Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, جنوری 23, 2016

    ستاروں میں نیوکلیائی تالیف


    ہوئیل  جو آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر اندازے لگانے  کو بہت حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا ، اس نے دائمی حالت کے نظرئیے کو جانچنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس بات سے زیادہ لطف اندوز ہوتا تھا کہ کائنات کے عناصر گیمو کی دانست کے مطابق بگ بینگ میں نہیں پکے تھے  بلکہ ان کی  تالیف ستاروں کے قلب میں ہوئی تھی۔ اگر لگ بھگ سو کے قریب سارے   کیمیائی عناصر  ستاروں کی شدید حرارت سے بن سکتے تھے تو بگ بینگ کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

     انتہائی پراثر مقالات کے سلسلے جو ١٩٤٠ء اور ١٩٥٠ء  کے عشروں میں ہوئیل اور اس کے رفقائے کاروں نے چھپوائے تھے  ۔ ان مقالات میں  انتہائی مفصل اور   واضح طور پر یہ بیان کیا کہ بگ بینگ کے بجائے کس طرح سے ستاروں کا قلب ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے جوہروں میں مزید پروٹون اور نیوٹران  ضم کرتا ہے یہاں تک کہ  لوہے تک تمام کے تمام بھاری عناصر  اس میں بنتے ہیں۔(انہوں نے اس راز پر سے پردہ اٹھا لیا تھا کہ کس طرح سے کمیت نمبر 5 سے آگے کے عناصر بنتے ہیں  جس سے گیمو  مشکل میں پڑھ گیا۔ اپنی خدا داد صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے ہوئیل کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ اگر پہلے کوئی انجانی  غیر پائیدار کاربن کی شکل موجود تھی  جو ہیلیئم کے تین مرکزوں سے مل کر بنی ہو تو وہ اس قدر پائیدار ہو سکتی ہے کہ  "پل" کا کام دے سکے  جس کے نتیجے میں بھاری عناصر کی تخلیق ہو سکتی ہے۔ ستاروں کے قلب میں اس نئی کاربن کی  غیر پائیدار شکل  کی عمر اتنی ہوتی ہے کہ یہ ایک "پل" کا کام انجام دیتے ہوئے  بھاری عناصر کو بنانے کی اجازت دیتے ہیں ستاروں کے قلب میں یہ نئی غیر پائیدار کاربن کی شکل اتنے وقت تک برقرار رہتی ہوگی جس سے اس میں کامیابی کے ساتھ مزید نیوٹران اور پروٹون  کو ضم کرکے آسانی کے ساتھ وہ کیمیائی عناصر بنائے جا سکتے ہیں جن کی کمیت 5 اور 8  سے زیادہ ہوتی ہے۔ جب کاربن کی یہ غیر پائیدار شکل پائی گئی  تو اس نے شاندار طریقے سے اس بات کو ثابت کر دیا کہ بگ بینگ کے بجائے  ستاروں کے قلب میں نیوکلیائی تالیف کا عمل ہوتا  ہے۔ ہوئیل نے ایک پیچیدہ کمپیوٹر کا پروگرام تخلیق کیا جواس بات کے پہلے اصول کا  لگ بھگ تعین کرتا ہے کہ کیوں کائنات میں ہمیں کچھ عناصر کی بہتات نظر آتی ہے۔)

    لیکن ستاروں کی شدید حرارت بھی اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ لوہے سے بھاری عناصر کو بنا سکے۔ مثلاً تانبا ،  نکل، زنک اور یورینیم وغیرہ۔( لوہے کے عنصر کی گداخت کے نتیجے میں توانائی کا حصول انتہائی دشوار ہے ۔ جس کی بشمول مرکزے میں پروٹون کی قوّت دافع اور باندھنے والی توانائی  کے فقدان کے کئی وجوہات ہیں۔ ان بھاری عناصر کو بنانے کے لئے  ستاروں سے بھی بڑی بھٹی کی ضرورت ہوگی  یعنی کہ وہ توانائی جو ستاروں کے پھٹنے  یا سپر نووا میں حاصل ہوتی ہے ۔ کیونکہ دسیوں کھرب  ڈگری کا درجہ حرارت اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب ایک فوقی دیوہیکل ستارہ  اپنی حیات کے آخری لمحات میں متشدد طریقے سے منہدم ہو جاتا ہے  جس کے نتیجے میں اتنی توانائی پیدا ہوتی ہے  کہ لوہے سے  بھاری عناصر  بن سکیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اصل میں لوہے سے بھاری زیادہ تر عناصر پھٹتے ہوئے تارے  یا سپر نووا کی سطح سے بن کر نکلتے ہیں۔

    ١٩٥٧ءمیں ہوئیل ، مارگریٹ ، جیفری  بربج  اور ولیم فولر نے اپنے سب سے زیادہ ممتاز کام کو چھپوایا  جس میں انتہائی درستگی کے ساتھ انہوں نے  مرحلہ بہ مرحلہ اس بات کو بیان کیا کہ کائنات میں عناصر کو بنانے کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے  اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے  ان عناصر کی معلوم بہتات  کا بھی تخمینہ لگایا۔ ان کے  دلائل اس قدر درست، طاقتور  اور مدلل تھے کہ گیمو کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ہوئیل نے  سب سے زیادہ قابل قبول  دلائل نیوکلیائی تالیف  کے بارے میں دیے  ہیں ۔ گیمو نے اپنے مخصوص انداز میں درج ذیل   حصّے کو کتابی صورت میں لکھا۔


    ابتدا میں جب خدا عناصر کی تخلیق  شمار کرتے ہوئے جذباتی انداز میں وہ پانچ اور اس سے زیادہ کمیت کے عناصر کو بھول گیا ، اس لئے قدرتی طور پر کوئی بھی بھاری عنصر پیدا نہ ہو سکا۔ خدا بہت زیادہ مایوس تھا اور کائنات سے دوبارہ اوّلین رابطہ کرنا چاہتا تھا، اور ہر چیز دوبارہ سے شروع کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کا ایک سادہ سا حل بھی تھا۔ لہٰذا، قادر مطلق ہونے کی وجہ سے  اس نے اپنی غلطی کو ایک سب سے ناممکن طریقے سے درست کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور خدا نے کہا، "ہوئیل آ  جا۔" اور وہاں ہوئیل  حاضر تھا۔ اور پھر خدا نے ہوئیل کو دیکھا ۔۔۔۔ اور اس کو کہا کہ ستاروں میں بھاری عناصر کو بناؤ  اور ان کو سپر نووا کے دھماکوں سے آس پاس پھیلا دو۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ستاروں میں نیوکلیائی تالیف Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top