Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    منگل, ستمبر 19, 2017

    قدیم افراتفری اور حتمی ترتیب


    افراط کے منظر نامے کی کئی تفصیلات پر کام کرنا باقی تھا۔ آج ہماری حالات اس کے لئے بعینہ ایسی ہے جیسی کہ معیاری نمونے کے ساتھ اس وقت تھی جب گیمو 1940ء کے عشرے میں اس پر کام کر رہا تھا۔ یہ توقع کرنا غیر حقیقی ہوگی کہ اب تک تمام جوابات ہمیں صفائی سے مل جائیں۔ ماہرین تکوینیات اب دو سمتوں میں کام کر رہے ہیں۔ ایک طریقے میں وہ یہ تلاش کر رہے ہیں کہ کس طرح سے کوانٹم اتار چڑھاؤ بہت ہی ابتدائی کائنات میں برتاؤ کرتا تھا اور دوسرا ثقلی طور پر اگر کہا جائے تو ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کائنات میں کہکشاؤں کی اہمیت کتنی ہے۔ ہماری دیکھی جانے والی کہکشاؤں کی گنتی کرکے ان کی کمیت کے تخمینہ جات کے مطابق کائنات کو چپٹا بنانے کے لئے کہکشاؤں کی صورت میں مادّے کی مقدار 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ اور معیاری نمونہ کے حسابات کے لحاظ سے 10 یا 20 فیصد مادّہ بنیادی ذرّات کی صورت میں موجود ہے جو کائنات کو بند یا چپٹے کے لئے درکار ہے، اس کے لئے کائنات اب بھی ٹھیک ہے۔ لہٰذا وہ 80 فیصد (یا زیادہ) مادّہ کہاں ہے جو چپٹے مکان و زمان کے لئے درکار ہے کیونکہ افراط کہتا ہے کہ اس کو لازمی ہونا چاہئے تھا؟ اس کے متعلق فرض کیا گیا ہے کہ یہ غیر بنیادی مادّہ ہوگا۔ اور جیسا کہ میں نے باب 10 میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ جب فلکیات دانوں نے کائنات میں موجود کہکشاؤں کی تشکیل کو بنانے کے نمونوں کی نقل کمپیوٹر میں کی کہ کس طرح سے قوت ثقل مادّے کے ڈھیر کو کائنات کے بڑھنے اور ٹھنڈے ہونے کے ساتھ کھینچتی ہے، انہوں نے دیکھا کہ مادّے کے ڈھیر کے مشاہدے کو اس نظریئے کے ساتھ مطابقت رکھنے کے لئے انھیں بڑی مقدار میں ٹھنڈے تاریک مادّے کی ضرورت کہکشاؤں کے فوق جھرمٹ کے درمیان ہوگی۔ ٹھنڈے تاریک مادّے میں ہر ذرّے کی کمیت ایک گیگا الیکٹران وولٹ (تقریباً پروٹون کی کمیت جتنا) یا زیادہ ہوگی، انہوں نے کائنات کی ثقلی قوّت کا زیادہ حصّہ تشکیل دیا ہوگا اور وہ بنیادی ذرّات نہیں ہوں گے۔ تاہم مل کر کھینچنے والے ان ذرّات کی ثقلی قوت یہ بیان کرتی ہے کہ بنیادی ذرّات جنہوں نے قابل مشاہدہ ستارے اور کہکشائیں (اور ہمیں) بنایا ہے کیونکر اس طرح سے تقسیم ہیں جیسا کہ ہم انھیں دیکھتے ہیں۔ تاہم اس سے پہلے کہ میں اس تاریک چیز کے بارے میں مزید تفصیلات بیان کروں یہ بتاتا چلوں کہ افراط کے نظریئے پر حال میں ایک اور تبدیلی ہوئی ہے جس کو آندرے لینڈی اور بہت ہی ابتدائی کائنات پر نظریات پیش کرنے کے صف اوّل کے نظریوں میں سے ایک نے بنایا ہے جو جاننے کے لائق ہے۔

    گتھ کا کام نے جو نظری پیش رفت کی تھی اس کے باوجود 'نیا افراط' کا نظریہ صرف اس وقت کام کرتا ہے جب عدد صحیح کو بہت ہی نازک طرح سے ٹھیک کیا جاتا ہے - 'نپے تلے انداز' میں جس کی اجازت صرف اس لئے ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ جھوٹا جوف کس طرح سے برتاؤ کرتا ہے اور اسی وجہ سے خصوصی دلیل دینی پڑتی ہے۔ ترکیب صرف اس وقت کام کرتی ہے اگر عدد صحیح پہلی ہی مرتبہ بالکل ٹھیک جگہ پر موجود ہوں کیونکہ ہم 'جواب' جانتے ہیں اور ہم اس سے نکلنا چاہتے ہیں اور نظریئے کے موجدین خود سے تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ناقابل اطمینان بات ہے۔

