Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    اتوار، 17 جنوری، 2016

    تغیر آواز کا اثر اور پھیلتی ہوئی کائنات

    تغیر آواز کا اثر اور پھیلتی  ہوئی کائنات
     
    ہبل جانتا تھا کہ کسی بھی دور دراز جسم کی رفتار کو معلوم کرنے کا ایک سادہ طریقہ  یہ ہے کہ اس جسم سے نکلتی آواز یا خارج ہوتی ہوئی روشنی کا تجزیہ کیا جائے۔ اس کو تغیر آواز کا اثر یا ڈوپلر کا اثر کہا جاتا ہے۔ سڑک پر ہمارے سامنے سے گزرتی گاڑیاں اس اثر کو پیدا کرتی ہیں۔ پولیس اس اثر کو گاڑیوں کی رفتار کو ناپنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ وہ ایک لیزر کی شعاع گاڑی پر مارتے ہیں جو ان کی گاڑی تک معکوس ہوتی ہے ۔ لیزر کی روشنی کے تعدد ارتعاش  میں ہونے والی تبدیلی کو ناپتے ہوئے وہ ہماری سمتی رفتار کو معلوم کر لیتے ہیں ۔

    مثال کے طور پر اگر ایک ستارہ ہماری طرف چلا  آ رہا ہے تو روشنی کی موجوں کو وہ خارج کر رہا ہوگا  وہ  دستی آرگن کی طرح نچڑی ہوئی ہوں گی۔ نتیجتاً اس کا طول موج چھوٹا ہوگا ۔ ایک پیلا ستارہ ہلکا سا نیلا نظر آئے گا ( کیونکہ نیلے رنگ کی طول موج پیلے رنگ سے چھوٹی ہوتی ہے)۔ اسی طرح سے اگر کوئی ستارہ ہم سے دور جا رہا ہوگا تو اس کی روشنی کی موجیں کھنچی ہوئی ہوں گی  جس کے نتیجے  میں اس کا طول موج لمبا ہوگا اس طرح سے ایک پیلا ستارہ ہلکا سا لال نظر آئے گا۔ بگاڑ جس قدر زیادہ ہوگا اسی قدر زیادہ ستارے کی سمتی رفتار ہوگی ۔ لہٰذا اگر ہمیں ستارے کی روشنی کے تعدد ارتعاش کی تبدیلی کے بارے میں معلوم ہو تو  ہم ستارے کی رفتار کو معلوم کر سکتے ہیں۔

    ١٩١٢ء میں فلکیات دان وسٹو سلیفر  نے یہ بات معلوم کر لی تھی کہ کہکشائیں زمین سے زبردست سمتی رفتار سے دور ہو رہی تھیں۔ نا صرف کائنات ہماری پرانی سوچ سے کہیں زیادہ بڑی تھی بلکہ  یہ زبردست رفتار سے پھیل بھی رہی تھی۔ چند ایک استثناء کو چھوڑ کر  اس کو زیادہ تر کہکشائیں نیلی تبدیلی کے بجائے  سرخ تبدیلی کا اخراج کرتی ہوئی نظر آئیں ۔ اس کی وجہ حرکت کرتی ہوئی کہکشاؤں کی ہم سے دوری تھی۔ سلیفر  کی دریافت نے اس بات کو ثابت کیا تھا کہ کائنات اصل میں نیوٹن اور آئن سٹائن کی سوچ کے برخلاف  ساکن کے بجائے متحرک ہے۔

    پچھلے دور  میں جن سائنس دان جنہوں نے بنٹلے اور البرز کے تناقض  کا مطالعہ کیا ان میں سے کسی نے بھی سنجیدگی سے کائنات کے پھیلنے کا نہیں سوچا۔ ١٩٢٨ء میں ہبل نے ویلم ڈی سٹر  سے ملنے کا ہالینڈ کا ثمر آور دورہ کیا ۔ ہبل کو ڈی سٹر کے اس تصور نے بہت زیادہ حیرت میں ڈال رکھا تھا کہ کہکشاں جتنی زیادہ ہم سے دور ہو گئی اتنا ہی زیادہ تیزی سے وہ حرکت کرے گی  ۔ ذرا ایک ایسے غبارے کا تصور کریں جس کی سطح پر کہکشائیں موجود ہیں ۔ جیسے ہی غبارہ پھولے گا ،وہ  کہکشائیں جو ایک دوسرے سے قریب ہوں گی  وہ ایک دوسرے سے  نسبتاً آہستہ دور ہوں گی ۔یعنی  کہکشائیں جتنا ایک دوسرے سے قریب ہوں گی  اتنا ہی آہستہ دور ہوں گی ۔ لیکن جو کہکشائیں غبارے کی سطح پر ایک دوسرے سے خاصی  دور ہوں گی وہ زیادہ  تیزی سے اور دور ہوں گی۔

