Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ، 9 ستمبر، 2017

    بگ بینگ کے وقت ہیلیئم کی تالیف


    تمام ہلکے عناصر میں ہیلیئم-4 کی پیداوار کی کمیت سے حساسیت سب سے کم ہے۔ تاہم ہیلیئم-4 کی جو مقدار بنی اس کا انحصار اس شرح پر ہوتا ہے جس سے کائنات پھیل رہی تھی (اور ہے)، لہٰذا ہیلیئم-4 کی فراوانی کی پیمائش کی اہمیت اب بھی بہت اہم ہے۔ ہائیڈروجن سے بھاری تمام عناصر کی فراوانی کی پیمائش میں اس کی درست پیمائش کرنا سب سے آسان ہے اور یہ پیمائش بگ بینگ کے معیاری نمونے میں ٹھیک بیٹھتی ہیں۔ سب سے بہترین تخمینہ پرانے ستاروں میں تمام مادّوں میں ہیلیئم-4 کے تناسب کو 23 سے 25 فیصد تک بتاتا ہے۔ اصولی طور پر ڈیوٹیریئم بھی اتنا ہی دلچسپ ہے تاہم اس کی پیمائش عملی طور پر کافی مشکل ہے۔ جدید نیوکلیائی طبیعیات کی روشنی میں ڈیوٹیریئم ستاروں کے اندر بنتا ہی نہیں ہے۔ ستاروں کے اندر موجود درجہ حرارت میں ڈیوٹیریئم تو اصل میں تباہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا آج کائنات میں ڈیوٹیریئم کی فراوانی کی کوئی بھی پیمائش لازمی طور پر وہ عدد دے گی جو بگ بینگ میں بننے والے اصل عنصر کی فراوانی کی ہوگی۔ پیمائش مشکل ہے تاہم اس طرح کی تیکنیک جیسے کہ شہابیوں کے نمونوں میں ڈیوٹیریئم کی پیمائش کرنا اور مشتری کے بادلوں کی طیفی مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات میں ایک لاکھ ہائیڈروجن کے جوہروں کے مقابلے میں ڈیوٹیریئم کے صرف دو جوہر ہی ہیں۔ فلکیات دان سمجھتے ہیں کہ شاید ڈیوٹیریئم سے دو گنا، ہائیڈروجن کے ہر لاکھ جوہروں کے مقابلے میں پانچ جوہر بگ بینگ میں بنے اور باقی ستاروں کے قلب میں تباہ ہو گئے۔

    ستاروں سے آنے والی روشنی کے طیف بینی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہیلیئم-3 لگ بھگ بگ بینگ میں ڈیوٹیریئم جتنی ہی بنی تھی، اور لیتھیم-7 تو اس سے بھی بہت ہی کم تھی، شاید ہر دس ارب ہائیڈروجن جوہروں کے مقابلے میں لیتھیم-7 کے صرف 5 جوہر بنے تھے۔ عناصر کی فراوانی کی قدروں کو بگ بینگ کے معیاری نمونے کے لحاظ سے بیان کیا جا سکتا ہے - بشرطیکہ کائنات میں کل بنیادی مادّے کی کمیت کافی طور پر فاصل قدر کے ایک بٹا دس سے کم ہو جو کائنات کو بند ہونے کے لئے درکار ہے۔

    اپنی سادہ ترین صورت میں اس دلیل کو سب سے بہتر ڈیوٹیریئم کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی کائنات میں ڈیوٹیریئم کے مرکزے کا ایک دوسرے سے ٹکرا کر ہیلیئم کے مرکزے بنانے کا کافی امکان تھا۔ جب مرکزے کی کمیت کم ہوتی ہے تو نسبتاً کم تصادم ہوتے ہیں لہٰذا اس طرح سے آج سراغ لگایا جانے والا ڈیوٹیریئم زیادہ باقی بچ سکتا تھا۔ جب مرکزے کی کمیت زیادہ ہوتی ہے تو نسبتاً زیادہ تصادم ہوتے ہیں اور ہمارے دیکھے جانے کے لئے چند ڈیوٹیریئم باقی بچتے ہیں۔ اس بنیاد پر بھی پانچ ڈیوٹیریئم ہر ایک لاکھ ہائیڈروجن جوہروں کے لئے کافی بڑی تعداد کو ظاہر کرتے ہیں۔ ڈیوٹیریئم کی حالیہ پیمائش ابتدائی کائنات میں بنیادی ذرّات کی کافی مضبوط حد بناتی ہے، لہٰذا آج کی کائنات میں بھی یہ حد فاصل قدر سے کہیں زیادہ کم ہے۔