    افراط کے نقطہ نظر نے تخلیق کے لمحے کی طرف دھکیل دیا اور وحدانیت - 'عدم سے وجود' - سے کائنات کے ظہور کے معمے کو عمومی نظریہ اضافیت سے حل کرنے کی کوشش کی۔ لینڈی، گتھ اور دوسروں کو احساس ہو گیا تھا کہ یہ مکمل کہانی نہیں ہے۔ بیسویں صدی کی دوسری عظیم طبیعیات کے نظریئے یعنی کوانٹم میکانیات کے مطابق کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جیسا کہ عدم۔ کوانٹم غیر یقینی (وہی غیر یقینی جس کی وجہ سے الفا ذرّات مرکزے سے سرنگ بنا کر نکل جاتے ہیں) کی وجہ سے جس چیز کو میں اور آپ 'خالی خلاء' سمجھتے ہیں یا بے عیب خالی جگہ وہ اصل میں ابلتا ہوا کوانٹم اتار چڑھاؤ ہے جس میں ذرّات کے جوڑے متواتر وجود میں آتے ہیں اور ایک دوسرے کو فنا کرکے دوبارہ غائب ہو جاتے ہیں، جب کہ مکان و زمان بھی خود سے غائب ہو جاتا ہے اور یہ سب 10^-35 میٹر پر پھیلے ہوئے کوانٹم جھاگ کے پیمانے پر ہوتا ہے۔ کوانٹم میکانیات میں 'پلانک لمبائی' سے کم کسی بھی لمبائی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، اور 'پلانک وقت' جو 10^-43 سیکنڈ کا ہوتا ہے اس سے چھوٹے وقت کے وقفے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا توانا خلاء کے چھوٹے بلبلے جو 10^-35 میٹر پر پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اور 10^-43 سیکنڈ تک ہی رہ پاتے ہیں وہ مسلسل عدم سے ظاہر ہوتے ہیں اور دوبارہ غائب ہو جاتے ہیں۔

    ان طرح کے کئی کوانٹم اتار چڑھاؤ تیزی سے دوبارہ غائب ہو جاتے ہیں۔ تاہم سب نہیں۔ اس وقت کیا ہوگا جب افراط ان بلبلوں کے غائب ہونے سے پہلے شروع ہو جائے گا؟ اس پیمانے پر جیسا کہ لینڈی کو احساس ہو گیا تھا کہ کسی بھی اچھی طرح تعین کردہ حالت والی خالی جگہ کے بارے میں بات کرنا ہی فضول ہوگا اور اس کو صرف متعامل کرتے ہوئے کوانٹم کے میدانوں کے گند سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس افراتفری اور کوانٹم غیر یقینی کی وجہ سے خلاء کے بلبلے شروع میں 'نہیں جانتے' کہ ان سے 'تعلق' رکھنے والی پست ترین توانائی کی حالت کہاں پر ہے، لہٰذا وہ سچے جوف کی طرف بہت ہی آہستہ سے 'لڑھکتے' ہیں، جس سے عدم کے ننھے کوانٹم بلبلے ایک پوری افراط پذیر کائنات بن جاتے ہیں۔ یہ خود سے افراط پھٹاؤ سے پھیلنے کے لئے کافی ہے جس میں عبوری مرحلے یا 'فوق ٹھنڈ' کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

