Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, مئی 27, 2017

    اصول ارشمیدس

    پس منظر

    رومن مصنف ویٹروائیس کے مطابق، بادشاہ ہیرو دوم نے ایک سنہار کو اپنا تاج بنانے کے لئے دیا، تاہم جب وہ بن گیا تو اسے اس بات پر یقین نہیں آیا کہ یہ خالص سونے کا ہے۔ اس نے ارشمیدس سے تاج کا تجزیہ کرکے سچائی معلوم کرنے کا کہا۔

    ارشمیدس نہ تو تاج کو پگھلا سکتا تھا اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتا تھا، اور اس وقت تک کیمیائی تجزیہ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ اس کو اس کے خالص پن کو معلوم کرنے کے لئے متبادل ذرائع کا استعمال کرنا تھا۔ اس کے ان تجربات نے ہماری کثافت اور اچھال کی بنیادی تفہیم کو استعمال کیا۔

    مختصراً

    'یوریکا' لمحہ اس وقت آیا جب ارشمیدس نہا رہا تھا۔ جب وہ پانی میں اترا، تو پانی کی سطح بڑھ گئی اور اس نے یہ بات سمجھ لی کہ جتنے پانی کی مقدار کو اس نے ہٹایا ہے وہ لازمی طور پر جسم کی مقدار کے برابر ہوگا۔ اگر وہ بڑا ہوتا، تو زیادہ پانی فرش پر گرتا۔ اس نے یہ بھی محسوس کیا کہ پانی اس کے وزن کو سہارا دینے کے لئے اسے دھکیل رہا ہے، بصورت دیگر وہ تلے میں ڈوب جاتا۔ یہ قوت اب اچھال کہلاتی ہے، اور اس کی وجہ یہ حقیقت ہے کہ مائع کا دباؤ گہرائی کے ساتھ بڑھتا ہے۔ اچھال کی قوت جسم کے وزن کے مخالف کام کرتی ہے، اور اتنی ہی طاقت کو دھکا دیتی ہے۔ تاہم اگر فاعل پانی کی اس مقدار سے زیادہ بھاری ہو جو اس نے ہٹایا ہے (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ پانی سے زیادہ کثیف ہے)، اور وہ ڈوب جائے گا۔ اس منطق کا استعمال کرتے ہوئے ارشمیدس نے ثابت کیا کہ بادشاہ کا تاج خالص نہیں تھا۔


    خلاصہ

    مائع کسی بھی فاعل پر اچھال کی مکمل یا جزوی قوت اس وقت لگاتا ہے جب وہ ڈوبتی ہے، اور اس قوت کا حجم اس مائع کے وزن کے برابر ہوتا ہے جو فاعل نے ہٹایا ہوتا ہے۔


    اصول ارشمیدس آج کہاں کہاں استعمال ہوتا ہے؟


    اس کا استعمال یہ حساب کرنے کے لئے کیا جاتا ہے کہ جب کسی پانی کے جہاز پر سامان بار کیا جائے گا تو وہ کتنا گہرائی میں ڈوبے گا، اس کی مدد سے انجنیئر یہ حساب لگاتے ہیں کہ پانی کا جہاز زیادہ سے زیادہ کتنا بار اٹھا سکتا ہے۔
    جس طرح سے ارشمیدس نے بادشاہ کے تاج کی تصدیق کی تھی، یہ اصول اب بھی مہنگی چیزوں جیسا کہ زیورات کے خالص پن کی جانچ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔
    آب پیما اصول ارشمیدس کو مخصوص مائع کی اضافی کثافت کی پیمائش کرنے کے لئے یہ مشاہدہ کرکے استعمال کرتے ہیں کہ کوئی جسم کس قدر گہرائی میں ان کے ساتھ ڈوبتا ہے۔
    آبدوزوں میں موجود بلاسٹ ٹینک اس اصول کا استعمال آبدوز کو کسی بھی منتخب گہرائی میں روکنے کے لئے سطح پر تیرے یا مزید ڈوبے بغیر کرتے ہیں۔

    ارشمیدس

    287 قبل مسیح - 212 قبل مسیح

    ریاضی دان، فلکیات دان، انجنیئر اور موجد، ارشمیدس قدیم یونان میں سے شاندار دماغ رکھنے والا تھا۔ وہ اپنے اچھال اور کثافت کی دریافت، اپنے چرخیوں اور بیرم کے کام اور جیومیٹری میں کی جانے والی شراکت کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے عدسوں کا ایسا نظام وضع کیا تھا جو سورج کو دشمنوں کے جہاز ان کو جلانے کے لئے مرتکز کر سکتا تھا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: اصول ارشمیدس Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top