Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, مارچ 23, 2016

    ٹائٹن کا کرۂ ہوائی



    ان گھاٹیوں ، جھیلوں اور ریت کے ٹیلوں کو دھندلا کرتی ہوئی ٹائٹن کی نائٹروجن اور میتھین کی گہری چادر کی اپنی ہی ایک کہانی ہے۔ زمین اور ٹائٹن دونوں پر، موسم قدرتی طور پر درجہ حرارت اور دباؤ میں توازن قائم رکھنے کی ایک قدرتی کوشش ہوتی ہے۔ حرارت سورج سے آتی ہے، اور ہوا گرم ہوا کو ٹھنڈے علاقوں تک لے جاتی ہے۔ صرف ہماری دنیا سے ١٤ کروڑ ٩٠ لاکھ کلومیٹر کی دوری پر سورج ہمہ وقت زمین کے نظام میں غیر معمولی توانائی کو بھرتا رہتا ہے اس سے ہمارا کرۂ ہوائی  زور آور اور متحرک جگہ بن جاتی ہے۔


    ہماری ہوائی چادر کے نیچے ٹھوس سطح ہوا کے بہاؤ کو توڑ دیتی ہے اور درجہ حرارت میں درجہ بدرجہ تبدیلی وقوع پذیر ہو جاتی ہے لہٰذا کرۂ ہوائی  موسمی نظام کو لمبے عرصے تک نہیں روک کر رکھ سکتا۔ ہماری متلون مزاج موسمیات دور دراز ، منجمد ٹائٹن سے کافی الگ ہے۔ ہمارے کثیر گرج چمک کے طوفان ٹھنڈی جگہوں کے ذریعہ آگے دھکیلے جاتے ہیں اور کسی خلیج میں گرم علاقے میں ٹہر جاتے ہیں، جہاں سفید بادلوں کی پٹیوں کو منتشر کرتے ہیں وہ نظارہ موسمی خبروں پر نظر رکھنے والوں کے لئے کافی شناسا ہوگا۔ زمین کے طوفان باراں گرم ہوا سطح کے قریب سے لیتے ہیں اور اس کو اٹھا کر بلند ی پر لے جاتے ہیں۔


    ٹائٹن پر اس طرح نہیں ہوتا۔ ٹائٹن زمین کے مقابلے میں سورج کی روشنی کو سو گنا کم حاصل کرتا ہے۔ سورج کی بہت ہی کم روشنی اس کے کرۂ ہوائی  میں داخل ہو تی ہے، یوں ہوا میں دھیمی آمیزش ہوتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں پر انفرادی موسمی واقعات کافی کم ہوں گے۔ کبھی کبھار پیدا ہونے والا ایک طوفان شاید برسوں میں آتا ہوگا۔ 


    تجزیہ نگار ماحولیاتی حرارت کو چولہے پر رکھے ہوئے پانی کے برتن سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جب شعلے کو پہلی دفعہ جلایا جاتا ہے، تو کبھی پانی کا بلبلہ برتن کے نیچے سے نکل کراس کے اوپر آتا ہے، اور تھوڑی سے ہلچل پیدا کرتا ہے۔ جیسے وقت گزرتا ہے پانی گرم ہوتا ہے ، اور مائع میں سے زیادہ بلبلے نکل کر اوپر آنے لگتے ہیں۔ برتن میں موجود موسم پانی کے اپنے ابلنے سے پہلے ہی کافی متلاطم ہو جاتا ہے ۔ ٹائٹن کا ماحول شاید اس مرحلے کی شروعات ہے، جہاں پر بلبلہ شاذ و نادر ہی اوپر آتا ہے۔ زمین کا ماحول مائع کے برتن کے ابلنے والے مرحلے کی طرح ہے۔


    ٹائٹن کے ڈرامائی موسم کی کمیابی اور یہ حقیقت کہ کیسینی نے ٹائٹن پر کبھی کبھار پر ہونے والی تھوڑی عرصے کے لئے ہلچل کا مشاہدہ کیا ہے ، یہ تمام باتیں مل کر موسم کی دریافت کو انتہائی مشکل بنا رہی تھیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود کیسینی نے جنوب میں حمل حرارت والے بادلوں کے ثبوت کو تلاش کرلیا تھا۔ بالخصوص اونٹاریو لاکوس کے قریب جنوبی علاقے میں جھیل کے نمونے کافی جگہوں پر تبدیل ہوئے تھے۔ مشاہدین کا خیال تھا کہ میتھین کے طوفانوں نے اس علاقے میں کافی نئی جھیلوں کو بنایا تھا۔


