Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, جولائی 22, 2017

    ہومو سیپئین کی طرز زندگی


    پس قدیمی شکاری-خوراک جمع کرنے والوں کے لئے بھی خالص اوزاروں پر انحصار کرنا جانب داری ہو گا۔ اس کا تدارک کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جدید خوراک اکھٹا کرنے والے سماجوں کو دیکھا جائے۔ ان کی تحقیق براہ راست بشریاتی مشاہدے سے کی جا سکتی ہے۔ تاہم جدید خوراک اکھٹا کرنے والے معاشروں کا اطلاق قدیم معاشروں پر کرتے ہوئے کافی محتاط ہونے کی معقول وجوہات ہیں۔ 

    سب سے پہلی بات تو یہ کہ تمام خوراک کو اکھٹا کرنے والے جدید معاشرے جو دور حاضر میں باقی ہیں زرعی اور صنعتی انقلاب سے متاثر ہیں۔ چنانچہ یہ فرض کرنے میں خطرہ ہے کہ ان کے بارے میں جو بات سچ ہے وہ دس ہزار برس پہلے بھی سچ ہو گی۔ 

    دوسرے، جدید خوراک اکھٹا کرنے والے معاشرے خاص طور پر مشکل آب و ہوا اور غیر موافق خطوں، زراعت کے لئے نامناسب جگہوں میں بھی باقی بچے رہے ہیں۔ معاشرے جنہوں نے ان جگہوں کی شدید ماحول سے مطابقت اختیار کی جیسے کہ جنوبی افریقہ کا کلہاری صحرا شاید قدیم معاشروں کو زرخیز خطوں جیسا کہ ینگٹزی دریائی وادی میں رہنے والوں کو سمجھنے کے لئے کافی غلط نمونہ دے سکتا ہے۔ بطور خاص کلہاری صحرا میں آبادی کی شرح اس سے کہیں زیادہ کم ہے جو قدیم ینگٹزی میں تھی اور انسانی جتھوں کے حجم اور ڈھانچے اور ان کے درمیان تعلقات پر اہم سوالات کے کافی دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ 

    تیسرے شکاری-خوراک جمع کرنے والے معاشروں کی سب سے قابل ذکر خصوصیت ان کا ایک دوسرے سے کس حد تک الگ ہونا ہے۔ وہ نہ صرف دنیا کے ایک حصّے سے دوسرے سے بلکہ ایک ہی خطے میں بھی الگ ہوتے تھے۔ ایک اچھی مثال آسٹریلیا کے اصل النسل لوگوں کے درمیان پہلے یورپی آباد کاروں میں موجود عظیم تنوع کی ہے۔ برطانوی فتح سے پہلے 300,000 اور 700,000 کے درمیان شکاری-خوراک جمع کرنے والے براعظم پر لگ بھگ 200-600 قبیلوں میں رہتے تھے، جن میں سے ہر ایک مزید کئی جتھوں میں تقسیم تھا۔ 2 ہر قبیلے کی اپنی زبان، مذہب، رسم و رواج تھے۔ اب جنوبی آسٹریلیا میں ایڈیلیڈ کہلانے والی جگہ کے قریب رہنے والے پدر نسلی قبیلے تھے جن کو دور کی جگہ سے آنے والا شمار کیا جاتا ہے۔ یہ قبائل آپس میں سختی کے ساتھ علاقائی بنیادوں پر قبیلوں کی صورت میں جڑے ہوئے تھے۔ اس کے برعکس، شمالی آسٹریلیا میں بعض قبائل کسی شخص کے مادری حسب و نسب کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اور شخصی قبائلی شناخت کا انحصار اس کے علاقے کے بجائے اس کے ٹوٹم پر ہوتا ہے۔ 

    اس وجہ سے کہ قدیمی شکاری-خوراک جمع کرنے والوں کی نسلی اور ثقافتی تنوع بھی برابر متاثر کن ہیں، اور یہ کہ 50 لاکھ سے 80لاکھ خوراک جمع کرنے والے جنہوں نے دنیا کو زرعی انقلاب کی گھڑی میں دنیا کو آباد کیا وہ ہزار ہا مختلف قبائل میں بٹے ہوئے تھے جن کی ہزار ہا زبانیں اور ثقافتیں تھیں۔ 3

    بہرحال یہ ادراکی انقلاب کی سب سے اہم میراث تھی۔ قصوں کے ظہور کا شکریہ، یہاں تک کہ وہ لوگ جو ایک ہی جین سے بنے ہوئے تھے اور ایک ہی طرح کی ماحولیاتی صورتحال میں رہ رہے تھے وہ اس قابل تھے کہ بہت ہی مختلف تصوراتی حقیقتیں تخلیق کر سکیں، جو ان میں خود مختلف رسوم اور اقدار سے مترشح تھیں۔ 

    مثال کے طور پر یہاں یقین کرنے کے لئے ہر وجہ تھی کہ ایک خوراک اکھٹا کرنے والا جتھا جو 30,000 برس پہلے اس جگہ رہتا تھا جہاں اب آکسفورڈ یونیورسٹی موجود ہے وہ اس سے الگ زبان بولتا ہو گا جو زبان اس جگہ بولی جاتی ہو گی جہاں آج کیمبرج واقعہ ہے۔ ایک جتھا جھگڑالو ہو سکتا ہے جبکہ دوسرا امن پسند۔ ہو سکتا ہے کہ کیمبرج کا جتھا فرقہ پرست ہو جبکہ آکسفورڈ والا مرکزی خاندان والا۔ کیمبرجی اپنے محافظ ارواح کے لکڑی کے مجسموں کو تراشنے میں طویل وقت گزرتا ہو گا جبکہ آکسفورڈی رقص کے ذریعہ پوجا کرتا ہو گا۔ سابق شاید دوسرے جنم پر یقین رکھتا ہو گا جبکہ مؤخر الذکر اس کو فضول سمجھتا ہو گا۔ ایک معاشرے میں ہم جنس پرستی قابل قبول ہو گی جبکہ دوسرے میں یہ ممنوع ہو گی۔ 

    بالفاظ دیگر جدید خوراک اکھٹا کرنے والوں کی بشریاتی مشاہدے قدیمی خوراک اکھٹا کرنے والوں کی کچھ ممکنہ دستیابی کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں، قدیم امکانات کا افق کافی وسیع تھا اور ان میں سے زیادہ تر ہماری بصارت سے مخفی ہے۔ * ہومو سیپئین کے بارے میں گرما گرم بحث 'حیات کا قدرتی طریقہ' اہم بات کو چھوڑ دیتا ہے۔ ادراکی انقلاب کے بعد سے سیپئین کے لئے کوئی واحد طرز زندگی نہیں تھی۔ پریشان کن امکانات کے تختہ مصوری کے درمیان صرف ثقافتی انتخابات موجود ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ہومو سیپئین کی طرز زندگی Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top