    جب 1960ءکی دہائی میں پہلی مرتبہ بگ بینگ میں ہونے والی نیوکلیائی تالیف کے حسابات کو لگایا گیا تو ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے کائنات کے کھلے ہونے اور ہمیشہ پھیلنے کے حتمی شواہد دے دیئے۔ یہی نقطہ نظر ماہرین تکوینیات کا 1970ء کے عشرے میں رہا کیونکہ کسی کے ذہن میں بھی یہ خیال نہیں آیا کہ کائنات زیادہ تر اس مادّے کی صورت سے بنی ہوگی جو ہمارے ارد گرد پائے جانے والے سے الگ ہے۔ اس بات کو یوں ہی لے لیا گیا تھا کہ بنیادی ذرّات کائنات میں مادّے کی سب سے اہم صورت ہیں۔ بلکہ حقیقت میں بنیادی ذرّات کو ہی نہیں بلکہ صرف روشن ستاروں اور کہکشاؤں کی صورت میں نظر آنے والے ذرّات کو۔

    خاکہ 9.1 کھوئی ہوئی کمیت 
    بگ بینگ کا معیاری نمونہ اس حد کا تعین کرتا ہے کہ فرض کریں کہ کائنات میں زیادہ تر کمیت بنیادی ذرّات کی صورت میں ہوگی تو ہائیڈروجن کی مقدار کے تناسب سے کس قدر ہیلیئم اور ڈیوٹیریئم پیدا ہو سکتی ہے۔ سایہ دار ڈبہ اس اختیار حد بندی ظاہر کرتا ہے جو آج کائنات کے مشاہدے سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ثبوت بتاتے ہیں کہ کائنات کو بند ہونے کے لئے درکار مقدار Ω = 1 کے لحاظ سے کائنات میں ایک بٹا دس (0.1) سے زیادہ مقدار مزید کوئی بنیادی ذرّات کی صورت میں مادّہ موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود دوسرے مشاہدات بتاتے ہیں کہ کائنات کافی چپٹی ہے اور اس سے کہیں زیادہ مادّہ اس میں موجود ہے۔ یہ غائب شدہ کمیت بنیادی ذرّات نہیں تھے؛ یہ آخرہے کیا؟

    1981ء میں جب میں نے اس مسئلے پر اسمتھسونین انسٹیٹیوشن آبزرویٹری سے وابستہ جان ہچرا سے بات کی تو ان کا تبصرہ تھا 'فلسفیانہ نقطہ نگاہ سے، ایک بصری شاہد مشاہداتی علم کائنات میں اپنی دلچسپی جلد ہی کھو دے گا اگر کائنات میں ان چیزوں کا غلبہ ہوگا جو وہ دیکھ نہیں سکتا۔ 'بہرحال، ہچرا کا کائنات میں بڑی مقدار میں تاریک مادّے کے وجود پر فلسفیانہ اعتراض رد ہوتا لگتا ہے - اور مشاہدات بھی ہار ماننے والے نہیں لگتے، بلکہ قابل مشاہدہ کہکشاؤں کی حرکیات کی تحقیق میں مصروف ہیں تاکہ بالواسطہ کائنات میں تاریک مادّے کی کھوج کر سکیں: تاریک مادّہ جو بنیادی مادّہ نہیں ہے۔ کائنات کے مفروضے پر قابل مشاہدہ ستاروں اور کہکشاؤں کے غلبہ کی بینڈ اب ایسی لگتی ہے کہ وہ بنیادی ذرّات کی قسم کی غیر معقولیت سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ حقیقت کہ کاربن، آکسیجن، اور لوہے جیسے عناصر کی مقدار زمین پر عام لگتی ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بحیثیت مجموعی ستاروں اور کہکشاؤں کی تشکیل میں ان کا کوئی بڑا حصّہ ہے، لہٰذا ضروری نہیں ہے کہ اگر ستارے زیادہ تر بنیادی ذرّات سے مل کر بنے ہیں تو کائنات بھی بحیثیت مجموعی بنیادی ذرّات سے مل کر بنی ہوگی۔ اس سے پہلے کہ نیا محرک سنجیدگی سے غیر بنیادی ذرّات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرے یہاں تک کہ کمیت اور روشنی کی نسبت جو 1980ء کے عشرے میں نظریوں سے آئی کچھ اور کہہ رہی ہے۔

    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: بگ بینگ کے وقت ہیلیئم کی تالیف Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top