    ٹائٹن کی بارشیں شاید مون سونی تھیں؛ ہو سکتا ہے کہ بارشیں شدید موسمی لہر کے ساتھ آتی تھیں۔ کافی دریائی گزر گاہوں کو ٹائٹن کی سطح پر نقشہ بند کیا گیا اور ان کو بنانے کے لئے عام طور سے شدید سیلابوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاروی ماہر موسمیات کہتے ہیں صرف بوندا باندی سے تو یہ کام نہیں ہو سکتا۔ ٹائٹن کے طوفان زیادہ سے زیادہ ارضی ریگستانوں میں آنے والے طوفان جیسے ہوں گے جو زمین کو تو گیلا کرتے ہوں گے بلکہ خشک گزرگاہ کو بھی بنا دیتے ہوں گے لیکن معنی خیز مائع کے ذخیروں کو نہیں بنا سکتے ہوں گے۔


    سرگرم میتھین کے بادلوں کے نظام اور سیلابی میدانوں کو بنانے کے باوجود، ایسا لگتا ہے کہ میتھین کی بارش ٹائٹن پر زمین پر ہونے والی بارش کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہے۔ بطور خاص استوائی علاقوں میں ٹائٹن کافی زیادہ صحرائی سیارہ ہے جہاں زمین کے مقابلے میں بارش حد درجہ نایاب ہے۔ جہاں پر بارش ہوتی ہے وہ سیلابی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ سیلابی بارش موسمی ہے یا پھر یہ پورے سال کا مظہر ہوتا ہے؟ ہرچند کے میتھین کی نمی ہائی گنز کی اترنے والی استوائی جگہ پر ٤٥ فیصد تھی ، یہ اتنی ہے کہ زمین پر طوفان باراں کو جاری کر سکتی ہے، لیکن دور فاصلے پر موجود سورج کی حرارت اتنی کمزور ہے کہ نم ہوا اوپر جا کر موجودہ صورتحال میں طوفان کو پیدا نہیں کر سکتی۔ بڑے بادلوں کے نظام کو زیادہ نمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹائٹن کا استوائی علاقہ کافی خشک ہے۔


    لیکن مکمل طور پر ایسا نہیں ہے۔ ٢٠٠٨ء میں کیسینی نے طوفانی بادلوں کو استوائی علاقوں کے اوپر بنتے ہوئے دیکھا۔ وہ تیزی سے جنوب مشرق کی طرف نکلے۔ جب طوفانی بادل تیرتے ہوئے دور گئے تو انہوں نے پیچھے تاریک زمین کو چھوڑ دیا جس کا مطلب سطح پر ہونے والی تبدیلی کی وجہ بارش تھی۔ اس طرح کا مظہر کافی نایاب ہو سکتا ہے، لیکن ان تمام باتوں سے قطع نظر ٹائٹن نے ہمیں بتایا کہ ایسا ہوتا ہے۔


    محققین کے اندازے کے مطابق ٹائٹن پر ہونے والی سالانہ بارش ٥ سینٹی میٹر ہے۔ یہ موت کی وادی میں ہونے والی بارش کے برابر ہی ہے۔ یہ بارش عجیب و غریب قسم کی زمین پر ہوتی ہے۔


    ٹائٹن کا کرۂ ہوائی  وقت میں دور تک جھانکے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ زیادہ تر سائنس دان سمجھتے ہیں کہ اس کی نائٹروجن گرم ابتدائی سیاروی قرص جس سے خود زحل بھی بنا تھا اس کے دور میں ہی بن گئی تھی۔ لیکن ناسا اور ای ایس اے کی نئی تحقیقات ایک دور کے منبع کی جانب اشارہ کر رہی ہیں - نظام شمسی کا بیرونی کنارہ۔ ٹائٹن کی نائٹروجن کے دو ہم جا ، نائٹروجن -١٤ اور نائٹروجن -١٥کی نسبت ہے، یہ وہ ہم جا ہیں جن کو اورٹ بادل میں برفیلے دم دار ستاروں کی جگہ پر بننا چاہئے جو سورج کے اثرو رسوخ سے کافی دور کی جگہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ٹائٹن کی نائٹروجن نظام شمسی کے کافی ابتدائی دور میں بنی تھی اس دور میں جب وہ سیارہ بن رہا تھا جس کے گرد اب یہ چکر لگا رہا ہے۔ آج شاید ٹائٹن کے ماحول میں ابتدائی نظام شمسی کے ماحول کی حالت کے نشان محفوظ ہوں، جو اسے ان سائنس دانوں کے لئے ایک انتہائی اہم ہدف بناتے ہیں جو سیاروی نظام کے ارتقاء کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ 


    خاکہ 7.5 ٹائٹن کی پیچیدہ کہر کی تہ جو میتھین اور ہائیڈرو کاربن کی بارش کو سبب بنتی ہے جو ریت کے ٹیلوں کو بناتے ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ٹائٹن کا کرۂ ہوائی Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top