Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, ستمبر 16, 2017

    جھوٹا جوف - false vacuum

    نقص تھا یا نہیں نمونہ کیا تھا جس نے اس کو اتنا زیادہ پرجوش اور علم کائنات میں 1980ء کے عشرے میں انقلاب بپا کر دیا تھا؟ یہ اس خیال سے نکلا تھا کہ کائنات شاید ایک ایسی تبدیلی کا سامنا کر رہی تھی جو عبوری مرحلے کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک توانا حالت سے کم توانائی والی حالت کی طرف، تخلیق کے پہلے سیکنڈ کے کچھ حصّے کے دوران اس نقطے تک پہنچنے سے پہلے جہاں سے بگ بینگ کی کہانی معیاری نمونہ کے لحاظ سے شروع ہوتی ہے۔ گتھ نے اس شروع کی بلند توانائی کی حالت کو 'جھوٹے جوف' جبکہ کم توانائی والی کمیت جو آج کی کائنات سے مطابقت رکھتی ہے اس کو 'سچے جوف' کا نام دیا۔ اس نے یہ تصور کوئی جادوگر کی ٹوپی سے نہیں نکالا تھا؛ اس کی ٹھوس نظریاتی وجوہات تھیں، بعینہ جس طرح سے ذرّات بلند توانائی پر تعامل کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ عبوری مرحلے کا تصور معقول لگتا ہے۔ تاہم ذرّاتی طبیعیات کی تفصیل میں ہمیں یہاں پر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    ایک مفید مثال کنچوں کی ایک بڑے ہموار پیالے کی ہے۔ اگر کنچے میں بہت زیادہ توانائی ہوگی - اور اگر اس کو پیالے میں کگر کے ساتھ تیزی سے لڑکاتے - تو وہ کگر کے قریب پیالے میں اونچا ہو کر گردش کرنے لگاتا جس طرح سے 'موت کے کنویں' پر موٹرسائیکل سوار کرتب دکھاتا ہے۔ پیالے کی گہرائی یا اس کے مقام سے اس کے برتاؤ پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ تاہم جیسے اس کی توانائی کم ہوتی تو کنچا رفتار کم کرتا اور پیالے کی تہ میں بیٹھ جاتا اور بالآخر تہ میں جا کر کم توانائی کی حالت میں آرام کرتا۔

    خاکہ 9.2 کائنات کی توانائی کا موت کے کنویں پر موٹرسائیکل سوار سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ جب کافی توانائی دستیاب ہوگی تو سوار موت کے کنویں کی دیوار پر جتنا مرضی اونچا جا سکتا ہے - یہ بلند توانائی کی کمیتی حالت والی کائنات کی تخلیق کے برابر ہے۔ جب توانائی کم ہوگی تو موٹرسائیکل لامحالہ طور پر پست ترین حالت میں چلی جائے گی۔ تاہم کائنات کی صورت میں کسی ایک پست سے زیادہ حالتیں ہو سکتی ہیں جس کو وہ ٹھنڈا ہوتے ہوئے اور توانائی کی کمیت کو کم کرتے ہوئے چن سکتی ہے۔

    اب پستی کا مقام ہی سب سے اہم ہے۔ کچھ اسی طرح سے کائنات میں اس وقت ہوا جب وہ 10^-43 سیکنڈ سے 10^-35 سیکنڈ کے درمیان ٹھنڈی ہو رہی تھی (جس وقت درجہ حرارت لگ بھگ 10^27 کیلون تھا)۔وہ بتدریج پست توانائی کی حالت میں ٹھر گئی۔ تاہم کون سی والی؟ فرض کریں کہ وہ اس حالت میں ٹھرتی جو جھوٹے جوف کے برابر یا صرف مقامی پستی تھی جس طرح سے آتش فشانی گڑھے کے اندر ڈبکی ہوتی ہے (خاکہ 9.3)۔

    خاکہ 9.3 افراط کے پہلے نسخے میں کائنات ایک 'جھوٹے جوف' کی حالت میں اس وقت تک پھنس گئی تھی جب تک اس نے توانائی کی رکاوٹ کو عبور نہیں کیا جس طرح سے الفا ذرّات مرکزے سے فرار ہوتے ہیں اور خلاء میں ٹھر جاتے ہیں۔ اس عمل کے دوران نکلنے والی توانائی نے تیز رفتار کائنات کے 'افراط' کو چلایا۔

