Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 4 ستمبر، 2017

    تاریک مادہ

    مترجم:منصور محمد قیصرانی

    15 جنوری 1934 میں فزیکل ریویو نامی رسالے میں ایک ماہ قبل سٹین فورڈ یونیورسٹی میں زویسکی اور باڈ کے لیکچر کے اہم نکات شائع کیے ۔ انتہائی اختصار کے باوجود 24 سطور کا ایک پیراگراف سائنس کی ایک نئی شاخ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اس میں پہلی بار نیوٹران ستارے اور سپر نووا کا نہ صرف حوالہ دیا گیا بلکہ ان کے بننے کے طریقے اور ان کے پھٹنے کے پیمانے پر بھی روشنی ڈالی گئی اور مزید یہ بھی بتایا گیا کہ سپر نووا کے پھٹنے سے ہی کاسمک ریز یعنی کائناتی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو ان دنوں کائنات میں ہر جگہ پھیلی ہوئی مل رہی تھیں۔ یہ نکات انتہائی انقلابی نوعیت کے تھے۔ نیوٹران ستاروں کے وجود کا پہلا ثبوت 34 سال بعد جا ملا۔ کاسمک ریز یعنی کائناتی شعاعیں اس وقت ممکن تو سمجھی جاتی ہیں، لیکن ان کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ کالیٹک کے آسٹرو فزسٹ کپ تھورن کے مطابق ‘یہ مقالہ طبعیات اور فلکیات کے موضوع پر شاید سب سے پرمغز مقالہ ہو’۔

    مزے کی بات یہ تھی کہ زویسکی کو پسِ منظر میں ہونے والے عوامل کا علم نہیں تھا۔ تھورن کا خیال ہے کہ زویسکی کو طبعیات کے قوانین کا کوئی علم نہیں تھا اور اپنے نظریے سے متعلق طبعی قوانین کی سمجھ بھی نہیں تھی۔ اس کا وقت بڑے نظریات کے لیے وقف تھا۔ باقی ریاضیاتی کام کرنے کے لیے دوسرے افراد تھے جن میں باڈ سرِ فہرست تھا۔

    زویسکی پہلا انسان تھا جس نے یہ بات جانی کہ ہماری کائنات میں ہرگز اتنا مادہ موجود نہیں جو تمام کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے منسلک رکھ سکے۔ اس نے اندازہ لگایا کہ کوئی نہ کوئی اور چیز ہونی چاہئے جس کی کشش سے تمام تر کہکشائیں ایک دوسرے سے منسلک رہتی ہیں۔ آج اسے ڈارک میٹر یعنی تاریک مادہ کے نام دیا جاتا ہے۔ ایک بات جس کا احساس زویسکی کو نہ ہو پایا، یہ تھا کہ جب نیوٹران ستارہ انتہائی سکڑتا ہے تو اس کی کشش روشنی پر بھی غالب آ جاتی ہے اور اسے بلیک ہول یعنی سیاہ شگاف کہتے ہیں۔ بدقسمتی سے زویسکی کے تعلقات دیگر ساتھیوں سے اتنے کشیدہ تھے کہ اس کے نظریات پرکوئی توجہ نہیں دی گئی۔ حتیٰ کہ پانچ سال بعد جب اوپن ہائیمر نے نیوٹران ستاروں پر اپنا مشہور مقالہ لکھا، اس نے ایک بار بھی زویسکی کی تحقیق کا حوالہ نہیں دیا، حالانکہ زویسکی اسی عمارت میں چند کمرے دور اسی مسئلے پر برسوں سے تحقیق کر رہا تھا۔ تاریک مادے پر زویسکی کی تحقیق پر لگ بھگ چار دہائیوں بعد توجہ دی گئی۔

