Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 14 اگست، 2017

    کائنات کی جیومیٹری


    مسائل اب بھی موجود ہیں۔ یاد ہے نہ کہ جب ہم کسی کہکشاں کو ایک کروڑ نوری برس پہلے دیکھتے ہیں تو اصل میں ہم اس کہکشاں کو دیکھتے ہیں جو وہاں پر آج سے ایک کروڑ برس پہلے موجود تھی۔ کیا ہم اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ کہکشاں کی تابانی اس وقت کے دوران نہیں بدلی ہو گی اور کہکشاں اور کائنات ارتقائی منازل سے گزری ہوں گی؟ اس طرح کی حد میں شاید کچھ زیادہ تبدیلی نہیں ہوتی۔ تاہم زیادہ فاصلے پر موجود کہکشائیں جن کو ہم ان کی نوجوانی میں دیکھتے ہیں ان میں ہر قسم کے تغیر کا امکان ہوتا ہے۔ فلکیات دان اس چیز کو اپنے حساب میں شامل کرتے ہیں تاہم ان کے پاس کوئی آزادانہ ذریعہ نہیں ہے جو بتا سکے کہ کہکشاں کتنی روشن (یا دھندلی) اس وقت تھی جب کائنات بہت ہی زیادہ نوجوان تھی۔ کچھ ماہرین کوشش کرتے ہیں کہ بہتر قیاس آرائی کریں اور اس ارتقائی تابانی کو بھی شامل کرتے ہیں؛ دوسرے اس مشاہدے کو الگ ہی رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ کوئی بھی درستگی جس کو وہ کرنے کی کوشش کریں گے وہ غلط سمت میں بھی جا سکتی ہے۔

    مشاہداتی سرنگ بچھے میدان سے گزر کر اپنا راستہ چننے والے ماہرین تکوینیات کو پھر مشاہدات کا اپنے نظریاتی نمونوں سے موازنہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے انحرافات کا حساب ہبل کے قانون سے سادے طور پر ابطا (تخفیف اسراع) کے عدد صحیح سے لگایا جس کو اکثر q سے ظاہر کیا جاتا ہے، اور اس کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ q = ½ برابر ہے Ω = 1۔ایک وقت سینڈیج کا سرخ منتقلی کے خلاف تابانی کے گراف نے q کی قدر کو لگ بھگ 1 کے قریب دکھایا جس سے لگتا ہے کہ شاید کائنات میں اس سے دو گنا زیادہ مادّہ موجود ہے جو کم از کم بند کائنات کے لئے درکار ہے؛ بہرحال گزرے برسوں میں مزید اعداد و شمار حاصل ہونے کے بعد اس کا تازہ ترین گراف بتاتا ہے کہ یہ ابتدائی لگایا ہوا تخمینہ زیادہ رجائیت پسند تھا۔ آج یہ تیکنیک جو سب سے بہتر ہمیں بتاتی ہے وہ یہ کہ q شاید 0 سے 2 کے درمیان کہیں موجود ہے، اور صرف ان بنیادوں پر ہی کھلی ہوئی کائنات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

    کہکشانی سرخ منتقلی کا حال ہی میں 1980ء کے عشرے میں سروے پرنسٹن یونیورسٹی کے ایڈون لوہ اور ارل اسپیلر نے کیا۔ انہوں نے 1,000 کہکشاؤں پر کی گئی تحقیق سے بتایا کہ کمیت کا عدد صحیح Ω بغیر کسی دقت کے ایک سے قریب ہے۔ اس کام کو حتمی سمجھنا کافی جلد باز ہوگا تاہم کیونکہ اس کا انحصار صرف 'پرانی طرز' کی بصری دوربینوں کے ساتھ والی فلکیات پر نہیں ہے لہٰذا یہ مشاہدین کے لئے ایک زبردست پیغام لئے ہوئے ہے کہ ان کو اپنے نظریات پر زیادہ توجہ دینی ہو گی کہ وہ جیسا کہ ہم باب 9 میں دیکھیں گے کہ ان کا پورا زور بند کائنات کی طرف ہے۔ 

