Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    منگل, جولائی 25, 2017

    قدیمی صحت مند انسان


    خوراک اکھٹا کرنے والی معیشت زرعی اور صنعتی سے کہیں زیادہ لوگوں کو دلچسپ زندگی دیتی تھی۔ آج ایک چینی کارخانے کے مزدور اگر لگ بھگ صبح سات بجے اپنا گھر چھوڑ دیتے ہیں، اور آلودہ سڑکوں سے ہوتے ہوئے اپنے بیگار خانے جاتے ہیں، اور وہاں پر ایک ہی مشین پر کام کرتے ہیں، ایک ہی طرح سے، دن آتا ہے اور گزر جاتا ہے، دماغ کو سن کر دینے والے دس گھنٹوں تک، شام کو سات بجے واپس گھر جاتے ہیں اور پھر برتن اور کپڑے دھوتے ہیں۔ تیس ہزار سال پہلے، ایک چینی خوراک اکھٹا کرنے والا اپنے ساتھیوں کے ساتھ خیمے کو صبح آٹھ بجے چھوڑ دیتا تھا۔ وہ قریبی جنگلوں اور سبزہ زار میں مٹر گشت کرتے، کھنبیاں جمع کرتے، خوردنی جڑیں کھودتے، مینڈک پکڑتے اور کبھی کبھار شیروں سے بھاگتے بھی تھے۔ ابتدائی دوپہر تک وہ واپس خیمے تک دوپہر کے کھانے کے لئے آتے۔ اس وجہ سے ان کے پاس گپ شپ کرنے کے لئے کافی وقت ملتا، کہانیاں سناتے، بچوں کے ساتھ کھیلتے اور آوارہ گردی کرتے۔ بلاشبہ کبھی کبھار شیر ان کو پکڑ لیتا تھا، یا سانپ ان کو کاٹ لیتا تھا، تاہم دوسری طرف ان کا سامنا گاڑیوں کے حادثے اور صنعتی آلودگی سے نہیں پڑتا تھا۔ 

    زیادہ تر جگہوں پر اور زیادہ تر وقت خوراک اکھٹا کرنے سے انہیں مثالی غذائیت مل جاتی تھی۔ یہ بمشکل تعجب کی بات ہے - یہی انسانی خوراک لاکھوں برس تک رہی ہے، اور انسانی جسم نے اس سے اچھی مطابقت پیدا کر لی تھی۔ رکازی ڈھانچوں کے ثبوت عندیہ دیتے ہیں کہ قدیمی اکھٹا کرنے والوں کا فاقوں یا کم غذائیت سے مرنے کا امکان بہت ہی کم تھا اور اپنے جانشین دیہاتیوں سے عام طور زیادہ لمبے اور صحت مند تھے۔ اوسط متوقع زندگی بظاہر طور پر تیس سے چالیس پر تھی، تاہم اس کی وجہ بڑی حد تک بچوں کی شرح اموات کی وجہ سے تھا۔ وہ بچے جو پہلا خطرناک برس گزار لیتے تھے ان کے پاس ساٹھ برس تک جینے کا اچھا امکان ہوتا تھا اور ان میں سے کچھ تو اسی برس تک جیتے تھے۔ جدید خوراک اکھٹے کرنے والوں کے درمیان پینتالیس برس کی عورت کا مزید بیس برس تک زندہ رہنے کا امکان ہوتا ہے، اور لگ بھگ آبادی کا 5-8 فیصد ساٹھ برس تک کی ہوتی ہے۔ 

    خوراک اکھٹا کرنے والوں کی کامیابی کا راز جو انہیں فاقوں اور کم غذائیت سے محفوظ رکھتی تھی وہ ان کی متنوع خوراک تھی۔ کسان بہت ہی محدود اور غیر متوازن خوراک کھاتے ہیں۔ ماقبل جدید دور میں خاص طور پر زرعی آبادی کے زیادہ تر کھانے والے حرارے صرف ایک ہی فصل سے آتی ہے - جیسا کہ گندم، آلو، یا چاول - جس میں انسانی ضرورت کے کچھ وٹامنز، معدنیات اور دوسرے غذائیت بخش چیزوں کا فقدان ہوتا ہے۔ روایتی عام چینی دیہاتی ناشتے کے لئے چاول کھاتے، دوپہر کے کھانے میں بھی چاول، اور رات کے کھانے میں بھی چاول۔ اگر وہ خوش قسمت ہوتے تو وہ اگلے دن بھی وہی کھانے کی توقع کرتے۔ اس کے برعکس قدیم خوراک اکھٹے کرنے والے باقاعدگی کے ساتھ درجنوں مختلف قسم کی خوراک کھاتے۔ دیہاتی قدیم اجداد، خوراک اکھٹے کرنے والے ناشتے کے لئے بیریاں اور کھنبیاں ؛ پھل، گھونگے اور کچھوے دوپہر کے کھانے کے لئے ؛ اور خرگوش کا اسٹیک جنگلی پیاز کے ساتھ رات کے کھانے میں کھاتے۔ کل کا مینو مکمل طور پر الگ ہو سکتا تھا۔ یہ تنوع اس بات کو یقینی بناتا تھا کہ قدیمی خوراک کو اکھٹے کرنے والے تمام درکار غذائیت کو حاصل کرتے تھے۔ 

