوانٹم حالت کو 'دور دراز منتقل' کر سکیں اور ساتھ ساتھ اطلاعات کو زیادہ روایتی طریقوں سے منتقل کر کے نئے مقام پر فوٹون کی کوانٹم حالت کو دوبارہ سے پیدا کر سکیں۔ 

    اگرچہ تمام ٹیکنالوجی اور آلات کو زمین پر جانچ لیا گیا ہے، اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یہ خلاء میں کام کرے گی۔ زمینی تجربے میں، آلات کو ٹھیک یا صحیح کیا جا سکتا ہے ؛ ایک مرتبہ جب خلاء میں پہنچ گئے، تو سیارچے پر لگے آلات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ 

    وانگ کہتے ہیں کہ سب سے بڑا چیلنج دوری تھی۔ ایک واحد فوٹون کو سیارچے سے زمین پر موجود ایک میٹر چوڑی دوربین سے پھینکنا، یا زمین کے ایک واحد فوٹون کو اس سیارچے سے پکڑنا جو 7,000 کلومیٹر فی گھنٹہ سے لے کر 8,000 کلومیٹر فی گھنٹہ تک سفر کر رہی ہو اور ساتھ میں بارش، بادل، اور ہوائی شورش درمیان میں موجود ہو، "سب سے مشکل ہدف پر نشانہ لگانے جیسا" ہو گا، اس نے کہا۔ 

    کوانٹم سیارچے میں ہونے والی پیش رفت چین کی خلائی ٹیکنالوجی کو کئی شعبوں میں ایک نئی جہت عطا کرے گا، اس نے کہا، جس میں زبردست ٹھیک طرح سے ٹریکنگ، وقت اور خلائی جہاز کو قابو کرنا شامل ہو گا۔ 

    تاہم اس وقت کیا ہو گا اگر تجربات میں وہ نہ ملا جس کی وہ تلاش کر رہے ہیں، مثال کے طور پر ذرّات ایک مخصوص فاصلے کے بعد الجھنے میں ناکام ہو گئے۔ وانگ کہتے ہیں کہ یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں انہوں نے پان سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ "اگر کیو ایس ایس نے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ کچھ بنیادی کوانٹم طبیعیات کے قوانین کائنات میں کام نہیں کرتے، تب بھی ہم اتنے ہی خوش ہوں گے، " انہوں نے کہا۔ "یہ نامعلوم کے لئے ایک اور دروازہ کھول دے گا۔ "



    ڈیلی گیلکسی بذریعہ نیچرڈاٹ کوم اور ساؤتھ چین مارننگ پوسٹ
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: نئی خلائی دوڑ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top