    جب ہم سر اٹھا کر دیکھتے ہیں تو ہمیں انتہائی محدود کائنات دکھائی دیتی ہے۔ پوری زمین سے ایک وقت میں ہم زیادہ سے زیادہ 6,000 ستارے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک جگہ کھڑے ہو کر دیکھیں تو ستاروں کی تعداد 2,000 سے زیادہ نہیں بڑھ پاتی۔ عام دوربین سے دیکھیں تو یہ تعداد بڑھ کر 50,000 ہو جاتی ہے۔ دو انچ قطر والی دوربین سے یہ تعداد بڑھ کر 3,00,000 ہو جاتی ہے۔ 16 انچ قطر کی دوربین سے ستاروں کی بجائے ہمیں کہکشائیں دکھائی دینے لگ جاتی ہیں۔ ایوانز کا خیال ہے کہ ان کی دوربین سے دکھائی دینے والی کہکشاؤں کی تعداد 50,000 سے 1,00,000 ہے اور ہر کہکشاں میں اربوں کی تعداد میں ستارے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کے باوجود دکھائی دینے والے سپر نووا کی تعداد انتہائی قلیل ہوتی ہے۔ عام طور پر ستارے اربوں سال تک روشن رہتے ہیں اور پھر اچانک خاموشی سے بجھ جاتے ہیں۔ اکا دکا ستارے ہی پھٹتے ہیں۔ زیادہ تر ستارے بجھتے بجھتے ختم ہو جاتے ہیں۔ عام کہکشاں میں سو ارب ستارے ہوتے ہیں اور اوسطاً اس میں ہر دو یا تین سو سال بعد سپر نووا پھٹتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ آپ ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کی چھت پر کھڑے ہو کر دوربین کی مدد سے دیکھتے ہیں کہ مین ہٹن میں کسی عمارت کی کھڑکی سے کسی کو اپنی 21ویں سالگرہ کا کیک کاٹا جا رہا ہو۔

    آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ جب ایوانز نے فلکیات دانوں سے جا کر سپر نووا کی تلاش میں مدد دینے والے نقشے مانگے تو انہوں نے سوچا کہ ایوانز پاگل ہو گیا ہے۔ اس وقت ایوانز کے پاس 10 انچ قطر کی دوربین تھی جو شوق کی حد تو بہت اچھی ہے لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ اس وقت ایوانز کا مقصود کائنات کے نادر ترین واقعات کو دیکھنا تھا۔ ایوانز سے قبل دیکھے گئے سپر نووا کی تعداد 60 بھی نہیں تھی۔ ایوانز نے 2003 تک 36 مزید دریافت کر لیے تھے۔

    ایوانز کو کئی فائدے بھی ہیں۔ زیادہ تر لوگ شمالی نصف کرے میں ہیں جبکہ ایوانز جنوبی نصف کرے میں رہتا ہے جہاں بہت کم لوگ ایسے مشاہدات کرتے ہیں۔ دوسرا ایوانز کی یاداشت بہت اچھی ہے اور رفتار بھی۔ بڑی دوربینوں کو مطلوبہ مقام تک لانے کے لیے مشینوں کی مدد لینی پڑتی ہے۔ مشاہدے سے زیادہ وقت اسے مطلوبہ مقام تک لانے پر لگتا ہے۔ ایوانز آرام سے اپنی چھوٹی دوربین کو ہاتھ سے گھما کر ہر دو تین سیکنڈ بعد اگلے مقام کو دیکھنے لگ جاتا ہے۔ اس طرح چند گھنٹوں میں ایوانز اگر چار سو کہکشائیں دیکھ لیتا ہے تو بڑی سائنسی دوربین والے بمشکل پچاس سے ساٹھ کہکشائیں دیکھ پاتے ہیں۔

    سپر نووا کی تلاش عموماً ناکام رہتی ہے۔ 1980 سے 1996 تک ایوانز نے سالانہ دو سپر نووا بمشکل دیکھے تھے۔ ایک بار 15 دن میں تین سپر نووا دیکھے تو ایک بار تین سال تک ایک بھی نہیں دکھائی دیا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: تاریک مادہ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top