Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ، 20 جنوری، 2016

    کائنات کی نیوکلیائی بھٹی

    کائنات کی  نیوکلیائی بھٹی
     
    گیمو کی اگلی سائنس کی دنیا کی خدمت اس نیوکلیائی عمل کا   دریافت کرنا تھا   جس نے ان ہلکے عناصر کو جنم دیا جن کو ہم کائنات میں دیکھتے ہیں۔ وہ اس کو "ماقبل کائناتی  بھٹی  " کہتا تھا جہاں تمام کائنات کے عناصر اصل میں بگ بینگ کی شدید حرارت میں پکے تھے۔ آج اس عمل کو ہم "نیوکلیائی ترتیب" کے نام سے جانتے ہیں  یا اسے کائنات میں عناصر کی فراوانی  کا حساب  بھی کہا جاتا ہے۔ گیمو کے خیال میں یہ ایک لگاتار زنجیر ی عمل تھا  جو ہائیڈروجن سے شروع ہوا  اور بعد میں ہائیڈروجن کے عنصر میں مزید ذرّات کو جمع کرتے ہوئے دوسرے عناصر کو بناتا گیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ مینڈلوف کے کیمیائی عناصر کا پورا دوری جدول بگ بینگ کی حرارت سے بنایا جا سکتا ہے ۔ 

    گیمو اور اس کے طالبعلم نے   اس کی وجہ یہ بیان کی کہ کیونکہ تخلیق کے لمحے کائنات ناقابل تصوّر حد تک گرم پروٹون اور نیوٹران کا امتزاج تھی  لہٰذا ہو سکتا ہے کہ عمل گداخت شروع ہو گیا ہو ۔ جس میں ہائیڈروجن کے جوہر ایک دوسرے میں ضم ہوتے ہوئے ہیلیئم کے جوہروں میں بدلتے رہے ہوں۔ جیسا کہ کسی ہائیڈروجن کے بم یا ستارے میں ہوتا ہے کہ درجہ حرارت اس قدر بلند ہوتا ہے کہ ہائیڈروجن  جوہر کے پروٹون ایک دوسرے سے تصادم شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں اور اس  کے نتیجے میں ہیلیئم کا مرکزہ معرض وجود میں آتا ہے۔ ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے بعد کے ٹکراؤ اسی طرح  کے اگلے عنصر کی تشکیل کرتے ہیں  جس میں لیتھیم  اور بیریلیئم بھی شامل ہیں۔ گیمو نے اس بات کو فرض کیا کہ بھاری عنصر اسی طرح سے سلسلہ وار ذیلی جوہری ذرّات کو مرکزے میں جمع کرکے بنائے جا سکتے ہیں  - بالفاظ دیگر  تمام کے تمام سو کے لگ بھگ عنصر جنہوں نے مل قابل مشاہدہ کائنات کو بنایا ہے ، وہ  بگ بینگ کی اصل قیامت خیز حرارت میں ہی پکے ہوں گے۔

    ایک خاص انداز  میں گیمو نے اپنے  اس جرات مند پروگرام  کے نقشے کے خطوط رکھے  اور اپنے پی ایچ ڈی  کرنے والے طالبعلم رالف الفر  کو  اس کی تفصیلات بھرنے دیا۔ جب مقالہ تیار ہو گیا تو وہ  عملی مذاق کرنے سے باز نہیں رہا۔ اس نے طبیعیات دان ہانس بیتھ  کا نام مقالے پر اس کی اجازت کے بغیر لکھ دیا  اور یہ مقالہ  شہرہ آفاق الفا بیٹا گیما مقالے کے نام سے مشہور ہو گیا۔

     گیمو نے اس بات کی کھوج کر لی تھی کہ بگ بینگ اس قدر گرم تھا کہ ہیلیئم کی تشکیل ہو سکتی تھی جو کائنات کی کل کمیت کا ٢٥ فیصد ہے  اس طرح الٹ کر بگ بینگ کو "ثابت" کرنے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آج سادے طور پر ستاروں اور کہکشاؤں کو دیکھا جائے تو یہ بات عیاں ہو گئی کہ وہ ٧٥ فیصد ہائیڈروجن اور ٢٥ فیصد ہیلیئم سے بنے ہیں  جبکہ دوسرے عناصر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ (جیسا کہ پرنسٹن کے طبیعیات دان ڈیوڈ اسپرجل  کہتے ہیں ، "جب بھی آپ غبارہ خریدتے ہیں ، آپ اس میں بھرے وہ  جوہر لے رہے ہوتے ہیں [جس میں سے کچھ] بگ بینگ وقوع ہونے کے صرف چند منٹ  میں ہی پیدا ہو گئے تھے۔")

    بہرحال گیمو کو تخمینہ لگانے میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا نظریہ شروع کے ہلکے عناصر سے تو خوب ہم آہنگ رہتا ہے ۔ لیکن وہ عنصر جن میں 5 اور 8 نیوٹران اور پروٹون ہوتے ہیں وہ کافی غیر پائیدار ہوتے ہیں لہٰذا وہ کسی بھی طرح سے ایک "پل" کا کام نہیں کر سکتے   تھے جس کو پار کرتے ہوئے وہ بڑے اعداد والے پروٹون اور نیوٹران رکھنے والے عنصر  کو بنا سکیں اور یہی بات اپنے پیچھے ایک فلکیاتی اسرار چھوڑ دیتا ہے۔ پانچ اور آٹھ ذرّاتی  جگہ  سے آگے گیمو کے پروگرام کی ناکامی عرصہ دراز تک ایک ضدی  مسئلہ بنا رہا  اور اس کے اس تصوّر کے آگے ایک دیوار کی طرح ثابت رہا جس میں   کائنات کے تمام عناصر بگ بینگ کے لمحے میں ہی تخلیق ہو گئے تھے ۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کائنات کی نیوکلیائی بھٹی Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top