    مزید برآں، کسی ایک قسم کی خوراک پر انحصار نہ کر کے وہ اس بات کو جھیلنے کے لئے کم ذمہ دار تھے کہ جب ایک خاص قسم کی خوراک ختم ہو جاتی۔ زرعی معاشرے فاقوں سے اس وقت ویران ہو جاتے جب خشک سالی، آزاد یا زلزلے سے سالانہ چاول یا الو کی فصل تباہ ہو جاتی۔ خوراک اکھٹا کرنے والے معاشرے بمشکل ہی قدرتی آفات سے بچ پاتے تھے، اور کچھ دور طلب اور بھوک کا برداشت کرتے، تاہم عام طور پر وہ اس طرح کی مصیبتوں سے زیادہ آسانی سے نمٹنے کے قابل تھے۔ اگر وہ اپنے کچھ ریشے دار خوراک کو ضائع کر دیتے تو وہ خوراک جمع کرتے یا دوسرے انواع کا شکار کرتے یا کم متاثر جگہوں پر چلے جاتے۔ 

    قدیم خوراک اکھٹے کرنے والے متعدی بیماریوں سے بھی کم متاثر ہوتے تھے۔ زیادہ تر متعدی امراض جنہوں نے زرعی اور صنعتی معاشروں کو طاعون زدہ کیا ہوا ہے (جیسا کہ خسرہ، چیچک، اور تپ دق) پالتو جانوروں سے نکلے ہیں اور یہ انسانوں میں صرف زرعی انقلاب کے بعد ہی منتقل ہوئے ہیں۔ قدیمی خوراک کو اکھٹا کرنے والے جنہوں نے صرف کتوں کو پالتو بنایا تھا وہ اس طرح کے تازیانوں سے آزاد تھے۔ مزید براں، زرعی اور صنعتی معاشرت میں زیادہ تر لوگ گھنی، ناقص مستقل آبادیوں میں رہتے ہیں - جو بیماریوں کے لئے زبردست ٹھکانہ ہوتے ہیں۔ خوراک اکھٹے کرنے والے چھوٹے جتھوں میں آوارہ گردی کرتے تھے جس میں وبائی امراض باقی نہیں رہ سکتے تھے۔ 

    متناسب اور مختلف خوراک، نسبتاً مختصر کام کرنے کا ہفتہ اور متعدی امراض کی کمی کئی ماہرین کو یہ بات کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ ماقبل زراعت کے خوراک اکھٹے کرنے والے معاشرے ہی 'اصل صاحب ثروت معاشرے ' تھے۔ تاہم ان قدیمی لوگوں کی زندگی کو مثالی بنانا غلطی ہو گی۔ اگرچہ وہ صنعتی اور زرعی معاشروں میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں سے بہتر زندگی گزارتے تھے تاہم ان کی دنیا اس کے باوجود سخت اور کینہ پرور تھی۔ قلت کے ادوار اور سختیاں غیر معمولی نہیں تھیں، پچوں کی شرح اموات زیادہ تھی، اور کوئی حادثہ جو آج معمولی حیثیت رکھتا ہے آسانی کے ساتھ موت کا سبب بن سکتا تھا۔ زیادہ تر لوگ اپنے خانہ بدوش گروہ کی قریبی قربت کا مزہ لوٹتے تھے، تاہم وہ بدقسمت جو اپنے ساتھی گروہ کی دشمنی یا طعنہ زنی کا خطرہ مول لیتے تھے وہ بہت بری طرح سے نتیجہ بھگتے۔ جدید خوراک کو اکھٹا کرنے والے شاذونادر ہی کسی کو چھوڑتے ہیں بلکہ وہ تو بوڑھے یا معذور لوگوں کو جو ان کے ساتھ نہیں چل سکتے مار ڈالتے ہیں۔ ناپسندیدہ شیر خوار اور بچے قتل کر دیئے جاتے ہیں اور بلکہ اس طرح کے بھی واقعات ملے ہیں جس میں مذہبی طور پر انسانی قربانی کی گئی ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: قدیمی صحت مند انسان Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top