Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات، 24 اگست، 2017

    اسکوربک ایسڈ - Ascorbic acid

    زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب اسقربوط (scurvy) کو ایک خطرناک انسانی بیماری سمجھا جاتا تھا۔ قرون وسطٰی میں اس کا لاطینی نام "scorbutus" تھا جس کے ماخذ کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس بیماری میں شروع شروع میں کمزوری محسوس ہوتی ہے اور عضلات میں درد ہونے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسوڑھے دکھنے لگتے ہیں اور ان سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ آخر کاردانت ہلنے لگتے ہیں اور ان سے روز بروز زیادہ سے زیادہ خون بہنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ مریضں موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ آج کے وسیع علم کے ساتھ جب ہم ماضی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اس بیماری اورخوراک کے درمیان جو تعلق معلوم کر لیا تھا وہ انہیں اس سے پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ 

    مثال کے طور پر جب بھی ہمارا کھانا یکسانیت کا شکار ہوگا اور اس میں کوئی تبدیل نہیں آئے گی نیز اس میں تازہ پھل اور سبزیاں شامل نہیں ہوں گی تو یہ بیماری ضروری لاحق ہو گی۔ اور ایسا خصوصاً طویل بحری سفر کے دوران ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل جنگی حالات سےنبردآزما فوجوں، محصورشہروں ، جیلوں اورمحتاج خانوں میں اس کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

    اگر لوگوں کوبعض پھلوں کا رس ملتا رہے تو مذکورہ بالا تمام صورتوں میں بھی یہ مرض قریب نہیں پھٹکے گا۔ 1795ء میں برطانیہ کی بحریہ نے کئی عشروں کی غیر مسلسل تجرباتی تحقیق کے بعد اپنے ملاحوں کو مجبور کرنا شروع کیا کہ وہ روزانہ ایک مقررہ مقدار میں لیموں یا مالٹوں وغیرہ کا رس پیئیں ۔ چنانچہ ملاحوں کو ناگواری تو بہت ہوئی ہو گی لیکن ایسا کرنے سے ان میں سکروی کا مرض رک گیا۔ اسی دن سے برطانیہ کے ملاحوں کو حقارت کے طور پر "limies" کہا جاتا ہے۔ مالٹے کی قسم کے دیگر پھلوں کے رس، ٹماٹر کارس اور بہت سی تازہ سبزیاں بھی سکروی کو روکنے میں موثر ثابت ہوتی ہیں۔

    1907ء تک حیاتی کیمیادانوں سے سوچنا شروع کر دیا تھا کر سکروی کوروکنے کے لئے جسم کوجن غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں ضرورکوئی ایسا کیمیائی مادہ ہوگا کہ جس کے نہ ہونے سے یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت تک ماہرین تغدیہ کے ذہن میں وٹامن کہلائے جانے والے کیمیائی مادوں کا تخیل آنا شروع ہو گیا تھا۔ چنانچہ اس فرضی خلاف سکروی یا خلاف اسقر بوطی کیمیائی مادے

    (Antiscorbutic factor) وٹامن سی (vitamin c) کا نام دیا گیا (A اور B کے حروف اس مقصد کے لئے پہلے ہی لئے جا چکے تھے)۔

    پھر 1928ء میں ہنگری کے حیاتی کیمیادان البرٹ سینٹ جرجی (Albert Szent Gyorgyi) نے گوبھی سے ایک کیمیائی مادہ حاصل کیا جس کے بارے میں 1932ء میں امریکہ کے ایک حیاتی کیمیادان چارلس جی کنگ نے بتایا کہ سکروی کوروکنے کے لئے جسم کو اس مادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا نام ایسکوربک ایسڈ رکھا گیا (یونانی زبان میں "a" کا لاحقہ عام طور پر نفی کے معنی دیتا ہے۔ چنانچہ یہ مرکب اصل میں "no-scurvy acid" ہے یعنی ایسا تیزابی مادہ جو سکروی کوروکتا ہے)۔

    امریکہ کی میڈیکل ایسوسی ایشن ایسے کیمیائی ناموں کونا پسند کرتی ہے جن میں اس بیماری کا نام پایا جاتا ہوجس کے خلاف وہ مؤثر ہوں۔ کیونکہ ایسے ناموں کی وجہ سے مریض، ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر، خود ہی اس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اس کا متبادل نام cevitamic acid (سی وٹامن سے) تجویز کیا لیکن یہ نام ذرا بھی نہ چل سکا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: اسکوربک ایسڈ - Ascorbic acid Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top