Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ، 15 جنوری، 2016

    کیلسٹو مشتری کا چاند حصّہ دوم

     ایمز ریسرچ سینٹر کے  جیفری مور  کیلسٹو کی حیران کن سطح کا مطالعہ کر رہے ہیں باالخصوص  ان ڈرامائی منجمد  ابھاروں کا اور اس عمل کا جس نے ان کو بنایا ہے۔ " وہ سب سے زیادہ نظر آنے والی گڑھوں کے ٹوٹی ہوئی کگروں کی حالت لگتے ہیں؛ یہ کیلسٹو پر پایا جانے والا سب سے اہم ارضیاتی عمل ہے۔ گڑھے خود سے چٹانوں سے بنے ہوئے ہیں لیکن ان میں کافی ساری  کافور صفت  یا طیران پذیر  چیزیں ممکنہ طور پر خشک برف [منجمد کاربن ڈائی آکسائڈ] موجود ہیں۔ ایک مرتبہ آپ  تحتی چٹان کو دیکھ لیں جو پانی کی برف ، خشک برف  اورضدی  باریک ذرّات مادّے پر مشتمل ہے [1]  خشک برف  گل جاتی ہے  اور گڑھوں کو واپس ان کی پہلی حالت میں لے آتی ہے۔ پانی کی برف مقامی سرد گڑھوں، گڑھوں کی کگروں اور اسی طرح کی چیزوں  میں بچی رہتی ہے" نتیجہ کے طور پر سینکڑوں میٹر اونچے برف کے کنگورے  یا مینار بنتے ہیں۔ " ایک ایسی سطح بنتی ہے جو انتہائی انوکھی ہے اور یہ مونومنٹ وادی سے کچھ زیادہ الگ نہیں ہے جہاں پر مینار والے حصّہ روشن ، چمکتے ہوئی برف لگتے ہیں۔" مور کہتے ہیں۔

    ایسی جگہوں پر  مینار بنانے والا عمل اپنے پیچھے ضدی  روئیں دار گرد چھوڑ دیتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والا مادّہ سطح کو ڈھک لیتا ہے  تقطیر  کے عمل کو دبا دیتا ہے اور  اس کے نیچے موجود برف کو بچاتا ہے۔ تحتی چٹان سے بچنے والا تاریک مادّے میں برقی سفوف کی  حرارتی خصوصیت  ہوتی ہے۔" آپ شاید روئیں دار، گرد آلود  گہرے سرمئی رنگ کے مادّے کے وسیع میدان میں کھڑے ہوں  اور وہاں سے ان تمام  کھڑی پہاڑی اور میناروں کو دیکھ رہے ہوں جو کافی بڑے  چمکتی ہوئی برف کے مینار ہیں۔ لہٰذا  گلیلائی چاندوں میں دور سے سب سے بیزار کن نظر آنے والی جگہ آسانی کے ساتھ ایک شاندار جگہ اس وقت بن جاتی ہے جب آپ اس پر چلیں اور اس کا سفر بطور سیاح کریں۔"

    جیفری مورناسا کے ایمز ریسرچ سینٹر ، ماؤنٹ ویو کیلی فورنیا میں  ایک سیاروی سائنس دان ہیں ۔ ان  کا کام سیاروی ارضیات کے گرد گھومتا ہے۔ ڈاکٹر مور نے برفیلے چاندوں  کا خلاصہ یوں پیش کیا:

    برفیلے سیارچے مجھے سحر انگیز کرتے ہیں کیونکہ وہ عجیب و غریب جگہیں ہیں، میں ایک ماہر ارضیات  ہوں اور مجھے ایسی جگہیں اچھی لگتی ہیں جو دلچسپ اور عقل کو چکرا دینے والی ہوں۔ جب وائیجر اوّل اور دوم گلیلائی سیارچوں کے پاس سے ١٩٧٠ء کی دہائی میں گزرے تو میں نے آرمی  چھوڑ دی۔ سب سے پہلے وہ ایک دوسرے سے اور کسی بھی ایسی جگہ سے بھی جو ہم اندرونی نظام شمسی میں دیکھتے ہیں بہت شاندار طور پر الگ ہیں ، لہٰذا وہ ایک نئی  پرجوش عمدہ چیز تھی جب میں سند فضیلت حاصل کر رہا تھا۔ لہٰذا میرے سند فضیلت حاصل کرنے سے پہلے اور کرنے کے دوران  وائیجر ہمیں ان برفیلے سیارچوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کر رہا تھا۔ میں نے ان پر  مریخ کے اس وقت کے کچھ زیادہ پرانے اعداد و شمار جو وائیکنگ سے حاصل ہوئے تھے ان کے ساتھ ساتھ ان پر بھی کام کرنا شروع کیا۔

    یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ بیسویں صدی کے   صاحب خلائی جہاز سوچ رہے تھے کہ وہ خلائی سیاحت سے پیسہ کما سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر خلائی سیاحت ممکنات میں سے لگتی ہے  تو کیلسٹو وہ جگہ ہوگی جس کے بارے میں ہمیں زیادہ سوچنا نہیں پڑے گا۔ آپ کو کچھ سیاحتی جگہیں مونومنٹ وادی جیسی جگہوں کے پس منظر پر   بنانی  ہوں گی جہاں سے مشتری کا شاندار نظارہ کیا جا سکے ۔ یہ نظارہ ہی کافی ہوگا لیکن سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ یہاں سے مشتری کے ساتھ آپ کو دوسرے گلیلائی چاندوں کا بھی شاندار نظارہ ملے گا۔ کیلسٹو ایک شاندار جگہ ہے۔

    کیلسٹو کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ صرف گلیلائی چاندوں میں سے یہ ہی ایک ایسا چاند ہے جہاں پر جانے سے آپ تابکاری سے بھنیں  گے نہیں۔ یہ مشتری کی تابکاری پٹی سے باہر ہے۔ انسانوں کو یوروپا کے گندے ماحول میں بھیجنا کافی خطرناک ہے جو سائنسی طور پر  سب سے زیادہ دلچسپ سیارچہ ہے  اگر آپ نظام شمسی میں موجود حیات میں دلچسپی رکھتے ہیں ( جس میں زیادہ تر لوگ دلچسپی رکھتے ہیں)۔ گینی میڈ آئی او یا یوروپا کی طرح برا نہیں ہے؛ آپ اپنے پسندیدہ زیر جامہ سے بھی وہاں کام چلا سکتے ہیں۔ شاید انسانی  پایہ تخت کیلسٹو میں یا اس کے ارد گرد بنایا جا سکتا ہے  اور یہاں سے بیٹھ کر یوروپا  یا آئی او پر کھوجی آلات سے تفتیش کی جا سکتی ہے۔ وقت میں فرق صرف چار  اور آٹھ سیکنڈ کا ہے [ اس بات کا انحصار مدار میں آپ کی جگہ پر ہے]۔ زمین سے اس کا ٤٥ منٹ کا وقت میں فرق تکلیف دینے والا ہے۔  
      
    خاکہ5.23  کیلسٹو کی  گہری بھوری سطح  کے اوپر روشن برف کے مینار اور چھوٹے بلند قلعے ۔ سطح کا مادّہ، توافق کے ساتھ  باریک سفوف کی شکل میں اس وقت باقی بچتا ہے جب چاند کی برفیلی سطح تصعید  (کسی ٹھوس کی بخارات میں براہ راست تبدیلی اور پگھلے بغیر تکثیف) کے عمل سے گزرتی ہے۔ یہ تصویر وسیع ایسگارڈ  تصادمی طاس  کے مرکزی علاقے کی ہے۔

    شاید عجیب و غریب گلیلائی چاند مستقبل کے صاحب خلائی جہازوں کی وہاں پر جانے کی ترغیب کو درست ثابت کر دیں۔ بلاشبہ کچھ سائنسی دنیا کے جانباز اراکین  بر محل ان کی تفتیش کی ہمت کریں گے۔ وقت کے ساتھ عظیم چاند کی جاسوسی پہلے گلیلیو کرے گا  اور شاید موریاس  اگلا زبردست کائناتی کیریبین یا کناری  جزیرہ بن کر نمودار ہوگا۔  ہرچند کہ وہاں پر کوئی پام کے درخت تو نہیں ہوں گے لیکن گلیلائی چاندوں پر زبردست سمندر  اور متنوع فیہ قسم کے ارضی مناظر  اپنی زیارت کرانے کو بیتاب ہیں۔
     
    خاکہ5.24 کیلسٹو  




    [1]۔     وہ مادّہ جو تکثیف ہو کر پگھلنے کے قابل نہیں ہوتا  جس طرح سے برف ہوتی ہے۔ اس کے بجائے یہ کہتا ہے کہ جب کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی کی برف بخارات بنتی ہے۔     
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کیلسٹو مشتری کا چاند حصّہ دوم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top