Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, جنوری 27, 2016

    اومیگا اور تاریک مادّہ حصّہ اوّل


    تاریک مادّے کی کہانی شاید علم فلکیات کا ایک سب سے انوکھا اور عجیب باب ہے۔ ١٩٣٠ء کے عشرے میں جب کالٹک  کے ایک آزاد منش سوئس ماہر فلکیات فرٹز زوائیکی  نے دیکھا کہ  کہکشاؤں کے سحابی جھنڈ میں  کہکشائیں نیوٹن کی بیان کردہ قوّت ثقل کے تحت ٹھیک طرح سے حرکت نہیں کر رہی ہیں۔ اس کے مشاہدے کے مطابق یہ کہکشائیں اس قدر تیزی سے حرکت کر رہی تھیں کہ  نیوٹن کے قوانین حرکت کی رو سے ان کو تو الگ  اورجھرمٹ کو ختم ہو جانا چاہئے تھا۔  اس کی سوچ کے مطابق صرف ایک ہی طریقہ ایسا تھا جس میں سحابی جھرمٹ بجائے ٹوٹنے اور بکھرنے کے ایک ساتھ جڑا رہ سکتا  یعنی کہ جھرمٹ میں اس مادّے کی مقدار سے سینکڑوں گنا زیادہ مادّہ ہونا چاہئے جو ہم اپنی دوربینوں کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں ۔ یا تو نیوٹن کے قوانین  کہکشانی پیمانے پر غلط ہیں یا پھر  ایسی عظیم کھوئی ہوئی مادّے کی مقدار موجود ہے جو ان کو آپس میں باندھ کر رکھے ہوئے ہے۔

    تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ تھا کہ  کائنات میں مادّے کی تقسیم سے متعلق کوئی ایسی چیز تھی جس کو ہم نہیں جانتے تھے۔ ماہرین فلکیات نے آفاقی طور پر یا تو فرٹز زوائیکی کے شاندار کام کو کئی وجوہات کی بنا پر رد کر دیا یا پھر نظر انداز کر دیا تھا ۔

    پہلی وجہ تو یہ تھی کہ ماہرین فلکیات اس بات کو قبول کرنے سے ہچکچا رہے تھے کہ نیوٹن کی قوّت ثقل جس نے صدیوں سے طبیعیات کی دنیا میں اپنی بادشاہت کو برقرار رکھا ہوا ہے وہ  غلط بھی ہو سکتی ہے۔  اس قسم کے مسائل سے نمٹنے کی فلکیات کی دنیا میں پہلے بھی کچھ مثالیں موجود تھیں۔ انیسویں صدی میں جب یورینس کے مدار کو جانچا گیا  تو معلوم ہوا کہ وہ ڈگمگا رہا ہے۔ یہ آئزک نیوٹن کی مساوات سے بہت ہی تھوڑا سا انحراف کر رہا تھا۔ لہٰذا یا تو نیوٹن غلط تھا یا پھر کوئی نیا سیارہ موجود تھا جس کی کشش یورینس کو کھینچ رہی تھی۔ مؤخر الذکر بات درست تھی  اور نیپچون کو پہلی ہی کوشش میں ١٨٤٦ء میں نیوٹن کے قانون کی رو سے کی جانے والی پیش گوئی   کی مدد سے  اس محل وقوع کا جائزہ لے کر اس کو تلاش کرلیا گیا۔

    دوسرا مسئلہ زوائیکی کی شخصیت  اور اس بات کا  تھا کہ ماہرین فلکیات غیر  کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں۔ زوائیکی ایک صاحب کشف تھا جس  کو اس کی زندگی میں اکثر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا تھا یا پھر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ ١٩٣٣ء میں والٹر بیڈ کے ساتھ مل کر اس نے سپرنووا کی اصطلاح گھڑی۔ اور اس بات کا بالکل درست اندازہ لگایا کہ  ایک چھوٹا سے نیوٹران ستارہ جو لگ بھگ ١٤ میل پر محیط ہونا چاہئے وہ ہی حتمی طور پر پھٹتے ہوئے ستارے کی باقی مانندہ لاش ہوگا۔ یہ خیال اس قدر اجنبی تھا کہ١٩ جنوری ١٩٣٤ء کے  لاس اینجیلس ٹائمز کے اخبار  میں کارٹون  بنا کر اس  کا مذاق اڑایا ۔ زوائیکی ایک چھوٹے مراعات یافتہ ماہرین فلکیات کے ٹولے پر آگ بگولہ تھا جو اس کے خیال میں اسے تسلیم کرنے کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے تھے ، اکثر اس کے خیالات کو چوری کر لیتے تھے اور اس کو سو اور دو سو انچ والی دوربین پر کام کرنے  کے لئے وقت دینے سے انکار کر دیتے تھے۔(اپنی موت سے کچھ عرصہ قبل ١٩٧٤ءمیں  زوائیکی نے خود سے کہکشاؤں کا ایک کیٹلاگ چھاپا۔ کیٹلاگ پر عنوان کچھ اس طرح سے تھا، " امریکی فلکیات  کے مقدس راہبوں  اور ان کے خوش آمدیوں  کے لئے ایک یاد دہانی۔ " مضمون میں شعلہ فشانی کے ساتھ  ان  راز دار اور دروں رفتہ فلکیاتی مراعات یافتہ گروہ  پر تنقید کی گئی  جن کا کام  اس کی طرح کے آزاد منشوں  کو چپ کرانے کا تھا۔ " آج کے کاسہ لیس  اور سرقہ کرنے والے با الخصوص  امریکی فلکیات میں اس بات کے لئے آزاد نظر آتے  ہیں کہ  وہ ان دریافتوں  اور ایجادات  کو لوٹ لیں جو  اکیلے اور غیر مقلد شخص نے کی ہوں۔" اس نے لکھا  ۔ اس نے ایسے افراد کو  "کروی گھٹیا " کہا ۔ کیونکہ آپ کسی بھی زاویہ سے ان کو دیکھیں تو وہ آپ کو گھٹیا ہی نظر آئیں گے ۔ وہ اس وقت زبردست بھڑک اٹھا جب کسی اور کو نیوٹران ستارے کو دریافت کرنے کے صلے میں نوبیل انعام  دے دیا گیا۔)

