Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, مئی 3, 2017

    تخلیق کا معیاری نمونہ


    لہٰذا یہ خبر اگرچہ سائنسی دنیا میں تیزی سے پھیل گئی تاہم ابلاغ میں اس کا ذکر کچھ خاص طریقے سے نہیں ہوا۔ پنزیاس اور ولسن نے پرنسٹن کی جماعت کے ساتھ طے کیا کہ ہر گروہ ایسٹروفزیکل جرنل میں اپنا ایک مقالہ جمع کرائے گا جو ایک دوسرے کے ساتھ ہی شایع ہوں گے۔ پرنسٹن کا مقالہ ان دونوں میں سے زیادہ جوشیلا اور دلچسپ تھا اور وہ پہلے (والیوم 142، صفحہ 414)؛ پنزیاس اور ولسن کے مقالے سے جس کا غیر دلچسپ عنوان '4,080 ایم سی/ ایس پر انٹینے کے اضافی درجہ حرارت کی پیمائش' (والیوم 142، صفحہ 419) سے موجود تھا۔ اس دریافت کی خبر جس پر انھیں 1978ء میں نوبل انعام ملنا تھا وہ صرف سیاق و سباق میں اس طرح لکھی گئی ' مشاہداتی اضافی شور کے درجہ حرارت کی ایک ممکنہ توجیح وہ ہے جو ڈک، پیبلز، رول، اور ولکنسن نے اس شمارے کے ساتھ ایک منسلک خط میں دی ہے۔ 'تاہم اس ایسٹروفزیکل جرنل کا سب سے قابل ذکر کام یہ تھا کہ دونوں مقالوں میں سے کسی ایک نے بھی گیمو، الفر، اور ہرمن کے کام کا حوالہ نہیں دیا۔ بھول چوک کو جلد ہی ٹھیک کر دیا گیا اور بعد کی اشاعت میں ان رہنما لوگوں کو بھی اس بات کا سہرا دیا گیا، تاہم یہ سب اس وقت ہوا جب وہ تمام لوگ اپنے کام کو اس طرح سے نظر انداز کئے جانے کے بعد افسردہ ہو گئے تھے۔ 

    بعد کی مختلف طول امواج کی پیمائش نے اس بات کو بغیر کسی شک کے ثابت کر دیا کہ 'اضافی شور' جس کا حوالہ پنزیاس اور ولسن نے دیا تھا درحقیقت کائناتی پس منظر کی برقی مقناطیسی اشعاع قریب قریب درجہ حرارت 2.7 کے ساتھ ہیں اور یہی چیز ہماری کائنات کے بگ بینگ نظریئے کو درکار تھی۔ درحقیقت یہی چیز تخلیق کی گونج تھی، بگ بینگ کا وہ بچا ہوا حصّہ جس تک ہم پہنچنے کے قابل ہوئے اور جس نے ہمارے آلات کو چھوا۔ ڈسکوری نے اس کو اب تک ہونے والی سب سے زیادہ اہم سائنسی دریافت کا درجہ دیا، اور اس نے علم کائنات کا چہرہ ہی اس لوگوں کو یہ احساس دلا کر بدل دیا کہ وہ کسی قسم کا ذہنی کھیل نہیں کھیل رہے ہیں بلکہ وہ اس مساوات سے نمٹ رہے ہیں جو حقیقت میں ہماری کائنات اور اس میں موجود ہر چیز کے بارے میں بیان کر سکتی ہے۔ وہ سوال 'ہم کہاں سے آئے ہیں ؟'اشعاع کی باقیات کی معرفت کے ساتھ ہی فلسفی کی دنیا سے نکل کر سائنس کی دنیا میں آ گیا۔ اور یہی وجہ تھی کہ آیا کیوں گیمو اور اس کے رفیق اپنے وقت سے کافی آگے تھے - کیونکہ 1940ء اور 1950ء کے عشرے میں وہ لگ بھگ اکیلےہی تھے جو اس بات پر یقین رکھتے تھے۔ اسٹیون وائنبرگ ایک ایسا طبیعیات دان جو علم کائنات کی طرف اس وقت راغب ہوا جب اسے احساس ہوا کہ علم کائنات اصل میں ایک ایسی سائنس ہے جو پس منظر کی اشعاع کی خبر کے ساتھ پھیلی، اور اس نے صورتحال کا خلاصہ کچھ اس طرح کیا:

