Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 28 اگست، 2017

    نظامِ شمسی میں خوش آمدید

    مترجم: منصور محمد قیصرانی

    آج کے دور میں ماہرین فلکیات بھی کمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی بندہ چاند پر ماچس کی تیلی جلائے تو وہ اس کا شعلہ دیکھ لیں گے۔ انتہائی دور موجود ستاروں کی ٹمٹماہٹ اور لرزش دیکھ کر عام نظروں سے اوجھل سیاروں پر زندگی کے لیے مناسب حالات کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں۔ حالانکہ خلائی جہاز سے ان سیاروں تک جانے میں کم از کم 5 لاکھ سال لگیں گے۔ اپنی ریڈیائی دوربینوں کی مدد سے وہ اتنی خفیف مقدار کی ریڈیائی شعائیں پکڑ لیتے ہیں کہ بقول کارل ساگان، ‘1951 سے جب یہ عمل شروع ہوا، اب تک جمع ہونے والی کل توانائی کی مقدار اس توانائی سے کم ہے جب برف کا گالہ زمین سے ٹکراتا ہے۔‘

    مختصراً یوں سمجھ لیں کہ جب ماہرین فلکیات کے پاس وقت ہو تو کائنات کی شاید ہی کوئی چیز ان کی نظر سے بچ پاتی ہو۔ شاید یہی وجہ ہو کہ 1978 تک کسی کو گمان تک نہیں تھا کہ پلوٹو کا ایک چاند بھی ہے۔ اس سال کے موسم گرما میں ایک نوجوان فلکیات دان جیمز کرسٹی جو امریکی بحریہ کی رصد گاہ (فلیگ سٹاف، ایریزونا) میں پلوٹو کی تصاویر کی روز مرہ کی جانچ پڑتال کر رہا تھا کہ اس کی نظر پلوٹو کے ساتھ موجود ایک دھندلے سے دھبے پر پڑی۔ یہ دھبہ انتہائی دھندلا لیکن پلوٹو سے الگ تھا۔ اپنے رفیق رابرٹ ہیرنگٹن سے اس نے مشورہ لیا تو اسے پتہ چلا کہ یہ تو پلوٹو کا چاند ہے۔ اور یہ کوئی عام چاند نہیں، اپنے سیارے کی جسامت کے تناسب سے یہ ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے بڑا چاند تھا۔

    اس بات سے پلوٹو کے سیارہ ہونے کی حیثیت پر گہرا اثر پڑا ہے جو پہلے ہی بہت مختصر جسامت کا حامل تھا۔ جس جگہ پلوٹو اور اس کا چاند موجود ہیں، کے بارے خیال کیا جاتا تھا ہے کہ وہاں صرف پلوٹو ہے۔ اب جا کر پتہ چلا کہ پلوٹو تو اس سے بھی بہت چھوٹا ہے۔ عطارد بھی اس سے بڑا ہے۔ ہمارے چاند سمیت نظامِ شمسی کے 7 چاند پلوٹو سے زیادہ بڑے ہیں۔

    ظاہری بات ہے کہ آپ سوچیں گے کہ پلوٹو کے چاند کو دریافت کرنے پر اتنا وقت کیوں لگا؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ فلکیات دان اپنے آلات کا رخ کس سمت کرتے ہیں اور یہ بھی کہ ان کے آلات کس مقصد کے لیے تیار کیے گئے تھے اور یہ بھی کہ یہ محض پلوٹو ہی تو ہے۔ زیادہ تر اہمیت اس بات کی ہے کہ ان کے آلات کا رخ کس جانب ہے۔ فلکیات دان کلارک چیپ مین کے مطابق، ‘زیادہ تر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ فلکیات دان رات کو رصد گاہ جا کر آسمان کا مشاہدہ شروع کر دیتے ہوں گے لیکن یہ بات درست نہیں۔ زیادہ تر دوربینیں اس مقصد کے لیے بنائی جاتی ہیں کہ ان کو آسمان کے ایک انتہائی چھوٹے حصے پر مرکوز کر کے وہاں بلیک ہول یا کہکشاؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔‘ آسمان کی ‘کھوج’ کے لیے بنائی جانے والی دوربینیں فوج کے استعمال میں ہوتی ہیں۔

    فنکاروں کے بنائے ہوئے خاکے دیکھ دیکھ کر ہماری عادتیں خراب ہو چکی ہیں کیونکہ یہ زیادہ تر تخیلاتی ہوتی ہیں۔ کرسٹی کا بنایا ہوا فوٹو جس میں پلوٹو ہمیں دھندلا سا دکھائی دے رہا ہے اور اس کا چاند نیشنل جیوگرافک کی تصویر کے برخلاف انتہائی دھندلا ہے۔ اس دھندلاہٹ کی وجہ سے ہی اس بات پر 7 سال لگے کہ کوئی دوسرا بندہ اس چاند کو دیکھ کر اس کی آزادانہ تصدیق کر سکے۔

    کرسٹی کی دریافت میں مزے کی یہ بات ہے کہ اس نے یہ دریافت فلیگ سٹاف میں بیٹھ کر کی۔ اسی جگہ 1930 میں پلوٹو بھی دریافت ہوا تھا جس کا سہرا فلکیات دان پرسیوں لوؤل کے سر بندھا۔ لوؤل کا خاندان بوسٹن کے قدیم اور امیر ترین گھرانوں میں سے ایک تھا۔ یہ رصد گاہ لوؤل کی تعمیر کردہ ہے اور اسی کے نام سے منسوب ہے۔ تاہم لوؤل کی وجہ شہرت اس کا نظریہ تھا کہ مریخی لوگ مریخ پر باقاعدہ نہریں بنا کر قطبین سے پانی استوائی مقامات کی طرف لے جاتے ہیں جہاں کی زمینیں زرخیز لیکن پانی کمیاب ہے۔

    لوؤل نے یہ بھی بتایا کہ نیپچون سے پرے ایک اور سیارہ موجود ہونا چاہیئے جسے اس نے سیارہ ایکس کا نام دیا۔ یہ نواں سیارہ اس وقت تک نامعلوم تھا۔ اس نظریے کی بنیاد دراصل نیپچون اور یورینس کے مداروں میں موجود بے قاعدگیاں تھیں۔ اپنی زندگی کے آخری سال لوؤل نے اسی فرضی گیسی دیو کی تلاش میں ضائع کر دیئے تھے اور اسی دوران اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے مرتے ہی تلاش کا کام کھٹائی میں پڑ گیا کیونکہ اس کے رشتہ دار جائیداد کے بٹوارے میں لگ گئے۔ تاہم 1929 میں لوؤل کی رصد گاہ کے ڈائریکٹر نے لوگوں کی توجہ مریخ کی نہروں سے ہٹانے (جو باعثِ شرمندگی بن گئی تھیں) کے لیے کینساس کے ایک نوجوان کلائیڈ ٹومباغ کے ذمے سیارہ ایکس کی تلاش کا کام لگایا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: نظامِ شمسی میں خوش آمدید Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top