    ایک مرتبہ جب کوانٹم کے میدان اپنی پست ترین قدر تک جا پہنچتے ہیں تو وہ حالات جو افراط کو شروع کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں وہ غائب ہوجاتے ہیں۔ میدان پست کے درمیان جھولتے رہتے ہیں جس طرح سے کنچا پیالے میں گھوم کر اس کی تہ میں بیٹھ جاتا ہے اور اس عمل کے دوران اس کی تمام توانائی ذرّات کے جوڑوں میں بدل جاتی ہے۔ کنچا آہستگی کے ساتھ پست ترین توانائی کی حالت میں پیالے کی تہ میں چلا جاتا ہے کیونکہ رگڑ اس کی حرکی توانائی کو حرارت میں بدلتی ہے؛ جب جوڑوں کی پیدائش اس کے 'لڑھکنے' کی توانائی کو ذرّات میں بدلتی ہے تو جھولتے ہوئے میدان پست ترین حالت میں بیٹھ جاتے ہیں۔ جیسا کہ ابتدائی افراط کے منظرنامے میں تھا کہ کائنات 10^27 کیلون کے قریب دوبارہ گرم ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ پھیلتے ہوئے معیاری نمونے کی طرح غیر مضطرب ہو کر تیزی سے ٹھنڈی ہوئی۔ اگر یہ تصویر درست ہے تو وہ ترتیب جس کو ہم آج اپنے بارے میں دیکھتے ہیں اسے قدیم افراتفری سے افراط نے تخلیق کیا ہوگا؛ لینڈی اپنے اس بہتر کئے افراط کے نسخے کو 'بے ترتیب افراط' کہتے ہیں۔

    افراط کے موضوع کے مختلف منظر ناموں کی نمود اس بات کا اشارہ ہے کہ نئے تصور نے امکانات کی زرخیزی کا دروازہ وا کر دیا ہے اور وہ سنجیدگی جو ماہرین تکوینیات اور ذرّاتی طبیعیات دان بنیادی تصورات میں لے رہے ہیں۔ بنیادی تصور اب کافی طاقتور اور اچھی طرح سے قائم کیا ہوا لگتا ہے جس کو اتنے ہی یقین کے ساتھ قبول کیا جا سکتا ہے جتنا کہ گیمو نے آج سے پچاس برس پہلے بگ بینگ کے تصور کو قبول کیا تھا، یعنی کہ حقیقت میں کائنات کی ابتدائی حیات میں افراط کا دور تھا، جس نے ایک بیج سے جس کی لمبائی پلانک لمبائی یعنی کہ 10^-43 سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں تھی ہر اس چیز کو پھلا دیا جس کو ہم دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم یہ کہیں ابھی قبل از وقت ہوگا کہ ان مختلف منظرناموں میں سے کون سے منظرنامہ اب حتمی ثبوت حقیقی دنیا کے بارے میں دے گا۔ میں موضوع کا دو علمبرداروں گتھ اور لینڈی کے ان آخری الفاظ کے ساتھ اختتام کرتا ہوں۔ لینڈی پراعتماد ہیں کہ پیش رفت ٹھیک سمت میں ہو رہی ہے۔ 'پرانا منظرنامہ ختم ہو گیا ہے، نیا منظرنامہ پرانا ہو گیا ہے اور بے ترتیب منظرنامہ ترتیب میں ہے،' اس نے مجھے بتایا۔ گتھ جو کبھی علم کائنات کو ایسا میدان سمجھتے تھے جہاں آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور کوئی بھی کبھی بھی آپ کو غلط ثابت نہیں کر سکتا، ان کا آج تھوڑا سا مختلف نقطہ نظر ہے۔

    وہ کہتا ہے 'اب ایسا لگتا ہے کہ یہ بہت آسان ہے کہ کسی کونیاتی منظر نامے کو غلط ثابت کر دیا جائے، اور ایک مکمل ثابت تصویر کو بنانا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے جیسا کہ میں نے کبھی سوچا تھا۔

    شاید افراط کا نمونہ ابھی تک 'مکمل ثابت' نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے ہمیں پہلے ہی ایک طاقتور اور اہم تصویر دے دی ہے، تخلیق کے لمحے کی ایک تصویر جب ہماری معلوم تمام کائنات پلانک لمبائی کے اندر کی جہتوں میں بند تھی۔ اور جیسا کہ ہم باب 11 میں دیکھیں گے کہ اسی چیز نے دونوں تخلیق کے لمحے کی ریاضیاتی تشریح اور کائنات کے حتمی مقدر کے بارے میں معلومات کو جاننا ممکن کیا۔ اس سے پہلے کہ میں اپنے آخری باب تک پہنچوں، مجھے ابھی یہ بتانا ہے کہ وہ 90 فیصد یا اس سے زیادہ کیا ہے جس سے کائنات بنی ہے۔ وہ تاریک مادّہ کیا ہے جس نے کائنات کے خم کو فاصل قدر کے اس قدر قریب رکھا ہوا ہے؟ اور یہ لاپتہ کمیت آخر ہے کہاں؟

    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: قدیم افراتفری اور حتمی ترتیب Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top