    ڈی سٹر نے ہبل سے درخواست کی کہ وہ اس اثر کو اپنے اعداد و شمار میں تلاش کرے۔ اس چیز کو کہکشاؤں کی سرخ منتقلی کا جائزہ لے کر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ جتنا زیادہ کہکشاؤں کی  سرخ منتقلی  ہو گئی ، اتنا ہی تیزی سے وہ دور ہو رہی ہوں گی  لہٰذا وہ ہم سے اتنا ہی دور ہوں گی ۔( آئن سٹائن کے نظرئیے کے مطابق ، تیکنیکی طور پر کہا جائے تو کہکشاؤں کی سرخ منتقلی اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ زمین سے تیزی سے دور جا رہی ہیں بلکہ اس کی وجہ  کہکشاؤں کے درمیان مکان  کا بذات خود پھیلاؤ ہے۔ سرخ منتقلی کا اصل ماخذ  یہ ہے کہ دور دراز کہکشاں سے آتی ہوئی  روشنی  پھیلتے ہوئے خلاء کی وجہ سے کھنچی ہوئی یا لمبوتری ہوتی ہے  لہٰذا وہ  سرخی مائل نظر آتی ہے۔)

    ہبل کا قانون
     
    جب ہبل واپس کیلی فورنیا پہنچا   تو اس نے ڈی سٹر کے مشورے کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لیا  اور اس اثر کے ثبوتوں کی تلاش شروع کردی۔ چوبیس کہکشاؤں کا تجزیہ کرنے کے بعد اس نے آخر کار معلوم کر لیا کہ جو کہکشاں جتنی دور ہو گئی وہ اتنا ہی تیز ہم سے دور بھاگ رہی ہے۔ بعینہ آئن سٹائن کی مساوات  کے عین مطابق۔ ان دونوں (رفتار تقسیم  بذریعہ فاصلہ) کی نسبت  لگ بھگ مستقل ہی تھی۔ یہ جلد ہی ہبل کے مستقل یا ایچ  کے نام سے مشہور ہو گیا۔ غالباً یہ علم فلکیات میں واحد سب سے زیادہ اہم مستقل ہے۔ کیونکہ اس سے ہمیں اس شرح کا معلوم ہوتا ہے جس سے کائنات پھیل رہی ہے۔

     سائنس دانوں نے سوچا کہ اگر کائنات پھیل رہی ہے تو یقیناً اس کی ابتدا بھی ہوگی۔ ہبل کے مستقل کا الٹ اصل میں کائنات کی عمر کا حساب لگانے میں مدد دیتا ہے۔ کسی دھماکے کی ویڈیو کا تصوّر کریں ، دھماکے کی جگہ سے نکلنے والی گرد و غبار سے   پھیلاؤ کی سمتی رفتار معلوم کر سکتی ہے ۔ یعنی اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ہم ویڈیو کو اس وقت تک  الٹا چلا سکتے ہیں  جب تک وہ اس نقطہ پر نہ پہنچ جائے جہاں تمام ملبہ ایک تھا ۔ کیونکہ ہمیں پھیلاؤ کی سمتی رفتار معلوم ہے  لہٰذا ہم اس بات کا خام اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دھماکہ کس وقت وقوع پذیر ہوا تھا۔

    (ہبل کے اصل اندازے نے کائنات کی عمر کو ایک ارب اسی کروڑ بتایا تھا ، جس نے کئی ماہرین تکوینیات  کو سر درد میں مبتلا کر رکھا تھا  کیونکہ  یہ عمر زمین اور ستاروں  کی مسلمہ عمر سے کم تھی۔برسوں بعد ماہرین فلکیات نے آخر کار اس بات کو معلوم کر ہی لیا کہ اینڈرومیڈا میں موجود قیقاؤسی متغیر  سے خارج ہونے والی روشنی  نے ہبل کے مستقل کی غلط مقدار دے دی تھی۔ اصل میں "ہبل کی جنگ" جو ہبل مستقل کی درست مقدار  کو معلوم کرنے کے لئے ہوئی وہ ستر برس تک جاری رہی ۔ عصر حاضر میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ مقدار ڈبلیو میپ سیارچے سے حاصل ہوئی ہے۔)


    ١٩٣١ء میں جب  آئن سٹائن نے ماؤنٹ ولسن رصدگاہ کا دورہ کیا تو وہ پہلے ہبل  سے ملا۔ جب اسے کائنات کے پھیلاؤ کا اندازہ ہوا تو اس نے اپنے فلکیاتی مستقل کو زندگی کی سب سے بھیانک غلطی تسلیم کرلیا۔( بہرحال آئن سٹائن کی اس فاش غلطی نے ، غلط ہونے کے باوجود فلکیات کی بنیادوں کی ہلا کر رکھ دیا ہے جیسے کہ ہم اس  کو اس وقت دیکھیں گے جب ہم ڈبلیو میپ سیارچے سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو  اس باب میں آگے زیر بحث کریں گے۔)  جب آئن سٹائن کی بیوی کو اس جسیم رصدگاہ کا دورہ کرایا گیا تو اس کو بتایا گیا کہ یہ دیوہیکل دوربین کائنات کی حتمی ساخت  کا تعین کرنے جا رہی ہے۔ آئن سٹائن کی بیوی نے  سرد مہری سے جواب دیا ،" میرا شوہر یہ کام پہلے ہی اس پرانے لفافے کی پشت پر کر چکا ہے ۔"
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: تغیر آواز کا اثر اور پھیلتی ہوئی کائنات Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top