Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات, جنوری 28, 2016

    اومیگا اور تاریک مادّہ حصّہ دوم

    سند حاصل کرنے کے بعد اس نے ہارورڈ میں درخواست دی جو قبول کر لی گئی، لیکن اس کی شادی ہو گئی جس کی وجہ سے اس نے انکار کر دیا اور اپنے کیمسٹ شوہر کے ساتھ کارنیل چلی آئی۔(اس کو ہارورڈ سے دوبارہ خط موصول ہوا، جس میں نیچے ہاتھ سے لکھے ہوئے الفاظ تھے،  "تم عورتوں پر لعنت ہو۔ ہر دفعہ جب بھی کوئی اچھی خاتون  کام کرنے کے لئے تیار ملتی ہے ،  تو وہ بھاگ جاتی ہے اور شادی کر لیتی ہے۔") حال ہی میں اس نے جاپان میں ہونے والی ایک فلکیات کی کانفرنس میں حاضری دی ہے۔ اور وہ وہاں پر واحد عورت تھی۔ " میں واقعی میں وہ کہانی ایک لمبے عرصے تک روئے بنا نہیں بیان کر سکتی تھی،  کیونکہ یہ بات تو طے کے کہ ایک نسل گزرنے کے بعد بھی ۔۔۔۔کچھ زیادہ نہیں بدلا ہے،" وہ تسلیم کرتے ہوئے کہتی ہے۔

    ان تمام باتوں سے قطع نظر  اس کا اور دوسروں کا احتیاط سے کئے ہوئے کام نے آہستگی کے ساتھ فلکیاتی سماج کو اس بات پر قائل کرنا شروع کر دیا کہ غائب کمیت اپنی جگہ موجود ایک مسئلہ ہے۔  ١٩٧٨ء تک روبن اور اس کے  رفقائے کاروں نے گیارہ مرغولہ نما کہکشاؤں کا تجزیہ کرلیا تھا ؛ تمام کی تمام اس قدر تیز حرکت کر رہی تھیں کہ  نیوٹنی قوانین کے مطابق وہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتی تھیں۔ اسی برس ولندیزی ماہر فلکیات البرٹ بوسمہ  کو بھی سب سے جامع درجنوں مرغولہ نما کہکشاؤں کے تجزیہ چھاپنا تھا۔ ان میں سے لگ بھگ ساری کی ساری کہکشائیں ایسا ہی برتاؤ پیش کر رہی تھیں۔ ان کے کام نے بالآخر فلکیاتی سماج کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کر دیا کہ تاریک مادّہ اصل میں وجود رکھتا ہے۔

    اس مایوس کن مسئلہ کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ اس بات کو فرض کیا جائے کہ کہکشائیں غیر مرئی ہالے میں گھری ہوئی ہیں جو ستاروں  سے دس گنا زیادہ مادّہ رکھتا ہے۔ کیونکہ اس وقت تک مزید پیچیدہ آلات کو بنانا تھا جو اس غیر مرئی مادّے کی موجودگی کو ناپ سکتے۔ سب سے زیادہ اثر انگیز طریقہ یہ تھا کہ ستاروں کی روشنی میں آنے والے خم کو  اس وقت ناپا جائے  جب وہ غیر مرئی مادّے میں سے گزرے۔ آپ کے چشمے کے شیشے کی طرح ، تاریک مادّہ(اپنی زبردست کمیت اور ثقلی قوّت کی  کشش کی بدولت ) روشنی کو موڑ دیتا ہے۔حال ہی میں ہبل خلائی دوربین  سے حاصل ہونے والی تصاویر کا کمپیوٹر کے ذریعہ احتیاط کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد سائنس دان اس قابل ہو گئے ہیں کہ پوری کائنات میں تاریک مادّے کی تقسیم کا نقشہ تیار کر سکیں۔

    تاریک مادّہ کس چیز سے بنا ہے اس کو کھوجنے  کے  لئے سائنس دان کافی ہاتھ پیر مار رہے ہیں ۔ کچھ سائنس دانو ں کے خیال میں یہ عام مادّے پر ہی مشتمل ہو سکتا ہے، بس صرف فرق اتنا ہوگا کہ یہ کافی مدھم ہوگا ( یعنی کہ یہ بھورے بونے ستاروں، نیوٹران ستاروں، بلیک ہولز اور اسی طرح کی چیزوں سے مل کر بنا ہوگا جو قریب قریب غیر مرئی ہیں)۔ ایسے  اجسام مل کر  "عام مادّہ" بناتے ہیں یعنی کہ ان شناسا  بنیادی ذرّات (جیسا کہ نیوٹران اور پروٹون) پر مشتمل مادّہ۔ مجموعی طور پر یہ ماچو  کہلاتے ہیں  (جو ضخیم دبے ہوئے ہالے والے اجسام  کا مخفف ہے )۔