    گیمو، الفر اور ہرمن اس قابل ہیں کہ ان کو اس بات کا سہرا دیا جائے کہ وہ ابتدائی کائنات کو سنجیدگی کے ساتھ لینے کے لئے تیار تھے تاکہ معلوم کر سکیں کہ قوانین طبیعیات کے پاس پہلے تین منٹوں میں کہنے کے لئے کیا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے آخری قدم نہیں اٹھایا کہ ریڈیائی فلکیات دانوں کو پس منظر کی خرد امواج کو تلاش کرنے کے لئے قائل نہیں کیا۔ 1965ء میں اس حتمی 3 کیلون پس منظر کی اشعاع کی دریافت کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس نے ہم سب کو مجبور کر دیا کہ ہم اس تصور کو سنجیدگی کے ساتھ لیں کہ ابتدائی کائنات موجود تھی۔ 

    لیمیترے نے اس خبر کو اپنے مرنے سے تھوڑے عرصے پہلے ہی 1966ء میں سنا۔ گیمو اس کے بعد صرف چند برس زندہ رہا۔ یا تو وہ اگر تھوڑا اور عرصے زندہ رہتے یا پس منظر کی اشعاع تھوڑا جلدی دریافت ہو جاتیں تو شاید ان کو بگ بینگ کے تصور کو بنانے کی وجہ سے مشترکہ طور پر نوبل انعام سے نوازا جاتا ایک ایسا تصور جس نے اس دریافت سے حقیقت کا روپ دھارا۔ تاہم نوبل انعام بعد وفات کبھی نہیں دیا گیا، اور جب 1978ء میں نوبل کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ وقت آ گیا ہے کہ ابتدائی کائنات کی حقیقت کو سنجیدگی سے لیا جائے تو ان کا سامنا ایک ایسے مسئلے سے ہوا جو کافی نازک لگتا تھا - انعام کس کو دیا جائے۔ امید واروں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ ایک طرف نوجوان ریڈیائی فلکیات دانوں کی جوڑی تھی جنہوں نے کچھ عجیب سی چیز پائی تھی اور ان کو نہیں معلوم تھا کہ یہ آخر میں ہے کیا تاوقتیکہ کسی اور نے انھیں بتایا، اور بلکہ خود انھیں بھی پہلی مرتبہ میں اس کا یقین نہیں آیا۔ دوسری طرف ایک ایسی جماعت تھی جو ان کے درمیان موجود تھی جس نے پس منظر کی اشعاع کے پارے میں پیش گوئی کی تھی، اس کا سراغ لگانے کے لئے آلات بنائے تھے، اور صرف کراوفورڈ ہل میں ایک ثمرآور ملاقات کے کچھ عرصے بعد ہی انہوں نے اسے اپنے آلات سے ایسے ہی تلاش کر لیا جیسے کہ انہوں نے اندازہ لگایا تھا۔ ہوئیل، ٹیلر اور روس سے کچھ دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر جو اس کے قریب سے گزر گئے تھے، اس وقت ایک تیسرا 'ہاتھ' بھی غور فکر کے لئے بچ گیا تھا، الفر اور ہرمن، گیمو کی جماعت کے زندہ بچے ہوئے اراکین جنہوں نے اس کو سب سے پہلا بتایا تھا اگرچہ ان کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ 

    انعام پنزیاس اور ولسن کو ملا۔ ان حالات میں یہ بمشکل کہیں اور جا سکتا کیا ایسا ہی تھا؟ مجھے حیرانی ہے کہ اگر کمیٹی صرف ایک لمحے کے لئے ہی سوچتی، جو ایک صاحب بصیرت فیصلہ ہوتا۔ آخر کیوں یہ انعام اس شخص کو نہیں دیا گیا جس نے سب سے پہلے اس 3 کیلون سے اوپر کے سراغ کو درج کروایا - ای اے اوہم؟ اگرچہ اس کو نہیں معلوم تھا کہ اس نے کیا دریافت کر لیا ہے، تاہم یہی بات پنزیاس اور ولسن پر صادق آتی تھی، اور اوہم نے اس کو پہلے تلاش کیا تھا۔ 

    بہرحال اس طرح کی قیاس آرائی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کو بدلا نہیں جا سکتا۔ یہی چیز کائنات کے لئے بھی لگتی ہے۔ اس کی شروعات بگ بینگ سے ہوئی اور اس کے بعد سے یہ مسلسل ارتقاء پذیر ہو رہی ہے۔ اس ایک پیمائش کے ساتھ، آج کائنات کا درجہ حرارت بگ بینگ کا حساب لگانے کے لئے دستیاب ہے، ماہرین تکوینیات اس قابل ہیں کہ اپنے حسابات کو اور بہتر کر سکیں اور اس تصور کے ساتھ آ سکیں جس کو آج تخلیق کا معیاری نمونہ کہا جاتا ہے، وقت کی خود سے شروعات کے بعد ایک سیکنڈ کے حصّے سے شروع ہونے والی کائنات کی کہانی۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: تخلیق کا معیاری نمونہ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top