    ١٩٦٢ءمیں کہکشانی حرکت کے  متجسس مسئلہ کو دوبارہ فلکیات دان ویرا روبن نے اٹھایا۔ اس نے ملکی وے کہکشاں کی گردش کا مطالعہ کیا اور اسی مسئلہ سے دوچار ہوئی۔ اس کو بھی فلکیات دانوں کی اسی سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا۔ عام طور پر کوئی بھی سیارہ جو سورج سے جتنا دور ہوگا وہ اتنا ہی آہستہ اس کے گرد سفر کرے گا۔ جتنا قریب ہوگا اتنا ہی تیز حرکت کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ عطارد کا نام رفتار کے دیوتا کے نام پر رکھا گیا۔ کیونکہ یہ سورج سے انتہائی قریب ہے ۔ اور پلوٹو کی سمتی رفتار عطارد سے دس گنا کم اس لئے ہے کہ وہ سورج سے کافی دور ہے۔بہرصورت جب ویرا روبن  نے ہماری کہکشاں میں موجود نیلے ستاروں کا تجزیہ کیا، تو اس نے دیکھا کہ ستارے کہکشاں کے گرد ایک ہی رفتار سے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ان پر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑھ رہا کہ ان کا فاصلہ کہکشانی مرکز سے کتنا ہے۔(اس کو چپٹا گردشی خم کہتے ہیں ) لہٰذا یہ نیوٹن کی میکانیات سے انحراف کر رہے تھے۔ اصل میں اس نے دیکھا کہ ملکی وے کہکشاں اس قدر تیز رفتار چکر لگا رہی تھی کہ اس کو تو الگ ہو جانا چاہئے تھا۔ لیکن یہ کہکشاں تو دس ارب برسوں سے  پائیداری کے ساتھ وجود رکھتی ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر تھی کہ خم کیوں چپٹا تھا۔ کہکشاں کو بکھرنے سے بچانے کے لئے اس کو سائنس دانوں کے لگانے گئے حالیہ اندازوں کے مطابق  دس گنا زیادہ بھاری ہونا چاہئے تھا۔ بظاہر طور پر ملکی وے کا نوے فیصد مادّہ غائب تھا!


    ویرا روبن کو نظر انداز کرنے کی ایک وجہ اس کا عورت ہونا تھا۔ تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے وہ یاد کرتی ہے کہ جب اس نے سوارتھمور  کالج میں سائنس کے شعبے کے لئے  درخواست دی  تو اس نے ایسے ہی داخلے دینے والے افسر کو بتا دیا کہ اس کو مصوری کا شوق ہے، انٹرویو  لینے والے نے پوچھا ، "کبھی تم نے ایسا پیشہ چننے کا سوچا ہے جس میں تم فلکیاتی اجسام کی تصاویر کو بنا سکو؟" وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہے ، "یہ بات میرے خاندان میں ایک لطیفہ بن گئی تھی ۔کئی برسوں تک جب بھی کسی سے کوئی چیز غلط ہوتی، تو ہم کہتے،' کیا تم نے کبھی ایسے پیشے کو چننے کا سوچا ہے جس میں فلکیاتی اجسام کو بنا سکو؟" جب اس نے اپنے اسکول کے طبیعیات کے استاد کو بتایا کہ  اس کا داخلہ وسار  میں ہو گیا ہے ، تو اس کے استاد نے جواب دیا، "تم اس وقت تک اچھا کام کرو گی جب تک سائنس سے دور رہو گی۔" بعد میں وہ یاد کرتی ہے ، "اس طرح کی باتیں سن کر  دلبرداشتہ نہ ہونے کے لئے بہت زیادہ عزت نفس چاہئے ہوتی ہے۔"
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: اومیگا اور تاریک مادّہ حصّہ اوّل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top