     جبکہ دوسروں کے مطابق تاریک مادّہ شاید بہت ہی شدید  غیر شناسا بنیادی ذرّات  جیسا کہ نیوٹرینو (جو گرم تاریک مادّہ بھی کہلاتے ہیں) پر مشتمل ہوگا۔ بہرحال نیوٹرینو اس قدر تیزی سے حرکت کرتے ہیں کہ قدرتی طور پر  ان کو کہکشاؤں اور تاریک مادّے میں مجتمع ہوتے ہوئے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جبکہ کچھ نے تو قیاس کرنے سے ہی ہاتھ اٹھا لئے ہیں ، وہ سوچتے ہیں کہ تاریک مادّہ ایک مکمل طور پر نئی قسم کا مادّہ ہے  جس کو وہ "ٹھنڈا تاریک مادّہ"  یا ومپ (کمزور متعامل ضخیم ذرّات)بھی  کہتے ہیں۔ اب تک یہی تاریک مادّے کو بیان کرنے کے لئے سب سے امید افزا امیدوار کی حیثیت سے ابھرے ہیں۔

    کوبی سیارچہ

    عام دوربین کا  استعمال  کرتے ہوئے جو فلکیات کی دنیا میں گلیلیو کے دور سے ہی ایک اہم آلہ بن چکی  ہے تاریک مادّے کے اسرار کا ممکنہ حل ڈھونڈھنا مشکل ہے۔ فلکیات معیاری زمینی بصریات  کا استعمال کرنے سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ ١٩٩٠ء کی دہائی میں فلکیاتی آلات کی ایک نئی نسل وجود میں آئی جو جدید سیارچوں ، لیزر اور کمپیوٹر کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتی ہے اور جس نے علم کائنات کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے ۔

    اس نئی فصل کا پہلا پھل  کوبی (کائناتی پس منظر کھوجی) سیارچہ تھا  جس کو ١٩٨٩ء میں خلاء میں چھوڑا گیا تھا۔  پنزیاس اور ولسن کے اصل کام  نے بگ بینگ سے متعلق چند اعداد و شمار کی تصدیق کی تھی ، کوبی کا سیارچہ اس صلاحیت کا حامل تھا کہ ان اعداد و شمار کے نقاط کو ناپ سکے  جو انتہائی صحت کے ساتھ سیاہ جسم کی اشعاع  کی پیشن گوئی کے ساتھ میل کھا سکے جس کا اندازہ  گیمو اور اس کے رفقائے کاروں نے ١٩٤٨ء  میں لگایا تھا۔

     ١٩٩٠ء میں امریکن ایسٹرونامیکل سوسائٹی میں ١٥٠٠ سامعین  اس وقت اچانک کھڑے  ہوئے اور پر جوش تالیاں بجانی شروع کر دیں جب انہوں  نے کوبی سے حاصل کردہ نتائج کو منظم نگار  پر دیکھا ، جو قریباً مکمل طور پر پس منظر کی امواج کے ساتھ 2.728کیلون درجہ حرارت کے ساتھ میل کھا رہا تھا۔

    پرنسٹن کے فلکیات دان یرمیاه پی اسٹرائکر تبصرہ کرتے ہیں، "جب چٹانوں میں رکازات پائے گئے تو  نوع کے ماخذ قطعی طور پر واضح ہو گئے تھے ۔ اسی  طرح کوبی  نے [کائنات ] کے رکاز کو دریافت کرلیا۔"

    بہرصورت کوبی سے حاصل کردہ منظم نگار بہت دھندلا تھا۔ مثال کے طور پر سائنس دان چاہتے تھے کہ "گرم حصّوں" یا پس منظر اشعاع میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کا تجزیہ کریں ، یہ اتار چڑھاؤ پورے آسمان میں ایک ڈگری تک کا ہونا چاہئے تھا۔ لیکن کوبی کے آلات ٧ یا اس سے زیادہ ڈگری کا سراغ نہیں لگا سکتے تھے؛ وہ اتنے حساس نہیں تھے کہ چھوٹے گرم حصّوں کا سراغ لگا سکیں۔ سائنس دان مجبور تھے کہ ڈبلیو میپ سیارچے کے نتائج  کا انتظار کریں، جس کو نئی صدی کے آغاز میں چھوڑا جانا تھا۔ اس سے ان کی امیدیں وابستہ تھیں کہ اس قسم کے سوالات اور اسرار کے جواب وہ ڈھونڈ لائے گا۔                  


    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: اومیگا اور تاریک مادّہ حصّہ دوم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top