    نئی جانچ ان مختلف جانچوں میں سے ایک ہے جس کی بنیاد اصولی طور پر کائنات کے علم الاشکال پر ہے۔ اگر کہکشائیں (یا جھرمٹ) پوری کائنات میں یکساں طور پر پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی اقلیدسی علم الاشکال ہے تب ان کہکشاؤں کی تعداد جو ہم مختلف سرخ منتقلی (مختلف فاصلوں) پر دیکھیں گے ان کا حساب اس علم الاشکال کی مدد سے لگایا جا سکتا ہے جو ہم نے اسکول میں پڑھی تھی۔ موٹے طور پر ایک جیسے خلاء کے حجم میں ایک جیسی کہکشاؤں کی تعداد ہونی چاہئے۔


    خاکہ 8.5 سرخ منتقلی جانچ کی پر نظر ثانی 

    کیونکہ ہم زیادہ تر دور کی کہکشاؤں کو اس وقت دیکھتے ہیں جب کائنات نوجوان تھی، لہٰذا ان کی سرخ منتقلی کا موازنہ ان کہکشاؤں سے جو ہم سے قریب ہیں اور رات کے آسمان پر زیادہ روشن نظر آتی ہیں اصولی طور پر یہ ظاہر کر سکتی ہے کہ کائنات کا پھیلاؤ کتنی تیزی سے آہستہ ہوا ہے۔ بدقسمتی سے عملی طور پر اس طرح کے مشاہدات صرف یہی اشارہ دیتے ہیں کہ کائنات تقریباً چپٹی ہی ہے۔ یہ ہمیں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ اومیگا کی قدر تقریباً 0 اور 2 کے درمیان ہے۔ (تمام حساب لگائے خم سرخ منتقلی اور تابانی کی چھوٹی قدروں پر چڑھتے ہیں۔)

    بہرحال اگر علم الاشکال غیر اقلیدسی ہے تو جب ہم اقلیدس کے اصول کے مطابق جب حساب لگا کر برابر کے حجم کو تعین کرنے کی کوشش کریں گے اور ان میں موجود کہکشاؤں کو گنے گے تب فرق ہوگا۔ ہم سے بہت دور 'برابر حجم' ہم سے قریب اقلیدس کے جتنا 'برابر حجم' کے مقابلے میں یا تو زیادہ یا کم کہکشائیں رکھے گا، اور اقلیدسی علم الاشکال کے اندازے سے کہکشاؤں کی کم و بیش اصل تعداد ہمیں کائنات کے مقدر کے بارے میں بتائے گی۔ خاص طور پر اگر Ω = 1 ہے اور کائنات پھیل رہی ہے تب ہم قطعی اقلیدسی پیش گوئی سے 'عدد کی گنتی' میں درست انحراف دیکھیں گے کیونکہ کائنات کے ارتقاء کے ساتھ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔

    گنتی میں اس طرح کے انحرافات کی قسم کے فلکیاتی اجسام میں دیکھے گئے ہیں - بشمول ریڈیائی کہکشائیں اور کوزار - تاہم گنتی کی غیر مبہم انداز سے تشریح کرنا بہت ہی مشکل ثابت ہوئی ہے۔ کائنات کی بڑے پیمانے کی حرکیات کی تمام تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ علم الاشکال کافی حد تک اقلیدسی ہے، اور حقیقت میں کائنات کا پھیلاؤ آہستہ ہو رہا ہے اور کائنات میں مادّے کی مقدار لازمی طور پر اتنی ہے جو بند کائنات کے لئے درکار ہے؛ تاہم صرف لوہ اور اسپیلر کی نئی تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کس قدر تقسیم کرنے والے لکیر کے قریب موجود ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کائنات کی جیومیٹری Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top