    اس طرح کی حالت کو فوق ٹھنڈے پانی کی طرح سے ملایا جا سکتا ہے، جو 0 ° سینٹی گریڈ سے بغیر جمے ٹھنڈا ہو۔ جب ٹھنڈک جاری رہتی ہے تو پانی بالآخر یکایک جم جاتا ہے اور اپنی پوشیدہ گداخت کی گرمی اس عمل میں کھو دیتا ہے۔0 ° سینٹی گریڈ سے نیچے برف کم توانائی کے ساتھ زیادہ پائیدار حالت میں ہوتی ہے ہم سفر پوشیدہ حرارتی توانائی کا اخراج 0 ° سینٹی گریڈ سے نیچے ہمیشہ نہیں ہوتا۔ گتھ نے کہا کہ اسی طرح کی چیز کائنات کی بہت ہی ابتدائی حالت کے وقت جوف میں وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ جب کائنات نے 10^27 کیلون سے نیچے جا کر ٹھنڈا ہونا جاری رکھا تو وہ کچھ دیر کے لئے جھوٹے جوف کی حالت میں رہی جس طرح سے فوق ٹھنڈا پانی اپنے نقطۂ انجماد سے نیچے مائع کی حالت میں رہتا ہے۔ سچی پست توانائی کی حالت اسی وقت پہنچتی ہے جب کائنات رکاوٹ کو عبور کرنے کا کوئی راستہ تلاش کر لیتی ہے اور جھوٹے جوف کی حالت کی پست ترین گہرائی میں پہنچ جاتی ہے۔

    بلاشبہ آتش فشاں کی تشبیہ دیکھی بھالی ہے۔ یہ اسی طرح کی ہے جیسی جوہری مرکزے میں الفا ذرّات کی قید کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ جس طرح سے الفا ذرّات اپنے قید سے اصول عدم یقین کی مدد سے سرنگ بنا کر فرار ہوتے ہیں بعینہ اسی طرح ابتدائی کائنات اصول عدم یقین کی مدد سے جھوٹے جوف سے نکلی۔ تاہم جب کائنات جھوٹے جوف میں قید تھی یا فوق ٹھنڈ حالت میں تھی تو اس کی شاندار قید توانا کمیت نے باہر کی طرف زبردست دباؤ ڈالا جس سے اس کو اس سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلایا جیسے کہ معیاری نمونہ بتاتا ہے، گتھ یہ جان کر کافی حیرت میں پڑ گئے تھے۔ اس کا اثر مختصر عرصے کے لئے ایسا ہوا کہ کائناتی مستقل اس سے کہیں زیادہ طاقتور بن گیا تھا جیسا کہ آئن سٹائن نے تصور کیا تھا۔ نتیجتاً کائنات بہت تیزی سے پھیلی اور ہر 10^-34 سیکنڈ گزرنے کے ساتھ یہ اپنا حجم دوگنا کرتی چلی گئی۔ یہ معمولی پھیلاؤ کی شرح لگتی ہے۔ تاہم ہر 10^-34 میں دوگنا کرنے کا مطلب ہوا کہ 10^-33 سیکنڈ میں علاقہ دس گنا بڑھ گیا اور حجم میں اضافہ 2^10 کی حد سے ہوا، اور 10^32 سیکنڈ میں اس کا حجم 2100 گنا بڑھ گیا۔ آنکھ جھپکنے سے بھی کم کے عرصے میں ایک پروٹون سے 10^-36 گنا چھوٹا علاقہ خود سے پھول کر - اسی وجہ سے نمونے کا نام رکھا ہے - 10 سینٹی میٹر پر پھیلے ہوئے چکوترے کے حجم کا ہوگیا۔ افراط نے بہت ہی ابتدائی کائنات کے وسیع طور پر ذیلی خرد جہاں کو سنبھال لیا اور بہت ہی جلدی اس کو ان جہتوں میں لے آیا جس سے ہم واقف ہیں۔

    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: جھوٹا جوف - false vacuum Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top